مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2033
2033 - حدثنا زكريا بن يحيى حدثنا هشيم حدثنا عبد الملك عن عطاء عن جابر قال Y شهد ت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم العيد صلى قبل أن يخطب بغير أذان ولا إقامة ثم خطب بعد ما صلى فوعظ الناس وذ كرهم ثم أتى النساء فوعظهن ومعه بلا ل فذ كرهن وأمرهن بالصدقة قال : فجعلت المرأة تلقي خاتمها وخرصها والشيء كذ لك فأمر النبي صلى الله عليه و سلم بلالا فجمع ما هناك فقال : إن منكن في الجنة ليسيرا فقالت امرأة : يا رسول الله لم ؟ قال : إنكن تكثرن اللعن وتكفرن العشير K إسناده صحيح
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز میں موجود تھا‘ آپ نے عید کی نماز خطبہ سے پہلے اور بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی‘ پھر نماز کے بعد خطبہ دیا‘ اس خطبہ میں لوگوں کو وعظ ونصیحت کی، پھر آپ عورتوں کے پاس انہیں وعظ کرنے کے لیے آئے‘ آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے‘ آپ نے انہیں وعظ کیا اور صدقہ دینے کا حکم دیا تو عورتیں اپنا سونا اور دیگر اشیاء دینے لگیں‘ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال بن کو جمع کرنے کا حکم دیا‘ جو وہاں جمع ہوا‘ آپ نے فرمایا: تم جنت میں بہت کم ہو گی۔ ایک عورت نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیوں؟ آپ نے فرمایا : تم لعنت بہت زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہروں کی نافرمانی کرتی ہو۔
جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى
Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2033
