Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند العباس بن مرداس السلمي ‹ مسند العباس بن مرداس السلمي · حديث 1578

1578 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا عبد القاهر بن السري السلمي حدثني ابن كنانة بن العباس بن مرداس السلمي [ أن أباه ] حدثه عن أبيه العباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعا عشية عرفة لأمته بالمغفرة والرحمة وأكثر الدعاء فأجابه الله أني قد فعلت وغفرت لأمتك إلا ظلم بعضهم بعضا فأعاد فقال : يا رب إنك قادر أن تغفر للظالم وتثيب المظلوم خيرا من مظلمته فلم يكن تلك العشية إلا ذا فلما كان من الغد دعا غداة المزدلفة فعاد يدعو لأمته فلم يلبث النبي صلى الله عليه و سلم أن تبسم فقال بعض أصحابه : يا رسول الله بأبي أنت وأمي تبسمت في ساعة لم تكن تضحك فيها فما أضحكك أضحك الله سنك ؟ قال : تبسمت من عدو الله إبليس حين علم أن الله قد أجانبي في أمتي وغفر للظالم أهوى يدعو بالثبور والويل ويحثو التراب على رأسه وقال مرة : فضحكت من جزعه K إسناده ضعيف جدا

حضرت عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کی شام اپنی امت کے لیے بخشش و رحمت کی دعا کی اور بہت زیادہ دعا کی‘ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول فرمائی‘ فرمایا: میں ایسا کروں گا اور تیری امت کو بخشوں گا‘ مگر اس کو نہیں جو ایک دوسرے پر ظلم کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ دعا کی عرض کی: اے رب! تو قادر ہے ظالم کو معاف کر دے‘ مظلوم کو اس سے بڑھ کر اجر دے۔ آپ شام تک یہ دعا مانگتے رہے‘ جب دوسرے دن صبح ہوئی تو نے دوبارہ اپنی امت کے لیے یہی دعا کی‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی ہی دیر رُکے تھے کہ آپ نے تبسم فرمایا، بعض صحابہ کرام نے عرض کی : یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے اس وقت تبسم فرمایا ہے آپ اس وقت مسکرائے تو نہیں ہیں، آپ کیوں مسکرائے ہیں؟ اللہ عزوجل آپ کے دانتوں کو مسکراتا ہی رکھے! آپ نے فرمایا: میں نے اللہ کے دشمن ابلیس کو دیکھ کر تبسم کیا ہے‘ جس وقت اس کو معلوم ہوا کہ اللہ عزوجل نے میری امت کے حوالے سے میری دعا قبول فرمائی ہے اور ظالم کو معاف کر دیا ہے حالانکہ وہ ہلاکت اور فریاد کر رہا تھا اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہا تھا۔ فرمایا: میں اس کے اس جزع فزع کو دیکھ کر ہنس پڑا۔

أبيه العباس ← ابن كنانة بن العباس بن مرداس السلمي أن أباه ← عبد القاهر بن السري السلمي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad al-Abbas bin Merdas al-Salami › Chapter · Hadith 1578

مسند أبي يعلى · مسند العباس بن مرداس السلمي ‹ مسند العباس بن مرداس السلمي · حديث 1579

1579 - حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي حدثنا أبو بكر الحنفي حدثنا عبد الحميد بن جعفر عن سعيد المقبري عن أبي الحويرث : أنه سمع الحكم بن ميناء Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لعمر : اجمع لي من ها هنا من قريش فجمعهم ثم قال : يا رسول الله أتخرج إليهم أم يدخلون ؟ قال : بل أخرج إليهم فخرج فقال : يا معشر قريش هل فيكم غيركم ؟ قالوا : لا إلا بنو أخواتنا قال : ابن أخت القوم منهم ثم قال : يا معشر قريش اعلموا أن أولى الناس بالنبي المتقون فانظروا لا يأتي الناس بالأعمال يوم القيامة وتأتون بالدنيا تحملونها فأصد عنكم بوجهي ثم قرأ { إن أولى الناس بإبراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين آمنوا والله ولي المؤمنين } [ آل عمران : 68 ] K إسناده ضعيف لإرساله

حضرت حکم بن میناء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے کہا: میرے لیے یہاں پر قریش کے لوگوں کو جمع کرو ۔ حضرت عمر نے جمع کیا۔ پھر عرض کی : یارسول اللہ! کیا آپ ان کی طرف نکلیں گے یا داخل ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلکہ میں ان کی طرف نکلوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے۔ فرمایا: اے قریش کے گروہ! کیا تم میں اور کوئی بھی ہے؟ انہوں نے عرض کی : نہیں! مگر ہماری بہنوں کے بیٹے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قوم کی بہن کا بیٹا انہیں لوگوں میں شامل ہوتا ہے ۔ پھر فرمایا: اے قریش کے گروہ! جان لو! بے شک اپنے نبی کے قریب متقی ہوں گے‘ ایسا نہ ہو لوگ قیامت کے دن اپنے اعمال کے ساتھ آئیں اور تم دنیا کے ساتھ آؤ‘ اس کو اٹھائے ہوئے‘ میں تم کو اپنی رضا کے لیے روکتا ہوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت کریمہ پڑھی: ’’ بے شک ابراہیم علیہ السلام کے قریب وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے ان کی اتباع کی اور اس نبی کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے‘‘۔

الحكم بن ميناء ← أبي الحويرث أنه ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad al-Abbas bin Merdas al-Salami › Chapter · Hadith 1579

مسند أبي يعلى · مسند عمير بن سعد ‹ مسند عمير بن سعد · حديث 1580

1580 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا حماد بن سلمة عن أبي سنان عن أبي طلحة الخولاني قال Y أتينا عمير بن سعد في نفر من أهل فلسطين وكان يقال : نسيج وحده فقعدنا على دكان له عظيم في داره فقال لغلامه : يا غلام أورد الخيل قال : وفي الدار تور من حجارة قال : فأوردها فقال : أين فلانة ؟ قال : هي جربة تقطر دما ـ أو قال : تقطر ماء شك أبو إسحاق ـ قال : أوردها فقال أحد القوم : إذا تجرب الخيل كلها قال : أوردها فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ألم تر إلى البعير من الإبل كيف يكون بالصحراء ثم يصبح في كركرته ـ أو مراقه ـ نكتة لم تكن قبل ذلك فمن أعدىالأول ؟ K إسناده ضعيف

حضرت ابوطلحہ خولانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس فلسطین والوں کے ساتھ ایک گروہ بن کر آئے اس کو نسیج وحدہ کہا جاتا تھا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم ان کے گھر میں ایک بڑی دکان پر بیٹھے‘ انہوں نے اپنے غلام سے کہا: اے غلام ! گھوڑا لا! ان کے گھر میں پتھر کا لوٹا تھے‘ اس سے انہوں نے کہا: اس کو بھی لاؤ! انہوں نے فرمایا: فلاں اونٹنی کہاں ہے؟ ان کے غلام نے عرض کی : اس کو خارش پڑی ہوئی ہے‘ اس سے خون بہہ رہا ہے ۔ یا فرمایا: خون بہہ رہا ہے ۔ ابو اسحاق کو شک ہے‘ عمیر نے فرمایا: اس کو بھی لاؤ ۔ قوم میں سے ایک نے کہا: اس وقت سارے گھوڑوں کو خارش لگ جائے گی۔ آپ نے فرمایا: اس کو بھی لاؤ! کیونکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیماری کی چھوت اور فال اور مقتول کے سر سے پرندے کا نکلنا کوئی چیز نہیں ہے‘ کیا تم نے دیکھا نہیں ان اونٹوں کو جو صحرا میں چرتے ہیں جو صبح گھومتے رہتے ہیں یا اس کے پیٹ میں ایک سوراخ ہوتا ہے اس سے پہلے نہیں ہوتا ہے‘ تو پہلے کو کس نے لگایا ہے؟

أبي طلحة الخولاني ← أَبِي سِنَانٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Umair bin Saad › Chapter · Hadith 1580

