Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 629

629 - أخبرنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا عبد الرحمن ابن مهدي عن زائدة بن قدامة عن سماك بن حرب عن موسى بن طلحة . Y عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم : ليجعل أحدكم بين يديه مثل مؤخرة الرحل ثم يصلي K إسناده حسن

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : تم سے کوئی اپنے آگے کجاوہ کی چوب کی مثل رکھ لے ، پھر اس کے پیچھے نماز پڑھے ۔

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ مَهْدِيٍّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 629

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 630

630 - حدنا عبيد الله حدثنا عمر بن عبيد الطنافسي عن سماك بن حرب عن موسى بن طلحة . Y عن أبيه قال : كنا نصلي والدواب تمر بين أيدينا فذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : مثل مؤخرة الرحل يكون بين يدي أحدكم ثم لا يضره ما يمر بين يديه K إسناده حسن

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے تھے ، جانور ہمارے آگے سے گزرتے تھے ۔ ہم نے اس بات کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے سامنے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : کجاوہ کے پائے کی مثل اگے رکھ لیا کرو ، جو آگے سے گزرے گا تو اس کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ← حدنا عبيد الله

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 630

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 631

631 - حدثنا الفضل بن سكين بن سخيت حدثنا سليمان بن أيوب بن سليمان بن موسى بن طلحة بن عبيد الله حدثني أبي عن جدي قال : حدثني موسى بن طلحة Y عن طلحة بن عبيد الله قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار . قال الفضل : كان سليمان هذا كوفيا ثقة K إسناده ضعيف , ومتن الحديث متواتر

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے میں نے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔ حضرت فضل فرماتے ہیں کہ سلیمان بن ایوب کوفی ثقہ تھے ۔

الفضل كان سليمان هذا كوفيا ثقة إسناده ضعيف ومتن الحديث متواتر ← مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← سليمان بن أيوب بن سليمان بن موسى بن طلحة بن عبيد الله ← الفضل بن سكين بن سخيت

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 631

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 632

632 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرعرة حدثنا معتمر بن سليمان عن ليث عن مولى لموسى بن طلحة أو عن ابن لموسى بن طلحة عن أبيه Y عن جده قال : كان نبي الله صلى الله عليه و سلم يتوضأ من ألبان الإبل ولحومها ولا يصلي في أعطانها ولا يتوضأ من لحوم الغنم وألبانها ويصلي في مرابضها K إسناده ضعيف

حضرت موسیٰ بن طلحہ اپنے والد ، ان کے والد ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اونٹنی کا دودھ پینے اور اس کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرتے تھے ( یعنی کلی کرتے اور ہاتھ دھوتے تھے ) اونٹوں کے باندھنے کی جگہ میں نماز نہیں پڑھتے تھے ۔ بکریوں کے دودھ پینے اور ان کا گوشت کھانے کے بعد وضو نہیں کرتے تھے اور ان کے باندھنے کی جگہ میں نماز پڑھتے تھے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← ابن لموسى بن طلحة ← مولى لموسى بن طلحة أو ← لَيْثٌ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 632

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 633

633 - حدثنا غسان بن الربيع حدثنا ليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي نصر Y أن عثمان بن عفان دعا بماء للوضوء وعنده الزبير و طلحة و علي و سعد ثم توضأ وهم ينظرون وغسل وجهه ثلاث مرات ثم أفرغ على يمينه ثلاث مرات وغسل شماله ثلاث مرات ومسح برأسه ورش على رجله اليمنى ثم غسلها ثلاث مرات ثم رش على رجله اليسرى ثم غسلها ثلاث مرات ثم قال للذين حضروا : أنشدكم الله أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يتوضأ كما توضأت الآن ؟ قالوا : نعم وذلك لشيء بلغه عن وضوء قوم K إسناده ضعيف

حضرت یزید بن ابی حبیب رضی اللہ عنہ ابو نصر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کے لیے پانی منگوایا ، آپ کے پاس حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ و حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔ پھر آپ نے وضو کیا ، یہ حضرات آپ کو دیکھ رہے تھے ۔ آپ نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ۔ پھر اپنے ہاتھ پہ تین مرتبہ پانی ڈالا اور اپنے بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا ۔ اپنے دائیں پاؤں پہ پانی ڈالا۔ پھر اس کو تین مرتبہ دھویا پھر بائیں پاؤں پہ پانی ڈالا ۔ پھر اس کو دھویا ۔ تین مرتبہ پھر جو آپ کے پاس موجود تھے ، ان کو بتایا تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم وضو ایسے ہی کرتے تھے جس طرح ابھی میں نے وضو کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، فرمایا : یہ شے ہے بتا دو قوم کو وضو کے متعلق ۔

أبي نصر أن عثمان بن عفان دعا بماء للوضوء ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 633

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 634

634 - حدثنا القواريري حدثنا عبد الله بن داود عن طلحة بن يحيى عن إبراهيم - قال ابن داود أراه قال مولى لنا - عن عبد الله بن شداد Y عن طلحة بن عبيد الله قال : أتى ثلاثة نفر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى عليه وسلم : من يكفيني هؤلاء ؟ فكفيتهم فبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم بعثا فخرج رجل منهم فقتل ثم مكث الآخران عندي ثم بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم بعثا وخرج الآخر فقتل ثم مكب الآخر عندي فمرض فمات على فراشه قال طلحة : فأريتهم في المنام كأن الذي مات على فراشه كان أولهم دخولا الجنة وآخرهم دخولا الذي قتل أولهم فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم قال : وما أنكرت من هذا ؟ إن المؤمن بكذا . وكذا تسبيحة . قال ابن داود : هذا معناه K رجاله رجال الصحيح

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین آدمی حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی بارگاہ میں لائے گئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ان کی ضمانت کون دے گا ؟ میں نے اپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو ان کی ضمانت دی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے لشکر کو بھیجا ۔ ان میں سے ایک آدمی نکلا اس کو قتل کیا گیا پھر دو میرے پاس ٹھہرے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے لشکر کو بھیجا ، دوسرا بھی نکلا اس کو قتل کیا گیا ۔ پھر ایک میرے پاس ٹھہرا وہ بیمار ہو گیا ۔ وہ اپنے بستر پر مرا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ان کو خواب میں دیکھا تھا وہ جو اپنے بستر پر مرا تھا ، وہ جنت میں سب سے پہلے داخل ہو گیا تھا ، سب سے آخر میں وہ داخل ہوا جو سب سے پہلے قتل کیا گیا تھا ۔ میں نے یہ خواب حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی بارگاہ میں بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : تو اس پر تعجب کیوں کرتا ہے ؟ اس مومن کی نمازیں اور تسبیحات کہاں گئیں؟ ابن داؤد نے فرمایا : یہی اس کا معنی ہے ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 634

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 635

635 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا يحيى بن سعد عن ابن جريج حدثني محمد بن المنكدر عن معاذ بن عبد الرحمن التيمي عن أبيه قال Y كنا مع طلحة بن عبد الله ونحن حرم فأهدي له طير و طلحة راقد فأكل بعضنا وبعضنا تورع فلما استيقط طلحة وفق من أكل وقال : أكلناه مع رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت معاذ بن عبدالرحمن التمیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور حرم میں تھے ، آپ کو ایک پرندہ ہدیہ دیا گیا ، اس حالت میں کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے ۔ ہم میں سے بعض نے کھا لیا ، بعض نے پرہیزگاری اختیاری کی ۔ جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اٹھے ، انہوں نے ان کو درست قرار دیا ، جنہوں نے کھایا اور ( تائید کے طور پر فرمایا ) ہم نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ اس کو کھایا تھا۔

أَبِيهِ ← معاذ بن عبد الرحمن التيمي ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 635

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 636

636 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرعرة حدثنا وهب بن جرير حدثنا أبي قال : سمعت محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن أبي أنس بن أبي عامر قال Y كنت مع طلحة بن عبيد الله فدخل عليه رجل فقال : يا أبا محمد ما ندري : هذا اليماني أعلم برسول الله منكم أم هو يقول على رسول الله صلى الله عليه و سلم ما لم يقل ؟ فقال : والله ما نشك أنه سمع من رسول الله صلى الله عليه و سلم ما لم نسمع وعلم ما لم نعلم إنا كنا أقواما أغنياء لنا بيوتات وأهلون وكنا نأتي نبي الله صلى الله عليه و سلم طرفي النهار ثم نرجع وكان مسكينا لا مال له ولا أهل إنما كانت يده مع يد نبي الله صلى الله عليه و سلم وكان يدور معه حيث ما دار فما نشك أنه قد علم ما لم نعلم وسمع ما لم نسمع ولم نجد أحدا فيه خير يقول على رسول الله صلى الله عليه و سلم ما لم يقل يعني أبا هريرة K رجاله ثقات

حضرت ابو انس بن ابی عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے عرض کی : اے ابو محمد رضی اللہ عنہ ہم نہیں جانتے ہیں کہ یہ یمانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ک تم سے زیادہ جانتا ہے یا آپ رضی اللہ عنہ ؟ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی وہ حدیثیں بیان کرتا ہے جو آپ رضی اللہ عنہ نے نہیں فرمائیں ؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہم شک نہیں کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا ہے یا نہیں سنا ، وہ جانتے ہیں یا نہیں جانتے ۔ ہم لوگ مال دار تھے ہمارے اپنے گھر تھے ۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس آتے صبح و شام ، پھر ہم واپس آ جاتے تھے ۔ یہ مسکین آدمی تھا اس کے پاس مال بھی نہیں تھا ، گھر والے بھی نہیں تھے ۔ اس کا ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ ہی رہتا تھا جہاں اپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم جاتے تھے ، ہم کو شک نہیں اس کو معلوم ہے یا جو ہم نہیں جانتے ہیں ، انہوں نے سنا جو ہم نے نہیں سنا ، ہم میں سے کوئی بھلائی نہیں پاتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی وہ حدیثیں بیان کرے جو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے نہیں فرمائی ہیں ، مراد اس سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔

أبي أنس بن أبي عامر ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 636

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 637

637 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا الخضر بن محمد الحراني حدثنا محمد بن سلمى عن محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن مالك بن أبي عامر قال Y جاء رجل إلى طلحة بن عبيد الله فقال : يا أبا محمد أرأيتك هذا اليماني أو قال الخضر : اليماني هو أعلم برسول الله صلى الله عليه و سلم منكم - يعني : أبا هريرة - نسمع منه أشياء لا نسمعها منكم ؟ فقال : أما أن يكون قد سمع من رسول الله صلى الله عليه و سلم لا لم نسمع فلا أشك وسأخبرك عن ذلك إنا كنا أهل بيوت وكنا إنما نأتي رسول الله صلى الله عليه و سلم غدوة وعشية وكان مسكينا لا مال له إنما هو على باب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلا أشك أنه قد سمع ما لم نسمع وهل تجد أحدا فيه خير يقول على رسول الله صلى الله عليه و سلم ما لم يقل ؟ ! K رجاله ثقات

حضرت ابو انس بن ابی عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا ، اس نے عرض کی : اے ابو محمد رضی اللہ عنہ !ہم نہیں جانتے ہیں کہ یہ یمانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو تم سے زیادہ جانتا ہے یا آپ رضی اللہ عنہ ؟ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی وہ حدیثیں بیان کرتا ہے جو آپ رضی اللہ عنہ نے نہیں فرمائیں؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ہم شک نہیں کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا ہے یا نہیں سنا یا وہ جانتے ہیں جو ہم نہیں جانتے ہیں ۔ ہم لوگ مال دار تھے ہمارے اپنے گھر تھے ۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس آتے صبح و شام ، پھر ہم واپس آ جاتے تھے ۔ یہ مسکین آدمی تھا اس کے پاس مال بھی نہیں تھا۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے دروازے پر ہی رہتا تھا مجھے شک نہیں جو اس نے سنا ہم نے نہیں سنا ہے کیا تم میں کوئی بھلائی پا سکتا ہے تم میں کوئی اس میں بھلائی نہیں پا سکتا ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی وہ حدیثیں بیان کرے جو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے نہیں فرمائی ہیں ۔

مَالِکَ بْنَ أَبِي عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← محمد بن سلمى ← الخضر بن محمد الحراني ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 637

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 638

638 - حدنا حميد بن مسعدة حدثنا يوسف بن خالد حدثنا الحسن بن عمارة عن الحكم بن عتيبة و حبيب بن أبي ثابت عن موسى بن طلحة Y عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان تعجل صدقة العباس بن عبد المطلب سنتين K إسناده ضعيف جدا

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا دو سال کا صدقہ جلدی دے دیتے تھے ۔

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← الحكم بن عتيبة و حبيب بن أبي ثابت ← الحسن بن عمارة ← يوسف بن خالد ← حدنا حميد بن مسعدة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 638

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 639

639 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج النيلي حدثنا أبو عوانة عن سماك بن حرب عن موسى بن طلحة Y عن أبيه قال : مررت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على قوم في رؤوس النخل فقال : ما يصنع هؤلاء ؟ قالوا : يلقحونه فيجعلون الذكر في الأنثى فيتلقح قال : ما أظن ذلك يغني شيئا فأخذوا بذلك فتركوه فأخبر النبي صلى الله عليه و سلم بذلك فقال : إن كان ينفعهم فليصنعوه فإني إنما ظننت ظنا فلا تؤاخذوني بالظن ولكن إذا أخبرتكم عن الله بشيء فخذوه فإني لن أكذب على الله شيئا K إسناده صحيح

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرے جو کھجوروں پر چڑھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے پوچھا : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم یہ نر کھجوروں کو مادہ کھجوروں کے ساتھ ملا رہے ہیں ۔ مذکر کو مؤنث میں لگا رہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ یہ شے فائدے مند نہیں ہو گی ۔ ان کو اس بات کی اطلاع ہوئی ، انہوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو اس معاملہ کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اگر انکو نفع ہوتا تھا تو وہ کریں ، میں نے تو گمان کے مطابق کہا تھا ، میرے گمان پر عمل نہ کرو لیکن جب میں اللہ کے حوالہ سے کسی شے کی خبر دوں تو اس کو پکڑو کیونکہ میں اللہ پر جھوٹ نہیں بولتا ہوں ۔

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِي،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 639

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 640

640 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا عبد الله بن نمير حدثنا مجالد عن الشعبي عن جابر قال Y سمعت عمر يقول لطلحة بن عبيد الله : ما لي أراك شعثت واغبررت مذ توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم لعله أن ما بك إمارة ابن عمك ؟ قال : فقال : معاذ الله إني سمعته يقول : إني لأعلم كلمة لا يقولها رجل يحضره الموت إلا وجد روحه لها روحا حتى تخرج من جسده وكانت له نورا يوم القيامة فلم أسأل رسول الله عنها ولم يخبرني بها فذاك الذي دخلني قال عمر : فأنا أعلمها قال : فلله الحمد فما هي ؟ قال : الكلمة التي قالها لعمه قال : صدقت K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا ہے کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ کے بال بکھرے ہوئے اور جسم پر گردو غبار ہے ، جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا انتقال ہوا ہے ، شاید آپ کو اپنے چچا زاد کی حکومت اچھی نہ معلوم ہوتی ہو ؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اللہ کی پناہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا تھا کہ اپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر کوئی اپنی موت کے وقت یہ کلمہ کہہ لے تو اس کی روح اس کی وجہ سے راحت پائے گی یہاں تک کہ جسم سے روح نکل جائے ۔ قیامت کے دن اس کے لیے نور ہو گا۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا نہیں اور نہ ہی مجھے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے بتایا ، اس وجہ سے میں پریشان ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس کلمہ کو جانتا ہوں ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہیں ، وہ کیا ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہی کلمہ جو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے چچا حضرت ابو طالب سے کہے تھے ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا ، آپ نے سچ کہا ۔

لطلحة بن عبيد الله ما لي أراك شعثت ← عُمَرَ، ← جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 640

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter