Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5140

5140 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن عبيدة السلماني عن عبد الله قال Y سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي الناس خير ؟ قال : قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يجيء قوم تبدر شهادة أحدهم يمينه ويبدر يمينه شهادته قال إبراهيم : كانوا بنهوننا ونحن صبيان عن العهد والشهادات K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا: لوگوں میں کون بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا زمانہ پھر جوان سے ملے ہوئے ہیں، پھر جو ان سے ملے ہوئے ہیں ، پھر کچھ ایسے لوگ آئیں گے کہ ان میں کسی کی گواہی اس کی قسم سے پہلے ہوگی اور ان کی قسم ، ان کی گواہی سے جلدی ہوگی ۔ ابراہیم فرماتے ہیں : ہمیں منع کیا جاتا تھا جب ہم بچے ہوتے تھے ، وعدہ اور گواہی دینے سے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5140

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5141

5141 - وعن إبراهيم عن علقمة قال : قال : عبد الله Y لعن الله الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله : قال : فبلغ ذلك امرأة من بني أسد يقال لها أم يعقوب كانت تقرأ القرآن فأتت فقالت : ما حديث بلغني عنك أنك لعنت الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله ؟ ! فقال عبد الله : ما لي لا ألعن من لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في كتاب الله ؟ قالت المرأة : لقد قرأت ما بين لوحي المصحف فما وجدته فقال : والله لئن كنت قرأته لقد وجدته ثم قال : { وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا } قالت المرأة : فإني أرى من هذا شيئا على أمرأتك قال : فاذهبي فانظري قال : فدخلت على امراة عبد الله فلم تر شيئا فجاءت إليه فقالت : ما رأيت شيئا قال : أما لو كلن ذلك لم تجامعها K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے جس کی کھال چھیل کر سوئی سے گود کر نیل چھڑکنے والیوں پر ، یعنی گودنے والیوں پر ، گدوانے والیوں پر، دھاگے کے ذریعے اپنی پیشانی کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور بطور زنت دانتوں کو الگ الگ کرنے والیوں یعنی فاصلہ ڈالنے والیوں پر ، یعنی اللہ کی تخلیق کو بدل ڈالنے والیوں پر ۔ پس بنو اسد قبیلے کی ایک عورت تک یہ بات پہنچی ، جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا، وہ عورت باقاعدگی سے قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھی ۔ پس وہ آئی اور اس نے کہا: کیا حدیث ہے جو آپ سے مجھے پہنچی ہے کہ آپ نے لعنت فرمائی ہے ، گودنے والیوں پر ، گدوانے والیوں پر، پیشانی کے بال اکھاڑنے والیوں پر ، خوبصورتی کے لیے اپنے دانتوں میں فاصلے ڈالنے والیوں یعنی اللہ کی بناوٹ کو بدل ڈالنے والیوں پر ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے کیا ہے کہ میں لعنت نہ کروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لعنت سے اور یہ تو اللہ کی کتاب میں ہے ؟ اس عورت نے کہا: میں تو اپنے قرآن کے درمیان جو کچھ ہے سب کو پڑھا ہے ، میں نے تو اس میں نہیں پایا ۔ آپ نے فرمایا: قسم بخدا ! اگر تو قرآن پرھتی تو اسے پالیتی ۔ پھر فرمایا: ( فرمان ہے : ) " جو کچھ تمہیں اللہ کے رسول دین تو اسے لے لو اور جس سے منع کریں تو ( اس سے ) رک جاؤ" عورت نے کہا: اس میں کچھ چیز تو میں آپ کی بیوی پر بھی دیکھتی ہوں ۔ آپ نے فرمایا: جا ! اب دیکھ ۔ راوی کا بیان ہے : وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے پاس داخل ہوئی تو کوئی چیز نظر نہ آئی (یعنی نہ تھی) ۔ پس وہ اپ کے پاس آئی اور عرض کی : میں نے تو کوئی شئی نہیں دیکھی ۔ فرمایا: اگر کوئی چیز ہوتی تو میں اس سے جماع نہ کرتا۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5141

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5142

5142 - حدثنا ابو خيثمة حدثنا جرير حدثنا منصور عن إبراهيم عن علقمة قال : قال عبد الله Y صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة ـ قال إبراهيم : لا أدري أزاد أم نقص ـ فلما سلم قيل له : يا رسول الله أحدث في الصلاة شيء ؟ قال : لا وما ذاك ؟ قالوا : صليت كذا وكذا قال : فثنى رجله واستقبل القبلة وسجد سجدتين ثم سلم فلم سلم أقبل علينا بوجهه فقال : إنه لو حدث في الصلاة شيء أنبأتكم به ولكني إنما أنا بشر مثلكم أنسى كما تنسون فإذا نسيت فذكروني وإذا شك أحدكم في الصلاة فليتحر الصواب فليتم عليه ثم يسلم ثم يسجد سجدتين K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رکعت زیادہ یا کم پڑھائی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا ۔ تو عرض کی گئی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا نماز کے متعلق نیا حکم نازل ہوا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! کیا ہوا ہے ؟ عرض کی : صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں پر پلٹے اور دوسجدے کیے۔ پھر سلام پھیر کر ہماری طرف اپنا چہرہ مبارک کیا۔ فرمایا: اگر نماز میں کوئی شے پیش آئے میں اس کے متعلق تم کو سجدہ سہو کرنے کا حکم دیتا ہوں ۔ میں تمہاری طرح کا (بظاہر ) انسان ہوں اور بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔ جب میں بھول جاؤں تو تم مجھ کو بتا دیا کرو۔ جب تم کو نماز میں ایسا معاملہ پیش آئے وہ غور و فکر کرے ۔ اس پر بنا کرے پھر سلام پھیرے ، پھر دو سجدے کرے۔

إبراهيم لا أدري أزاد أم نقص فلما سلم قيل له ← عبد الله صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5142

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5143

5143 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن منصور عن سالم با أبي الجعد عن أبيه عن ابن مسعود قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما منعكم من أحد إلا وقد وكل به قرين من الجن قالوا : وإياك يا رسول الله ؟ قال : وإياك إلا أن الله أعانني عليه فاسلم فلا يامرني إلا يخير K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں ہر ایک شیاطین اور جنوں میں سے وکیل ہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کے ساتھ بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی مگر اللہ نے میری اس پر مدد فرمائی ۔ وہ مسلمان ہو گیا وہ مجھے صرف نیکی کا حکم دیتا ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← سالم با أبي الجعد ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5143

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5144

5144 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن منصور عن ذر عن وائل بن مهانة من اليتيم عن عبد الله قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معشر النساء تصدقن ولو من حليكن فإنكن أكثر أهل جهنم فقالت امرأة ليست من علية النساء : ولم نحن يا رسول الله أكثر أهل جهنم ؟ قال : من أجل أنكن تكثرن اللعن وتكفرن العشير K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کے گروہ ! صدقہ کیا کرو، اگرچہ سونے کی ایک ڈلی ہی ہو، تمہاری اکثریت جہنم میں ہوگی۔ ایک عورت نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! جہنم میں کثرت کیوں ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وجہ سے کہ تم لعنت زیادہ کرتی ہو اور شوہروں کی نافرمان ہوتی ہو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← وائل بن مهانة من اليتيم ← ذَرٍّ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5144

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5145

5145 - وعن منصور عن أبي الضحى عن مسروق عن عبد الله قال : Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لما رأى من الناس إدبارا قال : اللهم سبع كسبع يوسف فأخذتهم سنة حصت كل شيء حتى أكلوا لحم الميتة والجلود والجيف وينظر إلى السماء أحدهم فيرى الدخان من الجوع فأتاه أبو سفيان فقال يا محمد إنك جئت تأمر بطاعة الله وبصلة الرحم فإن قومك قد هلكوا فادع الله لهم قال الله : { فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين } إلى قول الله : { إنا منتقمون } K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لوگوں سے ادبار دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی : اے اللہ ! ان پر یوسف علیہ السلام جیسا قحط نازل فرما ، ان کو ایک سال قحط نے پکڑا ۔ ان سے ہر شئے ختم ہو گئی ۔ یہاں تک کہ انہوں نے مردار کھانا شروع کر دئیے ان میں سے کچھ آسمان کی طرف دیکھتے وہ بھوک کی وجہ سے دھواں نظر آتا ۔ ابو سفیان آیا، اس نے عرض کی ، اے محمد ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں اور صلہ رحمی کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم ہلاک ہو رہی ہے ۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ۔ اللہ نے فرمایا: " فارتقب یوم الیٰ قولیہٖ انا منتقمون"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← وعن منصور

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5145

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5146

5146 - حدثنا ابو خثيمة حدثنا جرير عن مغيرة قال : ذكر شباك لإبراهيم قال : سألنا علقمة عن ذلك فحدثنا عن عبد الله قال Y لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله قال : فقلك : وشاهديه وكتابه قال : إنما نحدث ما سمعنا K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے اور کھلوانے والے پر لعنت فرمائی ۔ میں نے عرض کی : گواہ اور لکھنے والے پر ۔ انہوں نے فرمایا: ہم صرف وہی بات بیان کرتے ہیں جو ہم نے سنی ہو۔

إسناده صحيح ← إنما نحدث ما ← فقلك وشاهديه وكتابه ← لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله ← عَبْدُ اللَّهِ ← ذلك فحدثنا ← سألنا علقمة ← شباك لإبراهيم ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5146

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5147

5147 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال : قال هني الضبي : لقينا علقمة ـ وقد مثل زياد برجل صلبه ـ فقال لنا : علام اجتمع هؤلاء ؟ قلت : مثل زياد برجل قال : قال عبد الله Y فيما أحسب ـ : إن أعف الناس قتلة أهل الإيمان K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک لوگوں میں سے قتل کرنے کے اعتبار سے سب سے عفیف و پاک اہل ایمان ہیں۔

لنا علام اجتمع هؤلاء قلت مثل زياد برجل ← هني الضبي لقينا علقمة وقد مثل زياد برجل صلبه ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5147

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5148

5148 - عن عبد الله Y النبي صلى الله عليه و سلم قال : الولد الصاحب الفراش وللعاهر الحجر K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر (رجم )ہے ۔

الولد الصاحب الفراش وللعاهر الحجر إسناده ضعيف ← عبد الله النبي صلى الله عليه و سلم

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5148

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5149

5149 - وعن مغيرة عن واصل بن حيان عن عبد الله بن أبي الهذيل عن أبي الأحوص عن عبد الله Y عن النبي صلى الله عليه و سلم : لو كنتمتخذا من أهل الأرض خليلا لأتخذت أبا بكر بن أبي قحافة خليلا ولكن صاحبكم خليل الله . وإن القرآن نزل على سبعة أحرف لكل آية منها ظهر وبطن ولكل حد مطلع K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر میں کسی کو زمین میں دوست بناتا تو ضرور ابو بکر رضی اللہ عنہ ہی کو بناتا لیکن تمہارے صاحب اللہ کے دوست ہیں اور قرآن سات قراتوں پر اترا ہے ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ہر ایک کا ایک باطن بھی ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، ← وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ← مُغِيرَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5149

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5150

5150 - وعن جرير عن حصين عن هلال بن بساف عن أبي حيان عن عبد الله قال Y قال النبي صلى الله عليه و سلم أقرأ علي قلت : أليس تعلمت منك يا رسول الله ؟ قال : إني أحب أن أسمعه من غيري فقرأت عليه سورة النساء حتى إذا بلغت { فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا } فاضت عيناه

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے قرآن پڑھ ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا میں نے آپ سے ہی نہیں سیکھا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں پسند کرتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سورہ نساء پڑھی حتیٰ کہ میں ا س آیت پر پہنچا :" فکیف اذا جئنا الی آخرہٖ " آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو برسنے لگے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي حَيَّانَ، ← هلال بن بساف ← حُصَيْنٍ ← وعن جرير

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5150

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5151

5151 - وعن جرير قال : وحدثنا الركين بن الربيع بن علقمة الفزاري عن القاسم بن حسان عن عمه عبد الرحمن بن حرملة عن عبد الله قال Y إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كره عشرة خلال : التختم بالذهب وجر الإزار والصفرة - يعني : الخلوق - وتغيير الشيب - قال جرير : يعني نتفه - والرقى إلا بالمعوذتين وعقد التمائم والضرب بالكعاب والتبرج بالزينة لغير محلها وعزل الماء عن محله وافساد الصبي غير محرمه K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس باتوں کو ناپسند کرتے تھے : (1) خلوق (خوشبو کا نام ) ، (2) تہبند کو لٹکانے کو (3) سونا پہننے کو (4) پڑھاپے کو جوانی میں بدلنا۔ حضرت جریر فرماتے ہیں : کالے بالوں سے سفید بال اکھاڑنا ( 6) دم صرف معوذ تین کے ساتھ کرنا ( 7) تمائم باندھنا ( 8) عورتوں کا غیر محل میں زینت کرنا (9) زنا کرنا (10) بچہ ضائع کرنا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، ← وحدثنا الركين بن الربيع بن علقمة الفزاري ← وعن جرير

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5151

chevron_left Previous
1…727374…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter