Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1913

1913 - وعن جابر قال Y كان خال لي من الأنصار يرقي من الحية فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الرقى فأتاه خالي فقال : يا رسول الله إنك نهيت عن الرقي وإني كنت أرقي من الحية قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اعرضها علي قال : فعرضها عليه قال : بأس بهذه هذه من المواثيق K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار میں سے میرے ایک ماموں سانپ کے ڈنگ کا منتر کے ذریعے علاج کرتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منتر کرنے سے منع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس میرا خالو آیا ، عرض کی : یا رسول اللہ! آپ نے منتر سے منع کیا ہے۔ میں سانپ کے ڈسنے کا منتر کرتا ہوں ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر پیش کرو( کہ وہ الفاظ کیا ہیں؟ ) ۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں اس کے ساتھ۔

جَابِرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1913

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1914

1914 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال Y كان رجل من الأنصار يرقي من العقرب فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الرقى قال : فقال : يا رسول الله إنك نهيت عن الرقى وإني كنت أرقي من العقرب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من استطاع منكم أن ينفع أخاه فليفعل K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک آدمی بچھو کے ڈنک کا منتر کے ذریعے علاج کرتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منتر کرنے سے منع کیا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے منتر سے منع کیا ہے۔ میں بچھو کے ڈنک کا منتر کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: جو تم میں سے اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہے اس کو چاہیے وہ ایسا کرے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1914

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1915

1915 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن جابر قال Y ولد لرجل منا غلام فسماه محمدا فقال له قومه : لا ندعك تسميه باسم رسول الله صلى الله عليه و سلم فانطلق بابنه حامله على ظهره فأتى به رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ولد لي غلام فسميته محمدا فقال لي قومي : لا ندعك تسميه باسم رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي فإنما أنا قاسم أقسم بينكم K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا‘ اس کا نام اس نے محمد رکھا۔ اس کی قوم نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام سے نہیں پکاریں گے۔ وہ اپنے بچہ کو لے کر گیا اپنی پیٹھ پر سوار کر کے‘ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے کر آیا‘ عرض کی : یا رسول اللہ! میرے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے میری قوم کہتی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام سے نہیں پکاریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پہ نام رکھو میری کنیت پر کنیت نہ رکھو‘ میں قاسم ہوں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں ۔

وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا ← جَابِرٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1915

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1916

1916 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عباد بن العوام أخبرنا محمد بن عمرو عن سعيد بن الحارث عن جابر بن عبد الله قال Y كنت أصلي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم الظهر وآخذ قبضة من الحصا فأجعلها في كفي ثم أحولها إلى الكف الأخرى حتى تبرد ثم أضعها لجبيني حتى أسجد من شدة الحر K إسناده حسن

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ۔ میں نے کنکریوں کی مٹھی لی اس کو اپنی ہتھیلی میں رکھا۔ پھر دوسری ہتھیلی میں پلٹا۔ یہاں تک کہ وہ ٹھنڈی ہو گئی پھر میں نے ان کو اپنی پیشانی کیلئے رکھا پھر میں نے سجدہ کیا گرمی کی شدت سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1916

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1917

1917 - حدثنا زهير حدثنا عباد بن العوام أخبرنا حجاج عن أبي الزبير عن جابر قال Y كنا لا نقتل تجار المشركين على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مشرکین تاجروں کو قتل نہیں کرتے تھے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حجاج، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1917

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1918

1918 - حدثنا زهير حدثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن يونس بن عبيد عن عطاء عن جابر Y أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن الثنيا إلا أن تعلم K رجاله ثقات غير أنه منقطع والحديث صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ثنیاء سے منع کیا مگر جاننے کے بعد ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1918

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1919

1919 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عباد عن الحسن بن أبي جعفر عن أبي الزبير عن جابر قال Y نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ثمن الكلب والهر إلا المعلم K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے اور بلی کی کمائی سے منع کیا مگر سکھائے ہوئے کتے کی کمائی کی اجازت دی ۔

ثمن الكلب والهر إلا المعلم إسناده ضعيف ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← عَبَّادٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1919

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1920

1920 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن ليث عن أبي الزبير عن جابر قال Y بعثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ست مئة رجل مع أبي عبيدة بن الجراح وما معنا إلا جراب من تمر قال : فاقتسمناه فأصاب كل رجل منا خمس تمرات أو سبع تمرات فأكلناه حتى بلغنا الجوع قال : فجعلنا نمص نواه فلما بلغنا الجوع ساحلنا البحر فإذا حباب مثل الكثيب الضخم قد نضب عنه الماء فقال بعضنا : أنأكل هذا وهو ميتة ؟ فقال أبو عبيدة : أنتم غزاة في سبيل الله كلوا فلا بأس فأكلنا منه وملحنا منه وتزودنا فلما انتهينا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكرنا له ذلك فقال : لا بأس به هل مع مع أحد منكم شيء منه يطعمنيه ؟ قال : فقال بعضنا لبعض : نعم فبعثنا إليه منه K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری چھ سو افراد کی جماعت کو حضرت ابو عبید بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھیجا۔ ہمارے پاس زاد راہ صرف ایک کھجوروں کی تھیلی تھی۔ ہم کو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقسیم کی ۔ ہم میں سے ہر آدمی کو پانچ یا سات کھجوریں ملیں‘ ہم نے کھالیں ۔ یہاں تک کہ ہم کو بھوک لگی ہم اس کی گٹھلیوں کو چوستے ۔ جب ہم کو بھوک لگی تو سمندر نے ہم پر ایک مچھلی پھینکی‘ وہ مچھلی بہت بڑے ٹیلے کی طرح تھی اس سے پانی صاف کیا۔ ہم میں سے بعض کہنے لگے: یہ مردار ہے؟ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے: تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے ہو، کھاؤ! کوئی حرج نہیں ۔ ہم نے اس سے کھایا اور اس سے ہم نے اور بھی بچا کر رکھ لی۔ جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے ، اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں! کیا تمہارے پاس اس میں سے کوئی چیز باقی ہے کہ ہم بھی کھا لیں؟ ہم میں سے بعض کہنے لگے: جی ہاں! ہم نے اس سے آپ کے لیے مچھلی بھیجی ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1920

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1921

1921 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي عن جابر بن عبد الله قال Y توفي ـ أو استشهد عبد الله بن عمرو بن حرام وعليه دين فاستعديت رسول الله صلى الله عليه و سلم على غرمائه أن يضعوا من دينه فطلبت إليهم فلم يفعلوا فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : اذهب فصنف تمرك أصنافا : العجوة على حدة وعذق زيد على حدة أصنافا ثم أرسل إلي قال : ففعلت ثم أرسلت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء على أعلاه ـ أو في وسطه ـ ثم قال : كل للقوم قال : فكلت لهم حتى أوفيتهم الذي لهم ثم بقي تمري كأنه لم ينقص منه شيء K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن حرام شہید ہو گئے یا وصال کر گئے ۔ ان پر قرض تھا۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ قرض خواہوں کا قرضہ معاف کر دیں ۔ آپ ان کو بلوایا انہوں نے معاف نہیں کیا۔ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم مختلف قسم کی کھجوروں کو توڑو۔ عجوہ کو علیحدہ رکھو ، عذق زید علیحدہ رکھو، پھر مجھے بلوایا۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ‘ آپ اوپر یا درمیان میں بیٹھ گئے پھر فرمایا: قوم کو ناپ کر دو! میں نے ناپی یہاں تک کہ میں نے ان کو دی جو ان کی بنتی تھیں پھر باقی کھجوریں بھی وہی تھیں گویا کہ کم ہوئی ہی نہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1921

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1922

1922 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد حدثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال Y قال النبي صلى الله عليه و سلم : ما في الأرض نفس منفوسة تأتي عليها مئة سنة K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو زمین پر ہے‘ سو سال رہنے کے بعد کوئی بھی سانس لینے والا باقی نہیں رہے گا ۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1922

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1923

1923 - حدثنا زهير حدثنا محمد حدثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي فإنما جعلت قاسما أقسم بينكم K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو‘ میری کنیت پر کنیت نہ رکھو‘ مجھے قاسم بنایا گیا ہے‘ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا ہوں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1923

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1923

1923 - مكرر ـ حدثنا زهير حدثنا محمد حدثنا الأعمش عن سالم بن أبي الجعد عن جابر قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي فإنما جعلت قاسما أقسم بينكم K مكرر

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پہ نام رکھو‘ میری کنیت پہ نہ رکھو‘ میں قاسم ہوں‘ تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں ۔

جَابِرٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ ← مكرر

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1923

chevron_left Previous
1…627628629…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter