Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5152

5152 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن يزيد ابن أبي زياد عن أبي سعد الأزدي عن أبي الكنود قال Y أصبت رجلا من عظماء فارس يوم مهران قال ك فرفعت سلبه الى السلطان قال ك فأخذت خاتماص له من ذهب قال : وكان قد رئي في يدي قال ك قلت إذا خرجت إلى أرض العجم فأصابني شيء فإنه نافق فدخلت على عبد الله وهو في يدي فقال : ما هذا الخاتم ؟ فقصصت عليه القصة فأخذه مني فجعله في فيه ثم مضغه ثم طرحه إلي ثم قال : نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن حلقة الذهب K إسناده ضعيف

حضرت ابی الکنود فرماتے ہیں کہ مجھے فارس کے بڑے لوگوں میں سے مہران ( کے دن ) ایک آدمی کو قتل کیا، میں نے اس کے جملہ سامان کو اٹھا کر بادشاہ کے پاس لایا ۔ میں نے اس کی سونے کی انگوٹھی لی۔ جو میرے ہاتھ میں دیکھی گئی تھی۔ فرماتے ہیں جب عجموں کے ملک میں آیا مجھے اس سے کوئی شئے ملی کیونکہ وہ ختم ہونے والی تھی۔ میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ۔ وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو بیان کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے لی اور اپنے منہ میں رکھی اس کو چبایا پھر میری طرف پھینک دی اور فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا:

أَبِي الْكَنُودِ ← أَبِي سَعْدٍ الْأَزْدِيِّ ← يَزِيدُ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5152

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5153

5153 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة قال Y سمعت عبد الله يقول : من كل شيء قد أوتي نبيكم إلا مفاتيح الخمس إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام الآية كلها K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر چیز کا علم دیا ہے مگر پانچ کی چابیاں عطا کیں ، بے شک اللہ کے پاس قیامت کا علم ، بارش کے نازل کرنے کا علم ، جو ماں کے پیٹ میں ہے ا سکا علم ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5153

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5154

5154 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن يحيى الجابر عن أبي ماجدة عن عبد الله قال Y سألنا النبي صلى الله عليه و سلم عن السير بالجنازة فقال : السير ما دون الخبب ن فإن يكن خيرا يعجل إليه وإن كان يك سوى ذلك فبعدا لأهل النار الجنازة متبوعة وليس منها من تقدمها K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز جنازہ کو لے کر چلنے کی چال یا رفتار کے متعلق پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے چلنا ہے کہ میت کو جھٹکے نہ لگیں ، اگر وہ نیک ہو تو وہ کہتا ہے : جلدی لے چلو۔ اگر برا ہے تو اہل النار سے دوری حاصل کرو۔ جنازہ متبوع ہوتا ہے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے جو آگے بڑھے ۔

السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ ← سألنا النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي مَاجِدَةَ، ← يحيى الجابر ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5154

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5155

5155 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن يحيى الجابر عن أبي ماجدة عن عبد الله أنه أنشأ يحدث قال ك Y إن أول رجل قطع من المسلمين - أو في المسلمين - رجل من الأنصار أتي به النبي صلى الله عليه و سلم فقيل : سرق فقال : اذهبوا بصاحبكم فاقطعوه فكأنهما أسفي وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم رمادا فقال له بعض جلسائه : كأن هذا قد شق عليك يا رسول الله ؟ قال : وما ينبغي أن تكونوا أعوانا للشيطان أو لإبليس إنه لا ينبغي لوالي أمر أن يؤتى بحد إلا أقامه والله عفو يحب العفو ثم قرأ الآية : { وليعفوا وليصفحوا ألا تحبون أن يغفر الله لكم } K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے مسلمانوں میں جس کا ایک ہاتھ کاٹا گیا وہ انصار کا ایک آدمی تھا، اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا اور عرض کی گئی کہ اس نے چوری کی ہے ۔ فرمایا: اپنے ساتھ کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ گوایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ پھیکا پڑگیا، ہم نشینوں میں سے ایک نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ معاملہ دشوار گزرا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہتر نہیں ہے کہ تم شیطان کی مدد کرو، کسی بادشاہ کے لیے جائز نہیں ہے کہ حد اس کے پاس لائی جائے ، لیکن وہ حد قائم نہ کرے ، اللہ عفو ہے اور عفو کو پسند کرتا ہے ، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: " معاف کرو درگزر کرو، کہا تم پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تم کو معاف کرے "۔

عبد الله أنه أنشأ ← أَبِي مَاجِدَةَ، ← يحيى الجابر ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5155

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5156

5156 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا وكيع و يحيى بن سعيد عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنها ستكون بعدي أثرة وأمور تنكرونها قالوا يا رسول الله كيف تأمر من أدرك ذلك منا ؟ قال : تؤدون الحق الذي عليكم وتسألون الله الذي لكم K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم میرے بعد ناحق والے پر ترجیح دیتے ہوئے دیکھ گے اور کام ناپسند دیکھو گے ۔عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا حق ادا کرتے رہو جو تم پر ضروری ہے اللہ سے اپنے لیے تم مانگتے رہو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وكيع و يحيى بن سعيد ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5156

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5157

5157 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم - وهو الصادق المصدوق المصدوق : إن خلق أحدكم ليجمع في بطن أمه مثل ذلك ن ثم يبعث الله الملك بأربع كلمات : رزقه معمله ن وأجله وشقي أم سعيد ن فوا الذي نفسي بيده إن أحدكم ليعمل بعمل أهل الجنة حتى ما يكون بينه وبينها إلا ذراع ثم يدركه ما سبق له في الكتاب فيعمل بعمل أهل النار فيدخلها وإن أحدكم ليعمل بعمل أهل النار حتى ما يكون بينه وبينها إلا ذراع ثم يدركه ما سبق له في المتاب فيعمل بعمل أهل الجنة فيدخلها K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بےشک جو صادق و مصدوق ہیں بے شک تم میں سے ہر کسی کو اللہ عزوجل تمہاری ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع کرتا ہے ۔ پھر چالیس دن علقہ ہو جاتا ہے پھر وہ چالیس دن میں مضغہ ہو جاتا ہے ، پھر اللہ عزوجل فرشتہ بھیجتا ہے چار باتوں کا حکم دے کر ، اس کا رزق ، اس کا عمل ، اس کی موت ، اس کا متقی یا نیک ہونا ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی جنتیوں والے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر کا لکھا ہوا غالب آ جاتا ہے ۔ وہ جہنمیوں والے عمل کرتا ہے ، جہنم میں داخل ہوتا ہے ۔ تم میں سے کوئی جہنمیوں والے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہا تھا کہ اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے جو کتا میں ہے وہ جنتیوں والے عمل کرتا ہے ، جنتی ہو جاتا ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5157

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5158

5158 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن عن إبراهيم عن الأسود قال : قال عبد الله بن مسعود Y بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غار إذ نزلت عليه : { والمرسلات عرفا } فتلقفناها من فيه وإن فاه لرطب بها إذ خرجت حية فقال رسول اله صلى الله عليه و سلم اقتلوها قال : فابتدرناها فسبقتنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وقيت شركم ووقيتم شرها K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ سورۃ والمرسلات عرفاً نازل ہوئی ۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے سن کر یاد کر لی۔ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منہ مبارک اس سے تر تھا ، یعنی آپ پڑھ رہے تھے ، اچانک ایک سانپ نکلا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو قتل کرو ! ہم نے اسے مارنے کے لیے جلدی کی ، پس وہ ہم سے نکل گیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کو اس کے شر سے بچالیا گیا ہے ۔

الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5158

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5159

5159 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال Y لما نزلت هذه الآية : { الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم } شق على أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : أينا لم يلبس إيمانه بظلم ؟ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس بذلك ألم تسمعوا إلى قول لقمان { إن الشرك لظلم عظيم } ؟ K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہیں کی، یہ بات اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دشوار گزری ۔ انہوں نے عرض کی: ہم میں سے کوئی نہیں جس نے اپنے ایمان میں ناحق آمیزش نہ کی ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ حضرت لقمان کا کلام کہ بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5159

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5160

5160 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال Y جاء رجل من أهل الكتاب الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ك إن الله يمسك السماوات على إصبع والأرضين على لإصبه والجبال والشجر على إصبع ن والماء والثرى على إصبع والخلائق كلها على إصبع ثم قال : أنا الملك . قال ك فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى بدت نواجذه ثم قرا هذه الآية : { وما قدروا الله حق قدره والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسماوات مطويات بيمينه } الآية فقلت لإبرهيم : أفي الدنيا أم في الآخرة ؟ فقال : في الدنيا ؟ K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اہل کتاب میں سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، عرض کی : بے شک اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور کیچڑ کو ایک انگلی پر ، تمام مخلوق کو ایک انگلی پر ، پھر فرمایا: میں بادشاہ ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھیں نظر آنے لگیں پھر یہ آیت پڑھی : " وما قدروا اللہ الیٰ آخرہٖ" راوی حدیث فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے عرض کی کیا دنیا میں یا آخرت میں ؟ آپ نے فرمایا: دنیا میں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5160

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5161

5161 - وعن عبد الله قال Y أنا ليلة الجمعة في السجد إذ دخل رجل من الأنصار فقال : لو أن رجلا وجد مع امرأته رجلا فإن تكلم جلدتموه وإن قتل قتلتموه وإن سكت سكت على غيظ والله لأسألن عنه رسول الله فلما كان من الغد أتى رسول الله فسأله فقال : لو أن رجلا وجد مع امرأته رجلا فتكلم جلدتموه أو قتل قتلتموه أو سكت سكت على غيظ قال : اللهم افتح وجعل يدعو ن فنزلت آية اللعان { والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم } هذه الآيات فابتلى به الرجل بين الناس فجاء هو وامراته إلى رسول الله فتلاعنا فشهد الرجل أربع شهادات بالله إنه لمن الصادقين ثم لعن الخامسة : أن لعنة الله عليه إن كان من الكاذبين فذهبت لتلتعن فاقل رسول الله صلى الله عليه و سلم : مه فلعنت ن فلما أدبرا قال ك لعلها أن تجيء به أسود جعدا فجاءت به أسود جعدا K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کی رات مسجد میں تھا ۔ اچانک انصار میں ایک آدمی آیا ۔ ا س نے کہا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے گا اگر گفتگو کرے اس کو کوڑے مارے ۔ اگر قتل کرے اس کو قتل کرو۔ اگر خاموش رہے تو اپنے غصہ پر خوش رہے ۔ اللہ کی قسم ! میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھوں گا۔ اس کے متعلق جب دوسرا دن آیا تو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اس کے متعلق پوچھا۔ عرض کی : اگر کوئی اپنی عورت کے ساتھ کسی مرد کو پائے ، گفتگو کرے ۔ تو وہ خاموش رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ اس کے متعلق کوئی حکم نازل فرما، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کرنے لگے ، یہ آیت نازل ہوئی " والذین یرمون الیٰ آخرہٖ"۔

عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5161

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5162

5162 - وعن إبراهيم عن الحارث بن سويد ن عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما تعدون الرقوب فيكم ؟ قال : قلنا : الذي لو ولد له قال : ليس ذاك بالرقوب ولكن الرقوب الذي لم يقدم من ولده شيئا قال : وما تعدون الصرعة فيكم ؟ قال ليس ذلكم ولكن الذي بملك نفسه عند الغضب K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ تم رقوب کس کو شمار کرتے ہو؟ ہم نے عرض کی وہ ہے جس کی اولاد نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ رقوب نہیں ہے ، رقوب یہ ہے کہ اپنی اولاد کے لیے کوئی نہ چھوڑے ۔ پھر فرمایا: تم پہلوان کو شمار کرتے ہو؟ عرض کی وہ دوسرے مدمقابل کر گرا لے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلوان وہ ہے جو عصر کے وقت اپنے نفس پر کنٹرول کرے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الحارث بن سويد ن ← وعن إبراهيم

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5162

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5163

5163 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عم إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد قال : قال عبد الله Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيكم ماله أحب إليه من مال وارثه ؟ قالوا : يارسول الله : ما منا من أحد إلا ماله أحب إليه من مال وارثه قال : اعلموا ما تقولون قالوا : ما نعلم إلا ذاك يا رسول الله قال : ما منكم رجل إلا مال وارثه أحب إليه من ماله قالوا : كيف يا رسول الله ؟ قال : إنما مال أحدكم ما قدم ومال وارثه ما أخر K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کون ہے جو اپنے مال سے بڑھ کر اپنے وارث کے مال کی حفاظت کرتا ہے ؟ عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم میں سے ہر کوئی اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے ؟ وارث کے مال کی کوئی حفاظت نہیں کرتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔ عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم اس کا جاننا چاہتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے تم میں سے جو اپنے وارث کے مال کی حفاظت کرتا ہے اللہ کے مال سے بڑھ کر ۔ عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کس طرح ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا مال وہ ہے جو تم آگے بھیجا ہے ۔ وارث کا مال وہ ہے جو پیچھے چھوڑ جاؤگے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← الأعمش عم إبراهيم التيمي ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5163

chevron_left Previous
1…737475…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter