سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4421
[ 4214 ] وأخبرنا أبو طاهر الفقيه وأبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا منصور بن أبي مزاحم ثنا يحيى بن حمزة عن موسى بن يسار أنه سمع عطاء بن أبي رباح قال رأيت عبد الله بن عمر طاف بعد صلاة الصبح قبل طلوع الشمس ثم ركع فذكرت ذلك لنافع فقال نافع كذب أهل مكة على بن عمر قال الشيخ ورواه أيضا عمرو بن دينار عن عطاء عن بن عمر وهذا التكذيب غير مقبول من نافع وكأنه لم يعلم عدالة من رواه عن بن عمر من أهل مكة ولو علمها لأشبه أن يصدق ولا يكذب وكان بن عمر يجيز الصلاة على الجنازة بعد العصر وبعد الصبح فكذلك ركعتا الطواف وأنما النهي عنده عن تحرى طلوع الشمس وغروبها بالصلاة فما رواه أهل مكة عنه في ركعتي الطواف لائق بمذهبه والله تعالى اعلم
4421 – عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر کو صبح کی نماز کے بعد طلو ع آفتاب سے پہلے طواف کرتے دیکھا پھر انہوں نے نماز پڑھ۔ راوی کہتے ہیں: اس بات کا تذکرہ میں نے نافع کے سامنے کیا تو نافع فرمانے لگے : مکہ والوں کو ابن عمر کے متعلق غلطی لگ گئی ہے ۔ نافع کی یہ تکذیب مقبول نہیںہے کیوں کہ وہ اس کی عدالت کے متعلق نہیں جانتے ۔ جو ابن عمر کی مکہ والوں سے روایت ہے اگر وہ جانتے تو اس کی تصدیق کرنے تکذد نہیں اور ابن عمر عصر اور صبح کے بعد نماز جنازہ پڑھ لیتے تھے ۔
مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو طاهر الفقيه وأبو سعيد بن أبي عمرو
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer · Hadith 4421
