Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1853

1853 - حدثنا مصعب بن عبد الله الزبيري حدثني أبي عن هاشم بن عروة عن محمد بن المنكدر عن جابر Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ألا أخبركم على من تحرم النار غدا ؟ على كل هين لين قريب سهل

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو نہ بتاؤں جس پر کل جہنم حرام کر دی جائے گی؟ ہر آسانی اور نرمی کرنے والے‘ قریب آسان طبیعت پر۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← هاشم بن عروة ← أَبِي ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1853

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1854

1854 - حدثنا عبيد بن جناد الحلبي حدثنا يوسف ابن محمد بن المنكدر عن أبيه عن جابر بن عبد الله قال Y سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الإيمان قال : الصبر والسماحة K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایمان کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صبر اور درگزر ۔

الصبر والسماحة إسناده ضعيف ← الإيمان ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← يوسف ابن محمد بن المنكدر ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1854

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1855

1855 - حدثنا أبو همام حدثنا المغيرة بن سقلاب أخبرنا معقل بن عبيد الله عن عمرو بن دينار عن جابر بن عبد الله Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ضمن لي ما بين لحييه وما بين رجليه ضمنت له الجنة K إسناده ضعيف

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھے دو چیزوں کی ضمانت دے اس کی جو دو جبڑوں کے اندر ہے یعنی زبان اور دو ٹانگوں کی درمیان والی چیز کی (شرمگاہ) میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← المغيرة بن سقلاب ← أَبُو هَمَّامٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1855

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1856

1856 - حدثنا عبد الغفار بن عبد الله حدثنا المعافى بن عمران حدثنا الفضيل بن مرزوق حدثني الوليد رجل من أهل الخير والصلاح عن محمد بن علي عن سعيد بن المسيب عن جابر بن عبد الله قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول وهو على منبره يوم جمعة : يا أيها الناس توبوا إلى الله قبل أن تموتوا وبادروا بالأعمال الصالحة وصلوا الذي بينكم وبين ربكم بكثرة ذكركم إياه وبكثرة صدقتكم في السر والعلانية تؤجروا وتنصروا وترزقوا . واعلموا أن الله قد افترض عليكم الجمعة فريضة مفروضة في يومي هذا ومقامي هذا في شهري هذا في عامي هذا إلى يوم القيامة فمن تركها في حياتي أو بعد موتي جحودا بها أو استخفافا بها فلا جمع الله له شمله ولا بارك له في أمره ألا ولا صلاة له ألا ولا زكاة به ألا ولا حج له ولا صوم له ألا ولا بر له فمن تاب تاب الله عليه . ولا تؤمن امرأة رجلا ولا يؤمن أعرابي مهاجرا ولا يؤمن فاجر برا إلا سلطان يخاف سيفه وسوطه K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر فرما رہے تھے کہ اے لوگو! اللہ کی طرف رجوع کرو مرنے سے پہلے اور اعمال صالحہ کی طرف جلدی کرو جوڑو اس کو جو تمہارے درمیان اللہ کے درمیان ہیں ۔ ان کو کثرت سے ذکر کرو اور کثرت سے صدقہ دو‘ علانیہ اور سرأ تم کو اجر دیا جائے گا اور تمہاری مدد کی جائے گی اور تم کو رزق دیا جائے گا اور جان لو بے شک اللہ نے تم پر جمعہ فرض کیا ہے۔اس دن میں اور اس جگہ میں اور اس شہر میں اور اس سال میں قیامت تک جس نے اس کو چھوڑ دیا میری زندگی میں ہو یا میرے وصال کے بعد یا اس کا انکار کیا یا اس کو ہلکا جانا ۔اس کے لیے اس کے کام میں برکت نہیں ہو گی ۔خبردار اس کی نہ نماز اور نہ اس کی زکوٰۃ ، نہ اس کا حج ، نہ اس کا روزہ، نہ اس کی نیکی قبول ہو گی جس نے توبہ کی اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ کوئی عورت مرد ،کوئی دیہاتی مہاجر کی کوئی فاجر نیک کے لیے امامت نہ کروئے مگر بادشاہ اس کی تلوار اور کوڑے کا خوف ہو۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← محمد بن علي ← الوليد رجل من أهل الخير والصلاح ← الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ← الْمُعَافِیُّ بْنُ عِمْرَانَ ← عبد الغفار بن عبد الله

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1856

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1857

1857 - حدثنا عيسى بن سالم حدثنا عبيد الله بن عمرو عن ابن عقيل عن جابر بن عبد الله قال Y جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله أرأيت إن جاهدت في سبيل الله صابرا محتسبا مقبلا غير مدبر حتى أقتل أدخل الجنة ؟ قال : نعم إلا أن يكون عليك دين ليس عندك له وفاء K إسناده حسن

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘ اس نے عرض کی : یارسول اللہ! مجھے بتائیں اگر میں جہاد کروں اللہ کی راہ میں صبر اور ثواب کی نیت سے آگے بڑھتے ہوئے پیچھے نہ ہتے ہوئے یہاں تک میں قتل ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! مگر اس پر قرض ہو اور اس کو اتارنے کے لیے پیسے نہ ہوں ۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عيسى بن سالم

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1857

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1858

1858 - حدثنا داود بن عمرو بن زهير الضبي حدثنا سفيان عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله Y أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم : إني رأيت كأن رأسي قطعت ـ أو عنقي ضربت ـ فقال : لم يخبر أحدكم بتلعب الشيطان ؟ K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے عرض کی :میں نے دیکھا گویا میری ناک ماری گئی ہے یا میرا سر کاٹ دیا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کیوں بتاتا ہے کہ شیطان اس کے ساتھ کھیلا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1858

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1859

1859 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا هشيم ابن بشير أخبرنا أبو الزبير عن جابر Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يبتين رجل عند امرأة في بيت إلا أن يكون ناكحا أو ذا محرم K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار کوئی آدمی کسی عورت کے پاس رات نہ گزارے مگر اس کے ساتھ اس کا نکاح ہوا ہو یا اس کا محرم ہو۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هشيم ابن بشير ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1859

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1860

1860 - حدثنا جعفر بن مهران السباك حدثنا عبد الأعلى حدثنا محمد بن إسحاق عن حرام بن عثمان عن محمود بن عبد الرحمن بن عمرو بن الجموح عن جابر بن عبد الله قال Y ابتعنا بقرة في عهد نبي الله صلى الله عليه و سلم لنشترك عليها فانفلتت منا فامتنعت علينا فعرض لها مولى لنا يقال له : ذكوان بسيف في يده وهي تجول بالصماد فضبا إلى تل فلما مرت به ضربها بالسيف في أصل عنقها أوعلى عنقها فخرقها بالسيف ووقعت فلم يدرك ذكاتها فخرجت أنا و عبد الله بن ثابت بن الجذع فلقينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرنا له شأنها فقال : كلوا إذا فاتكم من هذه البهائم شيء فاحبسوه بما تحبسون به الوحش K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے گائے خریدی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تاکہ ہم اس پر شریک ہو جائیں‘ وہ ہم سے بھاگ گئی تو ہم اس کو روکنے سے عاجز آ گئے‘ اس کو ہمارے غلام نے روکا‘ اس کو ذکوان کہا جاتا تھا وہ گائے بلند جگہ گھوم رہی تھی‘ سو اس غلام نے ٹیلے کے ساتھ پناہ لی‘ سو جب گائے اس کے پاس سے گزرنے لگی تو اس نے گائے کی گردن کی جڑ میں یا گردن پر ( راوی کو شک ہے ) تلوار ماری‘ سو تلوار کے ساتھ اسے پھاڑ دیا‘ وہ گر پڑی سو وہ اسے شرعی طریقہ سے ذبح نہ کر سکا۔سو میں اور حضرت عبداللہ بن ثابت بن جذع نکلے‘ سو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں مل گئے‘ سو ہم نے اس گائے کا معاملہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا گوشت کھاؤ (وہ حلال ہے) تمہارے پالتو جانوروں میں سے جب کوئی بھاگ جائے تو اسے روکنے کی کوشش کرو‘ اس طریقے سے جس طرح تم جنگلی جانوروں کو روکتے ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مَحْمُودُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، ← حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1860

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1861

1861 - حدثنا جعفر بن مهران قال : حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن سهل : أبي ليلى عن جابر بن عبد الله قال Y خرج مرحب بن الحارث اليهودي وهو يقول : ( قدعلمت خيبر أني مرحب شاكي السلاح بطل مجرب ) . ( أطعن أحيانا وحينا أضرب إذا الليوث أقبلت تلهب ) . ( وأحجمت عن صولة المجرب كان حماي الحمى لا يقرب ) . هل من مبارز ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لهذا ؟ قال محمد بن مسلمة : أنا يا رسول الله أنا والله الموتور الثائر قتلوا أخي بالأمس فقال : قم إليه اللهم أعنه فلما دنا أحدهما من صاحبه عرضت بينهما شجرة فطفق أحدهما يلوذ بها من صاحبه فكلما لاذ بها منه اقتطع بسيفه ما دونه حتى رأيتها وإنها كالرجل القائم حتى خلص كل واحد منهما إلى صاحبه فشد عليه مرحب فضربه واتقاه بالدرقة فوقع سيفه فيها فنشب وعضت له الدرقة فأمسكته فضربه محمد بن مسلمة فقتله

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مرحب بن حارث یہودی نکلا وہ پڑھ رہا تھا : ’’خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں‘ ہمیشہ ہتھیار پہنے رکھتا ہوں‘ جو انمرد ہوں‘ تجربہ کار ہوں‘ کبھی نیزہ چلاتا ہوں اور کبھی تلوار کے وار کرتا ہوں کیونکہ کئی شیر دل جوان آگے بڑھے غصے سے اور بہت جلد ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور میں ایسے حملہ کرتا ہوں جیسے ایک تجربہ کار‘ میری چراگاہ کے قریب کوئی نہیں بھٹکتا‘‘۔ ہے کوئی جنگ کرنا والا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم بخدا! میں ایک ایسا شخص ہوں جو مقتول ( بھائی ) کا بدلہ لینے کی طاقت نہیں رکھتا لیکن خون کا مطالبہ کرنے والا ہوں‘ کل انہوں نے میرے بھائی کو قتل کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھ کھڑا ہو! اس کی طرف جا‘ اے اللہ! اس کی مدد فرمانا۔ جب دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو دونوں کے درمیان ایک درخت آڑے آ گیا۔ دونوں میں ہر ایک نے دوسرے کے وار سے بچنے کے لیے اس کو اپنی پناہ گاہ بنانا شروع کر دیا‘ سو جب بھی ان میں سے کوئی اس درخت کو اپنی پناہ گاہ بناتا تو دوسرے کے وار اُسی پر ہوتا جو سامنے ہوتی حتٰی کہ میں نے اس درخت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان دونوں میں کھڑے آدمی کی مانند معلوم ہوتا یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے وار سے بچ جاتا‘ مرحب نے ان پر سخت حملہ کیا چمڑے کی ڈھال سے‘ انہوں نے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی تو مرحب کی تلوار اس میں پیوست ہو گئی اور اس میں پھنس کے رہ گئی‘ چمڑے کی ڈھال میں اس کی پکڑ کا سبب بن گئی اور اسے وہیں روک لیا‘ سو حضرت محمد بن مسلمہ نے اس پر تلوار کا وار کر کے قتل کر دیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عبد الله بن سهل أبي ليلى ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← جعفر بن مهران

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1861

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1862

1862 - حدثنا جعفر بن مهران حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق قال : حدثني عاصم بن عمر بن قتادة عن عبد الرحمن بن جابر عن أبيه جابر بن عبد الله قال Y أقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم لا نعلم بخبء القوم الذي خبؤوا لنا فاستقبلنا وادي حنين في عماية الصبح وهو واد أجوف من أودية تهامة حطوط إنما ينحدرون فيه انحدارا قال : فوالله إن الناس ليتتابعون لا يعلمون بشيء إذا فجئهم الكتائب من كل ناحية فلم يتناظر الناس أن انهزموا راجعين قال : وانحاز رسول الله ذات اليمين قال : أين أيها الناس أنا رسول الله أنا محمد بن عبد الله K إسناده حسن

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے‘ ہمیں معلوم نہ تھا کہ قوم کہاں چھپی ہوئی ہے‘ صبح ہوتے ہی منہ اندھیرے ہم وادی حنین پہنچ گئے وہ ایک ایسی وادی ہے جو تہامہ کی وادیوں سے زیادہ کھلی ہے‘ اونٹیاں اس میں تیز تیز چل رہی تھیں ۔ راوی کہتے ہیں قسم بخدا! بے شک لوگ بغیر کوئی چیز جانے ایک دوسرے کے پیچھے چل رہے تھے۔ اچانک ہر طرف سے مختلف لشکر ان کے پاس آ گئے‘ سو قریب تھا کہ لوگ شکست کھانے کے ڈر سے واپس لوٹنے والے ہوتے ۔ راوی کا بیان ہے : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائیں طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے لوگو! میں اللہ کا رسول ہوں ! میں محمد بن عبداللہ ہوں ۔

أبيه جابر بن عبد الله ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← جعفر بن مهران

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1862

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1863

1863 - حدثنا جعفر حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق حدثني عاصم بن عمر بن قتادة عن عبد الرحمن بن جابر عن أبيه جابر قال Y كان أمام هوازن رجل جسيم على جمل أحمر في يده راية سوداء إذا أدرك طعن بها وإذا فاته شيء [ من ] بين يديه دفعها من خلفه فأنفذه فصمد له علي بن أبي طالب ورجل من الأنصار كلاهما يريده قال : فضربه علي على عرقوبي الجمل فوقع على عجزه قال : وضرب الأنصاري ساقه قال : فطرح قدمه بنصف ساقه فوقع واقتتل الناس . وخرج حين كانت الهزيمة كلدة ـ وكان أخا صفوان بن أمية ـ يومئذ مشركا في المدة التي ضرب له رسول الله صلى الله عليه و سلم ألا بطل السحر اليوم فقال له صفوان : اسكت فض الله فاك فوالله لأن يربني رجل من قريش أحب إلي من أن يربني رجل من هوازن K إسناده حسن

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: بنو ہوازن کے سامنے سامنے ایک آدمی تھا‘ بھاری بھر کم‘ سرخ اونٹ پر سوار‘ اس کے ہاتھ میں سیاہ جھنڈا تھا‘ جب وہ پاتا تو نیزہ چلاتا‘ اور جب سامنے کوئی شی نہ ہوتی تو پیچھے سے اس کی حفاظت کرتا‘ پس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ارادہ کیا اور ایک انصاری نے دونوں اس کو نشانہ کر رہے تھے۔ راوی کا بیان ہے: پس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر وار کیا‘ اس کے اونٹ کی دونوں کونچوں پر‘ پس اونٹ اپنی دُم کے بل گرا‘ انصاری نے اس کی پنڈلی پر مارا‘ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے الگ کر دیا‘ پس وہ گر پڑا‘ لوگوں نے مل کر اسے قتل کر دیا‘ پس جب ان کو شکست ہوئی تو وہ کلدہ نکلا‘ وہ صفوان بن امیہ کا بھائی تھا‘ اور وہ اس وقت مشرک تھا‘ جس مدت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے یہ مثال بولی کہ آج کے دن سحر باطل ہو گیا‘ پس صفوان نے آپ سے عرض کی: اللہ آپ کا منہ سلامت رکھے! آپ خاموش رہیں ۔ پس قسم بخدا! ایک قریشی کا مجھے پالنا‘ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے‘ بنو ہوازن کے کسی آدمی کے مجھے پالنے سے۔

أبيه جابر ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← جَعْفَرٌ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1863

مسند أبي يعلى · مسند جابر ‹ مسند جابر · حديث 1864

1864 - حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري حدثنا أبي حدثنا شعبة عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال Y صلى النبي صلى الله عليه و سلم على النجاشي فكنت في الصف الثاني K رجاله رجال الصحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت نجاشی کی نماز جنازہ پڑھایا‘ میں دوسری صف میں موجود تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Jaber › Chapter · Hadith 1864

chevron_left Previous
1…622623624…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter