سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب ما یفسداالماء · حديث 1121
[ 1065 ] وأخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس أنا الربيع قال قال الشافعي فإن قال قائل فمن أين لم يكن نجسا قيل من قبل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ ولا شك أن من الوضوء ما يصيب ثيابه ولم يعلم غسل ثيابه منه ولا أبدلها ولا علمته فعل ذلك أحد من المسلمين وكان معقولا إذ لم تمس الماء نجاسة أنه لا ينجس
1121 - امام شافعی فرماتے ہیں: اگر کہنے والا کہے کہ کہاں سے وہ نجس نہیں ہوا ؟ تو اسے کہا جائے گا کہ رسول اللہﷺ نے وضو کیا اور کچھ شک نہیں کہ وضو اس سے جو کپرے کو لگا اور اس سے کپڑا دھونے کا علم نہیں اور نہ اس نے اس کو متغیر کیا ۔ مجھے معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں سے کسی نے بھی اس کو استعمال کیا ہو ۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ جب پانی کو نجاست نہ لگے تو وہ ناپاک نہیں ہو تا ۔
قائل فمن أين لم يكن نجسا قيل من قبل ← الشَّافِعِيُّ فَإِنْ ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Purity › Collecting the doors of what spoils the water · Hadith 1121
