Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5451

5451 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن أبن إسحاق حدثني محمد بن مسلم عن سالم بن عبد الله بن عمر قال Y جلس رجل من أهل الشام إلى عبد الله بن عمر وأنا معه فقال له : يا أبا عبد الرحمن ما ترى في التمتع بالعمرة إلى الحج ؟ فقال له عبد الله : حسن جميل لمن صنع ذلك فقال له الرجل : فإن أباك قد كان ينه عنها ! فغضب عبد الله ثم قال : ويلك ! أرأيت إن كان أبي نهى عنها وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم عمل بها أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم تأخذ أم بأمر أبي ؟ قال : لا بل بأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد فعل ذلك فقم لشأنك K إسناده صحيح

حضرت سالم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اہل شام میں سے اور میں بھی آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ تھا۔ اس آدمی نے عرض کی: اے عبدالرحمنٰ! آپ حج تمتع کے بارے میں کیا رائے دیتے ہیں؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : جو یہ کرے اس نے اچھا کیا۔ اس آدمی نے عرض کی: آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے باپ عمر رضی اللہ تعالی عنہ تو منع کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو غصہ آگیا۔ پھر فرمایا: تیرے لئے ہلاکت ہے تیرا کیا خیال ہے، اگر میرا باپ اس سے منع کردے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس پر عمل ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم لے گا یا میرے باپ کا۔ بیشک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا کہ حج تمتع کیا، تو بھی یہ کر۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5451

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5452

5452 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن شهاب عن سالم عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y إذا رأيتم الهلال فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فاقدروا وكان عبد الله يصوم قبل الهلال بيوم K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم چاند کو دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم چاند دیکھو تو عید کرو اگر آسمان غبار آلود ہو تو تیس پورے کرو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ چاند دیکھنے سے ایک دن پہلے روزہ رکھتے تھے(جب آسمان صاف نہیں ہوتا تھا)۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5452

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5453

5453 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن أبن شهاب عن سالم بن عبد الله عن أبيه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y من فاتته صلاة العصر فكأنما وتر في أهله وماله K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عصر کی نماز فوت ہو گئی ، گویا اس کے اہل و مال ہلاک ہو گئے۔

من فاتته صلاة العصر فكأنما وتر في أهله وماله إسناده صحيح ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5453

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5454

5454 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن شهاب عن سالم بن عبد الله عن عبد الله بن عمر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y ألا إنما بقاؤكم فيما سلف قبلكم من الأمم كما بين صلاة العصر إلى غروب الشمس : أوتي أهل التوراة التوراة فعملوا حتى انتصف النهار ثم عجزوا فأعطوا قيراطا ثم أوتي أهل الإنجيل الإنجيل فعملوا إلى صلاة العصر ثم عجزوا فأعطوا فيراطا ثم أوتينا القرآن فعملنا إلى غروب الشمس فأعطينا قيراطين قيراطين فقال أهل الكتابين : أي ربنا لم أعطيت هؤلاء قيراطين قيراطين وأعطيتنا قيراطا قيراطا ونحن كنا أكثر عملا منهم ؟ قال الله : هل ظلمتكم من أجركم شيئا ؟ قالوا : لا قال : فهو فضلي أوتيه من أشاء K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بقا اتنی ہے جو تم سے پہلی امتیں گزری ہیں جیسے جتنا عصر کی نماز سے سورج غروب ہونے تک ہے، تو رات والوں کو تورات دی گئی انہوں نے عمل کیا نصف نماز تک۔ پھر وہ عاجز آگئے ان کو ایک ایک قراط ثواب دیا گیا پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی انہوں نے عمل اس پر عصر تک پھر وہ بھی عاجز آ گئے۔ ان کو ای ک قیراط ثواب دیا گیا۔ پھر ہم کو قرآن دیا گیا ہم نے غروب آفتاب تک عمل کیا ہم کو دو دو قیراط ثواب دیا گیا اہل کتاب نے عرض کی اے رب! ان کو تو نے دو دو قیراط کیوں دئیے ہیں اور ہم کو ایک ایک قیراط دئیے گئے ہم نے اس سے زیادہ کام کیا؟ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: کیا میں نے تم پر ظلم کیا، تمہارے اجر میں کمی کر کے؟ انہوں نے عرض کی : نہیں! اللہ نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دوں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5454

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5455

5455 - وعن ابن شهاب عن سالم عن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y لا تبايعوا الثمر بالتمر ن ولا تبايعوا الثمر حتى يبدو صلاحه قال : وما اتخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم قاضيا ولا أبو بكر ولا عمر حتى كان في آخر زمانه فقال ليزيد ابن أخت نمر : أكفني بعض الأمور يعني : صغارها K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھلوں کو کھجور کے بدلے نہ بیچو اور پھلوں کو پکنے سے پہلے نہ بیچو۔ فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی فیصلہ کرنے والا نہ بنایا، نہ ابو بکر، نہ عمر نے یہاں تک کہ آخر زمانہ ملے۔ پس یزید بن اخت نمر سے کہا: مجھے بعض امور کے لئے کافی ہو جاؤ، یعنی چھوٹے کاموں کے لئے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← سَالِمٍ ← وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5455

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5456

5456 - وعن ابن شهاب عن سالم عن أبيه Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : ( مفاتيح الغيب خمس : ( إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبير ) لقمان : 34 K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا: پانچ چیزوں کا (حقیقی) قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے (2) بارش کے نازل ہونے کا (3) جو ماں کے پیٹ میں ہے اس کا علم بھی اللہ کے پاس ہے (4) کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کھائے گی، کوئی جان نہیں جانتی کس زمین میں مرے گی۔ بے شک اللہ جاننے والا خبر دینے والا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5456

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5457

5457 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب حدثنا أبي عن ابن شهاب عن سالم عن أبيه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y إنما الناس كالإبل المئة لا تكاد تجد فيها راحلة K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک لوگ سو اونٹوں کی طرح ہیں، قریب نہیں ہے کہ تو ان میں کوئی ان کے سواری پائے۔

إنما الناس كالإبل المئة لا تكاد تجد فيها راحلة إسناده صحيح ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5457

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5458

5458 - وعن سالم سمع عبد الله بن عمر يقول Y ما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعيسى أحمر ولكن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بينما أنا نائم أراني أطوف بالكعبة فإذا رجل آدم سبط الشعر بين الرجلين ينطف رأسه ماء أو يهراق رأسه فقلت : من هذا ؟ قالوا : هذا ابن مريم فذهبت ألتفت فإذا رجل أحمر جسيم جعد الرأس أعور العين اليمنى كأن عينه عنبة طافية فقلت من هذا ؟ قالوا : الدجال أقرب الناس به شبها رجل من خزاعة يقال له : إبن قطن قال محمد : وهو من بني المصطلق هلك في الجاهلية K إسناده صحيح

حضرت سالم سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عیسیٰ کو احمر (سرخ) نہیں کہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا: اسی دوران کہ میں سویا ہواتھا، میں نے دیکھا، میں کعبہ کا طواف کر رہا ہوں، اچانک میری نگا پڑی ، ایک آدمی گندم گوں ، سیدھے بالوں والا،دو آمیوں کے درمیان اور ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اب مریم ہیں۔ میں متوجہ ہونے لگا۔ اچانک ایک آدمی پہ نگاہ پڑی، سرخ رنگ، موٹے جسم والا، گنگھریالے بالوں والا، دائیں آنکھ سے کانا، اس کی آنکھ کہ خشک انگور ہے۔ میں نے سوال کیا : یہ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: دجال، لوگوں سے بنو خزاعہ قبیلے کے ایک آدمی کے زیادہ مشابہ تھا جسے ابن قطع کہا جاتا تھا۔ حضرت محمد کا قول ہے: اس کا تعلق بنو مصطلق (بنو خزاعہ کی شاخ ہو گی) سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہلاک ہو گیا تھا۔

مَا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← وعن سالم

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5458

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5459

5459 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يونس بن محمد حدثنا عبد الله بن عمر عن موسى بن عقبة عن سالم عن أبيه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يوتر على راحلته K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر سواری پر پڑھ لیتے تھے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5459

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5460

5460 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا أحمد بن إسحاق حدثنا وهيب حدثني موسى بن عقبة عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتي وهو بالمعرس من ذي الحليفة في بطن الوادي فقيل له : إنك ببطحاء مباركة K إسناده صحيح

حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت ذی الحلیفہ بطن الوادی میں آئے، آپ سے عرض کی گئی : بے شک آپ بطحاء مبارکہ میں ہیں۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5460

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5461

5461 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا أحمد بن إسحاق حدثنا وهيب عن موسى بن عقبة عن نافع و سالم Y أن ابن عمر كان إذا مر بذي الحليفة تاب بها حتى يصبح ويخبر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يفعل ذلك K إسناده صحيح

حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب ذی الحلفیہ کے مقام سے گزرتے تھے تو وہاں آپ رضی اللہ تعالی عنہ رات گزارتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی اور بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم بھی ایسے ہی کرتے تھے۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5461

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5462

5462 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عفان حدثنا وهيب حدثنا موسى بن عقبة قال : حدثني سالم Y عن أبيه أنه كان يحدث عن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - حين امر أسامة بن زيد فبلغه أن الناس عابوا على اسامة وطعنوا في إمارته فقام رسول الله - صلى الله عليه و سلم - كما حدثني سالم - فقال : ألا إنكم تعيبون أسامة وتطعنون في غمارته وقد فعلتم ذلك بأبيه من قبل وإن كان لخيقا للإمارة وغنه لأحب الناس إلي كلهم وإن أبنه هذا لأحب الناس إلي فاتستوصوا به خيرا فإنه من خياركم . قال سالم : ما سمعت عبد الله يحدث بهذا الحديث قط غلا قال : حاشال فاطمة K إسناده صحيح

حضرت سالم اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید کو امیر بنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ لوگوں نے اسامہ پر عیب لگایا ہے اور اس کی امارت میں طعن کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کھڑ ے ہوئے (جیسے حضرت سالم نے مجھے حدیث بیان کی ہے) اور فرمایا: خبردار! تم اسامہ پر عیب لگاتے ہو اور اس کی امارت میں طعن کرتے ہو، تم اس سے پہلے اس کے با پ کے ساتھ بھی یہ کر چکے ہو، اگرچہ وہ امارت کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ تما م لوگوں سے زیادہ مجھے پسند تھا اور ان کا یہ بیٹا تمام لوگوں سے بڑھ کر مجھے پسند ہے، پس تم اس کے ساتھ بھلائی کرو کیونکہ یہ تمہارے بہترین لوگوں سے ہے۔حضرت سالم کا قول ہے : میں نے حضرت عبداللہ کو یہ حدیث بیان کرتے سنا مگر انہوں نے کہا: "حاشا فاطمۃ"۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5462

chevron_left Previous
1…9899100…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter