Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1948

1948 - حدثنا أبو عبد الله أحمد بن إبراهيم النكري حدثنا مبشر عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير قال Y سألت أبا سلمة بن عبد الرحمن : أي القرآن أنزل قبل ؟ فقال : { يا أيها المدثر } [ المدثر : 1 ] فقلت : أو { اقرأ باسم ربك الذي خلق } ؟ [ العلق : 1 ] . قال : سألت جابر بن عبد الله : أي القرآن أنزل قبل ؟ فقال : { يا أيها المدثر } فقلت : أو { اقرأ باسم ربك الذي خلق } ؟ قال جابر : لا أخبرك إلا ما حدثنا رسول الله قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : جاورت بحراء شهرا فلما قضيت جواري نزلت فاستنبطت بطن الوادي قال : فنوديت فنظرت أمامي وخلفي وعن يميني وعن شمالي فلم أر أحدا ثم نوديت فنظرت أمامي وخلفي وعن يميني وعن شمالي فلم أر أحدا ثم نظرت إلى السماء فإذا هو على العرش في الهواء ـ قال مبشر : يعني جبريل ـ فجئت فأتيت خديجة فأمرتهم فدثروني فأنزل الله : { يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربك فكبر * وثيابك فطهر } [ المدثر : 1 - 4 ] K إسناده صحيح

حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو مسلمہ بن عبدالرحمٰن سے پوچھا کہ قرآن کی کون سی سورۃ سب سے پہلے نازل ہوئی؟ آپ نے فرمایا: یا ایھا المدثر (المدثر:1) میں نے کہا: کیا ’’اقراء باسم ربك الذی خلق‘‘ (العلق:۱) نہیں؟ فرماتے ہیں : میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: قرآن کی کونسی سورۃ پہلے نازل ہوئی ؟ انہوں نے کہا: یا ایها المدثر ۔ میں نے کہا: کیا’’اقراء باسم ربك الذی خلق ‘‘نہیں؟ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا میں آپ کو نہ بتاؤں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو بتایا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ماہ تک غار ِحرا میں رہا۔ جب میں نے ایک مہینہ تک مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے آواز دی گئی میں نے اپنے آگے اور پیچھے ، دائیں وبائیں دیکھا۔ میں نے کسی کو نہیں دیکھا پھر مجھے آواز دی گئی۔ میں نے اپنے آگے و پیچھے ، دائیں و بائیں جانب دیکھا۔ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو وہ تخت ہوا میں تھا جس پر خوشخبری دینے والے جبرائیل علیہ السلام تھے ، مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ۔ میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آ کر ان کو حکم دیا کہ مجھے چادر اوڑھا دیں۔ پس اللہ عزوجل نے اتارا: ’’يا ايها المدثر الیٰ آخرہ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← جابر لا أخبرك إلا ما ← يا أيها المدثر فقلت أو اقرأ باسم ربك الذي خلق ← سألت جابر بن عبد الله أي القرآن أنزل قبل ← يا أيها المدثر المدثر فقلت أو اقرأ باسم ربك الذي خلق العلق ← سألت أبا سلمة بن عبد الرحمن أي القرآن أنزل قبل ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مبشر ← أبو عبد الله أحمد بن إبراهيم النكري

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1948

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1949

1949 - حدثنا هدبة بن خالد حدثنا أبان بن يزيد حدثنا يحيى بن أبي كثير قال Y سألت أبا سلمة : أي القرأن أنزل أول ؟ قال : { يا أيها المدثر } [ المدثر : 1 ] قال : فقلت إني أنبئت أن أول سورة نزلت من القرآن { اقرأ باسم ربك الذي خلق } [ العلق : 1 ] قال أبو سلمة : سألت جابر بن عبد الله : أي القرآن أنزل [ أول ؟ قال : { يا أيها المدثر } ] فقلت له : إني أنبئت أن أول سورة نزلت من القرآن : { اقرأ باسم ربك الذي خلق } . قال جابر : لا أحدثك إلا ما حدثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : جاورت في حراء فلما قضيت جواري فاستنبطت الوادي فنوديت فنظرت أمامي وخلفي وعن يميني وعن شمالي فلم أر شيئا فنوديت فنظرت فوقي فإذا أنا به قاعد على عرش بين السماء والأرض قال : فجثثت منه فانطلقت إلى خديجة فقلت : دثروني فدثروني وصبوا علي ماء باردا فأنزلت علي { يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربك فكبر } [ المدثر : 1 - 3 ] K إسناده صحيح

حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو مسلمہ بن عبدالرحمٰن سے پوچھا کہ قرآن کی کون سی سورۃ سب سے پہلے نازل ہوئی؟ آپ نے فرمایا: یا ایھا المدثر (المدثر :1) میں نے کہا: کیا ’’اقراء باسم ربك الذی خلق ‘‘ (العلق:۱) نہیں؟ فرماتے ہیں : میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: قرآن کی کونسی سورۃ پہلے نازل ہوئی ؟ انہوں نے کہا: یا ایها المدثر ۔ میں نے کہا: کیا ’’اقراء باسم ربك الذی خلق ‘‘ نہیں؟ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا میں آپ کو نہ بتاؤں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو بتایا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ماہ تک غار ِحرا میں رہا۔ جب میں ایک مہینہ تک مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے آواز دی گئی میں نے اپنے آگے اور پیچھے ، دائیں و بائیں دیکھا۔ میں نے کسی کو نہیں دیکھا پھر مجھے آواز دی گئی۔ میں نے اپنے آگے و پیچھے ، دائیں بائیں جانب دیکھا۔ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف دیکھا وہ ہوا میں تخت بریں کی خوشخبری دینے والے جبرائیل علیہ السلام تھے ، مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی ۔ میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آ کر ان کو حکم دیا کہ مجھے چارد اوڑھا دیں اور مجھ پر ٹھنڈا پانی بہائیں ۔ پس اللہ عزوجل نے اتارا: يا ايها المدثر الیٰ آخرہ“۔

فقلت إني أنبئت ← سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ: أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ؟، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1949

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1950

1950 - حدثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي حدثنا مبشر عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير حدثني ابن مقسم قال : حدثني جابر بن عبد الله قال Y كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فمرت بنا جنازة فقام لها رسول الله صلى الله عليه سولم فلما ذهبنا لنحمل إذا هي جنازة يهودية فقلنا : يا رسول الله إنها جنازة يهودية قال : إن الموت فزع فإذا رأيتم جنازة فقوموا K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ہمارے پاس سے جنازہ گزرا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو گئے ۔ جب ہم گئے تاکہ ہم اس کو اٹھائیں ۔ وہ یہودی عورت کا جنازہ تھا۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موت گھبراہٹ ہے، جب تم جنازہ دیکھوتو کھڑے ہو جاؤ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنِ مِقْسَمٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مبشر ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1950

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1951

1951 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا الرازق أخبرنا معمر عن الزهري عن ابن أبي صعير عن جابر بن عبد الله قال Y لما كان يوم أحد أشرف النبي صلى الله عليه و سلم على الشهداء الذين استشهدوا يومئذ فقال : زملوهم بدمائهم فإني قد شهدت على هؤلاء فكان يدفن الرجلان والثلاثة في القبر الواحد ويسأل : أيهم كان أقرأ للقرآن ؟ فيقدمه قال جابر : فدفن أبي و عمي يومئذ في قبر واحد K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب احد کا دن تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان شہداء پر کھڑے ہوئے جو اس دن شہید ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کو خون کے ساتھ ہی لپیٹ دو۔ میں ان تمام پر گواہ ہوں ۔ پس دو اور تین آدمی کو ایک قبر میں دفن کر تے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوچھتے تھے ان میں قرآن کا قاری کون ہے اس کو مقدم کرتے ۔ میرے باپ اور چچا تو اس دن ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← الرازق ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1951

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1952

1952 - حدثنا زكريا بن يحيى الواسطي حدثنا هشيم عن أبي الزبير عن جابر Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار K رجاله رجال الصحيح خلا شيخ أبي يعلى وهو ثقة

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1952

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1953

1953 - حدثنا محمد بن الصباح حدثنا إسماعيل بن زكريا عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس بين العبد وبين تركه الإيمان إلا تركه الصلاة K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر اور مسلمان کے درمیان فرق نماز کو چھوڑنا ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1953

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1954

1954 - حدثنا زكريا بن يحيى حدثنا هشيم عن أبي الزبير عن جابر قال Y كنا مع أبي عبيدة بن الجراح في سرية ـ أو جيش ـ فنفذ زادنا فبصرنا بحوت قذفه البحر فأردنا أن نأكل منه فنهانها أبو عبيدة ثم قال : نحن رسل رسول الله وفي سبيل الله كلوا فأكلنا منه فلما رجعنا ذكرنا لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن كان معكم منه شيء فابعثوا به إلينا K رجاله رجال الصحيح ما عدا شيخ أبي يعلى وهو ثقة

حضرت جابر ان سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک سری میں تھے یا ایک لشکر میں تھے‘ پس ہمارا زاد راہ ختم ہو گیا‘ پس ہم نے ایک مچھلی کو دیکھا جو سمندر نے ہھینکی تھی‘ پس ہم نے ارادہ کیا کہ ہم اس میں سے کھائیں‘ پس ہم کو ابو عبیدہ نے روک دیا‘ پھر فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کے راستہ میں ہیں‘ کھاؤ! پس ہم نے اس میں سے کھایا‘ پس جب ہم واپس لوٹے تو ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے تو ہماری طرف بھیج دو۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1954

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1955

1955 - حدثنا عمرو الناقد حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن جابر بن عبد الله يقول Y بعثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في ثلاث مئة راكب وأميرنا أبو عبيدة بن الجراح نرصد عيرا لقريش فأقمنا بالساحل نصف شهر فأصابنا جوع شديد حتى أكلنا الخبط قال فسمي ذلك الجيش جيش الخبط ثم ألقى البحر لنا دابة يقال لها : العنبر فأكلنا منه نصف شهر حتى ثابت أجسامنا وادهنا بودكه فأخذ أبو عبيدة ضلعا من أضلاعه فنظر إلى أطول جمل في الجيش فحمله عليه فمر تحته K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین سو تیرہ آدمیوں کو بھیجا اور ہمارے اوپر امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنایا‘ ہم قریش کے ایک قافلہ میں ٹھہرے‘ ہم آ دھا ماہ ساحل پر رہے‘ ہمیں سخت بھوک لگی یہاں تک کہ ہم نے درخت سے جھاڑے ہوئے پتے کھائے ۔ راوی کا بیان ہے کہ اس لشکر کا نام ہی دجیش خبط پڑ گیا‘ پھر سمندر نے ہمارے لیے جانور پھینکا‘ اُسے عنبر کہا جاتا تھا، ہم اس کو آ دھے ماہ تک کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے‘ ہم نے اس کی چربی اکٹھی کر لی ۔حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی پہلی پکڑی‘ اس کی لمبائی دیکھی تو اس کے نیچے سے لشکر گزر جاتا تھا۔ حضرت ابوعثمان فرماتے ہیں کہ ہمیں سفیان بن عیینہ نے بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ابو زبیر‘ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تھال دیا اس میں کھجوریں تھیں‘ جب ہمارے پاس سے ختم ہو گئیں تو ایک آدمی کوئی شی لاتا‘ ہم اس کی دونوں آنکھوں سے چربی نکالتے‘ جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ سے ہم سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اس سے کوئی شی ہے؟

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَمْرٌو النَّاقِدُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1955

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1956

1956 - قال أبو عثمان قال لنا سفيان بن عيينة : قال أبو الزبير عن جابر Y أعطانا رسول الله صلى الله عليه و سلم جرابا فيه تمر فلما نفد وجدنا فقده فجعل الرجل يجيء بالشيء قال : وأخرجنا من عينيه كذا وكذا جرة من ودك قال : فلما قدمنا على النبي صلى الله عليه و سلم سألنا : هل معكم منه شيء K إسناده صحيح

أَبُو الزُّبَيْرِ ← لنا سفيان بن عيينة ← أَبُو عُثْمَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1956

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1957

1957 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا سفيان عن عمرو عن جابر قال Y كسع رجل من المهاجرين رجلا من الأنصار فقال الأنصاري : يا للأنصار ! وقال المهاجري : يا للمهاجرين ! فلما سمع النبي صلى الله عليه و سلم ذاك قال : ما بال دعوى الجاهلية ؟ قالوا يا رسول الله رجل من المهاجرين كسع رجلآ من الأنصار فقال : دعوها فإنها منتنة فقال عبد الله بن أبي بن سلول : أقد فعلوها ! ؟ لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الأعز منها الأذل فقال عمر : دعني يا رسول الله أضرب عنق هذا المنافق فقال : دعه إنه لا يتحدث الناس أن محمدا يقتل أصحابه K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے آدمی کو دُبر پر مارا‘ انصاری نے کہا: اے انصار! مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا تو آپ نے فرمایا: کیا زمانہ جاہلیت کے دعویٰ ہیں! صحابہ کرام نے عرض کی : یارسول اللہ! مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کو دُبر پر مارا ہے۔عبداللہ بن ابی بن سلول نے کہا: کیا اس نے کیا ہے؟ اگر ہم مدینہ کی طرف گئے تو ضرور عزت والے ذلیل کو نکال دیں گے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ ! کیا میں اس منافق کی گردن نہ اُڑا دوں؟ آپ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو! کیونکہ لوگ بیان کریں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔

«مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟ ← النبي صلى الله عليه و سلم ذاك ← المهاجري يا للمهاجرين فلما ← الْأَنْصَارِيُّ: يَا لِلْأَنْصَارِ، ← كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ← جَابِرٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1957

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1958

1958 - حدثنا عمرو الناقد حدثنا سفيان عن عمرو عن جابر قال Y أتى النبي صلى الله عليه و سلم عبد الله بن أبي بعدما أدخل حفرته فأمر به فأخرج فوضع على ركبتيه ونفث عليه من ريقه وألبسه قميصه والله أعلم K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لائے ۔ اس کو قبر میں داخل کر نے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اس کو نکلنے کا ، وہ نکلا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کفن پر اپنا لعاب لگایا اور اس کو قمیض پہنائی‘ اللہ زیادہ جانتا ہے۔

جَابِرٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَمْرٌو النَّاقِدُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1958

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1959

1959 - حدثنا خلف بن هشام حدثنا حماد بن زيد عن عمرو عن جابر بن عبد الله قال Y كسع رجل من المهاجرين رجلا من الأنصار قال : فجاء قوم ذا وقوم ذا فقال هؤلاء : يا للمهاجرين ! وقال هؤلاء : يا للأنصار ! فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال : دعوها فإنها منتنة ثم قال : : ألا ما بال دعوى الجاهلية ؟ ! ألا ما بال دعوى الجاهلية ؟ ! K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک مہاجر نے ایک انصاری کو دھکا دیا (تو جنگ و جدل کی آگ بھڑک اٹھی ) دونوں قومیں آمنے سامنے آ گئیں‘ انصار نے مہاجرین کو للکارا اور مہاجرین نے انصار کو‘ پس یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اب اسے چھوڑ بھی دو کیونکہ یہ انتہائی قبیح چیز ہے‘ پھر فرمایا :خبردار! یہ جاہلیت کی آواز کہاں سے آئی؟ خبردار! یہ زمانہ جاہلیت کے دعوے کدھر آئے؟

دعوها فإنها منتنة ثم ← هؤلاء يا للأنصار فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم ← هؤلاء يا للمهاجرين ← فجاء قوم ذا وقوم ذا ← كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1959

chevron_left Previous
1…629630631632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter