سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع · حديث 4385
[ 4178 ] أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري ثنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا أحمد بن يونس الأزدي ثنا النضر بن محمد ثنا عكرمة ثنا شداد بن عبد الله أبو عمار ويحيى بن أبي كثير عن أبي أمامة قال عكرمة وقد لقى شداد أبا أمامة وواثلة وصحب أنسا إلى الشام وأثنى عليه فضلا وخيرا عن أبي أمامة قال قال عمرو بن عبسة السلمي كنت وأنا في الجاهلية أظن أن الناس على ضلالة وأنهم ليسوا على شيء وهم يعبدون الأوثان قال فسمعت برجل بمكة يخبر أخبارا فقعدت على راحلتى فقدمت إليه فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مستخفيا جراء عليه قومه فتلطفت حتى دخلت عليه بمكة فقلت له ما أنت قال أنا نبي فقلت وما نبي قال أرسلني الله فقلت بأي شيء أرسلك قال أرسلني بصلة الأرحام وكسر الأوثان وأن يوحد الله لا يشرك به شيئا فقلت له من معك على هذا قال حر وعبد قال ومعه يومئذ أبو بكر وبلال ممن آمن به فقلت إني متبعك قال إنك لا تستطيع ذلك يومك هذا ألا ترى حالي وحال الناس ولكن ارجع إلى أهلك فإذا سمعت بي قد ظهرت فأتني فذهبت إلى أهلي فقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وكنت في أهلي فجعلت أتخبر الأخبار وأسأل كل من قدم من الناس حتى قدم علي نفر من أهل يثرب من أهل المدينة فقلت ما فعل هذا الرجل الذي قدم المدينة فقالوا الناس إليه سراع وقد أراد قومه قتله فلم يستطيعوا ذلك قال فقدمت المدينة فدخلت عليه فقلت يا رسول الله أتعرفني قال نعم ألست الذي أتيتني بمكة قال فقلت يا نبي الله أخبرني عما علمك الله وأجهله أخبرني عن الصلاة قال صل صلاة الصبح ثم أقصر عن الصلاة حتى تطلع الشمس حتى ترتفع فإنها تطلع حين تطلع بين قرنى شيطان وحينئذ يسجد لها الكفار ثم صل فالصلاة مشهوده محضوره حتى يستقل الظل بالرمح ثم أقصر عن الصلاة فإن حينئذ تسجر جهنم فإذا أقبل الفيء فصل فإن الصلاة مشهودة حتى تصلي العصر ثم أقصر عن الصلاة حتى تغرب الشمس فإنها تغرب بين قرني شيطان وحينئذ تسجد لها الكفار قال قلت يا نبي الله فالوضوء حدثني عنه قال ما منكم رجل يقرب وضوءه فيمضمض ويستنشق فينتثر إلا خرت خطايا وجهه من أطراف لحيته وخياشمه مع الماء ثم يغسل يديه إلى المرفقين إلا خرت خطايا يديه من أنامله مع الماء ثم يمسح رأسه إلا خرت خطايا رأسه من أطراف شعره مع الماء ثم يغسل قدميه إلى الكعبين إلا خرت خطايا رجليه من أنامله مع الماء فإن هو قام فصلى فحمد الله وأثنى عليه ومجده بالذي هو له أهل وفرغ قلبة لله إلا انصرف من خطيئته كهيئته يوم ولدته أمه فحدث عمرو بن عبسة بهذا الحديث أبا أمامة صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له أبو أمامة يا عمرو أنظر ماذا تقول في مقام واحد يعطى هذا الرجل فقال عمرو يا أبا أمامة لقد كبرت سني ورق عظمى واقترب أجلى وما لي حاجة أن أكذب على الله ولا على رسوله لو لم أسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا مرة أو مرتين أو ثلاث حتى عد سبع مرات ما حدثت به أبدا ولكني قد سمعته أكثر من ذلك رواه مسلم في الصحيح عن أحمد بن جعفر المعقري عن النضر بن محمد إلا أنه زاد في ذكر الوضوء عند قوله فينتثر إلا خرت خطايا وجهه وفيه وخياشيمه مع الماء ثم إذا غسل وجهه كما أمره الله إلا خرت خطايا وجهه من أطراف لحيته مع الماء وكأنه سقط من كتابنا وله شاهد من حديث أبي سلام عن أبي أمامة
عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں تمام لوگوں کو گمراہ خیال کرتا تھا کہ وہ کسی دین پر نہیں تھے اور بتو ں کے پجاری تھے ۔ میں نے مکہ می ایک شخس کے متعلق خریں سن رکھی تھیں میں اپنی سواری پر مکہ آیا اور رسول اللہﷺ چھپے ہوئے تھے لوگ آپﷺ کی گستاخی کرتے تھے ۔ مجھے آپﷺ پر تر س آیا میں مکہ میں داخل ہوا اور میں نے پوچھا : آپ ﷺ کون ہیں؟آپﷺ نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: کس نے آپ کو نبی بنایا ہے ۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ ے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے ۔ میں نے کہا: کیا چیز دے کر اللہ نے آپ کو مبعوث کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا: صلہ رحمی اور بتوں کو توڑنا اکیلے اللہ کو ماننا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا ۔ میں نے آپﷺ سے کہا: اس دین پر آپﷺ کے ساتھ اور کون ہے ؟ آپﷺ نےفرمایا: آزاد اور غلام۔ عمرو بن عبسہ کہتے ہیں: اس دن آپﷺ پر ابو بکر اور بلال ایمان لائےتھے ۔ میں نے کہا: میں بھی آپ کی پیرویکرنے والا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تو ابھی اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ کیا تو دیکھتا نہیں کہ میرا اور لوگوں کا کیا حال ہے ۔ تم اپنے گھر واپس لوٹ جاؤ۔ جب آپ سمیں کہ میں نے غلبہ پا لیا ہے تو میرے پاس آجانا۔ میں گھرواپس پلٹ آیا اور نبیﷺ مدینہ آئے اور میں اپنے گھر میں ہی لوگوں سے خبریں پوچھتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ والوں کا ایک گروہ آیا۔ میں نے کپا: اس شخص نے کیا کیا ہے جو مدینہ میں آیا ہے ؟ انہوں نے کہا: لوگ اس کی طرف جلدی کر رہے ہیں اور اس کی قوم نے اس کو قتل کرنا چاہا لیکن وہ اس کی طاقت نہ پا سکے ہیں پھر میں مدینہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کےر سول ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: کیا تو وہی نہیں جو مجھے مکہ میں ملا تھا۔ میں نے کہا: آپ مجھے اس کی چیز کی خبر دی جو میں نہیں جانتا اور آپ کو اللہ نے سکھائی ہیں مجھے نماز کے متعلق بتائیں آپﷺ نے فرمایا: صبح کی نماز پڑھ پھر سورج کے طلوع ہونے تک نماز سے رک جا یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے ۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں پھر نماز پڑھ جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہسائیہ ایک نیزے کے برابر ہو جائے پھر نماز سے رک جا کیوں کہ اس وقت جہنم کو بھڑکا یا جاتا ہے ۔ جب سایہ بڑھ جائے تو نما زپرھ یہ بھی ایسی نماز ہے جس میںٖ رشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ عصر کی نماز پڑھے ۔ پھر تو نماز سے رک جا یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے کوںکہ سرج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا اور کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے وضو کے بارے میں بتائیں تو آپﷺ نے فرمایا: جو آدمی ہمیشہ با وضؤ رہتا ہے اور وہ کلی کرتا ہے ناک میں پانی چڑھانے کے بعد ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک چہرے اور داڑھی کے گناہ پانی کے ساتھ بہہ جاتے ہیں پھر وہ اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کی انگلیوں میں پوروں سے بھی خطایئیں جھڑ جاتی ہیں پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو مسح کرنے کی وجہ سے اس کے بالوں سے پانی کے زریعہ گناہ مٹ جاتے پھر دو پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھوتا تو اس کے پاؤں کی انگلیوں کے پوروں سے خطائیں بہہ جاتی ہیں پھر وہ کھڑا ہو کر نماز میں اللہ کی حمدو ثنا اور تمجید بیان کرتا ہے جس کے وہ لائق ہے اور اپہنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کر لیتا ہے تو وہ اپنی غلیطیوں سے اسطرح صاف ہو جاتا ہے جس طرح کہاس کی ماں اس کو آج ہی جنم دیا ہے ۔
اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← شداد بن عبد الله أبو عمار، ← عِكْرِمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أحمد بن يونس الأزدي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer · Hadith 4385
