مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2021
2021 - حدثنا إسحاق حدثنا سفيان عن محمد بن المنكد ر سمع جابرا يقول Y قتل أبي يوم أحد فجيء به وقد مثل به فوضع بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعلت أريد أن أكشف عنه وينهاني قومي مرتين فأمربه النبي صلى الله عليه و سلم فرفع قال سفيان : كأنهم ردوا إلى مصارعهم قال : سمع صوت صائحة فقال : من هذه فقالوا ابنة عمرو أو أخت عمرو قال : فلم تبكي ؟ - أو : لا تبكي - فما زالت الملائكة تظله بأجنحتها حتى رفع K إسناده صحيح
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے باپ کو اُحد میں قتل کیا گیا۔ میں ان کے پاس آیا ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے رکھا گیا۔ میں نے چاہا کہ ان کے چہرے سے پردہ اٹھاؤں۔ میری قوم نے مجھے منع کر دیا‘ دو مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھانے کا حکم دیا۔ حضرت سفیان ( راوی حدیث ) فرماتے ہیں: گویا ایک رونے والی کی سی آواز سنی‘ کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کی : عمرو کی بیٹی ہے یا عمرہ کی بہن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کیوں روتی ہے؟ یا یہ فرمایا: تو نہ رو اس کو فرشتے مسلسل اپنے پروں کے ساتھ گھیرے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اٹھا لیا جائے گا (یعنی جنازہ)۔
جَابِرًا ← محمد بن المنكد ر ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ
Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2021
