Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 1, 1448 AH · Oct 11, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 1

1 - أخبرنا الحافظ أبو القاسم زاهر بن طاهر بن محمد الشحامي قراءة عليه أخبرنا أبو سعد محمد بن عبد الرحمن بن محمد الجنزروذي قال : أخبرنا أبوعمرو محمد بن أحمد بن حمدان الحيري الفقيه قراءة عليه قال : أخبرنا الإمام أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي بالموصل سنة ست وثلاث مئة قال Y حدثنا علي بن الجعد حدثنا قيس بن الربيع حدثنا عثمان بن المغيرة عن علي بن ربيعة عن أسماء بن الحكم الفزاري عن علي قال : كنت إذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثا نفعني الله بما شاء منه وإذا حدثني غيري لم أصدقه إلا أن يحلف فإذا حلف صدقته . وحدثني أبو بكر وصدق أبو بكر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم يذنب ذنبا ثم يتوضأ ويصلي ركعتين ويستغفر الله إلا غفر له

۱-حضرت مولیٰ کائنات سیدناعلی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےحدیث سنتا۔ اللہ عز وجل مجھے نفع دیتا جو اس سے چاہتا اور جب مجھے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ بیان کرتا تو میں اس کی تصدیق نہیں کرتا جب تک وہ قسم نہ اٹھا لیتا۔ جب وہ قسم اٹھا لیتا میں اس کی تصدیق کرتا اور جناب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سچ کہا ، کہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: جو بھی مسلمان گناہ کرتا ہے پھر وہ وضو کرتا ہے اور دو رکعت (نفل) ادا کرتا ہے اور اللہ عز وجل سے بخشش طلب کرتا ہے، اللہ اس کی بخشش کر دے گا۔

عَلِيٍّ، ← أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← الإمام أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي بالموصل ← أبوعمرو محمد بن أحمد بن حمدان الحيري الفقيه ← أبو سعد محمد بن عبد الرحمن بن محمد الجنزروذي ← الحافظ أبو القاسم زاهر بن طاهر بن محمد الشحامي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 1

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 2

2 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا بشر بن عمر الزهراني حدثنا مالك بن أنس عن ابن شهاب عن مالك بن أوس بن الحدثان . Y عن عمر قال : لما توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو بكر : أنا ولي رسول الله صلى الله عليه و سلم فجئت أنت وهذا - يعني العباس و عليا - تطلب أنت ميراثك من ابن أخيك ويطلب هذا ميراث امرأته من أبيها فقال أبو بكر : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا نورث ما تركنا صدقة K إسناده صحيح

حضرت مالک بن اوس بن حدثان امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: جب حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نائب ہوں ۔ پس عباس رضی اللہ تعالی عنہ وعلی رضی اللہ تعالی عنہ دونوں آئے۔حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ اپنے بھائی کے بیٹے کی وراثت طلب کر تے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اپنی بیوی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ان کےوالد گرامی سے ملنے والی ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ، جو ہم چھوڑ تے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔

عُمَرَ، ← مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 2

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 3

3 - حدثنا أبو هشام الرفاعي حدثنا بشر بن عمر حدثنا مالك عن الزهري عن مالك بن أوس بن الحدثان عن عمر بن الخطاب Y عن أبي بكر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا نورث ما تركنا صدقة

حضرت مالک بن اوس بن حدثان حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: ہم کسی کو وارث نہیں بناتے جو ہم چھوڑ تے ہیں ، وہ صدقہ ہوتا ہے ۔

أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 3

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 4

4 - حدثنا الحارث بن سريج أبو عمر حدثنا سفيان بن عيينة حدثنا عمرو عن ابن شهاب عن مالك بن أوس بن الحدثان أنه حدثه قال Y أرسل إلي عمر بعدما متع النهار فأذن لي فدخلت عليه وهو على سرير ليف مسند ظهره إلى رماله متكئ على وسادة من أدم فقال لي : يا مال إنه قد دف دافة من قومك وقد أمرت لهم بمال فخذه فاقسمه بينهم فقلت له : يا أمير المؤمنين مالي على ذلك من قوة فلو أمرت به غيري فقال : خذه فاقسمه فيهم قال : ثم جاءه يرفأ فقال : ياأمير المؤمنين هل لك في عثمان بن عفان و عبد الرحمن بن عوف و الزبير و سعد ؟ قال : نعم فأذن لهم فدخلوا ثم جاءه فقال : ياأمير المؤمنين هل لك في علي و العباس ؟ قال : نعم قال : فدخلا و العباس يقول ياأمير المؤمنين اقض بيني وبين هذا قال سفيان : وذكر كلاما شديدا - فقال القوم : يا أمير المؤمنين اقض بينهما وأرح كل واحد منهما من صاحبه فقال لهم عمر : أنشدكم بالله الذي بإذنه تقوم السموات والأرض أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا نورث ما تركنا صدقة ؟ قالوا : نعم فقال عمر : أن الله خص رسوله صلى الله عليه و سلم بخاصة لم يخص بها أحدا غيره ثم قرأ الآية { ما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب } الآية [ الحشر : 6 ] قال سفيان : ولا أدري قرأ الآية التي بعدها أم لا قال : فقسم رسول الله صلى الله عليه و سلم بينكم أموال بني النضير فوالله ما استأثر عليكم ولا أحرزها دونكم فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأخد منه نفقته ونفقة عياله لسنته ويجعل ما فضل في الكراع والسلاح عدة في سبيل الله ثم قال لهم : أنشدكم بالذي بإذنه تقوم السماء والأرض أتعلمون ذلك ؟ قالوا : نعم ثم نشد عليا و العباس بما نشد القوم به : أتعلمان ذلك ؟ قالا : نعم قال : فلما توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم كان أبو بكر ولي رسول الله صلى الله عليه و سلم فجئت يا عباس تطلب ميراثك من ابن أخيك وجاء علي يطلب ميراث امرأته من أبيها فقال أبو بكر : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا نورث ما تركنا صدقة فرأيتماني والله يعلم أنه مضى بارا راشدا تابعا للحق فلما توفي أبو بكر فقلت : أنا ولي رسول الله صلى الله عليه و سلم وولي أبي بكر فرأيتماني والله يعلم أني صادق بار راشد تابع للحق فجئتماني وأمركما واحد فسألتماني أن أدفعها إليكم فقلت : إن شئتما دفعتها إليكما على أن عليكما عهد الله أن تعملا فيها بالذي كان يعمل فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذتماها بذلك فقال لهما : أكذاك ؟ قالا : نعم قال : ثم جئتماني لأقضي بينكما والله لا أقضي بينكما بغير ذلك حتى تقوم الساعة فإن عجزتما فرداها إلي

حضرت مالک بن حدثان بیان کرتے ہیں کہ میری طرف حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کسی کو بھیجا دن چڑھنے کے بعدمجھے اجازت دی ،میں آپ کے پاس آیا آپ اپنے بسترپر تھے ۔ بھوری جھال سے بنے ہوئے تکیےپرسہارا لیےہوئے تھےمجھےفرمایا اے مالک آپ کی قوم کے لوگ آہستہ آہستہ آرہے ہیں۔ میں نے ان کے لیے مال کاحکم دیا تھا تو اس کو پکڑو اس کو ان کے درمیان تقسیم کردے میں نےعرض کی اے امیر المومنین میرے بس کی بات نہیں ، اگر آپ میرے علاوہ کسی اور کو حکم دیں ، آپ نے فرمایا پکڑو اور اس کو تقسیم کرو میں پھر آپ کے پاس کی اے امیرالمومنین میں عثمان بن عفان اور عبدالرحمٰن بن عون اور زبیر اورسعدکو آنے کی اجازت ہے، آپ نے فرمایا: جی ہاں ان کو اجازت دی ۔ وہ داخل ہوئے پھر اے امیر المومنین کیا علی و عباس کو آنے کی اجازت ہے ، آپ نے فرمایا جی ہاں دونوں داخل ہوئے ۔ حضرت عباس فرمانے لگے اے امیر المومنین میرے اور اس کے درمیان فیصلہ فرمائیں ،حضرت سفیان فرماتے میں حضرت عباس نے سخت گفتگو کی قوم نے عرض کی اے امیر المومنین ان دونوں کے درمیان فیصلہ کریں ان میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی سے راحت پہنچاؤ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایا میں تمہیں قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم ہیں کیا تم جانتے ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے: ہم وارث نہیں بناتے ہیں جو ہم میں رہ جاتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عرض کی جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بے شک اللہ نے اپنے رسول کو خاص کیا آپ کے علاوہ کسی اور کو خاص نہیں کیا پھر یہ آیت پڑھی: مـا افـا اللہ على رسول اللہ الى اخـره . سفیان فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا ہوں آیت اس کے بعد والی بھی پڑھی یا نہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے درمیان بنی نضیر کا مال تقسیم کیا اللہ کی قسم میں تم پر کسی کو فوقیت نہ دوں گا نہ تمہارے علاوہ بچا کر رکھوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر اپنا خرچ لیتے تھے اور اس کو ایک سال تک اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے تھے جو بچ جا تا تھا اس کو ہتھیاروں اور گھوڑوں کی خریداری میں خرچ کر دیتے تھے ۔ اللہ کی راہ میں تیار کیے گئے تھے پھر ان کو فرمایا تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم یہ جانتے ہو دلائی جو قوم کولائی تھی ۔ کیا تم دونوں یہ جانتے ہو دونوں نے عرض کی جی ہاں ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ولی بنے۔ آپ اے عباس تشریف لاۓ تھے آپ اپنے بھائی کے بیٹے کی وراثت طلب کی تھی اور علی اپنی بیوی کے باپ کی وارثت لینے آۓ تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ہیں ان دونوں نے مجھے دیکھا اللہ کی قسم آپ جاتے ہیں میں سچا اچھا سلوک کرنے والا رہنمائی کرنے والاحق کے تابع ہوں ، تم دونوں میرے پاس آۓ ہو تم دونوں کا کام ایک ہے تم دونوں مجھ سے مانگتے ہو میں تم دونوں میں سمجھتا ہوں اگر تم دونوں چاہتے ہو تو میں تم دونوں کو دے دیتا ہوں اس شرط پر کہ تم اس سلسلہ میں وہی طریقہ کروگے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے تم دونوں اس کو لے لو ۔ آپ نے دونوں سے فرمایا کیا اس طرح ہو سکتا ہے؟ دونوں نے عرض کی جی ہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تم دونوں میرے پاس آۓ ہو تا کہ میں تمہارے درمیان فیصلہ کروں اللہ کی قسم ! میں تمہارے درمیان اس کے علاوہ کوئی فیصلہ نہیں کروں گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے اگر تم دونوں عاجز آ جاؤ تم مجھے واپس کر دینا۔

مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الحارث بن سريج أبو عمر

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 4

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 5

5 - حدتنا موسى بن محمد بن حيان أخبرنا عبد الصمد بن عبد الوارث أخبرنا عبد العزيز الأندراوردي عن زيد بن أسلم عن أبيه Y أن عمر اطلع على أبي بكر وهو يمد لسانه فقال : ما تصنع يا خليفة رسول الله ؟ فقال : إن هذا أوردني الموارد إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ليس شيء من الجسد إلا وهو يشكو ذرب اللسان

حضرت زید بن اسلم اپنے باپ (اسلم ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سید نا عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آۓ ہیں ، آپ (یعنی ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ ) زبان کو کھینچ رہے تھے ، آپ (یعنی عمر رضی اللہ عنہ فاروق رضی اللہ تعالی عنہ)نے کہا ، اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ! آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: یہی جہنم میں لے جانے والی ہے، بے شک رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسم میں ہر ٹکڑا زبان سے شکایت کرتا ہے ۔

إن هذا أوردني الموارد ← مَا تَصْنَعُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ؟ ← أبيه أن عمر اطلع على أبي بكر وهو يمد لسانه ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عبد العزيز الأندراوردي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← حدتنا موسى بن محمد بن حيان

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 5

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 6

6 - حدثنا سويد أخبرنا الوليد بن محمد عن الزهري حدثني سالم Y أنه سمع أباه يحدث أن عمر لما تأيمت حفصة من ابن حذافة . قال عمر : لقيت عثمان فعرضت عليه حفصة قال : سأنظر في أمري فلبثت ليالي ثم لقيني فقال : قد بدا لي أن لا أتزوج يومي هذا قال عمر : فلقيت أبا بكر فقلت : أنكحك حفصة فلم يرجع إلي شيئا فكنت عليه أوجد مني على عثمان فلبثت ليالي ثم خطبها رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنكحته إياها فلقيني أبو بكر فقال : لعلك وجدت علي حين عرضت علي حفصة ؟ قال : نعم قال : لم يمنعني أن أرجع إليك إلا أنني كنت علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكرها فلم أكن لأفشي سر رسول الله صلى الله عليه و سلم ولو تركها قبلتها . قال عمر فشكوت عثمان إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : تزوج حفصة خير من عثمان ويزوج عثمان خيرا من حفصة فزوجه النبي صلى الله عليه و سلم ابنته K إسناده صحيح

حضرت زہری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سالم اللہ نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہسے سنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ ملا جب ابن حذافہ سے بیوہ ہوئیں، حضرتعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان ان سے ملا۔ حضرت حفصہ انا کا معاملہ ان پر پیش کیا ۔ حضرت عثمان بنا نے فرمایا کہ مجھے اس معاملہ میں مہلت دیں ، (حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں ) میں چند راتیں ٹھہرا پھر میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا بے شک میرے لیے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ اس دن میں شادی نہ کروں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ف فرماتے ہیں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاء میں نے کہا،آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غصہ کا نکاح کر دوں؟ پسآپ رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے اپنے دل میں آپ رضی اللہ عنہ کے متعلق زیادہ غصہ پایا بہ نسبت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے۔ پس میں چند رات ٹھہرا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کا پیغام بھیجا۔ میں نے حضرت حفصہ کا نکاح آپ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ پھر میری حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق ایران سے ملاقات ہوئی ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ب نے فرمایا: شاید تو نے میرے متعلق اپنے دل میں کوئی بات پائی ہو، جس وقت حفصہ کا معاملہ مجھ پر پیش کیا تھا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے کوئی چیز مانع نہیں تھی کہ آپ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) کو جواب نہ دوں مگر مجھے علم تھا کہ رسول پاک ملا نے اس بات کا اظہار کیا تھا ۔۔۔ پس میں نہیں چاہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کو ظاہر کروں ۔ اگر آپ لپیٹ نکاح نہ کرتے تو میں قبول کرتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شکایت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لگائی۔ پس رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا حفصہ رضی اللہ عنہا کی شادی عثمان رضی اللہ عنہ سے بہتر کے ساتھ ہوئی ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی شادی حفصہ سے بہتر کے ساتھ ہوئی ہے۔ جس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کی شادی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دی ۔ حضرت امام زہری فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سالم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے باپ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ جب ابن حذافہ سے بیوہ ہوگئیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملا ۔ حضرت حفصہ کا معاملہ ان پر پیش کیا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اس معاملہ میں مہلت دیں ، ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ) میں چند را تیں ٹھہرا پھر میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا بے شک میرے لیے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ اس دن میں شادی نہ کروں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے کہا، آپ ان کے ساتھ حفصہ کا نکاح کر دوں؟ پس آپ رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے اپنے دل میں آپ رضی اللہ عنہ کے متعلق زیادہ غصہ پایا بہ نسبت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ۔ پس میں چند رات ٹھہرا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کا پیغام بھیجا۔ میں نے حضرت حفصہ کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کر دیا۔ پھر میری حضرت ابوبکر صدیق ان سے ملاقات ہوئی ۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا شاید تو نے میرے متعلق اپنے دل میں کوئی بات پائی ہو ، جس وقت حفصہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ مجھ پر پیش کیا تھا؟آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے کوئی چیز مانع نہیں تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ کو جواب دوں مگر مجھے علم تھا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کا اظہار کیا تھا۔۔۔۔۔ پس میں نہیں چاہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کو ظاہر کروں ۔ اگر آپ کا نکاح نہ کرتے تو میں قبول کرتا ۔

سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الوليد بن محمد ← سُوَيْد

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 6

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 7

7 - حدثنا أبو خثيمة أخبرنا يعقوب بن إبراهيم أخبرنا أبي عن صالح عن ابن شهاب أخبرنا سالم بن عبد الله Y أنه سمع عبد الله بن عمر بن الخطاب حين تأيمت حفصة بنت عمر من خنيس بن حذافة السهمي وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم . قال عمر : أتيت عثمان بن عفان فعرضت عليه حفصة بنت عمر . قال : قلت : إن شئت أنكحتك حفصة فقال : سأنظر في أمري فلبثت ليالي ثم لقيني فقال : قد بدا لي أن لا أتزوج يومي هذا قال عمر : فلقيت أبا بكر الصديق فقلت له : إن شئت زوجتك حفصة بنت عمر فصمت أبو بكر فلم يرجع إلي شيئا فكنت عليه أوجد مني على عثمان فلبثت أياما ثم خطبها رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنكحتها إياه فلقيني أبو بكر فقال : لعلك وجدت علي حين عرضت علي حفصة فلم أرجع إليك شيئا قال : قلت : نعم قال : فأنه لم يمنعني أن أرجع إليك فيماعرضت علي إلا أني قد كنت علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ذكرها فلم أكن أفشي سر رسول الله صلى الله عليه و سلم ولو تركها رسول الله صلى الله عليه و سلم لقبلتها K إسناده صحيح

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن حمیری روایت کرتے ہیں کہ بیشک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ ہی خطبہ کے لیے کھڑے ہوۓ ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام پہلے سال ہم میں خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اورفرمایا: بے شک لوگوں کے درمیان عافیت سے بڑی کوئی شے تقسیم نہیں کی گئی ایمان کے بعد خبر دار سچائی اور نیکی جنت میں لے جاتی ہیں ،خبردار! بے شک جھوٹ اور بے حیائی جہنم میں لے جاتی ہیں ۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 7

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 8

8 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا سليم بن حيان عن قتادة عن حميد بن عبد الرحمن الحميري Y أن عمر بن الخطاب قال : إن أبا بكر قام خطيبا فقال : إن النبي صلى الله عليه و سلم قام فينا عام أول فقال : إنه لم يقسم بين الناس شيء أفضل من المعافاة بعد اليقين ألا إن الصدق والبر في الجنة ألا وإن الكذب والفجور في النار K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ جب حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ( ظاہری طور پر) وصال ہو گیا۔ صحابہ کرام میں کچھ پریشانی میں مبتلا ہونے کے قریب ہو گئے ۔ میں بھی انہیں میں شامل تھا، جن کو وہم کی بیماری ہوئی ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، مجھے سلام کیا۔ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری شکایت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کی ۔ پس دونوں بزرگ میرے پاس آۓ ۔ مجھے فرمایا ، آپ کے بھائی نے آپ کو سلام کیا ، آپ رضی اللہ عنہ نے جواب کیوں نہیں دیا؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نے عرض کی کہ مجھے آپ رضی اللہ عنہ کے سلام کا پتا نہیں چلا ، بے شک میں کسی الجھن میں پھنسا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا وہ الجھن کیا ہے؟ میں نے عرض کی ۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا اور میں نے اس معاملہ میں نجات کے متعلق نہیں پوچھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف کھڑا ہوا میں نے آپ رضی اللہ عنہ سے معانقہ کیا۔ میں نے کہا اے ابوبکر رضی اللہ عنہ میں نے آپ رضی اللہ عنہ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، یہ تمہارا ہی حق تھا ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ کی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جس نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہﷺ کو قبول کر لیا، جو میں نے اپنے چچا ابو طالب پر پیش کیا تھاتو اس کے لیے نجات ہے۔

إن أبا بكر قام خطيبا فقال ← حميد بن عبد الرحمن الحميري أن عمر بن الخطاب ← قَتَادَةَ ← سليم بن حيان، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 8

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 9

9 - حدثنا مسروق بن المرزبان الكوفي قال : أخبرنا عبد السلام عن عبد الله بن بشر عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن عثمان بن عفان قال Y لما قبض النبي صلى الله عليه و سلم وسوس ناس من أصحابه فكنت فيمن وسوس قال : فمر عمر علي فسلم علي فلم أرد عليه فشكاني إلى أبي بكر قال : فجاءنا فقال لي : سلم عليك أخوك فلم ترد عليه ! قال : قلت : ما علمت بتسليمه وإني عن ذاك في شغل قال : ولم ؟ قلت : قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم أسأله عن نجاة هذا الأمر قال : فقد سألته قال : فقمت إليه فاعتنقته قال : قلت : بأبي أنت وأمي أنت أحق بذلك قال : قد سألته فقال : من قبل الكلمة التي عرضتها على عمي فهي له نجاة K إسناده حسن

حضرت ابن شھاب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے انصار میں سے اہل فقہ جو قابل اعتراض نہیں ہیں، انہوں نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ یہ حدیث پاک بیان کیا کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا، بہت سے صحابہ کرام پریشان ہوۓ یہاں تک کہ ان میں بعض بیماری وہم میں مبتلا ہو گئے ۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان میں شامل تھا۔ میں ایک دن ٹیلہ کے سایہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ گزرے۔آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے سلام کیا۔ لیکن مجھے نہیں معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے سلام کیا ہے ۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس آۓ ۔ آکر عرض کی ، اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ کیا میں آپ کو ایک تعجب کی بات نہ بتاؤں؟ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، میں نےآپ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ دونوں آۓ ۔ ان دونوں نے سلام کیا( یہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا واقعہ ہے ( ۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کے پاس آپ کا بھائی عمر رضی اللہ عنہ آیا تھا۔ اس نے بتایا ہے کہ وہ آپ کے پاس سے گزرا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ آپ کو اس بات پر کس نے برانگیختہ کیا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی حضور! میں نے ایسے نہیں کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے ایسا کیا ہے لیکن اے بنی امیہ تم نے تکبر کیا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ آپ میرے پاس سے گزرے ہوں اور آپ نے سلام کیا ہو ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عثمان نےسچ کہا ہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عثمان! آپ کسی الجھن میں پھنسے ہوں گے؟ حضرت عثمان نے عرض کی : جی ہاں! حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ حضرت عثمان نے عرض کرتے ہیں، میں نے کہا: اللہ تعالی نے حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے پاس بلوا لیا ہے، اس سے پہلے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نجات کے متعلق پوچھتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، بیشک میں نے اس کے متعلق پوچھا ہے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! آپ اس کے زیادہ حق دار تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس معاملہ سے نجات کیسے ہو گی؟ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ لیا جو میں نے اپنے چچا ابو طالب پرپیش کیا تھا۔ انہوں نے رد کر دیا تھا، پس یہی اس کے لیے نجات ہے۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ ← عَبْدُ السَّلامِ، ← مسروق بن المرزبان الكوفي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 9

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 10

10 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن صالح عن ابن شهاب حدثني رجل من الأنصار من أهل الفقه غير متهم أنه سمع عثمان بن عفان يحدث Y أن رجالا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم حين توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم حزنوا عليه حتى كاد بعضهم أن يوسوس فقال عثمان : فكنت منهم فبينا أنا جالس في ظل أطم مر علي عمر بن الخطاب فسلم علي فلم أشعر أنه مر ولا سلم فانطلق عمر حتى دخل على أبي بكر فقال : ألا أعجبك ! مررت على عثمان فسلمت عليه فلم يرد علي السلام فأقبل أبوبكر و عمر - في ولاية أبي بكر - حتى أتيا فسلما جميعا ثم قال أبوبكر : جاءني أخوك عمر فزعم أنه مرعليك فسلم فلم ترد عليه السلام فما الذي حملك على ذلك ؟ فقلت : ما فعلت قال عمر : بلى ولكنها عبيتكم يا بني أمية قال عثمان : فقلت : والله ما شعرت بأنك مررت ولا سلمت قال : فقال : أبوبكر : صدق عثمان وقد شغلك عن ذلك أمر ؟ قال : قلت : أجل قال : فماهو ؟ قال عثمان : قلت : توفى الله نبيه صلى الله عليه و سلم قبل أن أسأله عن نجاة هذا الأمر قال أبوبكر : قد سألته عن ذلك قال عثمان : فقلت : بأبي أنت وأمي أنت أحق بها فقال أبوبكر : قلت : يارسول الله ما نجاة هذا الأمر ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قبل مني الكلمة التي عرضت على عمي فردها فهي له نجاة K إسناده ضعيف لجهالة شيخ الزهري

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایسا آدمی ہوں کہ جب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حوالے سے حدیث سنتا ہوں اللہ عز وجل مجھے نفع دیتا ہے جو چاہتا ہے جب مجھے کوئی آپ کے صحابہ سے بیان کرتا ، میں اس سے قسم لیتا ہوں ، جب مجھے قسم دیتا ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی بندہ گناہ کرتا ہے اس کے بعد وہ اچھا وضو کرتا ہے پھر کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے پھر اللہ سے بخشش طلب کرتا ہے تو اللہ عز وجل اس کو معاف کر دے گا پھر یہ آیت پڑھی: ’’اور وہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر بے حیائی کا کوئی کام یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں"۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 10

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 11

11 - حدثنا عبد الواحد بن غياث أبو بحر حدثنا أبو عوانة عن عثمان بن المغيرة عن علي بن ربيعة الأسدي عن أسماء بن الحكم الفزاري قال Y قال علي : كنت امرأ إذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثا نفعني الله بما شاء أن ينفعني وإذا حدثني أحد من أصحابه استحلفته فإذا حلف لي صدقته وأنه حدثني أبوبكر - وصدق أبوبكر - أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أيما عبد أذنب ذنبا فتوضأ فأحسن الوضوء ثم قام فصلى ثم استغفر الله إلا غفرله ثم قرأ { والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم } [ آل عمران : 134 ] K إسناده صحيح

حضرت مولی کائنات سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث سنتا۔ اللہ عز وجل مجھے نفع دیتا جو اس سے چاہتا اور جب مجھے کوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیان کرتا تو میں اس کی تصدیق نہ کرتا جب تک وہ قسم نہ اٹھا لیتا۔ جب وہ قسم اٹھا لیتا میں اس کی تصدیق کرتا اور جناب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سچ کہا، کہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بھی مسلمان گناہ کرتا ہے پھر وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے حضرت مسعر نے کہا: پھر نماز ادا کرتا ہے ۔ حضرت سفیان نے کہا: دو رکعت پڑھتا ہے پھر اللہ عز وجل سے بخشش طلب کرتا ہے، اللہ اس کی بخشش کردے گا۔

علي كنت امرأ إذا ← أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ أَبُو بَحْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 11

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 12

12 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا وكيع بن الجراح حدثنا مسعر و سفيان عن عثمان بن المغيرة الثقفي عن علي بن ربيعة الوالبي عن أسماء بن الحكم الفزاري عن علي قال Y كنت إذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثا نفعني الله بما شاء منه وإذا حدثني عنه غيره استحلفته فإذا حلف لي صدقته وإن أبا بكر حدثني - وصدق أبوبكر - أنه رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من أحد يذنب ذنبا فيتوضأ فيحسن الوضوء - قال مسعر : ثم يصلي - قال سفيان : يصلي ركعتين ثم يستغفر إلا غفر له K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایسا آدمی ہوں جب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث سنتا اللہ عز وجل مجھے نفع دیتا ہے جو نفع مجھے دینا چاہتا ہے مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ کوئی مسلمان گناہ کرتا ہے اس کے بعد دو اچھا وضو کرتا ہے پھر دو رکعت نماز پڑھتا ہے پھر اللہ سے اس گناہ کے لیے بخشش طلب کرتا ہے تو اللہ عز وجل اس کو معاف کر دیتا ہے پھر ان دو آیتوں میں سے ایک آیت پڑھی: ’’ وہ لوگ جب بے حیائی کرتے ہیں یا اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں۔

عَلِيٍّ، ← أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ← مسعر و سفيان ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 12

chevron_left Previous
1234…12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter