Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 835

835 - حدثنا زهير حدثنا قتيبة بن سعيد قال : حدثنا عبد العزيز بن محمد عن عبد الرحمن بن حميد عن أبيه Y عن عبد الرحمن بن عوف قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عشرة في الجنة : أبو بكر في الجنة و عمر في الجنة و عثمان في الجنة و علي في الجنة و طلحة بن الجنة و الزبير في الجنة و عبد الرحمن بن عوف في الجنة و سعد بن أبي وقاص في الجنة و سعيد بن زيد بن عمرو في الجنة و أبو عبيدة بن الجراح في الجنة K إسناده صحيح

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : دس افراد جنتی ہیں ( دنیا میں خوشخبری دے رہا ہوں جنت کی ) حضرت ا بو بکر رضی اللہ عنہ جنتی ہے ، عمر رضی اللہ عنہ جنتی ہے ، عثمان رضی اللہ عنہ جنتی ہے ، علی رضی اللہ عنہ جنتی ہے ، طلحہ رضی اللہ عنہ جنتی ہے ، زبیر رضی اللہ عنہ جنتی ہے ، عبدالرحمن رضی اللہ عنہ جنتی ہے ، عوف رضی اللہ عنہ جنتی ہے ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جنتی ہے ، سعید بن عمر رضی اللہ عنہ جنتی ہے ، ا بو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ جنتی ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 835

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 836

836 - حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني حدثنا عبد الله بن جعفر المخرمي عن ابن أبي عون عن المسور بن مخرمة قال Y قلت لعبد الرحمن بن عوف : أي حال أخبرني عن قصتكم يوم بدر قال : اقرأ بعد العشرين والمئة من آل عمران تجد قصتنا : { وإذ غدوت من أهلك تبوء المؤمنين مقاعد للقتال } [ آل عمران : 121 ] إلى قوله : { إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا } [ آل عمران : 122 ] قال : هم الذين طلبوا الأمان من المشركين إلى قوله : { ولقد كنتم تمنون الموت من قبل أن تلقوه فقد رأيتموه وأنتم تنظرون } [ آل عمران : 143 ] قال : فهو تمني لقاء المؤمنين إلى قوله : { إذ تحسونهم بإذنه } [ آل عمران : 152 ]

حضرت مسور بن محزمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے عرض کی : اے مرے خالو ! مجھے آپ رضی اللہ عنہ بدر کا قصہ بیان کریں ؟ حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سورہ آل عمران 120ویں آیت کے بعد پڑھ لو تم ہمارے بدر کا قصہ پاؤ گے " اور یاد فرمائیں اے پیارے نبی ! جب آپ اپنے گھر والوں کے پاس با ہر نکلے تاکہ آپ مؤمنوں کو جہاد کے لیے مورچوں پر مقرر فرما دیں ، اللہ سننے والا جاننے والا ہے ، جب تم میں سے دو گروہوں نے ارادہ کیا کہ بزدلی دکھائیں اور اللہ ان کا مدد گا ر ہے ، وہ لوگ جنہوں نے مشرکین سے امن طلب کیا ، بے شک تم اس کو دیکھ رہے تھے ، وہ ملاقات کی تمنا ایمان والے کر رہے تھے "۔

قصتكم يوم بدر ← قلت لعبد الرحمن بن عوف أي حال ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← ابن أبي عون ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ← يحيى بن عبد الحميد الحماني

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 836

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 837

837 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا معن بن عيسى حدثنا مالك بن أنس عن ابن شهاب عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب عن عبد الله بن الحارث بن نوفل عن عبد الله بن عباس Y أن عمر بن الخطاب خرج إلى الشام حتى إذا كان بسرغ لقيه امراء الأجناد : أبو عبيدة بن الجراح وأصحابه فأخبروه أن الوباء قد وقع بالشام فقال عمر : ادعوا لي المهاجرين الأولين فدعوا له فاستشارهم فقال بعضهم : خرجت لأمر ولا نرى أنترجع وقال بعضهم : معك بقية الناس واصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا نرى أن تقدمهم على هذا الوباء فقال لهم : ارتفعوا عني ثم قال : ادعوا لي الأنصار فدعوا له فاستشارهم فسلكوا سبيل المهاجرين واختلفوا كاختلافهم قال : قوموا عني ثم قال : ادعوا لي من كان ها هنا مشيخة قريش من مهاجرة الفتح فدعوا له فاستشارهم فلم يختلف عليه رجلان فقالوا : نرى أن ترجع بالناس ولا تقدمهم على هذا الوباء فنادى عمر إني مصبح على ظهر فاجتمعوا عليه ققال أبو عبيدة : أفرارا من قدر الله ؟ قال : لو غيرك قالها يا أبا عبيدة نعم فرارا من قدر الله إلى قدر الله أرأيت لو كانت لك إبل فهبطت واديا ذا عدوتين : إحداهما خصبة والأخرى جدبة أليس إن رعيت الخصبة رعيتها بقدر الله وإن رعيت الجدبة رعيتها بقدر الله ؟ فجاء عبد الرحمن وكان متغيبا في بعض حاجته فقال : إن عندي من هذا علما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا سمعتم به بأرض فلا تقدموا عليه وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا فرارا منه فحمد الله عمر ثم انصرف K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملک شام کی طرف تشریف لے چلے ، جب مقام سرغ پر پہنچے ۔ لشکر کے امراء حضرت حضرت ا بو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے آئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ ملک شام میں ایک وبا پھیل گئی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے پاس مہاجرین اول کو بلواؤ۔ ان کو آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بلوایا گیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ لیا ، بعض کہنے لگے : آپ رضی اللہ عنہ جس اہم کام کے لیے نکلے ہیں ، ہماری رائے یہ ہے کہ آپ واپس نہ لوٹیں ۔ بعض کہنے لگے : آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بقیہ لوگ ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے اصحاب ہیں ہم خیال کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کو لے کر آگے اس وباء پر جائیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایا : میرے پاس سے اٹھ جاؤ ۔ پھر فرمایا : انصار کو بلواؤ ، ان کو بلوایا گیا ۔ ان سے مشورہ لیا ، انہوں نے مہاجرین والا طریقہ اختیار کیا ۔ انہیں کی طرح اختلاف کیا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم بھی اٹھ جاؤ ، میرے پاس سے ۔ پھر فرمایا : میرے پاس بلا کر لاؤ جو یہاں پر قریش کا کوئی بزرگ ہو ۔ مہاجرین فتح مکہ سے ان کو بلوایا گیا ۔ ان سے مشورہ لیا ۔ ان دو آدمیوں نے اختلاف نہیں کیا ۔ کہا ہماری رائے یہ ہے کہ لوگوں کو واپس لے جائیں اور اس وبا والے علاقے میں نہ جائیں ۔ حضرت عمر نے آواز دی ۔ بے شک میں صبح کرنے والا ہوں اپنی سواری پر ۔ میرے پاس جمع ہو جاؤ ، حضرت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عبیدہ نے فرمایا : کیا آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگنا چاہتے ہیں ؟ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا : کاش آپ کے علاوہ کسی نے یہ بات کی ہوتی ، اے ا بو عبیدہ ! جی ہاں ! میں اللہ کی تقدیر سے بھاگ کر اللہ کی تقدیر کی طرف جا رہا ہوں ، آپ بتائیں ! اگر آپ کے لیے اونٹ ہوں اور آپ ایک ایسی وادی میں اتریں کہ وہاں آپ کے دو دشمن ہوں ایک خصبہ اور دوسرا جد بہ ، کیا آپ خصبہ کی رعایت کریں گے تو اللہ کی تقدیر کی رعایت نہیں کریں گے ، اگر آپ جدبہ کی رعایت کریں گے تو اللہ کی تقدیر کی رعایت نہیں کریں گے ؟ حضرت عبدالرحمٰن تشریف لائے ، آپ کسی کام کی وجہ سے اس وقت غائب تھے ، عرض کی میرے پاس علم ہے ! میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جب سنو کہ کسی ملک میں وباء آئی ہے تو وہاں نہ جاؤ ، جب سنو کہ وہاں وباء موجود ہے اور تم وہاں ہو تو وہاں سے نہ بھاگو ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی تعریف کی ( شکر ادا کیا ) پھر واپس چلے گئے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← مَعْن بن عيسی ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 837

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 838

838 - حدثنا زهير حدثنا بشر بن عمر الزهراني حدنا مالك بن أنس عن ابن شهاب عن مالك بن أوس بن الحدثان Y أن عمر بن الخطاب نشد رهطا وفيهم عبد الرحمن بن عوف : أنشدكم بالله الذي بإذنه تقوم السماء والأرض هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا نورث ما تركنا صدقة ؟ قالوا : نعم K إسناده صحيح

حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گروہ سے قسم لی ، ان میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی تھے ، فرمایا : میں تم سے اللہ کی قسم لیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں ، کیا تم جانتے ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا ہے کہ ہم اپنے مال کا کسی کو وارث نہیں بناتے ہیں ، جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے ؟ ان سب نے عرض کی : جی ہاں ! سنا ہے ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← بشر بن عمر الزهراني حدنا مالك بن أنس ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 838

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 839

839 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن إسحاق قال : حدثني مكحول عن كريب مولى ابن عباس Y عن عبد الله بن عباس قال : جلست مع عمر بن الخطاب فقال لي : يا ابن عباس هل سمعت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا أمر به المرء المسلم إذا سها في صلاته كيف يصنع ؟ قال : فقلت : لا والله أو ما سمعت أنت يا أمير المؤمنين من رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك شيئا ؟ قال : فقال : لا والله فبينما نحن في ذلك أتى عبد الرحمن بن عوف فقال : فيما أنتما ؟ قال : فقال له عمر سألته فأخبره عما سأله فقال له عبد الرحمن : لكني قد سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر في ذلك فقال له عمر : فأنت عندنا عدل فماذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : فقال عبد الرحمن : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا سها أحدكم في صلاته حتى لا يدري أزاد أم نقص فإن كان شك في الواحدة والثنتين فليجعلها واحدة وإذا شك في الثنتين أو الثلاثة فليجعلها ثنتين وإذا شك في الثلاث والأربع فليجعلها ثلاثا حتى يكون الوهم في الزيادة ثم يسجد سجدتين وهو جالس قبل أن يسلم ثم يسلم K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، مجھے فرمایا : اے ابن عباس ! کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سنا ہے کہ کوئی مسئلہ اس کے متعلق کہ جب کوئی مسلمان نماز میں بھول جائے تو وہ کیا کرے ؟ میں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! نہیں کیا امیر المؤمنین آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے اس کے متعلق کچھ سنا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ فرمایا : اللہ کی قسم ! نہیں ۔ ہم اسی حالت میں تھے کہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی دونوں کس مسئلہ میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ان سے پو چھیں اور مجھے بتائیں جو یہ کہیں ۔ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم اس کا حکم دیتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ہمارے نزدیک عادل ہیں ، آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے کیا سنا ہے ؟ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جب تم میں کوئی نماز میں بھول جائے وہ نہیں جانتا ہے کہ زیادہ ہو گئی یا کم ، اگر ایک اور دو میں شک ہو گیا ہے وہ ایک پر بنا کرے ۔ جب دو یا تین میں شک ہوا وہ دو پر بنا کرے جب تین اور چار میں شک ہوا تو تین پر بنا کرے یہاں تک کہ وہم زیادہ ہو جائے پھر دو سجدے کرے بیٹھنے کی حالت میں سلام سے پہلے پھر اس کے بعد سلام پھیرے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ← مَكْحُولٌ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 839

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 840

840 - حدثنا زهير حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن أبي سلمة أن أبا الرداد اشتكى فعاده عبد الرحمن بن عوف فقال : خيرهم وأوصلهم أبو محمد Y فقال عبد الرحمن : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله : أتا الله وأنا الرحمن وهي الرحم خلقت الرجم واشتققت لها من اسمي فمن وصلها وصلته ومن قطعها قطعته أو بتته K رجاله ثقات

حضرت ابومسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ا بو الدرداء بیمار ہو ئے ۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے گئے ، فرمایا : ان میں بہتر اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ا بو محمد ہے ۔ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں ، میں رحمٰن ہوں ، یہ رحم ہے ،میں نے رحم کو پیدا کیا ہے میں نے اپنے نام سے اس کو مشتق کیا ہے ، جو اس کو جوڑے گا میں اس کو جوروں گا جو اس کو توڑے گا میں اس کو توڑوں گا ۔

الله أتا الله ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عبد الرحمن إني ← خيرهم وأوصلهم أبو محمد ← أبي سلمة أن أبا الرداد اشتكى فعاده عبد الرحمن بن عوف ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 840

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 841

841 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن إبراهيم بن عبد الله بن قارظ أن أباه حدثه Y أنه دخل على عبد الرحمن بن عوف يعوده فقال له عبد الرحمن وصلتك رحم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله : أنا الرحمن وهي الرجم شققت لها من اسمي فمن وصلها وصلته ومن قطعها قطعته أو قال : بتها أبته

حضرت ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے ، فرمایا : ان سے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ سے صلہ رحمی ہوئی ، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میں رحمٰن ہوں ، یہ رحم ہے ، میں نے رحم کو پیدا کیا ہے میں نے اپنے نام سے اس کو مشتق کیا ہے جو اس کو جوڑے گا میں اس کو جوڑوں گا جو اس کو توڑے گا میں اس کو توڑوں گا ۔

إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 841

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 842

842 - حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني حدثنا شريك عن عاصم بن عبيد الله عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال Y رأيت عبد الرحمن بن عوف يطوف بالبيت وهو يحدو عليه خفان فقال : له عمر : ما أدري أيهما أعجب : حداؤك حول البيت أو طوافك في خفيك ؟ قال : قد فعلت هذا على عهد من هو خير منك : رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يعب ذلك علي K إسناده ضعيف جدا

حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیع رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا خانہ کعبہ کا طواف کر تے ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ گنگنا رہے تھے ، پاؤں پر موزوں تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : میں نہیں جانتا ہوں ، کون سا پسند ہے ؟ بیت اللہ کے ارد گرد آپ کا حدی گانا یا یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ طواف کے دوران موزے پہنے ہوئے ہیں ۔ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے یہ آپ سے بہتر زمانہ میں پہنا یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے زمانہ میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مجھ پر کوئی عیب نہیں لگایا تھا ۔

رأيت عبد الرحمن بن عوف يطوف بالبيت وهو يحدو عليه خفان ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← شَرِيکٍ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 842

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 843

843 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا شريك عن عاصم بن عبيد الله عن عبد الله بن عامر بن ربيعة Y أن عمر بن الخطاب مر على عبد الرحمن بن عوف يطوف بالبيت وهو يحدو عليه خفان فقال : والله ما أدري أطوافك في خفيك أعجب أم حداؤك حول البيت ؟ قال : قد فعلت ذلك على عهد من هو خير منك : رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عنبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا خانہ کعبہ کا طوف کرتے ہوئے ۔آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے پاؤں میں موزوں سے گھیرےہوئے تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کو میں نہیں جانتا ہوں ، کون سا پسند ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ طواف کے دوران موزے پہنے ہوئے ہیں ۔ حضرت عبندالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے یہ آپ سے بہتر زمانہ میں پہنا یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے زمانہ میں ۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← شَرِيکٍ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 843

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 844

844 - حدثنا وهب بن بقية الواسطي حدثنا خالد عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن محمد بن جبير بن مطعم Y عن عبد الرحمن بن عوف قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : شهدت وأنا غلام حلفا مع عمومتي المطيبين فما أحب أن لي حمر النعم وأني أنكثه K إسناده صحيح

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : میں اور ایک غلام حاضر تھے ، مطیبین کی دو پھو پھیوں کے ساتھ ۔ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند تھا کہ میں اس کو توڑو ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 844

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 845

845 - حدثنا العباس بن الوليد النرسي حدثنا بشر بن المفضل حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه Y عن عبد الرحمن بن عوف قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : شهدت غلاما مع عمومتي حلف المطيبين فما أحب أن لي حمر النعم وأني أنكثه K إسناده صحيح

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : میں اور ایک غلام حاضر تھے ، عمومتی کے ساتھ ۔ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند تھا کہ میں اس کو توڑو ں۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 845

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 846

846 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه Y عن عبد الرحمن بن عوف قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم شهدت مع عمومتي فذكر نحوه K إسناده صحيح

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : میں اور ایک غلام حاضڑتھے ، عمومتی المطین کے ساتھ ۔ پس اس کے بعد اس جیسی حدیث بیان کی ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 846

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter