سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب لبس المصلى · حديث 3263
[ 3080 ] أخبرنا أحمد بن الحسن القاضي وأبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا بن وهب حدثني يحيى بن أيوب عن مسلم بن أبي مريم ومحمد بن عجلان عن عبد الله بن أبي سلمة أن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه كسا الناس القباطي ثم قال لا تذرعها نساؤكم فقال رجل يا أمير المؤمنين قد ألبستها امرأتي فأقبلت في البيت وأدبرت فلم أره يشف فقال عمر إن لم يكن يشف فإنه يصف وقد رواه أيضا مسلم البطين عن أبي صالح عن عمر ولمعنى هذا المرسل شاهد بإسناد موصول
3263 – عبداللہ بن ابی سلمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب نے لوگوں کو قبطی کپڑے پہنائے پھر فرمایا: اس سے اپنی عورتوں کی قمیص نہ بنانا تو ایک آدمی نے کہپا: اے امیر المومنین ! میں نے اپنی بیوی کو پہنا دی ہے ۔ اس کے بعد وہ گھر میں چلی پھری لیکن میں نے اس میں باریکی نہیں دیکھی۔ سیدنا عمر نے فرمایا: اگر وہ باریک نہیں ہے تو ٹھیک ہے ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← مسلم بن أبي مريم ومحمد بن عجلان ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي ← أحمد بن الحسن القاضي،
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with chapel doors · Hadith 3263
