Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5224

5224 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا محمد بن خازم عن حجاج عن حماد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ينام مستلقيا حتى ينفخ ثم يقوم ولا يتوضأ K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آرام کرتے تو چت لیٹ جاتے تھے ۔ یہاں تک کہ خراٹے مارتے ۔ پھر کھڑے ہوتے نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5224

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5225

5225 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الله بن إدريس حدثنا الحسن بن عبيد الله عن إبراهيم قال : صلى بنا علقمة فصلى خمسا فعات القوم وعابوه قال : فقلت قد فعلت قال : وأنت أعور تقول ذلك ؟ قال : فانفتال فسجد سجدتين ثم حدثهم Y عن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم صلى بهم خمسا فقيل له في ذلك فانتقل فسجد سجدتين وقال : إنما انا بشر أنسى كما تنسون K إسناده صحيح

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ہم کو نماز پڑھائی پانچ رکعتیں پڑھائیں ۔ لوگوں نے ان پر عیب لگایا، میں نے کہا کہ آپ نے ایسا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا: اے کانے ! تو یہ کہتا ہے ، راوی کہتا ہے : آپ واپس پلٹے دو سجدے کیے ۔ پھر انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث کو بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ رکعتیں صحابہ کو پڑھائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی گئی : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پلٹے دو سجدے کیے اور فرمایا: ظاہر اً میں انسان ہوں ، بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← فانفتال فسجد سجدتين ثم ← وأنت أعور تقول ذلك ← فقلت قد فعلت ← صلى بنا علقمة فصلى خمسا فعات القوم وعابوه ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5225

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5226

5226 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا ابن إدريس قال : سمعت الأعمش يذكر عن شقيق قال : كان عبد الله يخرج إلينا فيقول : إني لأخبر بمكانكم فما يمنعني أن أخرج إليكم إلا الكراهية أن أملكم Y إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يتخولنا بالموعظة في الأيام كراهية السآمة علينا K إسناده صحيح

حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہماری طرف تشریف لا کر فرمایا کرتے تھے : بے شک میں تمہیں تمہارے مکان کی خبر دیتا ہوں ، مجھے تمہارے پاس ہر روز آنے میں رکاوٹ صرف یہی ہے کہ تم اکتا جاؤ گے ۔ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختلف دنوں میں وعظ کرتے ( ہر روز نہ کرتے) یہ بات ناپسند کرتے ہوئے کہ ہم اکتا جائیں گے۔

كان عبد الله يخرج إلينا ← شَقِيقٍ، ← الأَعْمَشَ يَذْكُرُ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5226

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5227

5227 - حدثنا أوب خثيمة حدثنا وكيع حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي خازم عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا حسد إلا في اثنتين : رجل آتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق ورجل آتاه الله الحكمة فهو يقضي بها ويعلمها K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حسد صرف دو چیزوں میں ہو سکتا ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ نے مال عطا فرمایا: اور اسے حق کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائی اور دوسرا وہ آدمی جس کو اللہ نے علم عطا فرمایا: اور وہ اس کے ساتھ فیصلے کرتا ہے اور آگے سکھاتا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← قيس بن أبي خازم ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← وَكِيعٌ، ← أوب خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5227

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5228

5228 - 9ت أبو خثيمة حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش عن غإبراهيم عن عبيدة عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أقرا علي قال : قلت : يا رسول الله كيف اقرأ عليك وإنما انزل عليك ؟ قال : إني أحب أن أسمعه من غيري قال : فقرأت عليه من سورة النساء حتى مررت بهذه الآية { فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا } ؟ قال : فنظرت إليه K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر قرآن پڑھو ۔ آپ بتاتے ہیں : میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں کیسے آپ کے سامنے قرآن کی تلاوت کروں جبکہ آپ پر قرآن نازل ہوا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن سننا پسند کرتا ہوں ۔ فرماتے ہیں: میں نے آپ کے سامنے سورہ نساء پڑھنا شروع کی حتیٰ کہ میں اس آیت پر آیا: " پس کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے شہید لائیں گے اور آپ کو ان تمام لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے"۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا ، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← غإبراهيم ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← 9ت أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5228

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5229

5229 - حدثنا وكيع حدثنا المسعودي عن عمرو بن مرة عن إبراهيم عن عليقمة عن عبد الله Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما لي وللدنيا إنما مثلي ومثل الدنيا كمثل راكب قال في ظل شجرة في يوم صيف فراح وتركها K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور اس دنیا کی مثال ایک سوار کی ہے جو گرمی کے دن میں درخت کے سائے میں قیلولہ کرے ، پس تھوڑی دیر آرام کرکے اس کو چھوڑ دے۔

في ظل شجرة في يوم صيف فراح وتركها إسناده ضعيف ← ما لي وللدنيا إنما مثلي ومثل الدنيا كمثل راكب ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← عليقمة ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5229

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5230

5230 - حدثنا سفيان بن وكيع حدثنا أبي عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة عن عبد الله قال Y لما نزل على النبي صلى الله عليه و سلم : { إذا جاء نصر الله والفتح } كان يكثر إذا قرأها وركع أن يقول : سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم أغفر لي أنك أنت التواب الرحيم ثلاثا K إسناده ضعيف جدا

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سورت " اذ جاء نصر اللہ ولفتح" نازل ہوئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت کے ساتھ پڑھتے تھے ، جب اس کو پڑھتے تھے رکوع کی حالت میں : سبحانک اللھم الیٰ آخرہٖ " تین مرتبہ کہتے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5230

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5231

5231 - وعن عبد الله قال Y نفلني النبي صلى الله عليه و سلم سيف أبي جهل يوم بدر K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو جہل کی تلوار بدر کے دن مال غنیمت کے ساتھ اضافی طور پر مجھے دی۔

عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5231

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5232

5232 - حدثنا أوب خثيمة حدثنا وكيع ويحيى بن سعيد عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبي عبيدة عن أبيه قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم في الركعتين كأنه على الجمر قلت : حتى يقوم ؟ قال حتى يقوم قال وكيع : على الرصيف K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتوں میں ہوتے ایسے کہ گویا آگ کے انگارے پر ہیں ۔ میں نے کہا : یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے؟ انہوں نے جواب دیا: یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے ۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں : رضف پر۔

أَبِيهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ← أوب خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5232

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5233

5233 - حدثنا وكيع حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة Y وعن عبد الله في خطبة الحاجة : إن الحمد نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له واشهد أن لا إله إلا هو وأشهد محمدا عبده ورسوله ثم يقرأ بآيات من كتاب الله : { اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون } أل عمران [ 102 ] { واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا } النساء : 1 { اتقوا الله وقولوا قولا سديدا * يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما } K إسناده ضعيف

حضرت ابو عبیدہ سے روایت ہے ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خطبہ حاجت کے بارے میں روایت ہے :" ان الحمد للہ الیٰ آخرہٖ"۔

أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5233

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5234

5234 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا وكيع عن إسرائيل ن عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص وأبي عبيدة Y عن عبد الله مثله

حضرت ابو عبیدہ ، حضرت عبداللہ سے اسی کی مثل روایت کرتے ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ ← أبي الأحوص وأبي عبيدة ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إسرائيل ن ← وَكِيعٌ، ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5234

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5235

5235 - حدثنا وكيع عن سفيا ن عن أبي قيس عن هزيل قال Y جاء رجل إلى أبي موسى و سلمان بن ربيعة فسألهما عن أبنة و وأبينة أبن و أخت لأب و أم فقالا : للأبنة النصف وما بقي فللأخت فأتى الرجل عبد الله فسأله فاخبره بما قالا فقال : قد ضللت غذا وما أنا من المهتدين ولكن أقضي بما قضى به رسول الله صلى الله عليه و سلم : للأبنة النصف و لأبنة الأبن السدس تكملة الثلثين وما بقي فللأخت K إسناده صحيح

حضرت ہذیل فرماتے ہیں کہ سلمان بن ربیعہ اور ابو موسیٰ دونوں سے بیٹی ، پوتی، اور بہن کی وراثت کے متعلق پوچھا گیا۔ دونوں نے کہا بہن کے لیے نصف ، بیٹی کے نصف ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا، آپ نے وہی بتایا جو انہوں نے کہا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں گمراہ تھا، میں ہدایت یافتہ نہیں تھا، میں وہی کہوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹی کے لیے نصف ، پوتی کے لیے سری روثلت مکمل ہو گئے جو باقی ہے وہ بہن کے لیے۔

قد ضللت غذا وما ← بِمَا ← للأبنة النصف وما بقي فللأخت فأتى الرجل عبد الله فسأله ← أبنة و وأبينة أبن و أخت لأب و أم ← جاء رجل إلى أبي موسى و سلمان بن ربيعة فسألهما ← هُزَيْلٍ ← أَبِي قَيْسٍ، ← سُفْیَا نُ ← وَكِيعٌ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5235

chevron_left Previous
1…798081…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter