Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2045

2045 - حدثنا خلاد بن أسلم حدثنا عبد المجيد بن أبي رواد حدثنا ابن جريج عن أبي الزبير Y عن جابر : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أحب الطعام إلى الله ما كثرت عليه الأيدي K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا وہ ہے جس میں زیادہ لوگ شریک ہوں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، ← خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2045

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2046

2046 - حدثنا أبو الحارث سريج بن يونس حدثنا اسماعيل بن مجالد عن مجالد عن الشعبي Y عن جابر قال : جاء أعرابي الى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ثيابنا في الجنة ننسجها بأيدينا ؟ فضحك أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فقال الأعرابي : لم تضحكون من جاف يسأل عالما ؟ ! فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صد قت يا أعرابي ولكنها ثمرات K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور عرض کی : جو جنت میں ہم لباس پہنیں گے‘ اس کو ہم اپنے ہاتھوں سے بنیں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب اس کی بات سن کر ہنس پڑے‘ دیہاتی نے کہا: تم کیوں ہنتے ہو! جاہل ہو کر عالم سے سوال کر رہا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے دیہاتی ! تو نے سچ کہا! لیکن وہ پھل ( بدلہ نیکیوں کا ) ہوں گے ۔

جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ ← أبو الحارث سريج بن يونس

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2046

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2047

2047 - حدثنا سريج بن يونس حدثنا اسماعيل عن مجالد عن الشعبي عن جابر بن عبد الله قال Y سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن أبي طالب هل تنفعه نبوتك ؟ قال : نعم أخرجته من غمرة جهنم الى ضحضاح منها . و سئل عن خد يجة - لأنها ماتت قبل الفرائض وأحكام القرآن - فقال : أبصرتها على نهر من أنهار الجنة في بيت من قصب لا صخب فيه ولا نصب . وسئل عن ورقة بن نوفل قال : أبصرته في بطنان الجنة عليه سندس . وسئل عن زيد بن عمرو بن نفيل فقال : يبعث يوم القيامة أمة وحده بيني وبين عيسى عليهما السلام K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا ابو طالب کے لیے آپ کی نبوت فائدہ دے گی؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! میری وجہ سے ان کو جہنم کی نچلی سطح سے نکال کر اوپر لایا گیا ہے‘ خدیجہ کے متعلق پوچھا گیا کیونکہ آپ کا وصال مبارک فرائض اور قرآن کے احکام نازل ہونے سے پہلے ہو گیا تھا۔ آپ نے فرمایا: میں نے ان کا گھر دیکھا ہے جو جنت کی نہروں میں سے ایک نہر پر ہے جس میں تھکاوٹ اور شور نہیں ہے۔ حضرت ورقہ بن نوفل کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: میں نے ان کو جنت میں دیکھا کہ ان پر سندس (ایک قسم کا ریشم) ہے۔ حضرت زید بن عمرو بن نفیل کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ان کو قیامت کے دن ایک امت میں اٹھایا جائے گا جو میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← إِسْمَاعِيلُ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2047

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2048

2048 - حدثنا الحسن بن عيسى بن ما سرجس مولى ابن المبارك أخبرنا ابن المبارك أخبرنا سفيان عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر قال Y كان النبي صلى الله عليه و سلم يصلي الظهر اذا زالت الشمس K إسناده حسن

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا ۔

جَابِرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الحسن بن عيسى بن ما سرجس مولى ابن المبارك

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2048

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2049

2049 - حدثنا عبد الغفار بن عبد الله حدثنا علي بن مسهر عن مجالد عن الشعبي Y عن جابر بن عبد الله قال : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم اذ أقبل سعد بن أبي وقاص فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا خالي K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے‘ اچانک حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ میرے خالو ہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عبد الغفار بن عبد الله

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2049

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2050

2050 - حدثنا خلا د بن أسلم أخبرنا النضر أخبرنا أبو العوام عبد العزيز بن الربيع الباهلي - وكان منزله في دار زياد - قال : سمعت أبا الزبير واسمه محمد عن جابر بن عبد الله قال Y كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في مسير فأتى على قبرين يعذ ب صاحباهما فقال : أما انهما لا يعذ بان في كبير أما أحدهما فكان يغتاب الناس وأما الآخر فكان لا يتأذى من بوله فدعا بجريدة رطبة أو جريدتين فكسرهما ثم أمر بكل كسرة فغرست على قبر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما انه سيهون من عذابهما ما كانتا رطبتين - أو ما لم تيبسا - K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے‘ آپ دو قبروں کے پاس سے گزرے‘ ان دونوں قبر والوں کو عذاب ہو رہا تھا‘ آپ نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب کسی کبیرہ گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے‘ ان میں سے ایک لوگوں کی غیبت کرتا تھا اور دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے پر ہیز نہیں کرتا تھا‘ آپ نے ایک یا دو سبر ٹہنیاں منگوائیں اور دونوں کے دوٹکڑے کیے‘ پھر حکم دیا کہ ہر شخص کی قبر پر گاڑ دیا جائے۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک یہ دونوں ٹہنیاں سبنر رہیں گی یا دونوں خشک نہیں ہوں گی‘ ان پر عذاب کی تخفیف ہوتی رہے گی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أبا الزبير واسمه محمد ← أبو العوام عبد العزيز بن الربيع الباهلي وكان منزله في دار زياد ← النَّضْرُ ← خلا د بن أسلم

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2050

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2051

2051 - حدثنا شيبان حدثنا طلحة بن زيد عن عبيدة بن حسان عن عطاء بن الكيخاراني Y عن جابر قال : بينا نحن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في بيت في نفر من المهاجرين فيهم أبو بكر و عمر و عثمان و علي و طلحة و الزبير و عبد الرحمن بن عوف و سعد بن أبي وقاص فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لينهض كل رجل الى كفئه ونهض النبي صلى الله عليه و سلم الى عثمان فاعتنقه قال : أنت وليي في الدنيا وأنت وليي في الآخرة K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مہاجرین کے ایک گروہ میں ایک گھر میں تھے‘ ان میں حضرت ابو بکر، عمر، علی، طلحہ‘ زبیر عبدالرحمٰن بن عوف‘ سعد بن ابی وقاص یہ بھی تھے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر آدمی اپنے ہمسر کے ساتھ کھڑا ہو ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ حضرت عثمان کے ساتھ کھڑے ہوئے‘ آپ سے معافقہ کیا اور فرمایا : تُو دنیا و آخرت میں میرا دوست ہے۔

جَابِرٍ ← عطاء بن الكيخاراني ← عُبَيْدَةُ بْنُ حَسَّانَ، ← طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2051

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2052

2052 - أخبرنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي حدثنا زهير حدثنا جرير عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر بن عبد الله قال Y وسمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن أهل الجنة يأكلون فيها ويشربون ولا يتفلون ولا يبولون ولا يمتخطون ولا يتغوطون قال : فما بال الطعام ؟ قال : جشاء ورشح كرشح المسك يلهمون التسبيح والتحميد كما تلهمون النفس K رجاله رجال الصحيح خلا أبا يعلى

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اہل جنت، جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے نہ بول و براز کریں گے، نہ تھوک پھینکیں گے۔عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! ان کے کھانے کا کیا بنے گا؟ فرمایا: ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا‘ ان کا پسینہ مشک خوشبو کی طرح ہو گا۔ ان سے سبحان اللہ والحمد للہ کی سانس آئے گی جس طرح کے سانس لیتے ہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2052

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2053

2053 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن الأعمش عن أبي سفيان Y عن جابر قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول قبل موته بثلاث : ألا لا يموتن أحد منكم إلا وهو يحسن الظن بالله K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے وصال سے تین دن پہلے فرماتے ہوئے سنا: خبردار! تم میں سے کوئی دنیا سے نہ جائے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہو۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2053

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2054

2054 - حدثنا أبو همام حدثنا ابن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن أبي الزبير عن جابر أنه قال Y يا رسول الله نعمل لأمر قد فرغ منه أولأمر نأتنفه ؟ قال : لأمر قد فرغ منه فقال سراقة بن مالك : ففيم العمل إذا ؟ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل ميسر لعمله K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی : یارسول اللہ! ہم ایسے کام کے متعلق عمل کریں جس کو لکھ کر فراغت ہو چکی ہے‘ یا ایسے کام کے متعلق جس کی نفی کی گئی ہے؟ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : پھر عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر کام والے کے لیے کام آسان کر دیا جائے گا۔

جَابِرٍ أَنَّهُ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو هَمَّامٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2054

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2055

2055 - حدثنا الجراح بن مخلد حدثنا يحيى بن كثير بن درهم العنبري حدثنا عبد العزيز بن ربيع الباهلي عن عطاء بن رباح Y عن جابر قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فأتى على قبرين يعذبان فقال : أما إنهما يعذبان في غير كبير : الغيبة والبول ثم دعا بجريدة فكسرها فوضع على كل واحد منهما قطعة وقال : أرجو أن يخفف عنهما ما لم تيبسا K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے‘ آپ دو قبروں کے پاس سے گزرے ان دونوں قبر والوں کو عذاب ہو رہا تھا‘ آپ نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب کسی کبیرہ گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے‘ ان میں سے ایک لوگوں کی غیبت کرتا تھا اور دوسرا پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا‘ آپ نے ایک یا دو سبر ٹہنیاں منگوائیں اور دونوں کے دو ٹکڑے کیے‘ پھر حکم دیا کہ ہر شخص کو قبر پر گاڑ دیا جائے ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک یہ دونوں ٹہنیاں سبز رہیں گی‘ ان پر عذاب کی تخفیف ہوتی رہے گی ۔

جَابِرٍ ← عطاء بن رباح ← عبد العزيز بن ربيع الباهلي ← يحيى بنُ كثيرِ بنِ درهمٍ العنبريُّ: ← الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2055

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2056

2056 - حدثنا الجراح حدثنا أحمد بن سليمان الخراساني حدثنا أحمد بن محرز الأزدي عن محمد بن المنكد ر Y عن جابر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يمتلىء جوف أحد كم قيحا أو د ما خير له من أن يمتلىء شعرا هجيت به

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے پیٹ کو قے یا خون سے بھرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنے پیٹ کو ایسے اشعار سے بھرے جن میں میری گستاخی کی گئی ہو۔

جَابِرٍ ← محمد بن المنكد ر ← أحمد بن محرز الأزدي ← أحمد بن سليمان الخراساني ← الجراح

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2056

chevron_left Previous
1…789…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter