Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5176

5176 - عن عبد الرحمن بن يزيد قال : قال عبد الله Y ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى صلاة إلا لوقتها إلا صلاتين : رأيته صلى المغرب والعشاء حميعا بالمزدلفة وصلى الفجر قبل وقتها بغلس K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا مگر وقت پر نماز پڑھتے ہوئے مگر دو نمازیں مغرب اور عشاء مزدلفہ میں جمع کی تھیں ۔ اورفجر کی نماز وقت سے پہلے غلس میں پڑھی تھی۔ یعنی اندھیرے میں شروع کی اور روشنی میں ختم کی۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5176

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5177

5177 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن عمارة يعني الحارث بن سويد قال : Y دخلت على عبد الله أعوده وهو مريض فحدثنا بحديثين : حديث عن نفسه وحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن المؤمن يرى ذنوبه كأنه في أصل جبل يخاف أن يقع عليه وإن الفاجر يرى ذنوبه مثل ذباب مثل ذباب مر على أنفه فذبه عنه . قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لله أشد فرحا بتوبة عبده المؤمن من رجل في أرض دوية مهلكة معه راحلته عليها طعامه وشرابه فنام فاستيقظ وقد ذهبت فقام يكبها فطلبها حتى أدركه العطش ثم قال : أرجع إلى مكاني الذي كنت فيه حتى أموت قال : فوضع رأسه على ساعده ليموت فاستيقظ وعنده راحلته عليها زاده وطعامه وشرابه فالله أشد فرحا بتوبة عبد من هذا براحلته وزاده K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دو باتیں بیان کرتے ہیں ایک اپنی طرف سے اور دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے ۔ اپنی طرف سے جو ہے وہ یہ ہے کہ مومن اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے کہ جیسے وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے کہ قریب ہے کہ وہ گر جائے اور بڑا انسان ایسے سمجھتا ہے کہ جیسے مکھی اس کے ناک پر بھن بھنا رہی ہے ۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہے وہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل اپنے بندے کے توبہ کرنے سے اتنا خوش ہوتا ہے کہ جس طرح کوئی آدمی اپنی سواری پر سوار ہو وہ جنگل میں جا رہا ہو ۔ اس پر اس کا کھانا اور پینا وغیرہ کا سامان ہو ۔ اس نے اپنا سر رکھا اور وہ سو گیا۔ وہ جاگا تو سواری بمہ کھانے و پینے کے سامان کے چلی گئی تھی وہ اس کی تلاش میں نکلا۔ اس کو سخت پیاس یا بھوک لگی ابو شہاب فرماتے ہیں کہ قریب تھا کہ مر جائے ۔ وہ اپنی جگہ واپس آگیا اس نے اپنا سر رکھا اور سو گیا ۔ پھر جاگا ۔ وہ سواری بمہ زاد راہ اور کھانے پینے کے سامان کے اس کے پاس تھی ، اللہ اپنے بندے کی توبہ سے ، اس بندے کے سواری اور زاد راہ ملنے کی خوشی سے زیادہ خوش ہوتا ہے ( وہ خوشی میں کہہ رہا تھا اے اللہ تو میرا بندہ ہے میں تیرا رب ہوں )

نفسه وحديث ← بحديثين حديث ← دَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ أَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ ← عمارة يعني الحارث بن سويد ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5177

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5178

5178 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن عبد الرحمن بن يزيد قال : قال عبد الله Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس أحد أحد إليه المدح من الله من أجل ذلك مدح نفسه وليس أحد أغير من الله من أجل ذلك حرم الفواحش وليس أحد أحب إليه العذر من الله من أجل ذلك أنزل الكتاب وأرسل الرسل K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جتنی اللہ کو اپنی تعریف پسند ہے ، اتنی کسی آدمی کو پسند نہیں ہے کیونکہ اس نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے ، جتنا اللہ غیرت مند ہے اتنا کوئی بھی نہیں ہے ، اس وجہ سے اس نے فواحش کو حرام فرمایا: ہے معذرت جتنی اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے اتنی کسی کے ہاں نہیں ہے ، اسی وجہ سے اس نے کتاب نازل فرمائی اور رسولوں کو بھیجا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5178

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5179

5179 - وعن الأعمش عن عبد الله بن مرة الهمداني عن مسروق عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من نفس تقتل ظلما إلا كان على ابن آدم الأول كفل من دمها لأنه سن القتل K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی انسان کو ظلماً قتل کیا جاتا ہے ، تو اس کا گناہ آدم کے پہلے بیٹے پر ہوتا ہے کیوں کہ سب سے پہلے اس نے قتل کیا تھا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← وعن الأعمش

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5179

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5180

5180 - عن عبد الله بن مرة عن أبي الأحوص عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : برئت إلى كل خليل من خلته ولو كنت متخذا خليلا لأتخذت أبا بكر خليلا وإن صاحبكم خليل الله K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ہر دوست کے دوست بنانے سے بری ہوں ، اگر میں دوست بناتا تو ضرور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو بناتا لیکن تمہارے صاحب اللہ کے دوست ہیں ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5180

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5181

5181 - وعن جرر عم عاصم الأحول عن عوسجة بن الرماح عن عبد الله بن أبي الهذيل عن ابن مسعو قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم أحسنت خلقي فأحسن خلقي K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے : اے اللہ ! تو نے میری تخلیق کو خوبصورت بنایا تو میرے اخلاق کو اور زیادہ خوبصورت بنا دے۔

اللهم أحسنت خلقي فأحسن خلقي إسناده حسن ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابن مسعو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، ← عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ، ← وعن جرر عم عاصم الأحول

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5181

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5182

5182 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة قال : حدثنا صاحب لنا عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يعدي شيء شيئا ثلاث مرات فقال أعرابي في القوم : يا رسول الله فإن البعير يكون في الإبل العظيمة فتكون به النقبة بذنبه أو بمشفره فتخرب الإبل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فمن أجرب الأول ؟ ثم قال رسول الله : لا عدوى ولا طيرة ولا صفرة ولا هامة خلق الله كل نفس وكتب حياتها ن ورزقها ومصيباتها K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شے کسی شے کو بیماری نہیں لگاتی ہے ۔ تین مرتبہ فرمایا: ایک دیہاتی آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ایک اونٹ خارش زدہ ہوتا ہے وہ تمام اونٹوں کو خارش زدہ کرتا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی ہے ؟ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عدوی طیرہ صفر اور ھامہ نہیں ہے کوئی بھی نہیں ، اللہ عزوجل نے ہر حیات کو پیدا کیا ہے ۔ اس کی زندگی ، اس کا رزق اور اس پر آنے والی آزمائش لکھ دی ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← صاحب لنا ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5182

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5183

5183 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن عطاء بن السائب عن أبي وائل عن أبي عبد الرحمن عن عبد الله قال Y قال رسول الله : إن الله لم ينزل داء إلا قد جعل له شفاء علمه من علمه وجهله من جهله K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے کوئی بیماری نہیں اتاری ہے مگر اس کی شفا ء بھی اتاری ہے ۔ شفاء رکھی اس کو جان لیا، جس نے جان لیا اور اس سے جاہل رہا جو جاہل رہا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي وَائِلٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5183

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5184

5184 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن ليث عن عبد الرجمن بن الأسود عن أبيه عن عبد الله قال Y خرجت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى حاجة فضاها فقال : ابغني شيئا أستنجي به ولا تقربني حائلا ولا رجيعا قال : ثم توضأ فقام يصلي فرأيته كلما ركع حنا : يعني طبق يديه وجعلهما بين ركبتيه . قال ليث : الحائل : العظم K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس وقت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاجت کے لیے نکلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضا ء حاجت فرمائی مجھے فرمایا: میرے لیے کوئی شئے تلاش کرکے لاؤ ۔ میں اس کے ساتھ استنجاء کروں ۔ میرے پاس کتے کا پیشاب اور ہڈی نہ لانا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا: اس کے بعد کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ میں نے دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے تو جھکتے اور دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان میں رکھتے تھے ۔ حدیث کے راوی حضرت لیث فرماتے ہیں : حائل سے مراد ہڈی ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عبد الرجمن بن الأسود ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5184

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5185

5185 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن ليث عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد عن أبيه قال Y كنت مع عبد الله حتى انتهى إلى جمرة العقبة فسبقته فقال : ناولني أحجارا فناولته سبعة أحجار وهو يلبي ثم قال : خذ بزمام الناقة فأتى بطن الوادي فعاج إلى الشجرة ثم قال : الله أكبر ثم رمى فجعل يكبر عند كل حصاة حتى رمى سبع حصيات ثم قال : اللهم اجعله حجا مبرورا وذنبا مغفورا ثم قال : هكذا فعل الذي نزلت عليه سورة البقرة K إسناده ضعيف

حضرت محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید ، اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں : میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ وہ جمرہ عقبہ پر آئے ۔ پس میں نے ان پر سبقت کی تو فرمایا: پتھر مجھے پکڑاؤ ! میں نے سات پتھر ان کو ئی اس حال میں کہ آپ تلبیہ پڑھ رہے تھے، پھر فرمایا: اونٹنی کی مہار پکڑ ۔ پس آپ وادی کے درمیان میں آئے ، درخت کی طرف پلٹے ، پھر اللہ اکبر کہا، پھر کنکریاں پھینکیں ، پس آپ نے ہر کنکری کے وقت اللہ اکبر کہا حتیٰ کہ ساتھ کنکریاں پھینک ڈالیں ، پھر دعا کی : اے اللہ ! اس حج کو حج مقبول بنا، گناہ کو بخشا ہوا بنا، پھر فرمایا: اسی طرح کیا ، اسی ہستی نے جس پر سورت بقرہ نازل ہوئی ۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5185

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5186

5186 - حدثنا أبو حيثمة حدثنا جرير عن إسماعيل عن قيس بن أبي حازم عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا حسد إلا في اثنتين : رجل أتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق وآخره أتاه الله الحكمة يقضي بها ويعلمها K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسد صرف دو چیزوں میں جائز ہے ایک اس مال پر جو مال دار ہو وہ حق کی راہ میں خرچ کرتا ہے ۔ ایک وہ جس کو اللہ نے علم دیا ہو وہ اس کے ساتھ فیصلہ کرتا اور سکھاتا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلُ ← جَرِيرٌ ← اَبُوْ حَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5186

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5187

5187 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة قال : قال عبد الله Y لما كان يوم بدر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما ترون في هؤلاء الأسارى ؟ قال عبد الله بن رواحة : يا رسول الله أنت في واد كثير الحطب فأضرم الوادي عليهم نارا ثم ألقهم فيه قال العباس : قصع الله رحمك قال عمر : يا رسول الله قادة المشركين ورؤوسهم كذبوك وقاتلوك اضرب أعناقهم قال أبو بكر يا رسول الله عشيرتك وقومم استحيهم يستنفذهم الله بك من النار فدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم ليقضي حاجته فقالت طائفة : القول ما قال عمر وقالت طائفة : القول ما قال أبو بكر فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما قولكم في هذين الرجلين ؟ إن مثلهم إخوة لهم كانومن قبلهم : قال نوح : { رب لا تذر على الأرض من الكافرين ديارا * إنك إن تذرهم يضلوا عبادك } وقال موسى { ربنا اطمس على أموالهم واشدد على قلوبهم فلا يؤمنوا حتى يروا العذاب الأليم } وقال إبراهيم صلى الله عليه و سلم : { فمن تبعني فإنه مني ومن عصاني فإنك غفور رحيم } وقال عيسى : { إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم } وأنتم قوم بكم عيلة فلا ينقلبن أحد منكم إلا بفداء أو بضربة عنق قال عبد الله : قلت إلا سهل بن بيضاء فلا يقتل فقد سمعته يتكلم بالإسلام فسكت فما أتى علي يوم كان أشد خوفا عندي أن يلقى علي حجارة من السماء من يومي ذلك حتى قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إلا سهل بن بيضاء K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ جس وادی میں موجود ہیں ، اس میں لکڑیاں بہت زیادہ ہیں پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے وادی کو لگانے کا حکم دیں، پھر ان کو اس میں ڈال دیں ۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ نے تیری رحم کی صفت ختم کردی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: مشرکین کے قائدین اور ان کے سرداروں نے آپ کو جھٹلایا اور انہوں نے آپ سے جنگ کی ، ان کی گردنیں اڑانے کا حکم فرمائیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کے قریبی رشتہ دار اور آپ کی قوم ہے ، ان کو زندہ رہنے دیں، آپ کے وسیلے سے اللہ ان کو دوزخ کی آگ سے بچائے گا۔ پس آپ قضائے حاجت کے لیے اندر تشریف لے گئے ، پس لوگوں کے ایک گروہ نے کہا: بات وہی ہے جو عمر نے کی ہے ایک گروہ نے کہا: بات وہی ہے جو ابوبکر نے کی ہے ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ، فرمایا: ان دو آدمیوں کے بارے میں تم نے بات کی ہے ؟ بے شک ان کی مثال ان بھائیوں کی ہے جو ان سے پہلے تھے ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کی : " اے میرے رب! کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ، بے شک تو نے اگر ان کو ( زمین پر زندہ ) چھوڑا تو وہ تیرے بندوں کو زیادہ گمراہ کر دیں گے" اور موسیٰ علیہ السلام نے کہا: " اے ہمارے رب ! ان کے مال برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے تو وہ جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں"۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کی : " تو جس نے میری پیروی کی تو بے شک وہ مجھ سے ( تعلق رکھتا ) ہے اور جس نے ( عمل میں ) میری نا فرمانی کی تو بے شک تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے "۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: " اگر تو انہیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو بے شک تو ہی غالب بڑی حکمت والا ہے " ۔ اور تم عیالدار قوم ہو، پس تم میں سے کوئی بھی فدیہ دئیے بغیر نہ جائے گا یا پھر اس ک گردن اڑادی جائے گی ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : مگر سہل بن بیضاء کو قتل نہ کیا جائے ۔ پس میں نے اسے سنا ہے ، اسلام کی گفتگو کر رہا تھا۔ پس وہ خاموش رہا، پس مجھ پر کوئی دن نہیں آیا جو میرے نزدیک خوف والا ہے ، اس دن مجھے یوں لگا کہ آسمان سے پتھر مجھ پر پھینک دیا جائے گا۔ حتیٰ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مگر سہل بن بیضاء۔

عبد الله لما كان يوم بدر ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5187

chevron_left Previous
1…757677…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter