Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1889

1889 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن ليث عن عطاء عن جابر : قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أكل من هذا الثوم والبصل والكراث فلا يقربنا K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے لہس، پیاز کھایا ہمارے قریب نہ آئے یعنی نماز کے لیے نہ آئے ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1889

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1890

1890 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن عاصم عن الشعبي عن جابر بن عبد الله قال Y نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تنكح المرأة على عمتها أو على خالتها K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمایا جس کی پھوپھی یا خالہ پہلے سے نکاح میں ہو ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1890

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1891

1891 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن عاصم عن الشعبي عن جابر Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا طالت غيبة أحدكم فلا يأت أهله طروقا K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دیر تک غائب رہے گھر سے تو وہ رات کو گھر نہ آئے ۔(اس کا تعلق عرف سے ہے‘ اب عرف بدل گئی ہے‘ موبائل پر اطلاع ہو جاتی ہے ۔ غلام دستگیر سیالکوٹی غفرلہ ) ۔

جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1891

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1892

1892 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال Y أتت الحمى النبي صلى الله عليه و سلم فاستأذنت عليه قال : من أنت ؟ قالت : أنا أم ملدم قال : أتهتدين إلى أهل قباء ؟ قالت : نعم قال : فأتتهم فحموا ولقوا منها شدة فاشتكوا إليه قالوا : يا رسول الله ما لقينا من الحمى قال : إن شئتم دعوت الله فكشفها عنكم وإن شئتم كانت طهورا ؟ قالوا : لا بل تكون لنا طهورا أو عرفا K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بخار‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور آپ سے اجازت مانگی‘ آپ نے فرمایا: تو کون ہے؟ اس نے عرض کی: اُم ملدم! آپ نے فرمایا: کیا تو قباء والوں کے پاس جانا چاہتی ہے؟ اس نے عرض کی : جی ہاں! آپ نے فرمایا: تو ان کے پاس جا! تو اہل قباء کو بخار ہو گیا اور انہیں سخت بخار پہنچا‘ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی‘ عرض کی: یا رسول اللہ ! ہم کو بخار ہوا ہے‘ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں تو اللہ اسے تم سے لے جائے گا اور اگر تم گناہوں سے پاک ہونا چاہتے ہو تو تب بھی ٹھیک ہے۔ انہوں نے عرض کی : ٹھیک ہے! ہم گناہوں سے پاک ہونا چاہتے ہیں ۔

فأتتهم فحموا ولقوا منها شدة فاشتكوا إليه ← نَعَمْ ← أتهتدين إلى أهل قباء ← أُمُّ مِلْدَمٍ؟ ← مَنْ أَنْتَ ← أتت الحمى النبي صلى الله عليه و سلم فاستأذنت عليه ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1892

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1893

1893 - أخبرنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : القسوة وغلظ القلوب قبل المشرق في ربيعة و مضر والإيمان في أهل الحجاز K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :سختی اور سخت دل یہ مشرق کی جانب قبیلۂ ربیعہ اور مضر میں ہو گا اور ایمان اہل حجاز میں ہو گا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1893

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1894

1894 - وعن جابر قال Y سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : الناس تبع لقريش في الخير والشر K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ قریش کے تابع ہیں ، اچھائی اور برائی میں ۔

الناس تبع لقريش في الخير والشر رجاله رجال الصحيح ← النبي صلى الله عليه و سلم ← وعن جابر

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1894

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1895

1895 - وعن جابر قال Y سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن الشيطان إذا سمع النداء بالصلاة ذهب حتى يكون مكان الروحاء . قال سليمان : فسألته عن الروحاء فقال : هي من المدينة سبعة وثلاثين ميلا K أخرجه مسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے وہ چلا جاتا ہے روحاء جگہ تک ۔ حضرت سلیمان فرماتے ہیں کہ میں نے روحاء کے متعلق پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ مدینہ منورہ سے ۳۷ میل دور ہے۔

الروحاء فقال هي من المدينة سبعة وثلاثين ميلا أخرجه مسلم ← سُلَيْمَانُ1 فَسَأَلْتُهُ ← النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانُ الرَّوْحَاءِ". ← "إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← وعن جابر

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1895

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1896

1896 - وعن جابر قال Y ركب رسول الله صلى الله عليه و سلم فرسا بالمدينة فصرعه على جذم نخلة فانفكت قدمه فأتيناه نعوده فوجدناه في مشربة لعائشة يسبح جالسا فقمنا خلفه فسكت عنا ثم أتيناه مرة أخرى فوجدناه يصلي المكتوبة فقمنا خلفه فأشار إلينا فقعدنا فلما قضى الصلاة قال : إذا صلى الإمام جالسا فصلوا جلوسا وإذا صلى قائما فصلوا قياما ولا تفعلوا كما يفعل أهل فارس بعظمائها K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ شریف میں گھوڑے پر سوار ہوئے‘ آپ اس گھوڑے سے نیچے گرے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک پر زخم ہو گیا۔ ہم آئے کہ ہم آپ سن کی عیادت کریں ۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حجرہ میں موجود دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر تسبیح پڑھ رہے تھے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے خاموش رہے۔ پھر ہم دوبارہ آئے ۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرض نماز پڑھتے ہوئے پایا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے۔ جب نماز ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفر مایا: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ جب کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہوکر نماز پڑھو ۔ تم ایسے نہ کرو جیسے اہل فارس اپنے بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔

جَابِرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1896

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1897

1897 - وعن جابر قال Y قدمنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فتطوفنا بالبيت وأحللنا فلما أتينا البطحاء أمرنا أن نهل بالحج قال : فقال بعض القوم : أنهل بالحج وإنما عهدنا بالنساء أمس ؟ قال : فكان منهم في ذلك كلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو علمت أنهم يفعلون هذا ما سقت الهدي قال : وقال لنا : ليشترك النفرفي الهدي K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے ۔ ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور ہم نے احرام کھول دیئے۔ جب ہم بطحاء کے مقام پر آئے تو ہم کو حکم دیا کہ ہم حج کا تلبیہ پڑھیں ۔ بعض صحابہ کرام نے عرض کی: کیا ہم حج کا تلبیہ پڑھیں ہم تو کل اپنی عورتوں کے ساتھ وعدہ کر کے آئے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں جانتا ہوتاکہ انہوں نے یہ کرنا ہے تو میں ہدی نہ لے جاتا‘ اور ہمارے لیے فرمایا: تاکہ وہ گروہ ہدی میں شریک ہو جائے ۔

جَابِرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1897

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1898

1898 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن سالم بن أبي الجعد عن جابر بن عبد الله قال Y أقبلنا من مكة إلى المدينة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فأعيا جملي فتخلفت عليه أسوقه قال : وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم في حاجة متخلفا فلحقني فقال لي : مالك متخلفا ؟ قال : قلت : لا يا رسول الله إلا أن جملي ضلع علي فأردت أن ألحقه بالقوم قال : فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم بذنبه فضربه ثم زجره فقال : اركب فلقد رأيتني بعد وإني لأكفه عن القوم . قال : فنزلنا منزلا دون المدينة فأردت أن أتعجل إلى أهلي فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تأت أهلك طروقا قال قلت : يا رسول الله إني حديث عهد بعرس قال : فما تزوجت ؟ قلت امرأة ثيبا قال : فهلا بكرا تلاعبها وتلاعبك ؟ قال : فقلت : يا رسول الله إن عبد الله توفي ـ أو استشهد ـ وترك جواري فكرهت أن أتزوج إليهن مثلهن قال : فسكت ولم يقل لي أحسنت ولا أسأت . قال : ثم قال لي : بعني جملك هذا قال : قلت : لا بل هو لك يا رسول الله قال : لا بل بعنيه قال : قلت لا بل هو لك يا رسول الله قال : لا بل بعنيه قال : قلت : فإن لرجل علي أوقية ذهب فهو لك بها قال : قد أخذت فتبلغ عليه المدينة قال : فلما قدمت المدينة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لبلال : أعطه أوقية ذهب وزده قال : فأعطاني أوقية ذهب وزادني قيراطا قال : فقلت : لا تفارقني زيادة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فكان في كيس لي فأخذه أهل الشام يوم الحرة K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مکہ سے مدینہ شریف کی جانب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آئے ، میرا اونٹ تھک گیا میں اس سے نیچے اُترا تاکہ پیدل چلوں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی کسی کام کی وجہ سے پیچھے تھے۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملے اور مجھ سے فرمایا: آپ پیچھے کیوں رہے ہیں؟ میں نے عرض کی : یارسول اللہ! میرا اونٹ کمزور ہے میں چاہتا ہوں کہ قوم سے مل جاؤں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کی دُم پکڑی اور اس کو ضرب لگائی اور پھر ڈانٹا،فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ۔ میں نے اس کے بعد اپنے آپ کو دیکھا کہ میں قوم کے ساتھ مل چکا ہوں ۔ ہم مدینہ کے قریب ایک جگہ اترے، میں نے اپنے گھر جلدی جانا چاہا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اپنے اہل خانہ کے پاس رات کو نہ جانا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میری شادی نئی ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کس سے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ !ثیب عورت سے ( شادی شدہ‘ یعنی طلاق یافته یا بیوه عورت سے )۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کنواری سے کیوں نہیں کی ، وہ تیرے ساتھ پیار کرتی اور تو اس کے ساتھ پیار کرتا؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا باپ عبداللہ فوت ہو گیا ہے یا شہید ہو گیا ہے اور چھوٹی بچیاں چھوڑ گیا ہے۔ میں نے ناپسند کیا کہ میں ان جیسی ہی سے شادی کروں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے مجھے نہ اچھا کہا اور نہ بُرا اور فرمایا: مجھے اپنا اونٹ فروخت کر دے، میں نے عرض کی: میں فروخت نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ ہے ہی آپ کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! بلکہ اس کو فروخت کر ، میں نے عرض کی: نہیں! بلکہ یا رسول اللہ! آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! تو مجھے فروخت کر ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک آدمی کے مجھ پر سونے کا ایک اوقیہ ہے۔ میں اس کو لے لیا مدینہ شریف تک سوار ہونے کے لیے‘ جب میں مدینہ آیا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا: اس کو سونے کا اوقیہ دو اور کچھ زیادہ دو۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے ایک اوقیہ سونے کا اور زیادہ مجھے ایک قیراط دیا۔ میں نے کہا: مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیادتی سے جدا نہ کر‘ وہ اوقیہ میری جانب سے رہا اہل شام نے حرہ کے دن مجھ سے لیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1898

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1899

1899 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر بن عبد الله يقول Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لو كان لابن نخل لتمنى إليه مثله ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے سنا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر انسان کے لیے ایک کھجور کا باغ ہو وہ تمنا کرے گا ایک اور ہوانسان کا پیٹ میں صرف مٹی ہی بھی گئی ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1899

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1900

1900 - وعن جابر Y جاء غلام لحاطب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله : دخل حاطب النار فقال : كذبت أليس قد شهد بدرا والحديبية ؟ K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حاطب کا غلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! حاطب جہنم میں ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے جھوٹ بولا کیا وہ بدر اور حدیبیہ میں شریک نہیں ہوا؟

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1900

chevron_left Previous
1…625626627…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter