Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5188

5188 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن فضيل حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال Y كنا نسلم على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في الصلاة فيرد علينا فلما رجعنا من عند النجاشي سلمنا عليه فلم يرد علينا فقلنا : يا رسول الله كنا نسلم عليك في الصلاة فترد علينا فقال : إن في الصلا لشغلا K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی حالت میں ہوتے تھے ، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام عرض کرتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر اس کا جواب لوٹاتے۔ پس جب ہم شاہ حبشہ نجاشی کے پاس سے لوٹے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جواب نہ دیا۔ پس ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! نماز کی حالت میں ہم آپ پر سلام عرض کیا کرتے تھے تو آپ ہم پر جواب لوٹاتے ۔ ( لیکن اب۔۔۔۔) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک نماز میں مشغولیت کا حکم ہو گیا ہے ( اور دیگر چیزوں کے ترک کا)۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5188

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5189

5189 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن فضيل حدثنا مطرف بن طريف عن أبي الجهم عن أبي الرضراض عن عبد الله قال Y كنا نسلم على رسول الله صلى الله عليه و سلم في الصلاء فيرد علينا فلما أن كان ذات يوم سلمت عليه فلم يرد علي فوجدت على تفسي فلما فرغ قلت : يا رسول الله كنت إذا سلمت عليك في الصلاة رددت علي ؟ قال : فقال : إن الله يحدث من أمره ما شاء

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہم سلام کیا کرتے تھے اس حال میں کہ آپ نماز میں ہوتے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے ، پس جب ایک دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہ دیا پس میرے دل میں بات آ گئی۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے ، میں نے عرض ک : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے جب آپ پر نماز میں سلام عرض کیا تھا تو آپ نے مجھے جواب دیا تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک جو حکم بدلنا ، اللہ کی مشیت میں ہوتا ہے وہ بدل دیتا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أبي الرضراض ← أَبِي الْجَهْمِ ← مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5189

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5190

5190 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي الأحوص عن عبد الله Y أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن فضل صلاة الرجل في الجماعة تزيد على صلاته وحده بضعا وعشرين درجة K إسناده ضعيف غير أن الحديث صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا : بے شک آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت، اس کی اکیلے نماز پڑھنے پر بیس سے زیادہ ( پچیس ، ستائیس ) درجہ زیادہ ہوتی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5190

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5191

5191 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن فضيل حدثنا هارون بن عنترة عن عبد الرحمن بن الأسود قال Y استأذن علقمة والأسود على عبد الله وقد كانا أطالا القعود على بابه حتى انتصف النهار قال : فخرجت فاستأذنت لهما فاذن لهما فقال لهما : ما لكما لم تدخلا ؟ قال : قالا : كنا نراك نائما قال : ما كنت أشتهي أن تظنا بي هذا إنا كنا نعدل صلاة هذه الساعة بصلاة الليل أو نحو من صلاة الليل ثم قال : إنكم سيليكم أمراء يشغلون عن وقت الصلاة فصلوها لوقتها ثم قام فصلى بينه وبينه ؟ ثم قال : هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت عبدالرحمٰن بن اسود فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ اور حضرت اسود نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضری کی اجازت مانگی حالانکہ وہ دونوں ان کے دروازے پر کافی دیر بیٹھے رہے تھے حتیٰ کہ آدھا دن گزر گیا۔ راوی کا بیان ہے : پس میں نکلا تو میں نے ان دونوں کے لیے اجازت طلب کی، پس آپ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو اجازت عنایت فرمائی اور ان سے فرمایا: تم داخل کیوں نہیں ہوئے؟ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نےعرض کی: ہم آپ کو سویا ہوا دیکھ رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ تم میرے بارے یہ گمان کرو، بے شک ہم اس گھڑی کی نماز کو رات کی نماز کے برابر سمجھتے ہیں ۔ پھر فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جو نماز سے غفلت کریں گے، پس اپنی نمازیں اپنے وقت پر ادا کرنا، پھر دونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھی، پھر فرمایا: اسی طرح میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5191

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5192

5192 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن خازم حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال : كنت أمشي مع عبد الله بمنى فلقي عثمان فقام معه يحدثه فقال له عثمان : با أبا عبد الرحمن ألا نزوجك جارية شابة لعلها أن تذكرك ما مضى من زمانك ؟ قال عبد الله : أما لئن قلت ذاك Y لقد قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء K إسناده صحيح

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ منیٰ کے مقام پر میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر چل رہا تھا، پس ان کی ملاقات حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ہوگئی ، پس وہ ان کے پاس کھڑے ہو گئے ۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے ارشاد فرمایا: اے ابو عبدالرحمٰن! ہم جوان لونڈی سے تیری شادی نہ کردیں! شاید وہ تجھے تیرا گزرا ہوا زمانہ یاد دلا دے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: لیکن اگر آپ نے یہ بات کی ہے تو تحقیق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں بتا چکے ہیں ۔ فرمایا: اے نوجوانو! تم میں سے جو شادی کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کر لے کیونکہ یہ آنکھوں کو جھکانے والی اور فرج کی حفاظت کرنے والی ہے اور جو طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کے لیے روکنے والا ہے۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5192

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5193

5193 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن خازم حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال Y قرأ عبد الله سورة يوسف بحمص فقال رجل : ما هكذا أنزلت فدنا منه عبد الله فوجد منه ريح الخمر فقال : تكذب بالحق وتشرب الرجس ؟ ! والله لهكذا أقرأنيها رسول الله صلى الله عليه و سلم والله لا أدعك حتى أجلدك حدا قال : فجلده الحد K إسناده صحيح

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حمص میں سورہ یوسف پڑھی ، پس ایک آدمی بولا: یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی ، پس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کے قریب ہو گئے، پس آپ نے اس سے شراب کی بو پائی تو آپ نے فرمایا: تو حق کو جھٹلاتا ہے اور پلیدی پیتا ہے ، قسم بخدا ! اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سکھائی قسم ہے میں تجھے کوڑوں کی حد لگوائے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔ راوی کہتا ہے : آپ نے اسے حد لگوائی۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5193

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5194

5194 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن خازم حدثنا الاعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله عبد الله : قال Y صلى عثمان بمعنى أربعا قال : فقال له عبد الله : صليت مع النبي صلى الله عليه و سلم بمعنى ركعتين ومع أبي بكر ركعتين ومع عمر ركعتين ثم تفرقت بكم الطرق ولوددت أن لي من أربع ركعات ركعتين متقبلتين K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منی میں چار رکعتیں ادا فرمائی ہیں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ سے عرض کی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں ادا کی تھیں ۔ پھر تمہارے راستہ جدا ہو گئے ہیں ، میں چاہتا ہوں کہ میری چار رکعتیں ہیں ان میں سے دو قبول ہو جائیں ۔

صلى عثمان بمعنى أربعا ← عبد الله عبد الله ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5194

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5195

5195 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن خازم حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد قال Y رمى عبد الله جمرة العقبة من بطن الوادي بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة قال : فقيل له : إن ناسا يرمونها من فوقها فقال عبد الله : هذا والذي لا إله غيره مقام الذي أنزلت عليه سورة البقرة K إسناده صحيح

حضرت عبدالرحمٰن بن یزید فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کو بطن وادی سے ساتھ کنکریاں ماری ہیں ، آپ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہہ رہے تھے ۔ راوی کا بیان ہے : ان سے عرض کی گئی : کچھ لوگ اس کے اوپر سے رمی کرتے ہیں ۔ پس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہ مقام ہے جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی ، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5195

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5196

5196 - وعن الأعمش عن إبراهيم عن أبي معمر عن عبد الله قال Y كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بمعنى فانشق القمر حتى ذهب فرق منه خلف الجبل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اشهدوا K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : منیٰ کے مقام پر ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، پس چاند دو ٹکڑے ہوا، اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گواہی دو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5196

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5197

5197 - حدثنا ابو خيثمة حدثنا محمد بن خازم حدثنا الأعمش عن شقيق عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حلف على يمين وهو فيها فاجر ليقطع بها مال امرئ مسلم لقي الله وهو عليه غضبان قال الأشعث : في والله كان ذلك بيني وبين رجل من اليهود أرض فجحدني فقدمته إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لي رسول الله : ألك بينة ؟ قال : قلت : لا قال لليهودي : احلف قال : فقلت يا رسول الله إذا يحلف فيذهب بمالي فأنزل الله : { إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا } K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے یمین پر حلف اٹھایا جبکہ وہ اس میں گنہگار ہے تاکہ وہ اس کے ساتھ مسلمان آدمی کا مال لوٹ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔ حضرت اشعث نے کہا: قسم بخدا ! میرے بارے میں ہے ( کیونکہ ) میرے اور یہودی کے درمیان ایک زمین تھی ، پس اس نے انکار کر دیا تو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں یہ مقدمہ پیش کر دیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تیرے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے کہا: جی نہیں ! آپ نے یہودی سے فرمایا: حلف دے ! راوی کہتا ہے : پس میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! پھر تو وہ قسم اٹھا لے گا اور میرا مال لے جائے گا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی : " بے شک وہ لوگ جو اپنے وعدوں اور قسموں کو تھوڑی قیمت پر خریدتے ہیں"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5197

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5198

5198 - حدثنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي حدثنا أيو خيثمة حدثنا محمد بن خازم حدثنا الأعمش عن شقيق عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كلمة وقال اخرى قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات هو لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة قال : وقلت أنا : ومن مات وهو يشرك بالله شيئا دخل النار K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک کلمہ اور میں دوسری بات کی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک کلمہ اور میں دوسری بات کی، یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو فوت ہوا اس حال میں کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا، اور میں کہتا ہوں : جو فوت ہوا اور وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناتا تھا تو وہ دوزخ میں جائے گا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أيو خيثمة ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5198

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5199

5199 - وبإسناده عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا فرطكم على الحوض ولأنازعن عن أقواما ثم لأغلبن عليهم فأقول : يا رب أصحابي ! ثم يقول : إنك لا تدري ما أحدثو بعدك ! K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں حوض کوثر پر تمہارے انتظار میں ہوں گا ، کئی قوموں سے جھگڑ رہا ہوں گا، ان کے خلاف مجھے غالب کر دیا جائے گا، پس میں کہوں گا: اے میرے رب ! میرے صحابہ ! پھر وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے ! انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← وَبِإِسْنَادِهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5199

chevron_left Previous
1…767778…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter