Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1687

قال وأخبرنا عبد الوهاب قال وأخبرنا سعيد عن قتادة في قوله تعالى أقم الصلاة طرفي النهار قال صلاة الصبح وصلاة العصر وزلفا من الليل قال المغرب والعشاء

1687 – قتادہ اللہ کے ارشاد کے متعلق فرماتے ہیں: اس سے مراد صبح اور عصر کی نماز ہے اور سے مغرب اور عشا کی نماز ۔

المغرب والعشاء ← صلاة الصبح وصلاة العصر وزلفا من الليل ← قتادة في قوله تعالى أقم الصلاة طرفي النهار ← وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، ← وأخبرنا عبد الوهاب

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1687

Hassan

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1688

قال أخبرنا عبد الوهاب أخبرنا سعيد عن قتادة قال كان بدء الصلاة ركعتين بالغداة وركعتين بالعشي

قتادہ کہتے ہیں : نماز ابتدا میں دو رکعتیں صبح کی تھیں اور دور کعتیں عشا کی ۔

كان بدء الصلاة ركعتين بالغداة وركعتين بالعشي ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1688

Hassan

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1689

[ 1570 ] أخبرنا محمد بن عبد الله بن محمد الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو بكر يحيى بن أبي طالب ثنا عبد الوهاب يعني بن عطاء الخفاف أخبرنا سعيد يعني بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس بن مالك عن مالك بن صعصعة عن النبي صلى الله عليه وسلم فذكر قصة المعراج وفيها قال وفرضت علي خمسون صلاة كل يوم أو قال أمرت بخمسين صلاة كل يوم الشك من سعيد فجئت حتى أتيت على موسى فقال لي بما أمرت فقلت أمرت بخمسين صلاة كل يوم قال إني قد بلوت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة وإن أمتك لا يطيقون ذلك فارجع إلى ربك فسله التخفيف لأمتك فرجعت فحط عني خمس صلوات فما زلت أختلف بين ربي وبين موسى كلما أتيت عليه قال لي مثل مقالته حتى رجعت بخمس صلوات كل يوم فلما أتيت على موسى قال لي بما أمرت قلت بخمس صلوات كل يوم قال إني بلوت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة وإن أمتك لا يطيقون ذلك فارجع إلى ربك فسله التخفيف لأمتك قلت لقد رجعت إلى ربي حتى استحييت ولكن أرضى وأسلم قال فنوديت أو ناداني مناد الشك من سعيد أن قد أمضيت فريضتي وخففت عن عبادي وجعلت بكل حسنة عشر أمثالها مخرج في الصحيحين من حديث سعيد بن أبي عروبة

سید نا مالک بن صععہ نبی ﷺ سے معراج کا قصہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: مجھ پر ہر دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں یا فرمایا: مجھے ہر دن پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا سعید کو شک ہے ۔ میں موسیٰ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے کہا: آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے ؟ میں نے کہا: مجھے دن میں پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا کو خؤب برکھا انہوں نے کہا: میں نے لوگوں کو آپ سے پہلے آزمایا ہے اور نبی اسرائیل کا بطہت معالجہ کیا ہے آپﷺ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور اپنی امت کے لیے آسانی کا سوال کریں ۔ میں واپس لوٹا تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دیں میں مسلسل اپنے رب کے پا ساور موسیٰ کئے پاس اتا جاتا رہا جب میں ان کے پاس اتا تو مجھے پہلی بات کی طرح کہتے یہاں تک کہ میں ہر دن میں پانچ نمازوں کے ساتھ واپس لوٹا جب میں موسیٰ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے کہا: آپ کو کس کا حکم دیا گیا ہے ؟ میں نے کہا: مجھے ہر دن میں پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ہے انہوں نے کہا: آپ سے پہلے میں نے لوگوں کو آزمایا ہے اور بنی اسرائیل کا بہت سخت تجربہ کیا ہے آپ کی امت بے شک اس کی طاقت نہیں رکھے گی اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور اپنی امت کے لیے آسانی کا سوال کریں۔ میں اپنے رب کی طرف واپس لوٹا تو مجھے حیا ء محسوس ہوئی اور میں نے کہا: میں راضی اور فرما نبر دار ہوں۔

قصة المعراج وفيها ← مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سعيد يعني بن أبي عروبة ← عبد الوهاب يعني بن عطاء الخفاف ← أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1689

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1690

[ 1571 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب بن يوسف الأموي من أصل كتابه ثنا الربيع بن سليمان المرادي ثنا عبد الله بن وهب القرشي ثنا سليمان بن بلال ثنا شريك بن عبد الله بن أبي نمر قال سمعت أنس بن مالك يحدثنا عن ليلة أسري برسول الله صلى الله عليه وسلم من مسجد الكعبة فذكر الحديث وفيه فأوحي إليه ما شاء فيما أوحي خمسين صلاة على أمته كل يوم وليلة ثم هبط حتى بلغ موسى فاحتبسه فقال يا محمد ما عهد إليك ربك قال عهد إلى خمسين صلاة على أمتي كل يوم وليلة قال فإن أمتك لا تستطيع فارجع فليخفف عنك وعنهم فالتفت إلى جبريل عليه السلام كأنه يستشيره في ذلك فأشار إليه أن نعم إن شئت فعلا به جبريل فقال يا رب خفف عنا فإن أمتي لا تستطيع هذا فوضع عنه عشر صلوات ثم رجع إلى موسى فاحتبسه ولم يزل يرده موسى إلى ربه حتى صار إلى خمس صلوات ثم احتبسه عند الخامسة فقال يا محمد قد والله راودت بني إسرائيل على أدنى من هذه الخمس فضيعوه وتركوه وأمتك أضعف أجسادا وقلوبا وأبصارا وأسماعا فارجع فليخفف عنك ربك فالتفت إلى جبريل ليشير عليه فلا يكره ذلك جبريل فرفعه عند الخامسة فقال يا رب أن أمتي ضعاف أجسادهم وقلوبهم وأسماعهم وأبصارهم فخفف عنا فقال إني لا يبدل القول لدي هي كما كتبت عليكم في أم الكتاب ولك بكل حسنة عشر أمثالها هي خمسون في أم الكتاب وهي خمس عليك وذكر الحديث أخرجه البخاري في الصحيح من حديث سليمان بن بلال وأخرجه مسلم عن هارون الأيلي عن بن وهب

1690 - شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک سے رات والا واقعہ سنا جب نبی ﷺ کو مسجد الکعبہ کی سیر کرائی گئی آپﷺ کی طرف و حی نازل ہوئی جو اللہ نے چاہی آپﷺ کی امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کا حکم ہوا پھر آپﷺ نیچے اترے جب موسیٰ کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور کہا: اے محمد ! آپ کے رب نے آپ کے ساتھ کی وعدہ کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا: میری امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کا وعدہ بکیا ہے انہوں نے کہا: آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی آپ واپس جائیں اور اپنے رب سے اس میں آسانی کروائیں۔ میں ن جبریل کی طرف جھانکا گویا ان سے اس کے متعلق مشورہ طلب کر رہا ہوں اس سنے اشارہ کیا ہاں ! اگر آپ چاہتے ہیں۔ جبرئیل یا آپ کو ساتھ لیا آپﷺ نے فرمایا: اے میرے رب ہم پر آسانی کر بے شک میری امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی اللہ نے دس نمازیں کم کر دیں پھر آپﷺ موسیی کی طرف لوٹتے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور موسیٰ مسلسل آپ کو اللہ کی طرف واپس لوٹاتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ ہو گئی پھر پانچیں مرتبہ بھی روک لیا انہوں نے کہا: اے محمد ! اللہ کی قسم! میں نے بنی اسرائیل کو اس سے آسان کام کی ترغیب دی تو انہوں نے اس کو ضائع کر دیا اور اس کو چھوڑ دیا اور آپ کی اسمتجسم وقلب سننے اور دیکھنے پر کے لحاظ سے بہت کمزور ہے آپ واپس جائیں اور اپنے رب سے آسانی کے متعلق کہیں میں نے جبرئیل کی طرف جھانکا تاکہ ان سے مشورہ لوں جبرئیل نے اسکو ناپسد نہیں سمجھا اور پانچویں مرتبہ پھر معاملہ اٹھایا آپ ﷺ نے فرمایا: ! اے میرے رب ! بے شک میری امت ان کے جسم اور دل اور کان اور آنکھیں کمزور ہیں ہم پر آسانی فرما۔

أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُنَا ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْقُرَشِيُّ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أبو العباس محمد بن يعقوب بن يوسف الأموي من أصل كتابه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1690

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1691

[ 1572 ] أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني من أصل كتابه أخبرنا أبو سعيد بن الإعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا عبد الله بن نافع ومحمد بن إدريس الشافعي قال ثنا مالك عن عمه أبي سهيل بن مالك عن أبيه أنه سمع طلحة بن عبيد الله يقول جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من أهل نجد ثائر الرأس نسمع دوي صوته ولا نفقه ما يقول حتى دنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هو يسأل عن الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم خمس صلوات في اليوم والليلة فقال هل علي غيرهن قال لا إلا أن تطوع فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم وصيام شهر رمضان قال هل علي غيره قال لا إلا أن تطوع قال وذكر له رسول الله صلى الله عليه وسلم الزكاة قال هل علي غيرها قال لا إلا أن تطوع فأدبر الرجل وهو يقول والله لا أزيد على هذه ولا أنقص منه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أفلح أن صدق قال الشافعي رضى الله تعالى عنه في حديثه وذكر الصدقة فقال هل علي غيرها مخرج في الصحيحين من حديث مالك

1691- ابو سہیل بن مالک کے باپ نے طلحہ بن عبید اللہ سے سنا کہ اہل نجد کا ایک شخص پر اگندہ سر والا نبی ﷺ کے پا سآیا ہم اس کی آواز کی گنگنا ہٹ سننے تھے اور ہم سمجھتے نہیں تھے وہ کیا کہہ رہا ہے یہاں تک ک وہ رسول اللہﷺ کے قریب ہو گیا اور اسلام کے متعلق سوال کیا رسول اللہﷺ نے فرمایا: دن اور رات میں پانچ نمازیں۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: نہیں مگر یہ کہ تو نفل پڑھے پھ ررسول اللہﷺ نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے روزے ۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں مگر یہ تو نفلی روزے رکھے ۔ راوی کہتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس سے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا۔

أَبِيهِ ← عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني من أصل كتابه،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1691

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1692

[ 1573 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار أخبرنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله ثنا أبو عمرو الضرير ثنا حماد عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عبد الله يعني بن محيريز عن رجل من كنانة قال سمعت عبادة بن الصامت يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول خمس صلوات كتبهن الله عز وجل على عبادة فمن وافى بهن ولم يضيعهن كان له عند الله عهد أن يغفر له وأن يدخله الجنة ومن لم يواف بهن استخفافا بحقهن فليس له عند الله عهد إن شاء عذبه وإن شاء غفر له وقال مالك عن يحيى بن سعيد في هذا الإسناد رجل من بني كنانة يدعى المخدجي

1692 – عبداللہ ابن محیر یز جو نبی کنانہ کا ایک شخص تھا فرماتے ہیں کہ میں نے عبادہ بن صامت سے سنا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا : پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر لکھ دیں ہیں جنھوں نے ان کو پورا کیا ان کو ضائع نہ کیا تو ان کے لیے اللہ کے ہاں وعدہ ہے کہ اللہ ان کو معاف کر دے گا اور جنت میں داخل کر دے گا ۔ اور جس نے ان کو پورا کیا ان کے حق کو ہلکا جانتے ہوئے تو اللہ کے ہاں کوئی وعدہ نہیں ہے اگر ان کو چاہے عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← رَجُلٍ، مِنْ كِنَانَةَ، ← عبد الله يعني بن محيريز ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادٌ، ← أَبُو عَمْرٍو الضَّرِيرُ، ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1692

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1693

[ 1574 ] وأخبرنا أبو الحسن بن عبدان أخبرنا أحمد بن عبيد الصفار أنا بن ملحان ثنا بن بكير ثنا الليث عن بن الهاد عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول أرأيتم لو أن نهرا بباب أحدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات ما تقولون يبقى من درنه قالوا لا يبقى من درنه شيئا قال فذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله بهن الخطايا رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة عن الليث وأخرجه البخاري من وجه آخر عن بن الهاد

1693 – سیدنا ابو ہریرہ روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سان : مجھے بتلاؤ اگر تمہارے دروازے پر ایک نہر ہو تو ہر دن میں پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا کچھ میل کچیل باقی رہے گی ؟ انہوں نے کہا: میل کچیل میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا آپﷺ نے فرمایا: یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← بن بكير ← بن ملحان ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1693

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1694

[ 1575 ] أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أخبرنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا الأسفاطي يعني العباس بن الفضل ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر بن محمد عن أبي مسعود قال أتى جبريل عليه السلام النبي صلى الله عليه وسلم فقال قم فصل وذلك دلوك الشمس حين مالت الشمس فقام فصلي الظهر أربعا ثم أتاه حين كان ظله مثله فقال قم فصل فصلي العصر أربعا ثم أتاه حين غربت الشمس فقال قم فصل فصلى المغرب ثلاثا ثم أتاه حين غاب الشفق فقال قم فصل فصلى العشاء الآخرة أربعا ثم أتاه حين برق الفجر فقال قم فصل فصلى الصبح ركعتين ثم أتاه من الغد في الظهر حين صار ظل كل شيء مثله فقال قم فصل فصلى الظهر أربعا ثم أتاه حين صار ظله مثليه فقال قم فصل فصلى العصر أربعا ثم أتاه الوقت بالأمس حين غربت الشمس فقال قم فصل فصلى المغرب ثلاثا ثم أتاه بعد أن غاب الشفق وأظلم فقال قم فصل فصلى العشاء الآخرة أربعا ثم أتاه حين أسفر الفجر فقال قم فصل فصلى الصبح ركعتين ثم قال ما بين هذين صلاة أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم لم يسمعه من أبي مسعود الأنصاري وإنما هو بلاغ بلغه وقد روي ذلك في حديث آخر مرسل

سیدنا ابو مسعود سے روایت ہے کہ سیدنا جبرئیل نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: کھرے ہو جائیں اور نماز پڑھیں اور یہ دلوک شمس سے سورج مائل ہونے کا وقت تھا۔ آپﷺ کھرے ہوئے ظہر کی چار رکعتیں ادا کیں پھر وہ اپﷺ کے پاس آئے جس وقت اس کا سایہ اس کی لمبائی کی مثل ہو گیا انہوں نے کہا: آپﷺ کھرے ہو ں اور نماز پرھیں آپ ﷺ نے عصر کی چار رکعتیں ادا کیں پھر وہ آپﷺ کے پاس آئے جس وقت سورج غروب ہو گیا انہوں نے کہا: کھرے ہوں اور نماز پڑھیں۔ آ پﷺ نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں پھر وہ آپﷺ کے پاس آئے جس وقت سرخی غروب ہو گئی انہوں نے کہا: آپ کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں آپ نے آخری عشا ء کی چار رکعتیں ادا کیں پھر وہ آپﷺ کے پاس آئے جس وقت فجر پھوٹ پڑی انہوں نے کہا: آپ کھرے ہوں اور نماز پڑھیں آپﷺ نے صبح کی نماز پڑھیں آپﷺ نے ظہر کی چار رکعتیں ادا کیں پھر آپﷺ کے پاس آئے جس وقت اس کا سایہ اس کی دو مثل ہو گیا انہوں نے کہا: آپ کھڑے ہوں نماز پرھیں آپﷺ نے عصر کی چار رکعتیں ادا کین۔ پھر کل اسی وقت آئے جس وقت سورج غرو ب ہو گیا۔

«أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1694

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1695

[ 1576 ] أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران العدل ببغداد ثنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا محمد بن عبيد الله يعني بن المنادي ثنا يونس بن محمد المؤدب ثنا شيبان بن عبد الرحمن النحوي عن قتادة قال ثنا أنس بن مالك أن مالك بن صعصعة حدثهم فذكر حديث المعراج بطوله وفيه فرض الصلوات الخمس قال قتادة وثنا الحسن يعني البصري أن النبي صلى الله عليه وسلم لما جاء بهن إلى قومه خلا عنهم حتى إذا زالت الشمس عن بطن السماء نودى فيهم الصلاة جامعة قال ففزع القوم لذلك فاجتمعوا فصلى بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أربع ركعات لا يقرأ فيهن علانية يقتدي الناس بنبي الله صلى الله عليه وسلم ويقتدي النبي صلى الله عليه وسلم بجبريل عليه السلام حتى إذا تصوبت الشمس عن بطن السماء وهي بيضاء نقية نودي فيهم بالصلاة جامعة ففزع القوم لذلك فاجتمعوا فصلى بهم النبي صلى الله عليه وسلم أربع ركعات لا يقرأ فيهن علانية يقتدي الناس بنبي الله صلى الله عليه وسلم ويقتدي نبي الله صلى الله عليه وسلم بجبريل عليه السلام حتى إذا غربت الشمس نودي فيهم بالصلاة جامعة فاجتمعوا فصلى بهم نبي الله صلى الله عليه وسلم ثلاث ركعات يقرأ في الأوليين ولا يقرأ في الواحدة يعني علانية يقتدي الناس بنبي الله صلى الله عليه وسلم ويقتدي نبي الله صلى الله عليه وسلم بجبريل عليه السلام حتى إذا غاب الشفق نودي فيهم بالصلاة جامعة فاجتمعوا فصلى بهم نبي الله صلى الله عليه وسلم أربع ركعات يقرأ في الركعتين علانية ولا يقرأ في الثنتين يقتدي الناس بنبي الله صلى الله عليه وسلم ويقتدي نبي الله صلى الله عليه وسلم بجبريل عليه السلام قال فبات القوم وهم لا يدرون أيزادون على ذلك أم لا حتى إذا طلع الفجر نودي فيهم الصلاة جامعة فاجتمعوا فصلى بهم نبي الله صلى الله عليه وسلم ركعتين يطيل فيهما القراءة يقتدي الناس بنبي الله صلى الله عليه وسلم ويقتدي نبي الله صلى الله عليه وسلم بجبريل عليه السلام ففي هذا الحديث وما روي في معناه دليل على أن ذلك كان بمكة بعد المعراج وأن الصلوات الخمس فرض حينئذ بأعدادهن وقد ثبت ذلك عن عائشة رضى الله تعالى عنها خلاف ذلك

1695 – قتادہ کہتے ہیں کہ ہمیں حسن بسری نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کو جب انہیں اپنی قوم کی طرف لے کر آئے تو آپ ﷺ ان سے الگ ہو ئے یہاں تک کہ سورج آسمان کے درمیان سے زائل ہو ان کو لوگوں کو بتلایا گیا کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے لوگ گھبرا گئے اور جمع ہوئے رسول اللہﷺ نے ان کو چار رکعتیں پرھائی ان میں اونچی قراءت نہیں کی لوگ نبی ﷺ کی اقتدا کرتے تھے اور نبی ﷺ جبرائیل کی اقتدا کرتے تھے یہاں تک کہ سورج آسمان سے نیچے کی جانب چلا گیا یعنی مغرب کی طرف جھک گیا وہ سفید چمکدار تھا لوگوں کی آواز دی گئی نماز کھڑی ہونے دلی ہے اس وجہ سے قوم گھبرا ئی پس وہ جمع ہوئے ان کو نبی ﷺ نے عصر کی نماز کی چار رکعتیں پڑھائی ان میں اونچی قراءت نہیں کرتے تھے لوگ نبی ﷺ کی اقتدا کرتے تھے اور نبی ﷺ جبرئیل کی اقتدا کرتے یہاں تکہ کہ سورج غروب ہو گیا پھر لوگوں کو آواز دی گئی کہ نماز کھری ہونے والی ہے وہ جمع ہوئے ان کو نبی ﷺ نے تین رکعتین پڑھائیں پہلی دو رکعتوں میں قراءت کی اور ایک میں نہیں کی یعنی اونچی آواز سے لوگ نبی ﷺ کی اقردا کر رہے تھے اور نبی ﷺ جبریل کی اقتدا کر رہے تھے یہاں تک کہ سرخی غروب ہو گئی پھر لوگوں کی آواز دی گئی کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے وہ جمع ہوئے نبی ﷺ نے ان کو چار رکعتیں پرھائیں دو رکعتوں میں آونچی قراءت کی اور دو رکعتوں میں انہیں کی ۔ لوگ نبی ﷺ کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی ﷺ جبرئیل کی اقتدا کر رہے تھے ۔ قرم سو گئی اور وہ نہیں جانتے تھے کہ ابھی مزید کچھ ہو گا یا نہیں؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی ان کو آواز دی گئی کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے ۔

قتادة وثنا الحسن يعني البصري ← فذكر حديث المعراج بطوله وفيه فرض الصلوات الخمس ← أنس بن مالك أن مالك بن صعصعة ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← محمد بن عبيد الله يعني بن المنادي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1695

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1696

[ 1577 ] أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أخبرنا أبو بكر الإسماعيلي ثنا الحسن بن سفيان ثنا فياض بن زهير ثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت فرضت الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم بمكة ركعتين ركعتين فلما خرج إلى المدينة فرضت أربعا وأقرت صلاة السفر ركعتين أخرجه البخاري في الصحيح عن مسدد عن يزيد بن زريع عن معمر قال وتابعه عبد الرزاق عن معمر قال الشيخ وهذا التقييد تفرد به معمر بن راشد عن الزهري وسائر الثقات أطلقوه

1696 - سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پر مکہ میں دو دورکعتیں فرض کی گئیں جب مدینہ کی طرف نکلے تو چار فرض کی گئیں اور سفر کی نماز دو رکعتیں باقی رکھی گئیں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1696

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1697

[ 1578 ] وقد أخبرنا إسحاق بن محمد بن يوسف بن يعقوب السوسي ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن عوف ثنا أبو المغيرة ثنا الأوزاعي قال سئل الزهرى كيف كانت صلاة النبي صلى الله عليه وسلم بمكة قبل أن يهاجر إلى المدينة فقال أخبرني عروة بن الزبير عن عائشة قالت فرض الله الصلاة أول ما فرضها ركعتين ثم أتمها في الحضر وأقرت صلاة السفر على الفريضة الأولى وروي عن عامر الشعبي عن مسروق عن عائشة رضى الله تعالى عنها

1697 – امام اوزاعی بیان کرتے ہیں کہ امام زہری سے سوال کیا گی ا: مہ میں نبی ﷺ کی نماز مدینہ میں ہجرت کرنے سے پہلے کس طرح تھی ؟ انہوں نے کہا: مجھ کو عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ سے نقل کیا : اللہ نے نماز کو فرض کیا پہلے دو رکعتیں فرض کی پھر حضر میں اس کو مکمل کر دیا اور سفر کی نماز پہلئ فریضہ پر قائم رکھی گئیں۔

سئل الزهرى كيف كانت صلاة النبي بمكة قبل ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← إسحاق بن محمد بن يوسف بن يعقوب السوسي ← وقد

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1697

Sahih

سنن الکبری البھیقی · کتاب ‹ باب · حديث 1698

[ 1579 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو محمد بن أبي حامد المقري قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن سنان ثنا بكار بن عبد الله بن محمد بن سيرين ثنا داود بن أبي هند عن عامر عن مسروق عن عائشة قالت أن أول ما فرضت الصلاة ركعتين فلما قدم نبي الله صلى الله عليه وسلم المدينة واطمأن زاد ركعتين غير المغرب لأنها وتر وصلاة الغداة لطول قراءتها قالت وكان إذا سافر صلى صلاته الأولى

1698 - سیدہ عائشہ سے روائت ہے کہ پہلےجو نماز فرض کی گئی وہ دو رکعتیں تھیں جب نبی ﷺ مدینہ آئے اور مطمین ہوگئے تو مغرب کے علاوہ دو رکعتیں زیادہ کہیں اس لیے کہ وہ تر ہے اور صبح کی نماز میں قراءت لمبی ہو گئی ۔ انہوں نے کہا: جب آپﷺ سفر کرتے تو آپﷺ پہلی والی نماز پرھتے یعنی قصر کرتے ۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Prayer › Door · Hadith 1698

Hassan

chevron_left Previous
1234…50
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead