Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5284

5284 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الرحمن حدثنا شعبة عن الحكم عن ذر عن وائل بن مهانة عن عبد الله Y عن الننبي صلى الله عليه و سلم أنه قال للنساء : تصدقن فإنكن أكثر أهل النار . فقال امرأة ليست من علية النساء : لم - أو فيم أو بم - نحن ؟ قال : إنكن تكثرن اللعن وتكفرن العشير ما من ناقصة العقل والدين أغلب للرجال ذوي الأمر من النساء . قيل : فما نقصان عقلها ؟ قال : جعل شهادة امرأتين بشهادة رجل قبل : فما نفصان دينها ؟ قال : تلبث لا أدري كم يوم لا تصلي K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کے گروہ ! صدقہ کیا کرو، تم میں اکثر قیامت کے دن جہنم میں ہوں گی۔ ایک عورت نے عرض کی جو عالی مرتب عورتوں میں سے نہیں تھی: اس کی وجہ کیا ہے ، کس عمل کی پاش میں ، کس عمل کے بدلے ، ہم ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لعنت زیادہ کرتی ہو، شوہروں کی ناشکری کرتی ہو، اس سے زیادہ ناقص العقل اور ناقص الدین ہو، سمجھ دار مردوں پر غالب آنا زیادہ ان سے نہیں پایا۔ عرض کی گئی : ناقص العقل کس طرح ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ناقص العقل یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے ۔ عرض کی گئی : ان کے دین میں کیا کمی ہے ؟ فرمایا: ناقص الدین یہ ہے کہ وہ رک جاتی ہیں معلوم نہیں کتنے دن وہ نماز نہیں پڑھ سکتی ہے۔

الننبي صلى الله عليه و سلم أنه ← عَبْدُ اللَّهِ ← وائل بن مهانة ← ذَرٍّ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5284

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5285

5285 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الرحمن حدثنا المسعودي عن جامع بن شداد عن عبد الرحمن بن أبي علقمة عن عبد الله قال Y لما رجع رسول الله صلى الله عليه و سلم من الحديبية نزل منزلا فعرس فيها فقال : من يحرسنا ؟ قال عبد الله : فقلت : أنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنك تنام - يقول ذلك مرتين أو ثلاثة - ثم قال : أنت إذا فحرسهم حتى إذا كان في وجه الصبح أخذني ما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم استيقظ إلا بحر الشمس في ظهورنا فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم كما كان يصنع ثم صلى الصبح ثم قال : إن الله لو شاء لم تناموا عنها ولكن إن يكن لمن بعدكم فهكذا لمن نام أو نسي K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرمایا: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلح حدیبیہ سے لوٹے تو ایک مقام پر ٹھہر گئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں رات گزاری اور فرمایا: کون ہماری چوکیداری کرے گا ؟ حضر ت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی : میں ! تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تو سو جائے گا۔ دو بار یا تین بار فرمایا: ( تو نے چوکیداری کیا کرنی ہے ) پھر فرمایا: ( چل ! ) تو ہی ( چوکیداری کر )۔ پس میں ان کا چوکیدار بنا رہا حتیٰ کہ جب صبح ہونے کو تھی تو مجھے اسی چیز نے آ لیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا ( میں سو گیا) ، پس میں سورج کی تپش سے ہی جاگا جو ہمار پشتوں میں پڑی ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے ، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے پہلے کیا کرتے تھے ایسے ہی کیا ، پھر نماز پڑھی پھر فرمایا: بے شک اللہ اگر چاہتا تو ہم اس نماز سے سو نہ جاتے بلکہ تمہارے بعد کسی کو یہ مسئلہ پیش آئے تو اسی طرح کرے جو سو جائے یا بھول جائے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5285

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5286

5286 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الرحمن حدثنا شعبة عن الوليد بن العيزار قال : سمعت أبا عمرو الشيباني يقول : حدثني صاحب هذه الدار - وأشار بيده إلى دار عبد الله ولم يسمه - قال Y قلت : يا رسول الله أي الأعمال أحب إلى الله ؟ قال : الصلاة على مواقيتها قال : قلت : ثم أي ؟ قال : ثم بر الواليدن قال : قلت : ثم أي ؟ قال : الجهاد في شبيل الله K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کون سے اعمال اللہ کو زیادہ پسند ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا ۔ میں نے عرض کی: اس کے بعد ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین سے نیکی کرنا۔ میں نے عرض کی : اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔

قُلْتُ ← صاحب هذه الدار وأشار بيده إلى دار عبد الله ولم يسمه ← أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ← الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5286

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5287

5287 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون حدثنا محمد بن إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه قال Y دخلت أنا و عمي على عبد الله بن مسعود بالهاجرة فاقام الصلاة فتأخرنا خلفه فأخذ بيد أحدنا بيمينه والآخر بشماله فجعلنا عن يمينه وعن شماله فلما صلى قال : هكذا كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصنع إذا كانوا ثلاثة K رجاله ثقات

حضرت اسود فرماتے ہیں : میں اور میرے چچا ظہر کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہوئے ، پس انہوں نے نماز قائم کی، سو ہم ان کے پیچھے ہو کر کھڑے ہوئے ، پس انہوں نے ہم میں سے ایک کو اپنے دائیں ہاتھ سے اور دوسرے کو اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑ کر اپنے ساتھ دائیں اور بائیں کھڑ اکر لیا، پس جب وہ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: جب ( امام سمیت ) تین نمازی ہوتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5287

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5288

5288 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون حدثنا المسعودي عن الحسن بن سعد عن عبدة النصري عن عبد الله بن مسعود قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله لم يحرم حرمة إلا وقد علم أنه سيطلعها منكم مطلع ألا وإني آخذ بحجزكم عن النار أن تهافتوا فيها كتهافت الفراش أو الذباب أو الحنظب K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو حرام نہیں کیا مگر اس کو معلوم ہے کہ عنقریب آپ میں سے ایک اس پر مطلع ہوگا۔ خبردار ! میں تمہاری پشتوں سے پکڑ کر تم کو آگ میں گرنے سے بچاتا ہوں تم اس میں گر رہے ہو جس طرح پتنگے ، مکھیاں اور کیڑے مکوڑے گرتے ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عبدة النصري ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5288

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5289

5289 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون حدثنا الحجاج بن أرطأة عن فضيل عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من كبر K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← فُضَيْلٍ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5289

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5290

5290 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس عن ابن مسعود Y عن النبي صلى اللهم عليه وسلم قال : إن آخر من دخل الجنة لرجل يمشي على الصراط فينكب مرة ويمشي مرة تسفعه النار مرة فإذا جاوز الصراط التفت إليها فقال : تبارك الذي نجاني منك لقد أعطاني ما لم يعط أحدا من الأولين والآخرين . قال فترفع له شجرة فينظر إليها فيقول : يا رب أدنني من هذه الشجرة فأستظل بظلها وأشرب من مائها . فيقول : أي عبد : فلعلي إن أدنيتك منها تسألني غيرها . فيقول : لا يا رب فيعاهده الله أن لا يسأله غيرها - والرب تبارك وتعالى يعلم أنه سيسأله لأنه يرى ما لا صبر له - فيدنيه منها ثم ترفع له شجرة وهي أحسن منها فيقول : يا رب أدنني من هذه الشجرة فأستظل بظلها وأشرب من مائها . فيقول : أي عبد ألم تعاهدني أن لا تسألني غيرها ؟ فيقول : يا رب هذه لا أسألك غيرها ! فيدنيه منها فترفع له شجرة عند باب الجنة هي أحسن منها فيقول : يا رب أدنني من هذه الشجرة فأستظل بظلها وأشرب من مائها ! فيقول : أي عبد ألم تعاهدني أن لا تسألني غيرها فيقول : يا رب هذه لا أسألك غيرها فيعاهده - والرب يعلم أنه سيسأله غيرها لأنه يرى ما لا صبر له - عليها فيدنيه منها فيسمع أصوات أهل الجنة فيقول يا رب : الجنة الجنة ! فيقول : أي عبدي ألم تعاهدني أن لا تسألني غيرها ؟ فيقول : يا رب أدخلني الجنة ! قال فيقول تبارك وتعالى ما يصريني منك أي عبدي ؟ أيرضيك أن أعطيك من الدنيا ومثلها معها ؟ قال : فيقول : أتهزأ بي وأنت رب العزة ؟ فضحك عبد الله حتى بدت نواجذه ثم قال : ألا تسألوني لم ضحكت ؟ قالوا : لم ضحكت ؟ قال : لضحك رسول الله صلى اللهم عليه وسلم K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے آخر میں جو آدمی جنت میں داخل ہو گا جو پل صراط پر ایک بار منہ کے بل گرے گا پھر اٹھ کر چلے گا اور ایک اسے آگ کی گرمی لگے گی، پس جب پل صراط سے پار ہو جائے گا، اس کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا: برکتوں والی وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی، مجھے اس چیز سے نوازا جس چیز سے اولین و آخرین میں سے کسی کو نہیں نوازا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس ایک جنتی درخت اٹھا کر اس کے سامنے لایا جائے گا ، وہ اس کی طرف دیکھے گا اور کہے گا: اے میرے رب ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور جنت کا پانی پی سکوں ۔ پس اللہ فرماتے گا: اے میرے بندے ! پس ممکن ہے کہ اگر میں تجھے اس کے قریب کروں تو مزید سوال کرے ! پس وہ کہے گا: اے میرے رب ! میں معاہدہ کرتا ہوں کہ اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا۔ حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ سوال کرے گا کیونکہ وہ اس کی بے صبری کو دیکھ رہا ہے ، پس وہ اسے قریب کر دے گا، پھر اس کے لیے اس سے زیادہ خوبصورت درخت ظاہر کیا جائے گا ، پس وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کروں۔اور اس کا پانی پی سکوں ، پس اللہ فرمائے گا: اے میرے بندے ! تو نے میرے ساتھ معاہدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے اس کے علاوہ سوال نہیں کرے گا؟ پس وہ عرض کرے گا: یہ دے دے ! اس کے علاوہ نہیں مانگوں گا، پس اللہ اسے قریب کر دے گا۔ پس جنت کے عین دروازے پر اس کے لیے ایک درخت ظاہر کیا جائے گا، پس وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکو اور اس کا پانی پی سکوں ۔ اللہ فرمائے گا: اے میرے بندے ! کیا تو نے مجھ سے معاہدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے اسکے علاوہ سوال نہیں کرے گا؟ پس وہ کہے گا: یہ عطا کر، اس کے علاوہ نہیں مانگوں گا۔ پس وہ اللہ سے پکا وعدہ کرے گا۔ حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ مزید کا سوال کرے گاکیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ اس پر صبر نہیں کر سکے گا۔ پس اللہ اسے قریب کردے گا، سو وہ جنتیوں کی آوازیں سنے گا، عرض کرے گا: اے میرے رب ! جنت دے! جنت دے ! پس اللہ فرمائے گا : اے میرے بندے ! تو نے مجھ سے پکا وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے اس کے علاوہ نہیں مانگے گا؟ پس وہ کہے گا: اے میرے رب! تو مجھے جنت میں داخل کر ہی دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے ! تو مجھے اپنا ارادہ پورا کرنے سے نہیں روک سکتا، کیا تو اس پہ راضی ہوگا کہ میں تجھے دنیا اور اس کے ساتھ اس کے برابر ( جنت) عطا کردوں؟ راوی کا بیان ہے کہ پس وہ عرض کرے گا: تو رب العزت ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے ؟ پس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں ، پھر فرمایا: تم مجھ سے پوچھتے کیوں کہیں کہ میں کیوں ہنسا؟ انہوں نےعرض کی آپ کیوں ہنسے ؟ فرمایا: کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسے تھے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5290

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5291

5291 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون حدثنا عون عن عمرو بن سعيد عن حميد بن عبد الرحمن الحميري عن عبد الله بن مسعود قال : كنت لا أحجب عن ثلاث - أو لا أحبس عن ثلاث - : عن النجوى وعن كذا وعن كذا قال عبد الله : نسي عمي واحدة ونسيت أنا الأخرى وبقيت هذه فأتيته وعنده مالك الرهاوي فأدركت من آخر حديثهم وهو يقول Y يا رسول الله إني امرؤ قسم لي من الجمال ما ترى فما أحب أن أحدا فصلني بشراكين فما فوقهما أفمن البغي هو ؟ قال : لا ولكن البغي من سفه الحق وغمض الناس K إسناده صحيح إن كان حميد سمعه من ابن مسعود

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تین چیزوں سے نہیں روکا جاتا تھا، سرگوشی سے اور اس سے اور اس سے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک میرا چچا بھول گیا ہے اور دوسری میں بھول گیا ہوں ، یہ ایک باقی رہ گئی ۔ میں آپ کے پاس آیا، آپ کے پاس مالک الرھاوی موجود تھے، میں نے ان کی آخری گفتگو سنی، وہ عرض کر رہے تھے : یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایسا آدمی ہوں کہ مجھے حسن و جمال دیا گیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں ، میں پسند نہیں کرتا ہوں کہ میرے اس حصہ پر کسی کو فوقیت دی جائے ، کیا یہ سرکشی تو نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں ! سرکشی یہ ہے کہ حق کو حقیر جاننا اور لوگوں کو حقیر جاننا۔

الأخرى وبقيت هذه فأتيته وعنده مالك الرهاوي فأدركت من آخر حديثهم وهو ← عبد الله نسي عمي واحدة ونسيت ← النجوى وعن كذا وعن كذا ← ثلاث ← ثلاث أو لا أحبس ← كنت لا أحجب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← عَوْنٌ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5291

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5292

5292 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون قال : حدثنا المسعودي عن عمر بن مرة عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال Y نام رسول الله صلى الله عليه و سلم على حصير قد أثر في جنبه فقلنا : يا رسول اله ألا آذنتنا فبسطنا تحتك ألين منه ؟ فقال : مالي وللدنيا ؟ إنما مثلي ومثل الدنيا كراكب سار في يوم صائف فقال تحت شجرة ثم راح وتركها K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چٹائی پر آرام کر رہے تھے ، اس چٹائی کے نشانات آپ کی کروٹوں پر تھے ، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا آپ ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم آپ کے نیچے اس سے نرم شے بچھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا تعلق ہے ! میری مثال اور دنیا کی مثال اس مسافر کی طرح ہے جو گرمی کے موسم میں چلے پھر ایک درخت کے نیچے آرام کرے ، پھر اس کو چھوڑ دے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← عُمَر بْنِ مُرَة ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5292

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5293

5293 - حدثنا بشر بن الوليد حدثنا محمد بن طلحة عن زبيد عن مرة عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حبوسنا عن الصلاة الوسطى حتى غابت الشمس ملأ الله بطونها وقبورها نارا

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمیں مشرکین نے نماز عصر سے روکے رکھا ہے ، سورج کے غروب ہونے تک اللہ عزوجل ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھرے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← زُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5293

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5293

5293 - مكرر - حدثنا بشر بن الوليد حدثنا محمد بن طلحة Y بإسناده مثله

حضرت محمد بن طلحہ اپنی سند کے ساتھ اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔

محمد بن طلحة بإسناده مثله ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← مكرر

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5293

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5294

5294 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرني العوام بن حوشب حدثني جبلة بن سحيم عن مؤثرة بن غفارة عن عبد الله قال Y لما كان أسري بالنبي صلى الله عليه و سلم لقي إبراهيم وموسى وعيسى صلوات الله عليهم فتذكروا الساعة متى هي ؟ فبدؤوا بإبراهيم فسألوه عنها فيم يكن عنده منها علم فسألوه موسى فلم يكن عنده منها علم فردوا الحديث إلى عيسى فقال : عهد الله إلي فيما دون وبتها فلا يعلمها إلا الله فذكر من خروج الدجال فأهبط فأقتله فيرجع الناس إلى بلادهم فيستقبلهم يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون لا يمرون بماء إلا شربوه ولا بشيء إلا أفسدوه فيأجرون إلي فأدعو الله فيميتهم فتجوى الأرض من ريحهم فأدعوا الله أن يرسل السماء فتحمل أجسامهم فتلقيها في البحر ثم تنسف الجبال وتمد الأرض مد الأديم فعهد الله تبارك وتعالى إلي إذا كان ذلك : أن الساعة من الناس كالحمل المتم لا يدري أهلها متى تفجؤهم بولادها ليلا أو نهارا قال العوام : فوجدت تصديق ذلك في كتاب الله ثم قرأ { حتى إذا فتحت يأجوج ومأجوج } K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج کی سیر کروائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات حضرت ابراہیم ، و موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی ان کا آپس میں قیامت کے متعلق مذاکرہ ہوا کہ وہ کب آئے گی؟ ابراہیم علیہ السلام سے ابتداء کی گئی۔ انہوں نے ان سے پوچھا ؟ آپ علیہ السلام کے پاس اس کا علم نہیں تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کے متعلق پوچھا ، آپ علیہ السلام کے پاس بھی اس کا علم نہیں تھا۔ یہ بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچی آپ علیہ السلام نے فرمایا: اللہ نے مجھ سے وعدہ لیا تھا۔ اس کو چھپانے کا ۔ میں اس کو چھپاتا ہوں اس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ آپ علیہ السلام نے دجال کے نکلنے کا ذکر کیا۔ ( اور فرمایا: ) میں اتروں گا اس کو میں قتل کروں گا۔ لوگ اپنے شہروں کی طرف نکلیں گے ۔ ان کے سامنے یاجوج ماجوج ہوں گے وہ دیوار سے نکلیں گے ۔ وہ کسی پانی کے پاس سے گزریں گے وہ اس کو پی جائیں گے۔ ہر شے کی تباہی کریں گے ، اللہ سے پناہ لیں گے ، میں ان کے خلاف اللہ سے دعا کروں گا، پس اللہ ان کو مار دے گا، زمین میں ان کی بد بو پھیل جائے گی، میں اللہ سے دعا کروں گا کہ اللہ آسمان سے ہوا کو بھیجے وہ ان کے جسموں کو اٹھا کر ان کو سمندر میں پھینک دیں گے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مؤثرة بن غفارة ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5294

chevron_left Previous
1…848586…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter