Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2021

2021 - حدثنا إسحاق حدثنا سفيان عن محمد بن المنكد ر سمع جابرا يقول Y قتل أبي يوم أحد فجيء به وقد مثل به فوضع بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعلت أريد أن أكشف عنه وينهاني قومي مرتين فأمربه النبي صلى الله عليه و سلم فرفع قال سفيان : كأنهم ردوا إلى مصارعهم قال : سمع صوت صائحة فقال : من هذه فقالوا ابنة عمرو أو أخت عمرو قال : فلم تبكي ؟ - أو : لا تبكي - فما زالت الملائكة تظله بأجنحتها حتى رفع K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے باپ کو اُحد میں قتل کیا گیا۔ میں ان کے پاس آیا ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے رکھا گیا۔ میں نے چاہا کہ ان کے چہرے سے پردہ اٹھاؤں۔ میری قوم نے مجھے منع کر دیا‘ دو مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھانے کا حکم دیا۔ حضرت سفیان ( راوی حدیث ) فرماتے ہیں: گویا ایک رونے والی کی سی آواز سنی‘ کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کی : عمرو کی بیٹی ہے یا عمرہ کی بہن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کیوں روتی ہے؟ یا یہ فرمایا: تو نہ رو اس کو فرشتے مسلسل اپنے پروں کے ساتھ گھیرے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اٹھا لیا جائے گا (یعنی جنازہ)۔

جَابِرًا ← محمد بن المنكد ر ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2021

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2022

2022 - حدثنا إسحاق حدثنا سفيان عن ابن المنكد ر سمع جابرا يقول Y ندب رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس يوم الخندق فانتدب الزبير ثم ندب الناس فانتدب الزبير فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل نبي حواري وحواري الزبير K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو خندق کے دن فرمایا۔ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے آپ کو پیش ہونے کے لیے کہا۔ پھر آپ نے لوگوں کو ابھارا پھر حضرت زبیر نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا خاص مددگار ہوتا ہے میرا خاص مددگار زبیر ہے۔

جَابِرًا ← ابن المنكد ر ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2022

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2023

2023 - حدثنا إسحاق حدثنا سفيان عن محمد ابن المنكد ر سمع جابرا يقول Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المد ينة كالكير تنفي خبثها وينصع طيبها K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ بھٹی کی طرح ہے‘ پلیدی کو دور کر دیتا ہے اور پاکی کو باقی رکھتا ہے ۔

جَابِرًا ← محمد ابن المنكد ر ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2023

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2024

2024 - حدثنا إسحاق حدثنا سفيان عن محمد ابن المنكد ر Y سمع جابرا يقول : كانت يهود تقول : من أتى امرأته في قبلها من د برها كان الولد أحول فنزلت : { نساؤكم حرث لكم فاتوا حرثكم أنى شئتم } [ البقرة : 223 ] K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی تھا وہ کہتا تھا جو آدمی اپنی بیوی کے پاس پیچھے سے آگے والے راستہ میں وطی کرے وہ بچہ بھینگا ہوتا ہے‘ یہ آیت نازل ہوئی ’’تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں تو جہاں سے چاہو اپنی کھیتی میں آؤ‘‘ (البقرہ:۲۲۳)۔

جَابِرًا ← محمد ابن المنكد ر ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2024

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2025

2025 - حدثنا إسحاق حدثنا عباد بن العوام أخبرنا حجاج عن أبي الزبير عن جابر قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا بأس بالحيوان اثنين بواحد يدا بيد ولا خير فيه نساء K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک حیوان کی دو حیوانوں کے ساتھ بیع کرنے میں حرج نہیں ہے شرط یہ کہ نقد نفذ ہو ادھار میں بھلائی نہیں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حجاج، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2025

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2026

2026 - حدثنا إسحاق و زهير قالا حدثنا وكيع عن الأوزاعي عن حسان بن عطيه عن محمد بن المنكد ر عن جابر Y أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى رجلا وسخة ثيابه فقال : أما وجد هذا ما ينقي ثيابه ؟ ورأى رجلا ثائر الشعر فقال : ما وجد هذا ما يسكن به شعره ؟ K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا اس کے کپڑے گندے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ایسی چیز نہیں پاتا جس کے ساتھ اپنے کپڑے صاف کرے؟ ایک آدمی کو دیکھا اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جس کے ساتھ اپنے بالوں کو سنوارے؟

جَابِرٍ ← محمد بن المنكد ر ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← وَكِيعٌ، ← إسحاق و زهير

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2026

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2027

2027 - حدثنا العباس بن الوليد النرسي حدثنا وهيب حد ثنا جعفر بن محمد عن أبيه عن جابربن عبد الله قال Y أقام رسول الله صلى الله عليه و سلم تسعا بالمدينة لم يحج ثم أذن في الناس بالخروج فلما جاء ذا الحليفة صلى بذي الحليفة وولد ت أسماء بنت عميس محمد بن أبي بكر فأرسلت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : اغتسلي واستثفري بثوب وأهلي قال : ففعلت فلما اطمأن صد ر راحلة رسول الله صلى الله عليه و سلم على ظهر البيداء أهل وأهللنا لا نعرفه إلا الحج وله خرجنا ورسول الله صلى الله عليه و سلم بين أظهرنا والقرآن ينزل عليه وهو يعرف تأويله وإنما يفعل ما أمر به . قال جابر : فنظرت بين يدي و من خلفي وعن يميني وعن شمالي مد بصري والناس مشاة وركبان فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يلبي : لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك فلما قدمنا مكة بدأ فاستلم الركن فسعى ثلاثة أطواف ومشى أربعة فلما فرغ من طوافه انطلق إلى المقام : قال الله : { واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى } [ البقرة : 125 ] . فصلى خلف مقام إبراهيم ركعتين قال جعفر : قال أبي : كان يقرأ فيهما بالتوحيد : { قل يا أيها الكافرون } و { قل هو الله أحد } - قال : ولم يذ كر ذ لك عن جابر - ثم انطلق إلى الركن فاستلمه ثم انطلق إلى الصفا فقال : نبدأ بما بدأ الله به : { إن الصفا والمروة من شعائر الله } [ البقرة : 185 ] فرقي على الصفا حتى بدا له البيت فكبر ثلا ثا وقال : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت بيده الخير وهو على كل شيىء قد ير ثلا ثا ثم دعا في ذلك ثم هبط من الصفا فمشى حتى إذا انصبت قد ماه في بطن المسيل سعى حتى إذا صعد ت قدماه من بطن المسيل مشى إلى المروة فرقي على المروة حتى بدا له البيت فقال مثل ما قال على الصفا فطاف سبعا و قال : من لم يكن معه هدي فليحل ومن كان معه هدي فليقم على إحرامه فإني لولا أن معي هديا لحللت ولو أني استقبلت من أمري ما استدبرت لأهللت بعمرة . قال : وقد م علي من اليمن فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : بأي شيء أهللت يا علي ؟ قال : قلت : اللهم إني أهل بما أهل به رسولك قال : فإن معي هد يا فلا تحل . قال علي : فد خلت على فاطمة وقد اكتحلت ولبست ثيابا صبيغا فقلت : من أمرك بهذا ؟ فقالت : أبي أمرني قال : وكان علي يقول بالعراق : فانطلقت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم محرشا على فاطمة مستثبتا في الذي قالت فقال : صد قت أنا أمرتها قال : و نحر رسول الله صلى الله عليه و سلم مئة بد نة - من ذ لك بيده ثلاثا وستين - ونحر علي ما غبر ثم أخذ من كل بد نة قطعة فطبخ جميعا فأكلا من اللحم وشربا من المرقة . فقال سراقة بن مالك بن جعشم : يا رسول الله ألعامنا هذا أم للأبد ؟ قال : لا بل للأبد دخلت العمرة في الحج وشبك بين أصابعه K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ شریف نو سال ٹھہرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج نہیں کیا۔ پھر صحابہ کرام میں حج کرنے کا اعلان کیا ۔ جب ذوالحلیفہ کے مقام پر حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ تو غسل کر اور اپنی شرمگاہ پر کپڑا رکھ لو اور احرام باندھ لو۔ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سیدھے بیٹھ گئے تو آپ نے احرام باندھا۔ ہم نے بھی احرام باندھا۔ ہم نے جانا کہ ہم صرف حج کے لیے آئے ہیں اور اس کے لیے نکلے ہیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے درمیان ہی تھے کہ قرآن نازل ہو رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تاویل کو جانتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہی کر رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کو حکم دیا گیا تو حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آگے پیچھے، دائیں و بائیں جانب دیکھا دور تک میری نگاہ جہاں تک جا رہی تھی صحابہ کرام پیدل اور سوار تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ پڑھ رہے تھے ۔ ’’لبيك اللهم لبيك الیٰ آخرہ ‘‘ جب ہم مکہ آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کو بوسہ کیا اور تین مرتبہ طواف میں سعی کی (یعنی دوڑے ) اور چار مرتبہ چلے۔ جب طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کی طرف چلے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ’’واتخذوا من مقام ابراهيم مصلّٰی ‘‘ (البقرہ: 256) مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نفل ادا کیے۔ حضرت جعفر فرماتے ہیں: میرے باپ فرماتے تھے کہ آپ نے ان دو رکعتوں میں توحید والی آیات پڑھی تھیں ۔’’قل یا ایھا الکفرون اور قل هو الله احد‘‘ یہ بات حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذکر نہیں کہ آپ نے توحید والی سورتیں پڑھی ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے‘ اس کو بوسہ دیا پھر صفا کی طرف چلے اور فرمایا: ہم اس کی ابتداء ایسے ہی کریں گے جیسے اللہ عزوجل نے فرمایا: ’’إنّ القفا الیٰ آخرہ‘‘ (البقرہ:185 ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پر چڑھے۔ یہاں تک کہ بیت اللہ نظر آنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ اللہ اکبر کہا اور کہا: ’’لا اله الا الله وحده لاشريك له له الملك وله الحمد يحي و يميت بيده الخير وهو علىٰ كل شیء قدیر ‘‘ تین دفعہ کہا۔ پھر اس میں دعا کی پھر صفا سے اترے‘ پھر پیدل چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں پاؤں مبارک وادئ مسیل میں پہنچ گئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعی جاری رکھی یہاں تک کہ آپ نے وادئ مسیل سے اپنے قدموں کو بلند فرمایا‘ چلتے چلتے آپ مروہ پر آئے اور مروہ پر چڑھ گئے یہاں تک کہ بیت اللہ شریف سامنے نظر آنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح سات چکر لگائے اور فرمایا: جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں وہ احرام کھول لے اور جس کے پاس ہدی ہے وہ احرام باندھے رکھے کیونکہ اگر میرے پاس بھی ہدی نہ ہوتی تو یقینا میں بھی اپنا احرام کھول دیتا اور اگرچہ مجھے پیچھے کتنا ہی ضروری کام کیوں نہ پڑ جائے میں پیچھے نہیں جاؤں گا‘ میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے۔ راوی کا بیان ہے: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے آئے‘ سو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے علی! تم نے کس چیز سے تہلیل کی ہے؟ وہ بولے: میں نے دعا کی ہے کہ اے اللہ! میں اسی چیز سے تہلیل کروں گا جس کے ساتھ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تہلیل کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس ہدی ہے‘ تم احرام نہ کھولنا ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے : میں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اس حال میں کہ انہوں نے سرمہ ڈالا ہوا تھا اور رنگدار کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے‘ سو میں نے ان سے کہا: آپ کو اس چیز کا حکم کس نے دیا؟ انہوں نے جواب دیا: میرے والد گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا۔ راوی کا بیان ہے: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب عراق ( کوفہ ) میں تھے تو کہا کرتے تھے: میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اس حال میں کہ فاطمہ پر ناراض تھا اور جو انہوں نے کہا اس کی تصدیق کروانا چاہتا تھا۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :فاطمہ نے سچ کہا‘ میں نے اسے حکم فرمایا تھا۔ راوی کا بیان ہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیے جو رہ گئے تھے (ایک سو میں سے ) وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نحر کیے پھر ہر قربانی سے ایک گوشت کا ٹکڑا لیا‘ پھر سب کو پکایا اور گوشت کھایا‘ شوربا پیا۔ سو سراقہ بن مالک بن جعشم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا یہ ( عمرے کو حج میں شامل کرنا) ہمارے اس سال کے لیے ہے‘ یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! بلکہ ہمیشہ کے لیے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے‘ اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسری میں داخل کر کے اشارہ دیا ( کہ ایسے)۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← وهيب حد ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2027

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2028

2028 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يحيى بن سعيد القطان حد ثنا جعفر بن محمد حدثنا أبي قال Y أتينا جابر بن عبد الله فذ كر نحوه K إسناده صحيح

حضرت جعفر بن محمد فرماتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے‘ باقی حدیث اوپر والی ذکر کی ۔

أتينا جابر بن عبد الله فذ كر نحوه إسناده صحيح ← أَبِي ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← يحيى بن سعيد القطان حد ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2028

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2029

2029 - حدثنا إسحاق بن أبي اسرائيل حدثنا نضر حدثنا شعبة عن سعد قال : سمعت محمد بن عمرو قال : قدم الحجاج فكان يؤخر الصلاة فسألنا جابر بن عبد الله عن ذ لك فقال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي الظهر با لهاجرة حين تزول الشمس والعصر والشمس نقية والمغرب حين تغرب الشمس والعشاء أحيانا يؤخر وأحيانا يعجل فكان إذا رأى الناس قد اجتمعوا عجل وإذا رآهم قد تأخروا أخر وكانوا - أو كان يصلي الصبح بغلس K إسناده صحيح

حضرت محمد بن عمر وفرماتے ہیں کہ حجاج بن یوسف آیا وہ نماز کو وقت پر نہیں پڑھتا تھا‘ ہم نے اس کے متعلق حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھتے تھے جس وقت سورج ڈھل جاتا اور عصر اس وقت پڑھتے جب سورج چمک رہا ہوتا تھا اور مغرب جس وقت سورج غروب ہو جاتا اور عشاء کسی وقت جلدی اور کبھی دیر سے پڑھتے جب آپ صحابہ کو دیر سے آتا دیکھتے تو دیر سے پڑھتے اور صبح کی نماز اندھیرے اور روشنی میں پڑھتے تھے۔

ذ لك ← قدم الحجاج فكان يؤخر الصلاة فسألنا جابر بن عبد الله ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← سَعْدٍ، ← شُعْبَةُ، ← نَضْرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2029

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2030

2030 - حدثنا إسحاق حد ثنا يحيى بن سليم عن ابن خيثم عن أبي الزبير عن جابربن عبد الله قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من لم يذر المخابرة فليأذن بحرب من الله ورسوله K رجاله رجال الصحيح خلا إسحاق

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو سود نہ چھوڑے وہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کا اعلان کرے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللہِ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابن خيثم ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← إسحاق حد

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2030

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2031

2031 - حدثنا إسحاق قال : سمعت معتمرا يقول : حد ث أبي عن خداش عن أبي الزبير عن جابربن عبد الله Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا استلقى أحد كم فلا يضع إحدى رجليه على الأخرى

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی بیٹھے تو ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر نہ رکھے۔

جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللہِ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← خداش ← حد ث أبي ← معتمرا ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2031

مسند أبي يعلى · تابع مسند جابر ‹ تابع مسند جابر · حديث 2032

2032 - حدثنا زكريا حدثنا هشيم عن الشعبي عن جابر Y عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه استحلف ابني صوريا حيث سألهما عن الرجم فاستحلفهما كيف تجدانه في كتاب الله : في كتابكم ؟ قال : فاستحلفهما بالله الذي لا إله إلا هو الذي أنزل التوراة على موسى كيف تجدون حد الزاني في كتابكم ؟ K إسناده صحيح

حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صوریا کے دونوں بیٹوں نے قسم اٹھائی جس وقت ان دونوں سے رجم کے متعلق پوچھا گیا‘ ان دونوں سے قسم لی کہ تم اپنی کتابوں میں رجم کی کیا سزا پاتے ہو؟ تم دونوں اللہ کی قسم اُٹھاؤ ! جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے‘ جس نے تورات نازل فرمائی جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی ہے تم اپنی کتابوں میں زنا کی کیا حد پاتے ہو؟

الرجم فاستحلفهما كيف تجدانه في كتاب الله في كتابكم ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه استحلف ابني صوريا حيث سألهما ← جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← هُشَيْمٌ ← زَکَرِیَّا،

Musnad Abu Yaalaa · Follow Musnad Jaber › Chapter · Hadith 2032

chevron_left Previous
1…567…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter