سنن الکبری البھیقی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ جماع أبواب جزاء الطير · حديث 10002
[ 9782 ] أخبرنا أحمد بن الحسن القاضي ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا الربيع بن سليمان أنا الشافعي أنا سعيد بن سالم عن عمر بن سعيد بن أبي حسين عن عبد الله بن كثير الداري عن طلحة بن أبي حفصة عن نافع بن عبد الحارث قال قدم عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه مكة فدخل دار الندوة في يوم الجمعة وأراد أن يستقرب منها الرواح إلى المسجد فألقى رداءه على واقف في البيت فوقع عليه طير من هذا الحمام فأطاره فوقع عليه فانتهزته حية فقتلته فلما صلى الجمعة دخلت عليه وأنا وعثمان بن عفان فقال أحكما علي في شيء صنعته اليوم إني دخلت هذه الدار وأردت أن استقرب منها الرواح إلى المسجد فألقيت ردائي على هذا الواقف فوقع عليه طير من هذا الحمام فخشيت أن يلطخه بسلحه فأطرته عنه فوقع على هذا الواقف الآخر فانتهزته حية فقتلته فوجدت في نفسي أني أطرته من منزلة كان فيها آمنا إلى موقعة كان فيها حتفه فقلت لعثمان بن عفان رضى الله تعالى عنه كيف ترى في عنز ثنية عفراء نحكم بها على أمير المؤمنين قال أرى ذلك فأمر بها عمر رضى الله تعالى عنه
مافع بن عبدالحارث فرماتےہیں کہ حضرت عمر جمعہ کے دنمکہ آئے دار الندوہ میں داخل ہوئے ان کا ارادہ تھا کہ مسجد کے قریب پڑاؤ کریں انہوں نے اپنی چادر بیت اللہ کے پاس کھرے ہوئے شخص پر ڈالی اس پر ایک کبوتر آکر بیٹھ گیا ۔ اس کو اڑایا گیا پھر بیتھ گیا۔ اس کو سانپ نے کھینچ لیااور اس کو قتل کر دی ا۔ ب اس نے نماز پڑھی تو میں اور عثمان بن عفان ان کے پاس گئے تو حضرت عمرنے فرمایا: میرے بارے میں فیصلہ کرو جو آج میں نے کیا ہے ۔ میں اس گھر میں داخل ہو اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ مسجد کے قریب پڑاؤ کروں میں نے اپنی چادر اس پر ڈال دی اس پر کبوتر بیٹھ گیا۔ میں ڈر گیا کہوہ اس کو اپنی بیٹ سے آلودہ کر دے گا۔
نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ، ← طَلْحَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ الدَّارِيِّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أحمد بن الحسن القاضي،
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Hajj book › Intercourse doors of the reward of the bird · Hadith 10002
