Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بقية من مسند عبد الله بن أنيس · حديث 905

905 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن إسحاق حدثني محمد بن جعفر بن الزبير عن ابن عبد الله بن أنيس Y عن أبيه قال : دعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن بلغني أن ابن سفيان بن نبيح الهذلي جمع لي الناس ليغزوني وهو بنخلة أو بعرنة فأته قال : قلت : يا رسول الله انعته لي حتى أعرفه فقال : آية ما بينك وبينه أنك إذا رأيته وجدت له قشعريرة قال : فخرجت متوشحا بسيفي حتى وقعت عليه في ظعن يرتاد لهن منزلا حين كان وقت العصر فلما رأيته ] وجدت ما وصف لي رسول الله صلى الله عليه و سلم من القشعريرة فأخذت نحوه وخشيت أن يكون بيني وبينه محاولة تشغلني عن الصلاة فصليت وأنا أمشي نحوه أومىء برأسي فلما انتهيت إليه قال : ممن الرجل ؟ قلت : رجل من العرب سمع بك وبجمعك لهذا الرجل فجاء لذلك قال : أحل إني أنا في ذلك قال : فمشيت معه شيئا حتى إذا أمكنني حملت عليه بالسيف حتى قتلته ثم خرجت وتركت ظعائنه منكبات عليه فلما قدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فرآني قال : قد أفلح الوجه قال : قلت : قتلته يا رسول الله قال : صدقت قال : ثم قام معي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأدخلني بيته فأعطاني عصا فقال : أمسك هذه العصا عندك يا عبد الله بن أنيس قال : فخرجت بها على الناس فقالوا : ما هذه العصا ؟ قلت : أعطانيها رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمرني أن أمسكها قالوا : أفلا ترجع فتسأله لم ذلك ؟ قال : فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله لم أعطيتني هذه العصا ؟ قال : آية بيني وبينك يوم القيامة إن أقل الناس المختصرون أو المتحضرون يومئذ فقرنها عبد الله بسيفه فلم تزل معه حتى إذا مات أمر بها فضمت معه في كفنه ثم دفنا جميعا رحمة الله K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے بلوایا اور فرمایا : مجھے خبر ملی ہے کہ ابن سفیان بن نبیح الہذلی میرے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے تاکہ مجھ سے جہاد کرے ، وہ نخلہ یا عرنہ کے مقام پر ہے تو اس کے پاس جا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے اس کا حلیہ بتائیں تاکہ میں اس کو پہچان لوں ۔ آپ نے فرمایا : جب تو اس کو دیکھے گا تو تیرے اور اس کے درمیان نشانی یہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے تو اس کو پائے گا کہ وہ کپکپی کی حالت میں اپنی تلوار کو لپٹا کر نکلا ہے یہاں تک کہ میں اس کے گھر کے قریب چلا گیا، اس وقت عصر کا وقت تھا ، جب میں نے اس کو دیکھا تو اسی طرح پایا جو مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے اس کی حالت بتائی تھی ، کپکپی اس پر طاری تھی ، میں نے اس کو پکڑا ، مجھے خوف ہوا کہ میرے اور اس کے درمیان حائل ہونے کی وجہ سے نماز عصر نہ رہ جائے اور مجھے نماز سے مشغول رکھے ، میں نے نماز اس حال میں پڑھ لی کہ میں اس کے ساتھ چل رہا تھا ، میں نے اپنے سر کے ساتھ اشارہ کر کے نماز پڑھ لی ، جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا : کون آدمی ہے ؟ میں نے کہا : عرب سے ایک آدمی ہوں ، آپ کے اور آپ کے لشکر کے متعلق سنا ہے ، اس آدمی کے متعلق ( یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے ) اس سے آیا ہوں ، اس نے کہا : ٹھیک ہے ! میں بھی اسی نیت سے ہوں، میں اس کے ساتھ تھوڑی دیر چلا ،جب میرے قابو میں آ گیا تو میں نے اس پر تلوار کا حملہ کر دیا یہاں تک کہ میں نے اس کو قتل کر دیا ۔ پھر میں نکلا اور میں اپنی تلوار اسی پر لگی چھوڑ گیا ، جب میں حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے دیکھا تو آپ نے فرمایا : اس کا چہرہ کامیاب ہو گیا ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کو مار کر آیا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : تو نے سچ کہا ! پھر حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم میرےساتھ کھڑے ہوئے اور مجھے اپنے گھر لے گئے مجھے عصا مبارک عطا کیا اور فرمایا : اس عصا کو اپنے پا سنبھال کر رکھنا ، اے عبداللہ بن ا نیس ! میں وہ لے کر صحابہ کرام کے پاس آیا ، صحابہ کرام نے کہا : یہ عصا ء کیا ہے ؟ میں نے کہا : مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے عطا کیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ مین اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھوں ۔ صحابہ کرام نے فرمایا : کیا تو واپس نہیں جاتا ہے یہ پوچھنے کہ اسے کس لیے سنبھال کر رکھوں ؟ میں واپس گیا اور آپ کی بار گاہ میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے یہ عصا مجھے کیوں دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میرے اور تیرے درمیان قیامت کے دن نشانی کے طور پر ، اگرچہ لوگ اس دن مختصر ہوں گے ۔ حضرت عبداللہ نے تلوار کے ساتھ ملا کر اسے رکھ دیا او ر ہمیشہ اپنے پاس رکھتے یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا ، انہوں نے اس عصا ء کے متعلق حکم دیا کہ اسے میرے کفن میں رکھنا ، پھر دونوں کو ملا کر دفن کیا گیا ، اللہ ا ن پر رحم کرے !

أَبِيهِ ← ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · The rest of Musnad Abdullah bin Anis › Chapter · Hadith 905

مسند أبي يعلى · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بقية من مسند عبد الله بن أنيس · حديث 906

906 - حدثنا الصلت بن مسعود الجحدري حدثني يحيى بن عبد الله بن يزيد بن عبد الله بن أنيس حدثني الحسن بن يزيد عمي Y عن عبد الله بن أنيس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعثه سرية وحده K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ان کو اکیلے ایک سریہ میں بھیجا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← الحسن بن يزيد عمي ← يحيى بن عبد الله بن يزيد بن عبد الله بن أنيس ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · The rest of Musnad Abdullah bin Anis › Chapter · Hadith 906

مسند أبي يعلى · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بقية من مسند عبد الله بن أنيس · حديث 907

907 - حدثنا أبو كريب محمد بن العلاء حدثنا يونس ابن بكير حدثنا إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع الأنصاري حدثني إبراهيم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك حدثني أبي عن جدي أبي أمي Y عن عبد الله بن أنيس قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبا قتادة وحليفا لهم من الأنصار و عبد الله بن عتيك إلى ابن أبي الحقيق لنقتله فخرجنا فجئنا خيبر ليلا فتتبعنا أبوابهم فغلقنا عليهم من خارج ثم جمعنا المفاتيح فأرقيناها فصعد القوم في النخل ودخلت أنا و عبد الله بن عتيك في درجة أبي الحقيق فتكلم عبد الله بن عتيك فقال ابن أبي الحقيق : ثكلتك أمك عبد الله ! أنى لك بهذه البلدة قومي فافتحي فإن الكريم لا يرد عن بابه هذه الساعة فقامت فقلت لعبد الله بن عتيك : دونك فأشهر عليهم السيف فذهبت امرأته لتصيح فأشهر عليها وأذكر قول رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى عن قتل النساء والصبيان فأكف فقال عبد الله بن أنيس : فدخلت عليه في مشربة له فوقفت أنظر إلى شدة بياضه في ظلمة البيت فلما رآني أخذ وسادة فاستتر بها فذهبت أرفع السيف لأضربه فلم أستطيع من قصر البيت فوخزته وخزا ثم خرجت فقال صاحبي : فعلت ؟ قلت : نعم فدخل فوقف عليه ثم خرجنا فانحدرنا من الدرجة فسقط عبد الله بن عتيك في الدرجة فقال : وارجلاه ! كسرت رجلي فقلت له : ليس برجلك بأس ووضعت قومسي واحتملته وكان عبد الله قصيرا ضئيلا وصاحت المرأة يا بياتاه ! فيثور أهل خيبر ثم ذكرت موضع قومسي في الدرجة فقلت : والله لأرجعن فلآخذن قوسي فقال أصحابي : قد تثور أهل خيبر تقتل ؟ فقلت : لا أرجع أنا حتى آخذ قوسي فرجعت فإذا أهل خيبر قد تثوروا وإذا ما لهم كلام إلا : من قتل ابن أبي الحقيق ؟ فجعلت لا أنظر في وجه إنسان ولا ينظر في وجهي إلا قلت كما يقول : من قتل ابن أبي الحقيق ؟ حتى جئت الدرجة فصعدت مع الناس فأخذت قوسي ثم لحقت أصحابي فكنا نسير الليل ونكمن النهار فإذا كمنا النهار أقعدنا ناطورا ينطرنا حتى إذا اقتربنا من المدينة فكنا بالبيداء كنت أنا ناطرهم ثم إني ألحت لهم بثوبي فانحدروا فخرجوا جمزا وانحدرت في آثارهم فأدركتهم حتى بلغنا المدينة فقال لي أصحابي : هل رأيت شيئا ؟ فقلت : لا ولكن رأيت ما أدرككم من العناء فأحببت أن يحملكم الفزع وأتينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب الناس فقال صلى الله عليه و سلم : أفلحت الوجوه فقلنا : أفلح وجهك يا رسول الله قال : فقتلتموه ؟ قلنا : نعم فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسيف الذي قتل به فقال : هذا طعامه في ذباب السيف K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مجھے اوا بو قتادہ اور انصار کے ایک گروہ اور عبداللہ بن عتیک کو ابن ا بی حقیق کی طرف بھیجا تاکہ ہم اس کو قتل کریں ۔ ہم نکلے ، ہم رات کو خیبر آئے ،ہم نے ان کے درواوں کو تلاش کیا ، ہم نے باہر سے ان کو بند کر دیا ، پھر ہم نے چابیاں جمع کیں ، ہم نے چابیاں لگا کر بد کر دئیے ۔ قوم کھجور کے باغ میں چلی گئی ، میں اور عبداللہ بن عتیک ، ا بی حقیق کے درجہ میں داخل ہو ئے اور عبداللہ بن عتیک نے گفتگو کی کی ۔ ابن ا بی عقیق نے کہا : عبداللہ تیری ماں تجھ پر روئے ! تو اس شہر میں کیسے آ گیا ؟ تو اٹھ ! میرے لیے دروازہ کھول ! کیونکہ ہم اس دروازے سے اس گھڑی در نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ اٹھی ، میں نے عبداللہ بن عتیک سے کہا : اس پر تلوار کا اشارہ کر ، اس کی عورت گئی تاکہ آواز دے ، میں اس پر اشارہ کرنے لگا تو مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی بات یاد آ گئی کہ آپ نے عورتوں کے قتل کرنے سے منع کیا ہے اور بچوں کے قتل سے ۔ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس کے پاس اس کے کمرے میں داخل ہوا تو میں رک گیا گھر میں اندھیرے کے باوجود اتنی روشنی دیکھ کر کہ جب اس نے مجھے دیکھا تو اسنے تکیہ لیا اور اس اپنے آپ کو چھپا لیا ، میں آگے بڑھا اور میں نے اس کو مارنے کے لیے تلوار اٹھائی لیکن میں گھر کی مضبوطی کی وجہ سے طاقت نہیں رکھتا تھا ، میں اس کو مارا، یا میں نے اس پر تیر کو ٹھونسا ، پھر میں نکلا ، میرے ساتھی نے کہا : تو نے کام کر لیا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! وہ داخل ہوا اور اس پر رکا ، پھر ہم نکلے اور ہم نے اوپر سے چھلانگ لگائی، حضرت عبداللہ بن عتیک گرے اور کہنے لگے : ہائے میرا پاؤں ٹوٹ گیا ! میں نے کہا : آپ کے پاؤں کو کوئی تکلیف نہیں ہے ! میں نے اپنی کمان کو رکھا اور میں نے ان کو اٹھایا ، حضرت عبداللہ کمزور آدمی تھے ، میں نے اتارا تو ان کے پاؤں پر کوئی تکلیف نہیں تھی ۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ پم اپنے ساتھیوں کو ملے ۔ایک عورت نے چیخ ماری ، اس سے خیبر والوں کو جوش دلایا ، پھر مجھے میری کمان وہاں سیڑھی یاد آئی ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنی کمان ضرور لوں گا ، میرے ساتھی نے کہا : اہل خیبر جوش میں ہیں ، آپ کو قتل کر دیں گے ؟ میں نے کہا : میں واپس نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ میں اپنی کمان نہ لے آؤں ۔میں واپس گیا تو اہل خیبر جوش میں تھے ، ان کی زبان پر یہ بات تھی کہ ابن ا بی حقیق کو کس نے قتل کیا ہے ؟ میں نے دل میں کہا کہ میں بھی ایسے ہی کہتا ہوں کہ ابن ا بی حقیق کو کس نے قتل کیا ہے تاکہ میرے چہرے کو کوئی نہ دیکھے ، یہاں تک کہ میں دوسری منزل پر آیا ، میں لوگوں کے ساتھ چڑھ رہا تھا ، میں نے اپنی کمان لی اور پھر اپنے ساتھی سے جا ملا ۔ ہم رات کو چلتے اور دن کو رک جاتے ، جب ہم دن کو چھپتے تو ہم ناطور میں بیٹھتے تھے ، ہم دیکھتے رہتے تھے پھر جب ہم مدینہ کے قریب ہوئے تو ہم مقام بیداء پر پہنچے ، میں دیکھنے لگا پھر میں نے اپنے آپ کو کپڑے میں چھپا لیا ۔ مجھے میرے ساتھی نے کہا : کیا کوئی شی دیکھ رہے ہیں ؟ میں نے کہا : نہیں ! میں پسند کرتا ہوں کہ گھبراہٹ چلی جائے ۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس آئے تو آپ صحابہ کو خطبہ دے رہے تھے ، ہم نے عرض کی : اللہ عزوجل آپ کے چہرے کو عزت دے ! آپ نے فرمایا: اس کو قتل کر دیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں !آ پ نے وہ تلوار منگوائی جس سے اس گستاخ رسول کو قتل کیا گیا تھا ، آپ نے فرمایا : یہ تلوار کا کھانا تھا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← جدي أبي أمي ← أَبِي ← إبراهيم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← يونس ابن بكير ← أبو كريب محمد بن العلاء

Musnad Abu Yaalaa · The rest of Musnad Abdullah bin Anis › Chapter · Hadith 907

All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter