Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4381

وأخبرنا أبو عبداللہ الحافظ أخبرنا أبو عبداللہ الشیبانی حدثنا بن الحسن الھلالی حدثنا موسی بن اسماعیل حدثنا وھیب قال حدثنی ابن طاوس عن أبیہ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا أنھا قالت: وھم عمر، انما نھی رسول اللہﷺ أن یتحری طلوع الشمس وغروبھا۔ أخرجہ مسلم فی الصحیح من حدیث وھیب۔ وانما قالت ذلک واللہ أعلم لأنھا رأت رسول اللہﷺ صلی الرکعتین بعد العصر، وکانتا بما ثبت عنھا وعن أم سلمۃ فضاء، وکانﷺ اذا عمل عملا أثیتہ، فأما النھی فھو عن النبیﷺ ثابت من جھۃ عمر وغیرہ کما تقدم۔

4381 - حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت عمر کو وہم ہو گیا آپﷺ نے تو منع فرمایا تھا کہ سورج طلوع یا غروب کا انتظار کیا جائے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بن الحسن الھلالی ← أبو عبداللہ الشیبانی ← أبو عبداللہ الحافظ،

Hadith 4381

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4382

أخبرنا محمد بن عبداللہ الحافظ ومحمد بن موسی بن الفضل قالا حدثنا أبو العباس: محمد بن یعقوب حدثنا ھارون بن سلیمان الأصبھانی حدثنا عدالرحمن بن مھدی عن موسی بن علی بن رباح اللَّخمی سمعت أبی یقول سمعت۔ عقبۃ بن عامر یقول: ثلاث ساعات کان رسول اللہﷺ ینھی أن نصلی فیھن أو نقبر فیھن موتانا: حین تطللع الشمس بازغۃ حتی ترتفع وحین یقوم قائم الظھیرۃ حتی تمیل الشمس، وحین تضیف الشمس الی الغروب حتی تغرب۔

عقبہ بن عامر فرمات ہیں کہ نبیﷺ نے تین اوقات میں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع کیا ہے ۔ جب سورج طلوع ہو کر چمک رہا ہو یہاں تک کہ وہ اونچا ہو جائے اور جس وقت دو پہر ہو جائے یہاں تک کہ سورج ڈل جائے اور جب سورج ڈوبنے کے لیے ڈھلنےلگے یہاں تک کہ غرو ب ہو جائے ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي ← موسى بن علي بن رباحٍ اللخمي، ← عدالرحمن بن مھدی ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عبداللہ الحافظ ومحمد بن موسی بن الفضل

Hadith 4382

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4383

أخبرنا أبو عبداللہ الحافظ حدثنا أبو عبداللہ: محمد بن یعقوب حدثنا جعفر بن محمد بن الحسین ومحمد بن عمرو الحرشی قالا حدثنا یحیی بن یحیی أخبرنا عبداللہ بن وھب عن موسی بن علی بن رباح عن أبیہ فذکرہ بمثلہ الا أنہ قال: ینھانا۔ وقال: المغروب۔ ولم یقل: قائم۔ وقال حتی تمیل۔ رواہ مسلم فی الصحیح عن یحیی بن یحیی۔

4383 –

يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← حتی تمیل۔ رواہ مسلم فی الصحیح ← المغروب۔ ولم یقل: قائم۔ ← ینھانا۔ ← أبیہ فذکرہ بمثلہ الا أنہ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← عبدُاللهِ بنُ وهبٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← جعفر بن محمد بن الحسین ومحمد بن عمرو الحرشی ← أبو عبداللہ: محمد بن یعقوب ← أبو عبداللہ الحافظ،

Hadith 4383

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4384

أخبرنا أبو زکریا بن أبی اسحاق المزکی وغیرہ قالوا حدثنا أبو العباس: محمد بن یعقوب أخبرنا الربیع بن سلیمان أخبرنا الشافعی أخبرنا مالک۔ وأخبرنا أبو الحسین بن الفضل القطان ببغداد أخبرنا عبداللہ بن جعفر بن درستویہ حدثنا یعقوب بن سفیان حدثنا ابن قونب وابن بکیر عن مالک عن زید بن أسلم عن عطاء بن یسار عن عبداللہ الصنا بحی أن رسول اللہﷺ قال:(( ان الشمس تطلع ومعھا قرن الشیطان، فاذا ارتفعت فارقھا، ثم اذا استوت فارنھا، فاذا زالت فارقھا، فاذا دنت للغروب فارنھا، فاذا غربت فارقھا))۔ ونھی رسول اللہﷺ عن الصلاۃ فی تلک الساعات۔ کذا رواہ مالک بن أنس۔ ورواہ معمر بن راشد عن زید بن أسلم عن عطاء بن یسار عن أبی عبداللہ الصنابحی۔ قال أبو عیسی التومذی: الصحیح روایۃ معمر وھو أبو عبداللہ الصنابحی واسمہ عبدالرحمن بن عسیلۃ۔

4384 - عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے ۔ جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو شیطان اس سے جدا ہو جاتا ہے ۔ پھر جب نصف النہار ہوتا ہے تو شیطان اس کے ساتھ مل جاتا ہے اور جبس ورج زائل ہوجاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہوجاتا ہے ۔ جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے شیطان پھر اس کے ساتھ مل جاتا ہے ۔ جب سورج غروب ہوجاتا ہے تو اس سے جدا ہو جاتا ہے ان اوقات میں آپﷺ نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔

عبداللہ الصنا بحی ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← ابن قونب وابن بکیر ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبداللہ بن جعفر بن درستویہ ← مالک۔ وأخبرنا أبو الحسین بن الفضل القطان ببغداد ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي وغيره،

Hadith 4384

Daif

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4385

[ 4178 ] أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري ثنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا أحمد بن يونس الأزدي ثنا النضر بن محمد ثنا عكرمة ثنا شداد بن عبد الله أبو عمار ويحيى بن أبي كثير عن أبي أمامة قال عكرمة وقد لقى شداد أبا أمامة وواثلة وصحب أنسا إلى الشام وأثنى عليه فضلا وخيرا عن أبي أمامة قال قال عمرو بن عبسة السلمي كنت وأنا في الجاهلية أظن أن الناس على ضلالة وأنهم ليسوا على شيء وهم يعبدون الأوثان قال فسمعت برجل بمكة يخبر أخبارا فقعدت على راحلتى فقدمت إليه فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مستخفيا جراء عليه قومه فتلطفت حتى دخلت عليه بمكة فقلت له ما أنت قال أنا نبي فقلت وما نبي قال أرسلني الله فقلت بأي شيء أرسلك قال أرسلني بصلة الأرحام وكسر الأوثان وأن يوحد الله لا يشرك به شيئا فقلت له من معك على هذا قال حر وعبد قال ومعه يومئذ أبو بكر وبلال ممن آمن به فقلت إني متبعك قال إنك لا تستطيع ذلك يومك هذا ألا ترى حالي وحال الناس ولكن ارجع إلى أهلك فإذا سمعت بي قد ظهرت فأتني فذهبت إلى أهلي فقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وكنت في أهلي فجعلت أتخبر الأخبار وأسأل كل من قدم من الناس حتى قدم علي نفر من أهل يثرب من أهل المدينة فقلت ما فعل هذا الرجل الذي قدم المدينة فقالوا الناس إليه سراع وقد أراد قومه قتله فلم يستطيعوا ذلك قال فقدمت المدينة فدخلت عليه فقلت يا رسول الله أتعرفني قال نعم ألست الذي أتيتني بمكة قال فقلت يا نبي الله أخبرني عما علمك الله وأجهله أخبرني عن الصلاة قال صل صلاة الصبح ثم أقصر عن الصلاة حتى تطلع الشمس حتى ترتفع فإنها تطلع حين تطلع بين قرنى شيطان وحينئذ يسجد لها الكفار ثم صل فالصلاة مشهوده محضوره حتى يستقل الظل بالرمح ثم أقصر عن الصلاة فإن حينئذ تسجر جهنم فإذا أقبل الفيء فصل فإن الصلاة مشهودة حتى تصلي العصر ثم أقصر عن الصلاة حتى تغرب الشمس فإنها تغرب بين قرني شيطان وحينئذ تسجد لها الكفار قال قلت يا نبي الله فالوضوء حدثني عنه قال ما منكم رجل يقرب وضوءه فيمضمض ويستنشق فينتثر إلا خرت خطايا وجهه من أطراف لحيته وخياشمه مع الماء ثم يغسل يديه إلى المرفقين إلا خرت خطايا يديه من أنامله مع الماء ثم يمسح رأسه إلا خرت خطايا رأسه من أطراف شعره مع الماء ثم يغسل قدميه إلى الكعبين إلا خرت خطايا رجليه من أنامله مع الماء فإن هو قام فصلى فحمد الله وأثنى عليه ومجده بالذي هو له أهل وفرغ قلبة لله إلا انصرف من خطيئته كهيئته يوم ولدته أمه فحدث عمرو بن عبسة بهذا الحديث أبا أمامة صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له أبو أمامة يا عمرو أنظر ماذا تقول في مقام واحد يعطى هذا الرجل فقال عمرو يا أبا أمامة لقد كبرت سني ورق عظمى واقترب أجلى وما لي حاجة أن أكذب على الله ولا على رسوله لو لم أسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا مرة أو مرتين أو ثلاث حتى عد سبع مرات ما حدثت به أبدا ولكني قد سمعته أكثر من ذلك رواه مسلم في الصحيح عن أحمد بن جعفر المعقري عن النضر بن محمد إلا أنه زاد في ذكر الوضوء عند قوله فينتثر إلا خرت خطايا وجهه وفيه وخياشيمه مع الماء ثم إذا غسل وجهه كما أمره الله إلا خرت خطايا وجهه من أطراف لحيته مع الماء وكأنه سقط من كتابنا وله شاهد من حديث أبي سلام عن أبي أمامة

عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں تمام لوگوں کو گمراہ خیال کرتا تھا کہ وہ کسی دین پر نہیں تھے اور بتو ں کے پجاری تھے ۔ میں نے مکہ می ایک شخس کے متعلق خریں سن رکھی تھیں میں اپنی سواری پر مکہ آیا اور رسول اللہﷺ چھپے ہوئے تھے لوگ آپﷺ کی گستاخی کرتے تھے ۔ مجھے آپﷺ پر تر س آیا میں مکہ میں داخل ہوا اور میں نے پوچھا : آپ ﷺ کون ہیں؟آپﷺ نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: کس نے آپ کو نبی بنایا ہے ۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ ے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے ۔ میں نے کہا: کیا چیز دے کر اللہ نے آپ کو مبعوث کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا: صلہ رحمی اور بتوں کو توڑنا اکیلے اللہ کو ماننا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا ۔ میں نے آپﷺ سے کہا: اس دین پر آپﷺ کے ساتھ اور کون ہے ؟ آپﷺ نےفرمایا: آزاد اور غلام۔ عمرو بن عبسہ کہتے ہیں: اس دن آپﷺ پر ابو بکر اور بلال ایمان لائےتھے ۔ میں نے کہا: میں بھی آپ کی پیرویکرنے والا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تو ابھی اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ کیا تو دیکھتا نہیں کہ میرا اور لوگوں کا کیا حال ہے ۔ تم اپنے گھر واپس لوٹ جاؤ۔ جب آپ سمیں کہ میں نے غلبہ پا لیا ہے تو میرے پاس آجانا۔ میں گھرواپس پلٹ آیا اور نبیﷺ مدینہ آئے اور میں اپنے گھر میں ہی لوگوں سے خبریں پوچھتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ والوں کا ایک گروہ آیا۔ میں نے کپا: اس شخص نے کیا کیا ہے جو مدینہ میں آیا ہے ؟ انہوں نے کہا: لوگ اس کی طرف جلدی کر رہے ہیں اور اس کی قوم نے اس کو قتل کرنا چاہا لیکن وہ اس کی طاقت نہ پا سکے ہیں پھر میں مدینہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کےر سول ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: کیا تو وہی نہیں جو مجھے مکہ میں ملا تھا۔ میں نے کہا: آپ مجھے اس کی چیز کی خبر دی جو میں نہیں جانتا اور آپ کو اللہ نے سکھائی ہیں مجھے نماز کے متعلق بتائیں آپﷺ نے فرمایا: صبح کی نماز پڑھ پھر سورج کے طلوع ہونے تک نماز سے رک جا یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے ۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں پھر نماز پڑھ جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہسائیہ ایک نیزے کے برابر ہو جائے پھر نماز سے رک جا کیوں کہ اس وقت جہنم کو بھڑکا یا جاتا ہے ۔ جب سایہ بڑھ جائے تو نما زپرھ یہ بھی ایسی نماز ہے جس میںٖ رشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ عصر کی نماز پڑھے ۔ پھر تو نماز سے رک جا یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے کوںکہ سرج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا اور کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے وضو کے بارے میں بتائیں تو آپﷺ نے فرمایا: جو آدمی ہمیشہ با وضؤ رہتا ہے اور وہ کلی کرتا ہے ناک میں پانی چڑھانے کے بعد ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک چہرے اور داڑھی کے گناہ پانی کے ساتھ بہہ جاتے ہیں پھر وہ اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کی انگلیوں میں پوروں سے بھی خطایئیں جھڑ جاتی ہیں پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو مسح کرنے کی وجہ سے اس کے بالوں سے پانی کے زریعہ گناہ مٹ جاتے پھر دو پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھوتا تو اس کے پاؤں کی انگلیوں کے پوروں سے خطائیں بہہ جاتی ہیں پھر وہ کھڑا ہو کر نماز میں اللہ کی حمدو ثنا اور تمجید بیان کرتا ہے جس کے وہ لائق ہے اور اپہنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کر لیتا ہے تو وہ اپنی غلیطیوں سے اسطرح صاف ہو جاتا ہے جس طرح کہاس کی ماں اس کو آج ہی جنم دیا ہے ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← شداد بن عبد الله أبو عمار، ← عِكْرِمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أحمد بن يونس الأزدي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Hadith 4385

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4386

[ 4179 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أخبرنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا الربيع بن نافع ثنا محمد بن مهاجر عن العباس بن سالم عن أبي سلام عن أبي أمامة عن عمرو بن عبسة السلمي أنه قال قلت يا رسول الله أي الليل أسمع قال جوف الليل الآخر فصل ما شئت فإن الصلاة مشهودة مكتوبة حتى تصل الصبح ثم أقصر حتى تطلع الشمس وترتفع قيس رمح أو رمحين فإنها تطلع بين قرني شيطان ويصلي لها الكفار ثم صل ما شئت فإن الصلاة مشهودة مكتوبه حتى يعدل الرمح ظله ثم أقصر فإن جهنم تسجر وتفتح أبوابها فإذا زاغت الشمس فصل ما شئت فإن الصلاة مشهوده حتى تصلي العصر ثم أقصر حتى تغرب الشمس فإنها تغرب بين قرني شيطان فتصلي لها الكفار قال وقص حديثا طويلا

4386 - عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! رات کے کس حصہ میں زیادہ سنی جاتی ہے ۔ آپﷺ نے فرمایا: رات کے آخری حصہ میں ۔ نماز پڑھ جتنی تو چاہے ۔ کیوں کہ اس نماز میں ٖرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھ لیں پھر سورج کے طلوع ہونے تک نماز سے رک جاؤ جب تک سورج ایک یا دو نیزے بلند ہو جائے وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ پھر نماز پڑھ جتنی تو چاہے کیوں کہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ سایہ ایک نیزے کے برابر ہو جائے ۔ پھر نماز سے رک جا کیوں کہ اس وقتے جہنم کو بھڑکا یا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیے جاتے ہیںجب سورج ڈھل جائے تو جتنی چاہو نماز پڑھو ۔ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ تم عصر کی نما زپڑھو ۔ پھر نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہس ورج غروب ہو جائے ۔ کیوں کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہو تا ہے اور کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی ۔

قُلْتُ ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 4386

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4387

[ 4180 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبي عمرو قالا حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو عتبة أحمد بن الفرج ثنا بن أبي فديك حدثني الضحاك بن عثمان عن المقبري عن أبي هريرة قال سأل صفوان بن المعطل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله إني سائلك عن أمر أنت به عالم وأنا به جاهل هل من ساعات الليل والنهار ساعة يكره الصلاة فيها قال نعم إذا صليت الصبح فدع الصلاة حتى تطلع الشمس فإنها تطلع بين قرني شيطان ثم الصلاة محضوره متقبلة حتى تستوي الشمس على رأسك كالرمح فإذا استوت على رأسك كالرمح فدع الصلاة فإن تلك الساعة تسجر فيها جهنم وتفتح فيها أبوابها حتى ترتفع الشمس عن جانبك الأيمن فإذا زالت الشمس فالصلاة محضورة متقبلة حتى تصلي العصر ثم دع الصلاة حتى تغرب الشمس ورواه عياض بن عبد الله القرشي عن سعيد المقبري بنحوه إلا أنه لم يسم السائل وزاد في آخره ثم الصلاة مشهودة محضورة متقبلة حتى تصلي الصبح

ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ صفونا بن معطل نے نبیﷺ سے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میں آپ سے ایے معاملہ کے بارے میں صوال کرنے آیا ہوں کہ آپ اس کو جانتے ہیں میں نہیں جانتا۔ کیا رات اور دن میں ایسے اوقات ہیں جن میں نماز پڑھنا ممنوع ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں جب تو فجر کی نماز پڑھ لے تو سورج کے طلوع ہونے تک نماز چھوڑ دے کیوں کہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ۔ یہ ایسی نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ مقبول ہے ۔ پھر جب سورج تیرے سر پر نیزے کی طرح بلند ہو جائے تو نماز سے رک جا کیوں کہ اس وقت جہنم کو بھڑکا یا جاتا ہے

((سَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ رَسُولَ اللَّهِ فقال: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← بن أبي فديك ← أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو

Hadith 4387

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4388

[ 4181 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق أخبرنا محمد بن أيوب أخبرنا أبو سلمة أخبرنا همام عن قتادة عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها لا كفارة لها غير ذلك وحدثنا بعد ذلك فزاد فيه أقم الصلاة لذكري رواه البخاري في الصحيح عن أبي سلمة موسى بن إسماعيل ورواه مسلم عن هدبة بن خالد عن همام

حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: جب کوئی یا د آئے پڑھ لے اس کے علاوہ کوئی کفارہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4388

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4389

[ 4182 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أخبرنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن علي الوراق ثنا عمرو بن حكام ثنا المثنى القصير ثنا قتادة ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا سعيد بن عامر ثنا سعيد هو بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إذا رقد أحدكم عن الصلاة أو غفل عنها فليصلها إذا ذكرها فإن الله عز وجل يقول أقم الصلاة لذكري لفظ حديث المثنى وفي حديث سعيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من نسي صلاة فليصليها إذا ذكرها فإن الله تعالى يقول أقم الصلاة لذكري أخرجه مسلم في الصحيح من حديث بن أبي عروبة والمثنى بن سعيد

4389 – انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز سے سو جائے یا بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: نماز قائم کر میری یاد کے لیے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سعيد هو بن أبي عروبة ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← قَتَادَةَ ← المثنى القصير ← عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 4389

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4390

[ 4183 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أخبرنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا أحمد بن صالح ثنا بن وهب أخبرني يونس عن بن شهاب عن بن المسيب عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قفل من غزوة خيبر فذكر الحديث وفي آخره قال من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها فإن الله تعالى قال أقم الصلاة للذكرى قال يونس وكان بن شهاب يقرؤها كذلك رواه مسلم في الصحيح عن حرملة عن بن وهب

4390 – ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبیق جب غزوہ خیبر سے واپس آئے ۔ حدیث کے آخر میں ہے ۔ جب آدمی نماز بھول جائے تو نماز پڑھ لے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میری یاچد کے لیے نماز قائم کر۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن المسيب ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 4390

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4391

[ 4184 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أو غيره قالوا حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أخبرنا الربيع بن سليمان أخبرنا الشافعي أخبرنا سفيان عن بن قيس ح وأخبرنا أبو سعيد يحيى بن محمد بن يحيى الإسفرائيني واللفظ له أخبرنا أبو بحر محمد بن الحسن بن كوثر البربهاري ثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا سعد بن سعيد بن قيس الأنصاري عن محمد بن إبراهيم التيمي عن قيس جد سعد قال رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أصلي ركعتي الفجر بعد صلاة الصبح فقال ما هاتان الركعتان يا قيس فقلت يا رسول الله إني لم أكن صليت ركعتي الفجر فهما هاتان الركعتان فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم زاد الحميدي في حديثه قال سفيان وكان عطاء بن أبي رباح يروي هذا الحديث عن سعد

4391 – سعد کے دادا بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی ﷺ نے دیکھ لیا میں صبح کی نماز کے بعد فجع کی دو رکعت پڑھ رہا تھا آپ نے فرمایا: اے قیس ! یہ دو رکعت کیسی؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہوہ دو رکعت ہیں جو میں ٖجر کی دو رکعت نہیں پڑھ سکا تو نبی ﷺ خاموش ہو گئے ۔

ما هاتان الركعتان يا قيس فقلت ← أصلي ركعتي الفجر بعد صلاة الصبح ← رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ ← قيس جد سعد ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← سَعْدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَوْثَرَ الْبَرْبَهَارِيُّ، ← أبو سعيد يحيى بن محمد بن يحيى الإسفرائيني واللفظ له ← بن قيس ← سُفْيَانَ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أو غيره

Hadith 4391

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4392

[ 4185 ] وأخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أخبرنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا تمتام حدثني إبراهيم بن بشار الرمادي ثنا سفيان بن عيينة ثنا سعد بن سعيد أخو يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم التيمي عن قيس بن قهد قال أبصرني النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أصلي الركعتين بعد الصبح فذكر معناه وذكر قول سفيان كذا قال قيس بن قهد وكذلك قاله عبد الله بن نمير عن سعد في إحدى الروايتين عنه وقال في رواية أخرى عنه قيس بن عمرو

4392- قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ نبی ق نے مجھے صبح کے بعد دو رکعت پڑھتے ہوئے دیکھ لیا۔

في رواية أخرى عنه قيس بن عمرو ← سعد في إحدى الروايتين عنه ← قيس بن قهد وكذلك قاله عبد الله بن نمير ← قول سفيان كذا ← مَعْنَاهُ ← أصلي الركعتين بعد الصبح ← أبصرني النبي ← قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخُو يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 4392

Sahih

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead