Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5032

5032 - حدثنا شيببان حدثنا أبو عوانة عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن أبي وائل قال Y كنا جلوسا ننتظر ابن مسعود أن يخرج إلينا إذ أتانا يزيد بن معاوية فقلنا : اجلس فقال : حتى أدخل على صاحبكم فإن خرج وإلا رجعت إليكم قال : فدخل عليه فخرجا جميعا فقال ابن مسعود : إني لأخبر بمجلسكم - أو بمكانكم - فما يمنعني أن أخرج إليكم إلا كراهة أن أملكم إن النبي صلى الله عليه و سلم كان يتخولنا بالموعظة في الأيام مخالفة السآمة علينا K إسناده صحيح

حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہم ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے کہ ہماری طرف نکلیں اچانک ہمارے پاس یزید بن معاویہ آیا۔ ہم نے اس کو کہا : بیٹھ جا۔ اس نے کہا : میں تمہارے صاحب کے پاس داخل ہوتا ہوں، پس اگر نکلے ورنہ میں تمہاری طرف لوٹ کر جاؤں گا۔ وہ آپ کے پاس آیا دونوں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور یزید اکٹھے نکلے ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تمہارے پاس آنے کی کوئی رکاوٹ نہیں تھی مگر میں ناپسند کرتا ہوں تمہاری اکتاہٹ کو کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو مخصوص ایام میں وعظ کرتے تھے اکتاہٹ کے خوف کی وجہ سے۔

كنا جلوسا ننتظر ابن مسعود ← أَبِي وَائِلٍ ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شيببان

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5032

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5033

5033 - حدثنا شيبان حدثنا عكرمة يعنى الأزدي حدثنا عاصم عن شقيق Y عن ابن مسعود قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : المهاجرون والأنصار والطلقاء من قريش والعتقاء من ثقيف بعضم أولياء بعض في الدنيا والآخرة K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین و انصار و طلقاء قبیلہ قریش سے ہیں ۔ عتقاء قبیلہ ثقیف سے ہیں ان میں سے بعض ، بعض کے دوست ہیں دنیا و آخرت میں۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← شَقِيقٍ، ← عَاصِمٍ، ← عكرمة يعنى الأزدي ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5033

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5034

5034 - حدثنا أبو بكر حدثنا ابن أبي غنية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة Y عن عبد الله أنه سئل أكان النبي صلى الله عليه و سلم يخطب قائما ؟ قال : فقال : نعم ثم قرأ { وتركوك قائما } [ الجمعة : 11 ] K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں ! پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پڑھا : " وترکو ک قیمًا"۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← ابن أبي غنية ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5034

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5035

5035 - حدثنا الحسن بن حماد الكوفي حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن العلاء بن ا لمسيب عن عبد الله عن عمرو بن مرة عن سالم الأفطس عن أبي عبيدة Y عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الرجل من بني إسرائيل كان إذا رأى أخاه على ذنب نهاه تعذيرا فإذا كان من الغد لم يمنعه ما رأى منه أن يكون أكيله وخليطه وشريبه . فلما رأى الله ذلك منهم ! ضرب بقلوب بعضهم على بعض ولعنهم على لسان نبيهم داود و عيسى بن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون . ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والذي نفسي بيده لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر ولتأخذن على يدي المسئ ولتأطرنه على الحق أطرا أو ليضربن الله بقلوب بعضكم على بعض وليلعننكم كما لعنهم K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی نے بھائی کو علانیہ گاہ کرتے ہوئے دیکھا اس کو سختی سے منع کیا ۔ جب دوسرا دن آیا ، اس نے دوبارہ منع نہ کیا کیونکہ وہ بھی اس کے ساتھ کھاتا اور پیتا تھا۔ جب اللہ عزوجل نے ان میں یہ معاملہ دیکھا تو ان کے دلوں کو آپس میں ملا دیا ۔ ان پر حضرت داؤد و عیسیٰ کی زبان مبارک سے لعنت کی گئی نا فرمانی کی وجہ اور حد سے آگے بڑھنے کی وجہ سے تھا ۔ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! تم ضرور نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، گناہ کرنے والے کے ہاتھ کو ضرور پکڑو اور اس کو حق پر مجبور کر دو، ورنہ اللہ عزوجل تمہارے دلوں کو بھی ملا دے گا۔ اور تم پر ضرور بضرور لعنت کی جائے گی جس طرح ان پر لعنت کی گئی تھی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← سَالِمٌ الْأَفْطَسُ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← العلاء بن ا لمسيب ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← الحسن بن حماد الكوفي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5035

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5036

5036 - حدثنا هدبة بن خالد و شيبان بن فروخ قالا : حدثنا حماد بن سلمة عن أبي حمزة عن إبراهيم عن علقمة Y عن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أتيت بالبراق فركبته خلف جبرائيل فسار بنا فكان إذا أتى على جبل ارتفعت رجلاه وإذا هبط ارتفعت يده فسار بنا في أرض غمة منتنة وأفضينا إلى أرض فيحاء طيبة فقلت : يا جبرائيل إنا كنا نسير في أرض غمة منتنة وإنا أفضينا إلى أرض فيحاء طيبة ؟ فقال : تلك أرض النار وهذه أرض الجنة . فأتينا على رجل وهو قائم يصلي قال : فقلت : من هذا معك يا جبريل ؟ قال : هذا أخوك محمد فرحب بي ودعا لي بالبركة قال : سل لأمتك اليسر . قال : قلت : من هذا يا جبريل ؟ قال : هذا أخوك موسى قال : ثم سرنا فرأينا مصابيح وضوءا فقلت : ما هذا يا جبريل ؟ فقال : هذه شجرة أبيك إبراهيم أتدنوا منها ؟ قال : فقلت : نعم فدنونا منها فرحب ودعا لي بالبركة [ ثم مضينا ] حتى أتينا بيت المقدس ونشر لي الانبياء : من سمى الله ومن لم يسم وصليت بهم إلا هؤلاء النفر الثلاثة : موسى وعيسى وإبراهيم K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق لایا گیا حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پیچھے بیٹھ گئے ۔ ہم کو وہ لے کر چلا ، جب ایک پہاڑ آیا اس کے پاؤں بلند ہوئے جب نیچے اترتا اس کے ہاتھ بلند ہوتے وہ ہم کو ایسی جگہ لایا جو بدبو دار تھی پھر ہم کو ایسی جگہ لایا جس سے خوشبو مہک رہی تھی۔ میں نے کہا : اے جبرائیل ! ہم کو سیر کروائی بد بو دار جگہ پر ہم کو لے گیا ،خوشبو دار وسیع جگہ پر ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے : وہ بد بو دار جگہ جہنم تھی اور خوشبو دار جگہ جنت تھی۔ ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، اس نے عرض کی : اے جبرائیل ! یہ آپ علیہ السلام کے ساتھ کون ہیں؟ عرض کی : یہ آپ علیہ السلام کے بھائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں انہوں نے خوش آمدید کہا اور میرے لیے برکت کی دعا کی اور عرض کی اپنی امت کے لیے آسانی مانگنا ۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا : کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا ۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائی عیسیٰ علیہ السلام ہیں ۔ پھر براق چلا اور ہم کو ایک آدمی کے پاس لایا، انہوں نے کہا: اے جبرائیل ! یہ آپ علیہ السلام کے ساتھ کون ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ آپ علیہ السلام کے بھائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ انہوں نے خوش آمدید کہا اور میرے لیے برکت کی دعا کی اور عرض کی : اپنی امت کے لیے آسانی مانگنا۔ میں نے عرض کی : اے جبرائیل علیہ السلام یہ کون ہیں ۔ حضرت نے کہا یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں ۔ پھر براق ہم کو لے کر چلا اور ہم نے کئی چراغ اور روشنی دیکھی ، میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے کہا : جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ عرض کی : یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باپ ابراہیم علیہ السلام کا درخت ہے ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : اس کے قریب ہونا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! میں اس کے قریب ہوا انہوں نے خوش آمدید کہا اور برکت کی دعا کی پھر ہم چلے ۔ ہم بیت المقدس پہنچے پھر میرے لیے انبیاء کو سامنے لایا گیا، جس کے اللہ نے نام بیان کیے یا جن کے نام نہیں لیے اور میں نے سوائے ان تین کے گروہ کے سب کو نماز پڑھائی ، وہ تین موسیٰ ، عیسیٰ اور ابراہیم ہیں ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هدبة بن خالد و شيبان بن فروخ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5036

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5037

5037 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا حماد بن زيد حدثنا عاصم بن بهدلة عن أبي وائل Y عن عبد الله قال : توفي رجل من أصحاب الصفة فوجدوا في شملته دينارين فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : كيتان K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب صفہ میں سے ایک آدمی مر گیا، اس کی چادر میں دو دینار تھے، اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو سانپ ہیں۔

كيتان إسناده حسن ← ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم ← توفي رجل من أصحاب الصفة فوجدوا في شملته دينارين ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5037

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5038

5038 - حدثنا نعيم بن هيصم حدثنا خالد يعني الواسطي عن يحيى الجابر عن أبي ماجدة Y عن ابن مسعود قال : سألنا نبينا صلى الله عليه و سلم عن السير بالجنازة فقال : ما دون الخبب فإن يك خيرا يعجل به وإن يك سوى ذلك فبعدا لأهل النار الجنازة متبوعة وليست بمتبعة ليس منها من تقدمها K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز جنازہ کو لے کر چلنے کی چال کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھٹکے نہ لگیں ( تو جائز ہے ) اگر وہ نیک ہو تو وہ کہتا ہے جلدی لے چلو۔ اگر برا ہے تو اہل النار کو جلدی اپنے سے دور کرو۔ جنازہ متبوع ہوتا ہے تابع نہیں ہوتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے جو آگے بڑھے اپنی جنازہ کے آگے چلے ۔

السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ ← سألنا نبينا صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي مَاجِدَةَ، ← يحيى الجابر ← خَالِدٍ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ← نعيم بن هيصم

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5038

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5039

5039 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا محمد بن جابر عن حماد عن إبراهيم عن علقمة Y عن عبد الله قال : مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبي بكر و عمر فلم يرفعوا أيديهم إلا عند افتتاح الصلاة وقد قال محمد : فلم يرفعوا أيديهم بعد التكبيرة الأولى K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر و عمر کے ساتھ نماز پڑھی وہ صرف شروع میں ہی ہاتھ اٹھاتے تھے ۔ محمد فرماتے ہیں صرف وہ اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے مگر صرف تکبیر اولیٰ پر۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5039

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5040

5040 - حدثنا زهير حدثنا وكيع حدثنا سفيان عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة قال : Y قال ابن مسعود : ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : فصلى بهم فلم يرفع يده إلا مرة K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی صرف ایک ہی مرتبہ تکبیر اولیٰ کے ہاتھ اٹھائے ۔

عَلْقَمَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5040

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5041

5041 - حدثنا سريج بن يونس حدثنا هشيم عن الحجاج بن أبي زينب عن أبي عثمان Y عن عبد الله قال : كنت أصلي وقد وضعت يدي اليسى على اليمنى فجاءني النبي صلى الله عليه و سلم فأخذ بيدي اليمنى فوضعها على اليسرى آ K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ میں نے اپنا بائیاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس کو بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُثْمَانَ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5041

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5042

5042 - حدثنا بشر بن الوليد حدثنا شريك عن الركين بن الربيع عن أبيه Y عن عبد الله يرفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : الربا وإن كثر فإن عاقبته تصير إلى قل K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوداگر چہ زیادہ ہو اس کا انجام کمی کی طرف ہی آتا ہے ۔

الربا وإن كثر فإن عاقبته تصير إلى قل إسناده ضعيف ← عبد الله يرفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← شَرِيکٍ ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5042

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5043

5043 - حدثنا بشر حدثنا شريك عن أبي حمزة عن إبراهيم عن علقمة Y عن ابن مسعود قال : إنما قنت النبي صلى الله عليه و سلم شهرا يدعوا فيه على حي من أحياء بني سليم كانوا عصية عصوا الله ورسوله ثم لم يقنت بعد ذلك K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ تک دعائے قنوت دعا کے طور پر بنی سلیم کے قبیلوں میں سے کسی قبیلہ کے خلاف پڑھی ، وہ قبیلہ عصیہ تھا، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی کی تھی، آپ نے اس کے بعد قنوت نہیں پڑھی۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← شَرِيکٍ ← بِشْرٌ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5043

chevron_left Previous
1…636465…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter