Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 140

140 - حدثنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت Y عن أنس قال : كنا عند عمر بن الخطاب بالمدينة فتراءينا الهلال وكنت رجلا حديد البصر فرأيته وليس أحد يزعم أنه رآه غيري قال : فجعلت أقول لعمر : أما تراه ؟ فجعل لا يراه قال : يقول عمر : سأراه وأنا مستلق على فراشي ثم أنشأ يحدثنا عن أهل بدر قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يرينا مصارع أهل بدر بالأمس قال يقول : هذا مصرع فلان غدا إن شاء الله قال : فقال عمر فوالذي بعثه بالحق ما أخطؤوا الحدود التي حد رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فجعلوا في بئر بعضهم على بعض فانطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى انتهى إليهم فقال : يا فلان بن فلان ويا فلان بن فلان هل وجدتم ما وعدكم الله ورسوله حقا ؟ فإني قد وجدت ما وعدني الله حقا قال عمر : يا رسول الله تكلم أجسادا لا أرواح فيها ؟ فقال : ما أنتم بأسمع لما أقول منهم غير أنهم لا يستطيعون أن يردوا علي شيئا K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ شریف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، ہم نے چاند دیکھا۔ میں تیز بصارت والا آدمی تھا۔ میرا خیال تھا کہ میرے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاند دیکھا ہے؟آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے نہیں دیکھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ابھی دیکھتا ہوں، میں اس وقت بستر پر چت لیٹا ہوا تھا ۔ پھر حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہمیں بدر والوں کے متعلق بیان کرنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اہل بدر کے کافروں کے متعلق ایک دن پہلے ہی دکھا دیا تھا کہ یہ فلاں کا فر کے گرنے کی جگہ ہے، آئند ہ دن ان شاء اللہ ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے جس جگہ کا تعین حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا اس جگہ سے ( وہ کافر ) ذرا ادھر ادھر نہیں ہوۓ ، پس ان کافروں کو ایک کنواں میں ڈالا گیا ایک دوسرے کے او پر، پھر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آۓ اس جگہ پہنچے اور فرمایا اے فلاں بن فلاں اے فلاں بن فلاں کیا تم نے اس چیز کو پالیا جس چیز کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا؟ بے شک میں نے پالیا ہے جو میرے اللہ نے میرے ساتھ حق وعدہ کیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی، یا رسول اللہ ! آپ ایسے جسموں کے ساتھ کلام کرتے ہیں جن میں رحیں نہیں رہی ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: اے عمر ! تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے جو میں ان کو کہہ رہا ہوں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ یہ کافر کسی چیز کا جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 140

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 141

141 - حدثنا شيبان حدثنا جرير بن حازم قال سمعت عبد الملك بن عمير يحدث عن جابر بن سمرة السوائي فقال Y خطبنا عمر بن الخطاب بالجابية فقال : يا أيها الناس قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم مقامي فيكم اليوم قال : أحسنوا إلى أصحابي ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يشهد الرجل على الشهادة لا يسألها ويحلف على اليمين لا يسألها فمن أراد بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة فإن الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين أبعد فلا يخلون أحدكم بامرأة فإن الشيطان ثالثهما من سرته حسنته وساءته سيئته فهو مؤمن K رجاله ثقات

حضرت جابر بن سمرہ السوائی بیان فرماتے ہیں کہ ہم کو حضرت عمر فاروق بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا جایبیہ کے مقام پر ، فرمایا: اے لوگو! ہم میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میری جگہ پر کھڑے تھے جس جگہ آج میں تم میں کھڑا ہوں، آپ نے فرمایا تھا: میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا پھر تابعین سے اس کے بعد جھوٹ پھیل جاۓ گا یہاں تک کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی گواہی دے گا حالانکہ اس سے پوچھا نہیں گیا تھا۔ ایسی چیز پر قسم اٹھائے گا جس کے متعلق سوال نہیں کیا گیا ہو گا ۔ جوشخص جنت کا ٹھکانا چاہتا ہے وہ جماعت کے دامن کو پکڑے، بیشک شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور دو سے دور ہوتا ہے کوئی آدمی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت نہیں کرتا مگر تیسرا اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے ، جس آدمی کو اس کی نیکی خوش کرے اور برائی پریشان کر ے، وہ مومن ہے۔

خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 141

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 142

142 - حدثنا علي بن حمزة البصري حدثنا جرير بن حازم عن عبد الملك بن عمير عن جابر بن سمرة قال : Y خطبنا عمر بن الخطاب بالجابية فقال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم مقامي فيكم اليوم فقال : ألا أحسنوا الى أصحابي ثم الذين يلونهم فذكر نحو حديث شيبان

حضرت جابر بن سمرو السوائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم کو حضرت عمر فاروق بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا جابیہ کے مقام پر فرمایا: اے لوگو! گزشتہ سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جگہ پر کھڑے تھے، جہاں آج میں کھڑا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ فرمایا تھا کہ میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا پھر تابعین سے اس کے بعد شیبان والی حدیث ذکر کی ۔

نحو حديث شيبان ← ألا أحسنوا الى أصحابي ثم الذين يلونهم ← قام رسول الله صلى الله عليه و سلم مقامي فيكم اليوم ← خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← علي بن حمزة البصري

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 142

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 143

143 - حدثنا أبو خيثمة زهير بن حرب حدثنا جرير ابن عبد الحميد عن عبد الملك بن عمير عن جابر بن سمرة قال Y خطب عمر بن الخطاب الناس بالجابية فقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قام في مثل مقامي هذا فقال : أحسنوا إلى أصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يحلف الرجل على اليمين قبل أن يستحلف ويشهد على الشهادة قبل أن يستشهد عليها فمن أحب أن ينال منكم بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة فإن الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين أبعد ألا لا يخلون رجل بامرأة فإن ثالثهما الشيطان ألا ومن كان منكم تسوؤه سيئته وتسره حسنته فهو مؤمن K رجاله ثقات

حضرت جابر بن سمرہ السوائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم کو حضرت عمر فاروق بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا جابیہ کے مقام پر فرمایا: اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی جگہ پر کھڑے تھے، جہاں آج میں کھڑا ہوں ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ فرمایا تھا کہ میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا پھر تابعین سے اس کے بعد جھوٹ پھیل جاۓ گا یہاں تک کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی گواہی دے گا حالانکہ اس سے پوچھا نہیں گیا تھا۔ایسی چیز پرقسم اٹھاۓ گا جس کے متعلق سوال نہیں کیا گیا ہو گا ۔ جو شخص جنت کا ٹھکانا چاہتا ہے وہ جماعت کے دامن کو پکڑے، بیشک شیطان ایک ساتھ ہوتا ہے اور دو سے دور ہوتا ہے کوئی آدمی عورت کے ساتھ خلوت نہیں کرتا مگر تیسرا اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے، جس آدمی کو اس کی نیکی خوش کرے اور برائی پریشان کرے وہ مومن ہے ۔

خطب عمر بن الخطاب الناس بالجابية فقال ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جرير ابن عبد الحميد ← أبو خيثمة زهير بن حرب

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 143

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 144

144 - حدثنا شيبان حدثنا أبو هلال حدثنا غيلان ابن جرير حدثني عبد الله بن معبد الزماني Y عن عمر بن الخطاب قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ أتى على رجل فقيل : ما أفطر مذ كذا وكذا قال : لا صام ولا أفطر أو ما صام وما أفطر شك غيلان فلما رأى عمر غضب النبي صلى الله عليه و سلم قال : يا رسول الله صوم يومين وإفطار يوم ؟ قال : ويطيق ذاك أحد ؟ قال : قلت : يا رسول الله صوم يوم وإفطار يوم ؟ قال : ذاك صوم أخي داود قال : يا رسول الله صوم يوم وإفطار يومين ؟ قال : ومن يطيق ذاك ؟ قال : يا رسول الله صوم يوم الاثنين ؟ قال : ذاك يوم ولدت فيه ويوم أنزل علي النبوة قال : يا رسول الله صوم يوم عرفة ويوم عاشوراء ؟ قال : أحدهما يكفر وقال : الآخر ما قبلها أو ما بعدها شك أبو هلال K إسناده ضعيف

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا عرض کی گئی: کون کون سے دن افطار کروں؟ آپ نے فرمایا: نہ وہ روزے رکھے اور نہ افطار کرے! یا فرمایا: نہ وہ روزے رکھے نہ وہ افطار کرے! غیلان کو شک ہے ۔ جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو غصہ کی حالت میں دیکھا تو عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! دو دن روزے اور ایک دن افطاری اس کا حکم کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ایک دن روزہ اور ایک دن افطاری اس کا حکم کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے بھائی داؤدعلیہ السلام کے روزے ہیں ۔ پھر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ایک دن روزہ اور دو دن افطاری اس کا کیا حکم ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟ پھر عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! پیر شریف کے دن روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس دن میں پیدا ہوا ہوں اور اس دن مجھے نبوت عطا کی گئی ہے ۔ عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ اور عاشورا کے روزہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا:ان میں سے ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور دوسرا پہلے یا بعد کے گناہ مٹا دیتا ہے ۔ابو ہلال کو شک ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، ← غَيْلان ابن جرير، ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 144

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 145

145 - حدثنا شيبان حدثنا داوود بن أبي الفرات حدثنا عبد الله بن بريدة عن أبي الأسود الديلي قال Y أتيت المدينة وقد وقع بها مرض فهم يموتون موتا ذريعا فجلست إلى عمر بن الخطاب فمرت به جنازة فأثني على صاحبها خير فقال عمر : وجبت ثم مرت أخرى فأثني على صاحبها شر فقال عمر : وجبت فقال أبو الأسود : قلت : ما وجبت يا أمير المؤمنين ؟ قال : قلت كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما مسلم شهد له أربعة بخير أدخله الله الجنة قال : قلنا : وثلاثة ؟ قال : وثلاثة قلنا : واثنان ؟ قال : واثنان ثم لم نسأله عن الواحد K رجاله رجال الصحيح

حضرت ابو الاسودالدیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مد ینہ آیا وہاں مدینہ شریف میں ایک مرض پھیل گئی تھی ، جس کی وجہ سے بہت زیادہ لوگ مر رہے تھے ۔ میں امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک جنازہ گزرا، لوگوں نے اس ( جنازہ) کی تعریف کی بہتر ہونے کی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہو گئی ، پھر دوسرا جنازہ گزرا، اس کی برائی بیان کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہو گئی ۔ حضرت ابوالاسود نے عرض کی: حضور ! کیا واجب ہو گئی؟آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے ایسے ہی کہا جیسے میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی چار مسلمان آدی بھلائی کی گواہی دیں اللہ عز وجل اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔ میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر تین گواہی دیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگر تین بھی گواہی دیں پھر عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر دو گواہی دیں فرمایا: ٹھیک ہے اگر چہ دو دیں۔ پھر ہم نے ایککے متعلق نہیں پوچھا۔

أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← داوود بن أبي الفرات ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 145

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 146

146 - حدثنا هدبة بن خالد حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن يوسف بن مهران عن ابن عباس قال Y سمعت عمر بن الخطاب يقول : يا أيها الناس ألا لا تخدعوا عن الرجم ألا لا تخدعوا عن الرجم فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم رجم و أبو بكر رجم ورجمت وإنه يكون قوم يكذبون بالرجم وبالشفاعة وبالدجال وبقوم يخرجون من النار بعدما محشتهم أو امتحشوا K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوۓ سنا: اے لوگو! خبر دار! رجم کے متعلق تم دھو کہ میں نہ رہنا ، خبر دار رجم کے متعلق تم دھوکے میں نہ رہنا۔ بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رجم کر تے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بن رجم کر تے تھے اور میں بھی رجم کرتا ہوں ۔ ایک ایسی قوم آۓ گی جو رجم اور شفاعت اور دجال کے بارے انکار کرے گی اور ایسی قوم کے متعلق جن کو جہنم سے نکالا جائے گا اس کے بعد وہ جہنم میں کوئلہ کی طرح ہو جائیں گے۔

الرجم ألا لا تخدعوا ← يا أيها الناس ألا لا تخدعوا ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يوسف بن مهران ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 146

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 147

147 - حدثنا محمد بن الصباح و زحمويه قالا : حدثنا هشيم حدثنا منصور عن قتادة قال : أخبرنا أبو العالية Y عن ابن عباس أخبرني غير واحد عن النبي صلى الله عليه و سلم منهم عمر بن الخطاب وكان عمر من أحبهم إلي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن الصلاه بعد الفجر حتى تطلع الشمس وبعد العصر حتى تغرب الشمس K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث کئی صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حوالہ سے بتائی ہے، ان میں سے ایک عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہیں جو مجھے ان تمام سے محبوب ہیں ۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاۓ اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاۓ ۔

غَيْرُ وَاحِدٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو الْعَالِيَةِ، ← قَتَادَةَ ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← محمد بن الصباح و زحمويه

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 147

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 148

148 - حدثنا مصعب بن عبد الله بن مصعب الزبيري حدثنا مالك بن أنس عن زيد بن أسلم عن أبيه Y أن عمر بن الخطاب كان يساير رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض أسفاره فسأله عن شيء فلم يجبه ثم سأله فلم يجبه ثم سأله فلم يجبه فقال عمر : فقلت : ثكلتك أمك عمر ! سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاثا كل ذلك لا يجيبك فحركت بعيري وتقدمت بين يدي الناس فلم أنشب أن سمعت صارخا ينادي فأتيت قلت : لقد خشيت أن يكون قد نزل في قرآن فسلمت عليه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نزلت علي الليلة سورة هي أحب إلي مما طلعت [ عليه ] الشمس ثم قرأ : { إنا فتحنا لك فتحا مبينا * ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر } [ سورة الفتح آية 1 - 2 ] K إسناده صحيح

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بعض سفروں میں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ہوتا تھا۔ ایک چیز کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا جواب نہیں فرمایا ، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہیں دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کہتے ہیں میں نے کہا تیری ماں مجھ پر روۓ ، اے عمر رضی اللہ عنہ ! تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین مرتبہ سوال کیا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہیں دیا۔ میں نے اپنی اونٹنی کو حرکت دی اور لوگوں سے آگے نکل گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ پیچھے سے مجھے کوئی چیخ کر پکار رہا ہے ۔ میں آیا، میں نے عرض کی ، میں اس لیے چلا گیا تھا کہ کہیں میرے متعلق قرآن نہ اتر جاۓ ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات مجھ پر ایسی سورۃ اتری جو مجھے ان تمام دنوں سے پسند ہے جس دن سورج طلوع ہوا ہوپھرآپ رضی اللہ عنہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پڑھا: ” بے شک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح عطا فرمائی تا کہ اللہ تمہارے سبب سے آپ کی امت کے گناہ بخش دے اگلوں اور تمہارے پچھلوں کے‘‘۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مالک بن أنس ← مصعب بن عبد الله بن مصعب الزبيري

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 148

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 149

149 - حدثنا أبو خيثمة و إسحاق بن إسماعيل الطالقاني و القواريري قالوا : حدثنا سفيان عن الزهري عن مالك بن أوس بن الحدثان Y سمع عمر بن الخطاب يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الذهب بالورق ربا إلا هاء وهاء والشعير بالشعير ربا إلا هاء وهاء وفي حديث إسحاق : والتمر بالتمر ربا إلا هاء وهاء وفيه عن مالك بن أوس : سمعت عمر يخبر أن النبي صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا چاندی کے بدلہ فروخت کرنا سود ہے مگر برابر برابر اور اسحاق کی حدیث میں ہے: کھجور کھجور کے بدلے فروخت کرنا سود ہے مگر برابر برابر جائز ہے اس میں ہے کہ زہری ما لک اوس سے وہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن سے سنا وہ بتاتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أبو خيثمة و إسحاق بن إسماعيل الطالقاني و القواريري

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 149

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 150

150 - حدثنا إسحاق بن إسماعيل حدثنا سفيان عن الزهري سمع أبا عبيد مولى الزهريين قال Y شهدت العيد مع عمر بن الخطاب فبدأ بالصلاة قبل الخطبة وقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن صيام هذين اليومين أما يوم الفطر ففطركم من صيامكم وأما يوم الضحى فكلوا من لحم نسككم لم يذكر فيه أكثر من هذا K إسناده صحيح

حضرت ابو عبیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عید کے خطبہ میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر تھا ۔آپ رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھی اور فرمایا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ، بہر حال عید الفطر کے دن اس لیے کہ یہ روزوں کے اختتام کا دن ہے اور عید الاضحی کے دن اس لیے کہ تم قربانی کا گوشت کھاؤ ۔ اس سے زیادہ کا ذکر نہیں ہے ۔

شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَقَالَ ← أبا عبيد مولى الزهريين ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 150

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 151

151 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عبيد الله Y عن ابن عباس قال : لما زالت الشمس صعد عمر المنبر وأذن المؤذنون فخطب فحمد الله وأثنى عليه وقال في خطبته : الرجم حق المحصن إذا كانت بينة أو حمل أو اعتراف وقد رجم رسول الله صلى الله عليه و سلم ورجمنا معه وبعده K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سورج ڈھل گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف لاۓ پھر مؤذن نے اذان دی،آپ رضی اللہ عنہ نے خطبہ شروع کیا ، اللہ کی حمد اور ثناء کی اور خطبہ میں ارشاد فر مایا: رجم حق ہے شادی شدہ کے لیے جب گواہ یا حمل یا اعتراف ہو جاۓ ۔ بے شک رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم کیا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی رجم کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 151

chevron_left Previous
1234…11
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter