Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1330

وأخبرنا أبو بکر بن الحارث الفقیہ حدثنا علی بن عمر الحافظ حدثنا أبو محمد بن صاعدٍ حدثنا الربیع بن سلیمان حدثنا أسد بن موسی حدثنا حماد بن سلمۃ عن محمد بن زیادٍ عن زبید بن الصلت قال سمعت عمر یقول: اذا توضأ أحدکم ولبس خفیہ فلیمسح علیھما ولیصل فیھما، ولا یخلعھما ان شاء الا من جنابۃٍ۔

1330 - زبید بن صلت کہتے ہیں کہ میں نے سدنا عمر سے سنا کہ جب کوئی شخس وضو کرے اور اس نے موزے پہنے ہوئے ہوں تو وہ ان پر مسح کرے اور ان میں نماز پرھے اور اگر چاہے تو اس کو نہ اتارے تو اس کو نہ اتارے مگر جنابت کیحالت میں اتارے۔

عُمَرَ، ← زُبَيْدَ بْنَ الصَّلْتِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1330

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1331

قال وحدثنا حماد بن سلمۃ عن عبداللہ بن أبی بکرٍ وثابتٍ عن أنس عن النبیﷺ۔ مثلہ قال ابن صاعد: وما علمت أحدًا جاء بہ الا أسد بن موسی۔ قال الشیخ وقد تابعہ فی الحدیث المسند عبدالغفار بن داود الحرانی ولیس عند أھل البصرۃ عن حمادٍ ولیس بمشھورٍ واللہ أعلم۔فأما عمر بن الخطاب فالروایۃ عنہ فی ذلک مشھورۃٌ وذلک فیما۔

1331 - سیدنا انس نبی ﷺسے اسی طر ح نقل فرماتے ہیں: ابن صاعد کہتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق اس حدیث کو اسدین موسیٰ نے بیان کیا ہے ۔ شیخ کہتے ہیں: اس کی متابعت عبدالغفار بن داؤد نے کی ہے اور اہل بصرہ کے ہاں حماد سے ۔ لیکن وہ مشہور نہیں۔

ابْنُ صَاعِدٍ: وَمَا عَلِمْتُ أَحَدًا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ← أَنَسٍ، ← عبداللہ بن أبی بکرٍ وثابتٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1331

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1332

أخبرنا أبو عبداللہ الحافظ حدثنا أبو العباس: محمد بن یعقوب حدثنا بحر بن نصر بن سابقٍ الخولانی حدثنا بشر بن بکرٍ حدثنا موسی بن علی بن رباحٍ عن أبیہ عن عقبۃ بن عامرٍ الجھنی قال: خرجت من الشام الی المدینۃ یوم الجمعۃ، فدخلت علی عمر بن الخطاب فقال لی: متی أولجت خفیک فی رجلیک؟ قلت: یوم الجمعۃ۔ قال: فھل نزعتھما؟ قلت: لا قال: أصبت السنۃ۔

1332- سیدنا عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن شام سے مدینہ کی طرف چلا اور عمر بن خطاب کے پاس پہنچا انہوں نے مجھ سے فرمایا: تو نے اپنےپاؤں میں موزیک پہنے ہیں؟ میں نے کہا: جمعہ کے دن ۔ انہوں نے کہا: کیا تو نے ان کو اتارا ہے ؟ میں نے کہا: نہیں تو انہو نے کہا: تو نے سنت پر عمل کیا۔

أصبت السنۃ۔ ← فھل نزعتھما؟ قلت: لا ← لی: متی أولجت خفیک فی رجلیک؟ قلت: یوم الجمعۃ۔ ← خرجت من الشام الی المدینۃ یوم الجمعۃ، فدخلت علی عمر بن الخطاب ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبداللہ الحافظ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1332

Sahih

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1333

وأخبرنا أبو زکریا بن أبی اسحاق وأبو بکر بن الحسن قالا حدثنا أبو العباس: محمد بن یعقوب حدثنا محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم أخبرنا ابن وھبٍ۔ قال وحدثنا بحر بن نصرٍ قال قرء علی ابن وھبٍ أخبرک ابن لھیعۃ وعمرو بن الحارث واللیث بن سعدٍ عن یزید بن أبی حبیبٍ عن عبداللہ بن الحکم البلوی أنہ سمع علی بن رباحٍ اللخمی یخبر أن عقبۃ بن عامرٍ الجھنی قال: قدمت علی عمر بن الخطاب بفتح من الشام وعلی خفان لی جرمقانیان غلیظان، فنظر الیھما عمر فقال: کم لک مندلم تنز عھما؟ قال قلت: لبستھما یوم الجمعۃ والیوم یوم الجمعۃ ثمان۔ قال: أصبت۔ ورواہ مفضل بن فضالۃ عن یزید بن أبی حبیبٍ وقال فیہ: أصبت السنۃ۔

1333 - عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب کے پاس شام کے فتح کی خبر لے کر آیا تو میں نے موزے اور سونمے جو موق پہنے ہوئے تھے ۔ عمر نے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا کتنی مدت سے تو نے انہیں نہیں اتارا؟ میں نے کہا: میں نے جمعہ کے دن سے پہنے ہوئے ہیں اور جمعہ کا دن آٹھواں دن ہے ۔ انہوں نے کہا تو نے سنت کو پا لیا ہے ۔ یزید بن ابی حبیب سے روایت ہے اور اس روایت میں ہے تو نے سنت کو پا لیا ہے ۔

عبداللہ بن الحکم البلوی ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← قرء علی ابن وھبٍ أخبرک ابن لھیعۃ ← بحر بن نصر ← ابْنُ وَهْبٍ، ← محمدُ بنُ عبدِاللهِ بنِ عبدِالحكمِ: ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر بن الحسن ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1333

Sahih

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1334

أخبرنا علی بن أحمد بن عبدان أخبرنا أحمد بن عبیدٍ حدثنا عبید بن شریکٍ حدثنا یحیی بن بکیرٍ حدثنا مفضل بن فضالۃ عن یزید بن أبی حبیبٍ عن عبداللہ بن الحکم البلوی عن علی بن رباحٍ عن عقبۃ بن عامرٍ عن عمر مثلہ وقال: أصبت السنۃ۔ وقد روینا عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ التوقیت، فاما أن یکون رجع الیہ حین جائہ الثبت عن رسول اللہﷺ فی التوقیت، واما أن یکون قولہ الذی یوافق السنۃ المشھورۃ أولی۔ وقد روی عن ابن عمر أنہ کان لا یوقت فیہ وقنًا۔

1334 - سیدنا عمر اسی طرح نبی ﷺسے نقل فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں: تو نے سنت کو پا لیا ہے ۔ ہم نے سیدنا عمر بن خطاب سے مسح کی مدت بیان کی ہے ۔ ان کا مؤقف وہی ہے جو سنت سے ثابت ہے اور ان کا قول سنت مشہورہ سے موافق ہونا اولیٰ ہے ۔ ابن عمر سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ مدت مقرر نہیں کرتے تھے ۔

ابن عمر أنہ کان لا یوقت فیہ وقنًا۔ ← عمر بن الخطاب التوقیت، فاما أن یکون رجع الیہ حین جائہ الثبت ← أصبت السنۃ۔ وقد روینا ← عُمَرَ مِثْلَهُ. ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← عبداللہ بن الحکم البلوی ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1334

Sahih

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1335

أخبرناہ محمد بن عبداللہ الحافظ أخبرنی عبداللہ بن الحسن القاضی حدثنا الحارث بن أبی أسامۃ حدثنا روح بن عبادۃ حدثنا ھشام بن حسان عن عبید اللہ بن عمر عن نافعٍ عن ابن عمر: أنہ کان لا یوقت فی المسح علی الخفین وقتًا۔وبمعناہ رواہ عبداللہ بن رجاءٍ عن عبید اللہ بن عمر۔وقد روینا عن عمر وعلیً وعبداللہ بن مسعودٍو عبداللہ بن عباسٍ التوقیت، وقولھم یوافق السنۃ التی ھی أشھر وأکثرٌ۔ والأصل وجوب غسل الرجلین فالمصیر الیہ أولی وباللہ التوفیق۔ قال أبو علیً الزعفرانی: رجع أبو عبداللہ الشافعی الی التوقیت فی المسح عندنا ببغداد قبل أن یخرج منھا

1335 - سیدنا ابن عمر سے منقول ہے کہ وہ موزوں پر مسح کی مدت مقرر نہیں کرتے تھے ۔ سیدنا عمر علی عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود کا طغری سے ہم نے روایت کیا ہے کہ ان سے مسح کی مدت ثابت ہے اور ان کا قول سنت ۔ مشہورہ کے موافق ہے جو کثرت سے مروی ہ ۔ اصلا تو پاؤں کا دھونا واجب ہے اور یہی اولیٰ ہے ۔واللہ اعلم ۔ ابو علی زعفرانی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں بغداد میں امام شافعی نے مسح کی مدت مقررہ کی طرف رجوع کر لیا ہے ۔

عمر وعلیً وعبداللہ بن مسعودٍو عبداللہ بن عباسٍ التوقیت، ← عبید اللہ بن عمر۔وقد روینا ← قتًا۔وبمعناہ رواہ عبداللہ بن رجاءٍ ← ابن عمر: أنہ کان لا یوقت فی المسح علی الخفین ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عبداللہ بن الحسن القاضی ← محمد بن عبداللہ الحافظ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1335

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1336

أخبرنا أبو عبداللہ الحافظ وأبو زکریا بن أبی اسحاق المزکی قالا حدثنا أبو عبداللہ: محمد بن یعقوب حدثنا محمد بن عبدالوھاب أخبرنا جعفر بن عون حدثنا زکریا بن أبی زائدۃ وأخبرنا أبو عبداللہ الحافظ حدثنا أبو عبداللہ: محمد بن یعقوب املاء حدثنا علی بن الحسن بن أبی یسی الھلالی حدثنا أبو نعیم حدثنا زکریا عن عامرٍ عن عروۃ بن المغیرۃ بن شعبۃ عن أبیہ قال کنت مع النبیﷺ فی سفرٍ فقال: معک ماءٌ؟ قلت: نعم فنزل عن راحلتہ ثم مشی حتی تواری عنی فی سواد اللیل، ثم جاء فأفرغت علیہ من الاداوۃ فغسل یدیہ ووجھہ وعلیہ جبۃ من صوفٍ، فلم یستطع أن یخرج زراعیہ منھا حتی أخرجھما من أسفل الجبۃ ، فغسل ذراعیہ ومسح برأسہ، ثم أھویت لأنزع خفیہ فقال:(( دعھما فانی أدخلتھما طاھرتین))۔ فمسع علیھما۔ لفظ حدیث أبی نعیمٍ رواہ البخاری فی الصحیح عن أبی نعیم ورواہ مسلمٌ عن محمد بن عبداللہ بن نمیرٍ عن أبیہ عن زکریا۔ وکذلک رواہ عبداللہ بن أبی السفر عن عامرٍ الشعبی مختصرًا۔

سیدنا مغیرہ بن شعبہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ایکسفر میں نبیﷺ کے ساتھ تھا آپ ﷺ نے فرمایا: تیرے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں آپ اپنی سواری سے اترے پھر آپﷺ چلے اور رات کی سیاہی میں مجھ سے چھپ گئے پھر تشریف لائے تو میں نے برتن سے آپ ﷺ پر پانی ڈالا آپ نے ہاتھ اور چہرہ دھویا آپ پر اونی جبہ تھا آپ ﷺ اپنے بازوؤں کو اس سے نہ نکالا لسکے پھر ان کو اپنے جبت کے نیچے سے نکالا۔ اور انہیں دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا پھر میں جھکاتا کہ آپ کے موزے اتاروں ۔ آپﷺ نے فرمایا: نہیں چھوڑو میں نے باوضو پہنے تھے پھر آپﷺ نے ان پر مسح کیا۔

کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ فِي سَفَرٍ ← أَبِيهِ ← عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← علی بن الحسن بن أبی یسی الھلالی ← أبو عبداللہ: محمد بن یعقوب ← أبو عبداللہ الحافظ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← محمد بن عبدالوھاب ← أبو عبداللہ: محمد بن یعقوب ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي ← أبو عبداللہ الحافظ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1336

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1337

وأخبرنا أبو الحسن بن عبدان أخبرنا أبو بکر بن محمویہ العسکری حدثنا عیسی بن غیلان حدثنا یحیی بن صالح حدثنا موسی بن أعین عن اسماعیل ھو ابن أبی خالدٍ عن عامرٍ عن عروۃ بن المغیرۃ عن أبیہ فذکر معناہ۔ الی أن قال فقلت: ألا أنزع خفیک یا رسول اللہ؟ قال:(( انی قد أدخلتھما طاھرتین لمأجنب بعد))۔

1337 - عروہ بن مغیرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں ۔ اس میں ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا میں آپﷺ کے موزے اتار دوں؟ آپ ﷺ نےف رمایا: میں نے با وضو پہنے تھے اس کےبعد میں جنبی نہیں ہوا۔

فقلت: ألا أنزع خفیک ← أبیہ فذکر معناہ۔ الی أن ← عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← عَامِرٍ، ← إِسْمَاعِيلَ هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ← عیسی بن غیلان ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1337

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1338

وحدثنا أبو محمدٍ: عبداللہ بن یوسف أخبرنا أبو سعیدٍ: أحمد بن محمد بن زیادٍ أخبرنا سعدان بن نصرٍ المخرمی وأخبرنا أبو الحسین بن بشران ببغداد أخبرنا اسماعیل بن محمدٍ الصفار حدثنا سعدان بن نصرٍ حدثنا سفیان بن عیینۃ عن اسماعیل بن محمدٍ عن حمزۃ بن المغیرۃ عن أبیہ قال: کنا مع رسول اللہﷺ فی سفرٍ، فقال:(( تخلف یا مغیرۃ وامضوا أیھا الناس))۔ فتخلفت ومعی ماءٌ، فقضی رسول اللہﷺ حاجتہ، ثم رجع فصببت علیہ ماءٌ، فغسل وجھہ، ثم ذھب یغسل یدیہ وعلیہ جبۃٌ رومیۃٌ فضاق کمھا، فأدخل یدہ من أسفل فغسل یدیہ، ومسح برأسہ ومسح علی خفیہ۔ قال سفیان وزاد فیہ حصینٌ عن الشعبی عن عروۃ بن المغیرۃ عن أبیہ قال قلت: یا رسول اللہ صلی اللہ علیک، أتمسح علی خفیک؟ قال:(( انی أدخلتھما وھما طاھرتان))۔

1338 - حمزہ بن مغیرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے آپﷺ نے فرمایا: اے مگیرہ ! تو پیچھے رہ اور لوگوں سیتم چلتے رہو میرے پاس پانی تھا رسول اللہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر لوتے تو میں نے آپﷺ پر پانی ڈالا آپ نے اپنا چہرہ دھویا پھر اپنے ہاتھ دھونا شروع ہوئے آپﷺ پر رومی جبہ تھا اور اس کی آستین تنگ تھی آپﷺ نے اپنے ہاتھ نیچے سے نکالے انہیں دھویا اور سر پر مسح کیااور موزوں پر بھی مسح کیا۔

أَبِيهِ ← حمزة بن المغيرة ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← سعدان بن نصر المخرمي ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← أبو محمد عبداللہ بن یوسف،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1338

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1339

أخبرنا أبو الحسن: علی بن محمد بن علیٍ المقرء أخبرنا الحسن بن محمد بن اسحاق الاسفرائنی حدثنایوسف بن یعقوب القاضی حدثنا محمد بن أبی بکرٍ حدثنا عبدالوھاب یعنی ابن عبد المجید الثقفی حدثنا المھاجر عن عبدالرحمن بن أبی بکرۃ عن أبیہ عن النبیﷺ: أنہ رخص للمسافر فی ثلاثۃ أیامٍ ولیالیھن، وللمقیم یوم ولیلۃٌ اذا تطھرولبس خفیہ أن یمسح علیھما۔

1339 - سیدنا عبدالرحمٰن بن ابو بکرہ اپنیو الد سے اور وہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے مسافر کو تن دن اور تین راتیں رخصت دی اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات جب با وضو موزے پہنے ہوں تاکہ ان پر مسح کریں۔

أَبِيهِ ← عبدِالرحمنِ بنِ أبي بكرةَ، ← الْمُهَاجِرِ، ← عبدالوھاب یعنی ابن عبد المجید الثقفی ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الحسن بن محمد بن اسحاق الاسفرائنی حدثنایوسف بن یعقوب القاضی ← أبو الحسن: علی بن محمد بن علی المقرء

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1339

Sahih

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1340

أخبرنا أبو حازم الحافظ قال أخبرنا أبو أحمد الحافظ أخبرنا أبو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمۃ حدثنا بندارٌ یعنی محمد بن بشارٍ وبشر بن معاذٍ العقدی ومحمد بن أبان قالوا حدثنا عبدالوھاب بن عبدالمجید حدثنا المھاجربن مخلدٍ أبو مخلدٍ عن عبدالرحمن بن أبی بکرۃ عن أبیہ عن النبیﷺ: أنہ رخص للمسافر ثلاثۃ أیام ولیالیھن وللمقیم یومًا ولیلۃً اذا تطھر فلبس خفیہ أن یمسح علیھما۔ وھکذا رواہ مسددٌ وعمرو بن علیً وأبو موسی محمد بن المثنی والعباس بن یزید عن عبدالوھاب وکذلک رواہ الشافعی عن عبدالوھاب الا أن الربیع شک فی قولہ: اذا تطھر فلبس خفیہ۔ فجلعلہ من قول الشافعی وھو فی الحدیث۔

1340 - سیدنا عبدالرحمٰن بن ابو کرہ اپنہو الد سے اور وہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مسافر کو تین دن اور تین راتیں رخصت دی اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات جب با وضو موزے پہنے ہوں تاکہ ان پر مسح کریں۔ امام شافعی نے عبدالوباب سے نقل کیا ہے لیکن ربیع نے اس قول میں شک کیا ہے یعنی جب با وضو موزے پہنے ہوں ۔ جب کہ امام شافعی کا قول حدیث کے الفاظ ہی ہیں۔

أَبِيهِ ← عبدِالرحمنِ بنِ أبي بكرةَ، ← الْمُهَاجِرُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو مَخْلَدٍ ← عبدالوھاب بن عبدالمجید ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← بندار یعنی محمد بن بشار ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1340

Sahih

سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب المسح علی الخفین · حديث 1341

أخبرنا أبو عبدالرحمن السلمی وأبو بکرٍ: أحمد بن محمد بن الحارث الفقیہ قالا حدثنا علی بن عمر الحافظ حدثنا ابن صاعدٍ حدثنا زھیر بن محمدٍ والحسن بن أبی الربیع واللفظ لہ قالا حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمرٌ عن عاصم بن أبی النجود عن زربن حبیشٍ قال: جئت صفوان بن عسالٍ المرادی فقال: ما جاء بک؟ فقلت: جئت أطلب العلم۔ قال: فانی سمعت رسول اللہﷺیقول:(( ما من خارج یخرج من بیتہ فی طلب العلم الا وضعت لہ الملائکۃ أجنحتھا رضًا بما یصنع))۔ قال: جنت أسألک عن المسح علی الخفین۔ قال: نعم کنت فی الجیش الذی بعثھم رسول اللہﷺ فأمرنا أن نمسح علی الخفین اذا نحن أدخلنا ھما علی طھرٍ ثلاثًا اذا سافرنا، ولیلۃً اذا أقمنا، ولا نخلعھما من بولٍ ولا غائطٍ ولا نوم ولا نخلعھما الا من جنابۃٍ ۔ قال وسمعت رسول اللہﷺ۔ یقول:(( ان بالمغرب بابًا مفتوحًا للتوبۃ مسیرتہ سبعون سنۃً لا یغلق حتی تطلع الشمس من نحوہ))۔

1341 - زر بن حبیش فرماتے ہیں کہ میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: تجھے کون سی چیز لے کر آئی ہے ؟ میں نے کہا: علم کی تلاش میں آیا ہوں۔ انہوں نے کہا: بے شک فرشتہ طالب علم کے لی اپنے پر بچھاتے ہیں تاکہ طالب علم کی رضا مندی حاصل کریں۔ میں نے کہا: قضائے حاجت اور پیشاب کرنے کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے متعلق میرے دل میں بات کھٹک رہی ہے اور آپ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ سے سوال کروں کہ کیا آپ نے اس کے متعلق کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا: ہاں ! رسول اللہ ﷺہم کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم سفر میں ہوں یا فرمایا مسافر ہوں تو تین دن اور تین راتیں موزے نہ اتاریں مگر جنابت سے اور قضائے حاجت پیشاب اور نیند سے نہیں۔

الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ← جنت أسألک ← فَإِنِّي ← ما جاء بک؟ فقلت: جئت أطلب العلم۔ ← جئت صفوان بن عسالٍ المرادی ← زربن حبيش. ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الحسن بن أبی الربیع واللفظ لہ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ صَاعِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ ← أبو عبدالرحمن السلمی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Gathering wiping doors on the socks · Hadith 1341

chevron_left Previous
1…891011
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving
24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer
25. Group reading doors
26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere
27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer
28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan
29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it
30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on
31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead