Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1865

1865 - حدثنا عبيد الله حدثنا بشر بن المفضل حدثنا عمر بن عبد الله مولى غفرة قال : سمعت أيوب بن خالد بن صفوان يقول : قال جابر Y خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا أيها الناس إن لله سرايا من الملائكة تحل وتقف على مجالس الذكر في الأرض فارتعوا في رياض الجنة قالوا : وأين رياض الجنة يا رسول الله ؟ : مجالس الذكر فاغدوا وروحوا في ذكر الله وذكروه بأنفسكم من كان يحب أن يعلم منزلته عند الله فلينظر كيف منزلة الله عنده فإن الله ينزل العبد منه حيث أنزله من نفسه K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ فرشتے بھیجتا ہے‘ وہ چلتے ہیں اور زمین میں ذکر کی مجالس میں رکھتے ہیں ۔ پس جنت کے باغوں سے چر لیا کرو۔ عرض کی : یا رسول اللہ! جنت کے باغ کیا ہیں؟ فرمایا : ذکر کی مجالس میں صبح و شام اللہ کے ذکر میں کرو اور اپنے دل کے ساتھ یاد کرو ۔ جو پسند کرتا ہے کہ وہ معلوم کرے اللہ کے ہاں اپنا مقام تو وہ دیکھے کہ اللہ کے ہاں اپنا مقام کیا ہے؟ بے شک اللہ تعالیٰ بندہ کو وہی مقام دیتا ہے جو بندہ اللہ کی ذات کو دیتا ہے۔

أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ صَفْوَانَ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَوْلَی غُفْرَةَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1865

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1866

1866 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا بشر بن المفضل عن عمر مولى غفرة عن أيوب بن خالد عن جابر Y عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← جَابِرٍ ← أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ← عُمَرَ مَوْلَی غُفْرَةَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1866

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1867

1867 - حدثنا عبيد الله بن معاذ قال : ذكر أبي عن يوسف بن محمد بن المنكدر عن أبيه عن جابر بن عبد الله Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى حي كريم يستحيي من عبده أن يرفع إليه يديه فيردهما صفرا ليس فيهما شيء ؟ K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ بڑا حیاء والا کرم کر نے والا ہے ۔ اس کو حیاء آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کی بارگاہ میں ہاتھ بلند کرے اور وہ ان ہاتھوں کو خالی ہاتھ واپس پھیر دے۔ان میں کوئی شے نہ ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← يوسف بن محمد بن المنكدر ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1867

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1868

1868 - حدثنا عبيد الله بن معاذ قال : ذكر أبي عن يوسف بن محمد المنكدر عن أبيه عن جابر قال Y بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في السوق إذا امرأة قد أخذت بعنان دابته وهو على حمار فقالت : يا رسول الله إن زوجي لا يقربني ففرق بيني وبينه ومر زوجها فدعاه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : مالك ولها جاءت تشكو منك جفاء : تشكو منك أنك لا تقربها قال : يا رسول الله والذي أكرمك إن عهدي بها لهذه الليلة وبكت المرأة فقالت : كذب فرق بيني وبينه فإنه من أبغض خلق الله إلي فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم أخذ برأسه ورأسها فجمع بينهما وقال : اللهم أدن كل واحد من صاحبه قال : جابر : فلبثنا ما شاء الله أن نلبث ثم مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسوق فإذا نحن بامرأة تحمل أدما فلما رأته طرحت الأدم وأقبلت إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله والذي بعثك بالحق ما خلق الله من بشر أحب إلي منه إلا أنت قال عبيد الله : ولا أراني سمعته من أبي K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بازار میں تھے جب کہ ایک عورت تھی اس نے اپنے جانور کی لگام پکڑی ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گدھے پر سوار تھے ‘ اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ! میرا شوہر میرے قریب نہیں آتا ہے‘ میرے اور اس کے درمیان جدائی کر دی جائے ۔(اس حالت میں ) اس کا شوہر وہاں سے گزرا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کو اور اس عورت کو کیا ہے؟ یہ تیری وفائی کی شکایت کرنے کے لیے آئی‘ یہ شکایت کر رہی ہے کہ تو اس کے پاس نہیں جاتا۔ اس بندہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت دی ہے! میرا اس کے ساتھ وعدہ ہوا ہے اس رات ۔ اس عورت نے عرض کی: یہ جھوٹ بولتا ہے‘ میرے اور اس کے درمیان جدائی ڈال دی جائے ۔ یہ اللہ کی مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ ناپسند ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم فرمایا‘ پھر اس مرد اور اس عورت دونوں کا سر پکڑا‘ دونوں کو اکٹھا کیا اور عرض کی : اے اللہ ! ان میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کے قریب کر دے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ٹھہرے جتنا اللہ نے چاہا ہمارا ٹھہرنا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بازار سے گزرے ، جب ہم عورت کے پاس سے گزرے وہ سالن اٹھائے ہوئے تھی جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو سالن کو پھینک کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی طرف پلٹی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! کوئی انسان اب مجھے اس ( شوہر ) سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔ صرف آپ اس سے زیادہ محبوب ہیں‘ حضرت عبیداللہ نے کہا: مجھے خیال نہیں ہے کہ میں نے اپنے والد سے سنا۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← يوسف بن محمد المنكدر ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1868

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1869

1869 - حدثنا عبيد الله حدثنا أبي حدثنا قره عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال Y دعا النبي صلى الله عليه و سلم بصحيفة عند موته يكتب فيها كتابا لأمته قال : لا يضلون ولا يضلون فكان في البيت لغط فتكلم عمر بن الخطاب فرفضه النبي صلى الله عليه و سلم K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال کے قریب ایک کاغذ منگوایا ، اس میں اپنی امت کے لیے کچھ لکھنے کے لیے (فرمایا) تاکہ نہ گمراہ ہوں گے نہ کیے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں شور تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی بات کی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃَ ← أَبِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1869

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1870

1870 - حدثنا عبيد الله حدثنا أبي حدثنا قره عن أبي الزبير عن جابر Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من يصعد الثنية : ثنية المرار فإنه يحط عنه ما حط عن بني إسرائيل فكان أول من صعدها خيلنا : خيل بني الخزرج قال : فتتابع الناس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلكم مغفور له إلا صاحب الجمل الأحمر فقلنا : تعال يستغفر لك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : والله لأن أجد ضالتي أحب إلي من أن يستغفر لي صاحبكم وإذا هو رجل ينشد ضالة K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس بلندی پر چڑھے گا ثنیہ المرار پر ۔ پس اس سے کمی کی جائے گی جو کمی بنی اسرائیل سے کی گئی تھی ۔سب سے پہلے جو چڑھا وہ ہمارا گھوڑا خیل بنی الخزرج تھا۔لوگوں نے اس کا پیچھا کیا (یعنی پے در پے چڑھنے لگے) ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب کی بخشش ہو جائے گی مگر اس سرخ اونٹ کے مالک کی نہیں ۔ ہم نے اس کو کہا: آ تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بخشش طلب کرتے ہیں ۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے گم شدہ گھوڑا مل جانا تمہارے صاحب کی بخشش مانگنے سے زیادہ بہتر ہے‘ وہ آدمی اپنے گم شدہ اونٹ کا اعلان کر رہا تھا ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃَ ← أَبِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1870

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1871

1871 - حدثنا ابن نمير حدثنا سعيد بن الربيع حدثنا قره بن خالد عن أبي الزبير عن جابر Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعا عند موته بصحيفة ليكتب فيها كتابا لا يضلون بعده ولا يضلون وكان في البيت لغط وتكلم عمر بن الخطاب فرفضها رسول الله صلى الله عليه و سلم K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصال کے قریب ایک کاغذ منگوایا ، اس میں اپنی امت کے لیے کچھ لکھنے کے لیے (فرمایا) تاکہ نہ گمراہ ہوں گے نہ کیے جائیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں شور تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی بات کی ،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1871

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1872

1872 - حدثنا ابن نمير حدثنا حفص عن ابن جريج عن عطاء عن جابر Y أن رسول صلى الله عليه و سلم نهى أن يخلط التمر والزبيب جميعا K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کشمش اور کھجور اور خشک کھجور اور تر کھجور ملانے سے منع کیا۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَفْصٌ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1872

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1873

1873 - حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير حدثنا أبو أسامة عن عبد الحميد بن جعفر عن يزيد بن أبي حبيب عن عطاء عن جابر بن عبد الله قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة يقول : إن الله ورسوله حرم بيع الخمر وبيع الخنازير وبيع الميتة وبيع الأصنام فقال رجل : يا رسول الله فما ترى في شحم الميتة فإنا ندهن به السفن وندهن به الجلود ونستصبح به ؟ فقال : قاتل الله اليهود إن الله حرم عليهم شحومها أخذوا فجملوها ثم باعوها وأكلوا أثمانها K إسناده صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتح مکہ کے دن سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب اور خنزیر اور مردار کی اور بتوں کی بیع حرام قرار دی ہے۔ ایک آدمی نے عرض کی یا رسول اللہ ! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ ہم اس سے کشتیوں کو تیل لگاتے ہیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہلاک کرے یہود کو! بے شک اللہ نے ان پر چربی حرام کی ، انہوں نے چر بی پکڑی‘ اس سے خوبصورتی حاصل کی‘ پھر اس کو فروخت کیا اور اس کی قیمت کھائی ۔

رَجُلٌ: ← إن الله ورسوله حرم بيع الخمر وبيع الخنازير وبيع الميتة وبيع الأصنام ← رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1873

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1874

1874 - حدثنا ابن نمير حدثنا أبي حدثنا الربيع بن سعد الجعفي عن عبد الرحمن بن سابط عن جابر قال Y من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى الحسين بن علي فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقوله K رجاله ثقات

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جس کو پسند ہو کہ وہ جنتی آدمی دیکھے تو وہ حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ لئے بے شک میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔

جَابِرٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ سَعْدٍ الْجُعْفِيِّ، ← أَبِي ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1874

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1875

1875 - حدثنا عثمان بن أبي شيبة حدثنا أبو خالد الأحمر سليمان بن حيان عن ثور بن يزيد عن أبي الزبير عن جابر قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تسليم بإصبع واحدة تشير بها فعل اليهود K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک انگلی سے سلام کرنا اشارہ کے ساتھ‘ یہ یہود کا فعل ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1875

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1876

1876 - حدثنا عثمان بن أبي شيبة حدثنا إسماعيل بن مجالد عن أبيه عن عامر عن جابر قال Y لما قدم جعفر من الحبشة عانقه النبي صلى الله عليه و سلم K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جب حضرت جعفر حبشہ سے آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے معانقہ کیا ۔

جَابِرٍ ← عَامِرٍ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1876

chevron_left Previous
1…623624625…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter