مسند أبي يعلى · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بقية من مسند عبد الله بن أنيس · حديث 905
905 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن إسحاق حدثني محمد بن جعفر بن الزبير عن ابن عبد الله بن أنيس Y عن أبيه قال : دعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن بلغني أن ابن سفيان بن نبيح الهذلي جمع لي الناس ليغزوني وهو بنخلة أو بعرنة فأته قال : قلت : يا رسول الله انعته لي حتى أعرفه فقال : آية ما بينك وبينه أنك إذا رأيته وجدت له قشعريرة قال : فخرجت متوشحا بسيفي حتى وقعت عليه في ظعن يرتاد لهن منزلا حين كان وقت العصر فلما رأيته ] وجدت ما وصف لي رسول الله صلى الله عليه و سلم من القشعريرة فأخذت نحوه وخشيت أن يكون بيني وبينه محاولة تشغلني عن الصلاة فصليت وأنا أمشي نحوه أومىء برأسي فلما انتهيت إليه قال : ممن الرجل ؟ قلت : رجل من العرب سمع بك وبجمعك لهذا الرجل فجاء لذلك قال : أحل إني أنا في ذلك قال : فمشيت معه شيئا حتى إذا أمكنني حملت عليه بالسيف حتى قتلته ثم خرجت وتركت ظعائنه منكبات عليه فلما قدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فرآني قال : قد أفلح الوجه قال : قلت : قتلته يا رسول الله قال : صدقت قال : ثم قام معي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأدخلني بيته فأعطاني عصا فقال : أمسك هذه العصا عندك يا عبد الله بن أنيس قال : فخرجت بها على الناس فقالوا : ما هذه العصا ؟ قلت : أعطانيها رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمرني أن أمسكها قالوا : أفلا ترجع فتسأله لم ذلك ؟ قال : فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله لم أعطيتني هذه العصا ؟ قال : آية بيني وبينك يوم القيامة إن أقل الناس المختصرون أو المتحضرون يومئذ فقرنها عبد الله بسيفه فلم تزل معه حتى إذا مات أمر بها فضمت معه في كفنه ثم دفنا جميعا رحمة الله K إسناده ضعيف
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے بلوایا اور فرمایا : مجھے خبر ملی ہے کہ ابن سفیان بن نبیح الہذلی میرے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے تاکہ مجھ سے جہاد کرے ، وہ نخلہ یا عرنہ کے مقام پر ہے تو اس کے پاس جا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے اس کا حلیہ بتائیں تاکہ میں اس کو پہچان لوں ۔ آپ نے فرمایا : جب تو اس کو دیکھے گا تو تیرے اور اس کے درمیان نشانی یہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے تو اس کو پائے گا کہ وہ کپکپی کی حالت میں اپنی تلوار کو لپٹا کر نکلا ہے یہاں تک کہ میں اس کے گھر کے قریب چلا گیا، اس وقت عصر کا وقت تھا ، جب میں نے اس کو دیکھا تو اسی طرح پایا جو مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے اس کی حالت بتائی تھی ، کپکپی اس پر طاری تھی ، میں نے اس کو پکڑا ، مجھے خوف ہوا کہ میرے اور اس کے درمیان حائل ہونے کی وجہ سے نماز عصر نہ رہ جائے اور مجھے نماز سے مشغول رکھے ، میں نے نماز اس حال میں پڑھ لی کہ میں اس کے ساتھ چل رہا تھا ، میں نے اپنے سر کے ساتھ اشارہ کر کے نماز پڑھ لی ، جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا : کون آدمی ہے ؟ میں نے کہا : عرب سے ایک آدمی ہوں ، آپ کے اور آپ کے لشکر کے متعلق سنا ہے ، اس آدمی کے متعلق ( یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے ) اس سے آیا ہوں ، اس نے کہا : ٹھیک ہے ! میں بھی اسی نیت سے ہوں، میں اس کے ساتھ تھوڑی دیر چلا ،جب میرے قابو میں آ گیا تو میں نے اس پر تلوار کا حملہ کر دیا یہاں تک کہ میں نے اس کو قتل کر دیا ۔ پھر میں نکلا اور میں اپنی تلوار اسی پر لگی چھوڑ گیا ، جب میں حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے دیکھا تو آپ نے فرمایا : اس کا چہرہ کامیاب ہو گیا ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کو مار کر آیا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : تو نے سچ کہا ! پھر حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم میرےساتھ کھڑے ہوئے اور مجھے اپنے گھر لے گئے مجھے عصا مبارک عطا کیا اور فرمایا : اس عصا کو اپنے پا سنبھال کر رکھنا ، اے عبداللہ بن ا نیس ! میں وہ لے کر صحابہ کرام کے پاس آیا ، صحابہ کرام نے کہا : یہ عصا ء کیا ہے ؟ میں نے کہا : مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے عطا کیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ مین اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھوں ۔ صحابہ کرام نے فرمایا : کیا تو واپس نہیں جاتا ہے یہ پوچھنے کہ اسے کس لیے سنبھال کر رکھوں ؟ میں واپس گیا اور آپ کی بار گاہ میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے یہ عصا مجھے کیوں دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میرے اور تیرے درمیان قیامت کے دن نشانی کے طور پر ، اگرچہ لوگ اس دن مختصر ہوں گے ۔ حضرت عبداللہ نے تلوار کے ساتھ ملا کر اسے رکھ دیا او ر ہمیشہ اپنے پاس رکھتے یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا ، انہوں نے اس عصا ء کے متعلق حکم دیا کہ اسے میرے کفن میں رکھنا ، پھر دونوں کو ملا کر دفن کیا گیا ، اللہ ا ن پر رحم کرے !
أَبِيهِ ← ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ
Musnad Abu Yaalaa · The rest of Musnad Abdullah bin Anis › Chapter · Hadith 905
