سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر · حديث 3866
[ 3682 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أخبرنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن الوليد الفحام ثنا عبد الوهاب بن عطاء ثنا داود بن أبي هند عن عامر عن سعيد بن العاص أنه جهر بالقراءة في الظهر والعصر شك داود فسبح الناس فمضى فلما قضى الصلاة قال إن في كل صلاة قراءة وما حملني على ذلك خلاف السنة ولكني قرأت ناسيا فكرهت أن أقطع القراءة ويذكر عن قتادة أن أنس بن مالك جهر في الظهر والعصر فلم يسجد وعن خباب بن الأرت بنحو من ذلك وروي فيه عن عمر وعبد الله بن مسعود رضى الله تعالى عنهما
سعید بن عاص سے روایت ہے کہ انہوں نے ظہر یا عصر کی نماز میں جہری قراءت کی ۔ لوگ سبحان اللہ کہنے لگے مگر انہوں نے اپنی قراءت جاری رکھی ۔ جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: ہر نماز کی قراءت ہوتی ہے اور مجھے سیا رکنے پر سنت کی مخالفت نے نہیں ابھارا بلکہ میں نے بھول کر قراءت شروع کر دی تھی لیکن میں نے قراءت کو منقطع کر نا اچھا نہ سمجھا ۔ قتادہ کے واسطے سے بیان کی اجاتا ہے کہ سیدنا انس بن مالک نے ظہر اور عصر کی نما زمیں ﷺراءت کی اور سہو سجدے نہیں کیے ۔
سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving · Hadith 3866