مسند أبي يعلى · مسند الحارث بن وقيش ‹ مسند الحارث بن وقيش · حديث 1581

1581 - حدثنا صالح بن حاتم بن وردان حدثنا يزيد ابن زريع حدثنا داود بن أبي هند عن عبد الله بن قيس عن الحارث بن وقيش قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلمين يموت بينهما أربعة إلا أدخلهما الله الجنة بفضل رحمته قال رجل : يا رسول الله وثلاثة : قال : وثلاثة قال : واثنان ؟ قال : واثنان قال : وإن من أمتي من يدخل بشفاعته أكثر من مضر

حضرت حارث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سے نہیں ہیں‘ دو مسلمان جن کے چار مر جائیں تو اللہ تعالیٰ دونوں کو اپنے فضل سے جنت میں داخل کرے گا۔ ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! تین؟ فرمایا: تین بھی ۔ اس نے عرض کی : دو؟ فرمایا: دو بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت سے جو اکثر شفاعت سے جنت میں داخل ہوں گے وہ زیادہ قبیلہ مضر کی وجہ سے داخل ہوں گے۔

الحارث بن وقيش ← عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يزيد ابن زريع ← صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad al-Harith bin Waqish › Chapter · Hadith 1581

مسند أبي يعلى · حبة بن حابس التميمي ‹ حبة بن حابس التميمي · حديث 1582

1582 - حدثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي قال : حدثنا عبد الصمد حدثنا حرب حدثني يحيى قال : حدثني حبة بن حابس التميمي أن أباه أخبره Y أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا شيء في الهام : والعين حق وأصدق الطير الفأل

یحییٰ فرماتے ہیں کہ مجھے حبہ بن حابس تمیمی نے حدیث بیان کی‘ بے شک ان کے باپ نے خبر دی، انہوں کو فرماتے ہوئے سنا: ھام میں کوئی شی نہیں، نظر برحق ہے سب سے سچی شگون وہ قولیا فعل ہے جس سے اچھے نتیجے کی امید ہو۔ (فائدہ: زمانۂ جاہلیت میں عربوں کے عقیدہ کے مطابق مقتول کے سر سے ایک پرندہ نکل کر ’’سقونی‘ اسقونی ‘‘ کہتا ہے حتٰی کہ اس مقول کا بدلہ لے لیا جائے۔ از معجم الوسیط صفحہ 1214)۔

لا شيء في الهام والعين حق وأصدق الطير الفأل ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَّهُ ← حبة بن حابس التميمي أن أباه ← يَحْيَى ← حَرْبٌ ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Quba bin Habis al-Tamimi › Chapter · Hadith 1582

مسند أبي يعلى · الفلتان بن عاصم ‹ الفلتان بن عاصم · حديث 1583

1583 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا عبد الواحد بن زياد حدثنا عاصم بن كليب يعني عن الفلتان بن عاصم قال Y كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فأنزل عليه وكان إذا أنزل عليه دام بصره مفتوحة عيناه وفرغ سمعه وقلبه لما يأتيه من الله قال : فكنا نعرف ذلك منه فقال للكاتب : اكتب : { لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون في سبيل الله } [ النساء : 95 ] قال : فقام الأعمى فقال : يا رسول الله ما ذنبنا ؟ فأنزل الله فقلنا للأعمى : إنه ينزل على النبي صلى الله عليه و سلم فخاف أن يكون ينزل على شيء من أمره فبقي قائما يقول : أعوذ بغضب رسول الله : قال : فقال النبي صلى الله عليه و سلم للكاتب : اكتب : { غير أولي الضرر } [ النساء : 95 ]

حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل دیکھتے رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں، آپ کے کان اور دل اللہ عزوجل کی طرف سے آنے والی وحی کی طرف متوجہ ہو جاتے‘ ہم اس سے پہچان لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کا تب وحی سے کہا:لکھو ’’لا يستوى القاعدون الىٰ آخره‘‘ (النساء: ۹۵) حضرت ابن اُم مکتوم کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا کیا گناہ ہے؟ اللہ نے جو اتارا ہے؟ ہم نے ابن مکتوم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی اُتری ہے ڈر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس معاملہ میں کوئی وحی اتر جائے۔ وہ کھڑا رہ گیا اور عرض کرتا رہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کاتب سے فرمایا: لکھو! ’’غير اولى الضرر‘‘ 66 (النساء:۹۵)۔

الفلتان بن عاصم ← عاصم بن كليب يعني ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · Feltan bin Asim › Chapter · Hadith 1583

مسند أبي يعلى · مسند معن بن نضله ‹ مسند معن بن نضله · حديث 1584

1584 - حدثنا أبو موسى إسحاق بن موسى الأنصاري حدثنا محمد بن معن حدثني جدي محمد بن معن عن أبيه معن بن نضله Y أن نضلة لقي رسول الله صلى الله عليه و سلم بمرين ومعه شوائل له فحلب لرسول الله صلى الله عليه و سلم في إناء فشرب رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم شرب من إناء واحد ثم قال : يا رسول الله والذي بعثك بالحق إن كنت لأشرب سبعة فما أشبع وما أمتلىء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المؤمن يشرب معى في واحد وإن الكافر يشرب في سبعة أمعاء K إسناده حسن

حضرت نضلہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرین کے مقام پر ملے۔ ان کے ساتھ کم دودھ دینے والی اونٹنیاں بھی تھیں ۔انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک برتن میں دودھ نکالا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نوش فرمایا۔ پھر انہوں نے ایک ہی برتن سے پیا‘ پھر عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اگر میں سات مرتبہ پیتا ہوں میں سیر نہیں ہوتا‘ میرا پیٹ نہیں بھرتا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن ایک آنت سے پیتا ہے اور کافر سات آنتوں سے پیتا ہے۔

جدي محمد بن معن ← محمد بن معن ← أبو موسى إسحاق بن موسى الأنصاري

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Maan bin Nidalh › Chapter · Hadith 1584

مسند أبي يعلى · مسند معن بن نضله ‹ مسند معن بن نضله · حديث 1585

1585 - أخبرنا أبو يعلى حدثناه ابن المديني بإسناده Y نحوه

امام ابو یعلیٰ فرماتے ہیں: ہم کو ابن مدینی نے اپنی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔

ابن المديني بإسناده نحوه ← أَبُو يَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Maan bin Nidalh › Chapter · Hadith 1585

مسند أبي يعلى · مسند وابصة بن معبد ‹ مسند وابصة بن معبد · حديث 1586

1586 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا حماد بن سلمة عن أبي عبد السلام عن أيوب بن عبد الله بن مكرز عن وابصة بن معبد الأسدي قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أريد أن لا أدع شيئا من البر والإثم إلا سألته فأتيته في عصابة من الناس يستفتونه فجعلت أتخطاهم فقالوا : إليك يا وابصة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت دعوني أدنو من رسول الله صلى الله عليه و سلم فإنه أحب الناس إلي أدونو منه قال : دعوا وابصة ادن يا وابصة استفت قلبك واستفت نفسك واستفت قلبك واستفت نفسك البر ما اطمأنت إليه النفس وأطمأن إليه القلب والإثم ما حاك في النفس وتردد في الصدر وإن أفتاك الناس وأفتوك ثلاثا K إسناده ضعيف

حضرت وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ میں چاہتا تھا کہ آج میں نیکی اور گناہ کے متعلق کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا مگر اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھوں گا ۔ میں لوگوں کے ایک گروہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتوے پوچھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنے کے لیے میں آنکھیں اِدھر اُدھر پھیرنے لگا۔ انہوں نے کہا: اے وابصہ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھو! میں نے کہا: مجھے چھوڑو! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاؤں۔ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاؤں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وابصہ کو چھوڑ دو! اے وابصہ ! قریب ہو! اپنے دل سے فتویٰ لے لو‘ اپنے نفس سے پوچھ لو‘ نیکی وہ ہے جس پر تیرا دل مطمئن ہو اور تیرا نفس مطمئن ہو۔ گناہ وہ ہے جو تیرے دل پر کھٹکے اور دل بے قرار ہو۔ اگرچہ لوگ تجھے اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیں‘ تین مرتبہ آپ نے فرمایا۔

أُرِيدُ ← أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيِّ ← أيوب بن عبد الله بن مكرز ← أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad and Ibsa bin Maabad › Chapter · Hadith 1586

مسند أبي يعلى · مسند وابصة بن معبد ‹ مسند وابصة بن معبد · حديث 1587

1587 - حدثنا علي بن حمزة المعولي حدثنا حماد ابن سلمة عن الزبير أبي عبد السلام عن أيوب بن عبد الله عن وابصة الأسدي قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أريد أن لا أدع شيئا من البر والإثم إلا سألته عنه فأتيته وحوله عصابة من المسلمين يستفتونه فجلعت أتخطاهم إليه فقالوا : إليك يا وابصة فقلت لهم : دعوني أدنو منه فإنه أحب الناس إلي أن أدنو منه فقال : دعوا وابصة ادن يا وابصة ادن يا وابصة فدنوت فجلست بين يديه فقال لي : يا وابصة أتسألني أو أخبرك ؟ قلت : بل أخبرني يا رسول الله قال : جئت تسألني عن البر والإثم ؟ قلت : نعم فجمع أنامه ثم جعل ينكت بهن في صدري ويقول : يا وابصة استفت قلبك واستفت نفسك استفت قلبك واستفت نفسك البر ما اطمأنت إليه النفس والإثم ما حاك في الصدور وإن أفتاك الناس وأفتوك ثلاث مرات K إسناده ضعيف

حضرت وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ میں چاہتا تھا کہ آج میں نیکی اور گناہ کے متعلق کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا مگر اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھوں گا ۔جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ایک گروہ کے درمیان تشریف فرما تھے‘ وہ آپ سے پوچھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھنے کے لیے میں آنکھیں اِدھر اُدھر پھیرنے لگا‘ انہوں نے کہا: اے وابصہ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھو! میں نے کہا: مجھے چھوڑو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاؤں۔ کیونکہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو جاؤں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وابصہ کو بلاؤ! اے وابصہ ! قریب ہو! اے وابصہ ! اور قریب ہو جا! پس میں قریب ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جا بیٹھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے وابصہ ! تم مجھ سے سوال کرو گے یا میں تمہیں بتاؤں؟ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ ارشاد فرمائیں! آپ نے فرمایا: تُو میرے پاس نیکی اور گناہ کے بارے پوچھنے آیا ہے‘ میں نے عرض کی: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کرنے کے بعد میرے سینے میں مارا اور فرمانے لگے: اے وابصہ اپنے دل سے فتویٰ لے لو اپنے نفس سے پوچھ لو‘ نیکی وہ ہے جس پر تیرا دل مطمئن ہو اور تیرانفس مطمئن ہو‘ گناہ وہ ہے جو تیرے دل پہ کھٹکے اور دل بے قرار ہو۔ اگرچہ لوگ تجھے اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیں‘ تین مرتبہ آپ نے فرمایا۔

وابصة الأسدي ← أيوب بن عبد الله ← الزُّبَيْرِ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ ← حماد ابن سلمة ← عَليّ بن حَمْزَة المعولي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad and Ibsa bin Maabad › Chapter · Hadith 1587

مسند أبي يعلى · مسند وابصة بن معبد ‹ مسند وابصة بن معبد · حديث 1588

1588 - حدثنا أبو عبيدة بن فضيل بن عياض حدثنا مالك بن سعير حدثنا السري بن إسماعيل عن الشعبي عن وابصة بن معبد قال Y انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم ورجل يصلي خلف القوم فقال : يا أيها المصلي وحده ألا تكون وصلته صفا فدخلت معهم أو اجتررت رجلا إليك أن ضاق بكم المكان ؟ أعد صلاتك فإنه لا صلاة لك K إسناده ضعيف

حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہوتے ہی ایک آدمی کو دیکھا وہ قوم کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے نمازی اکیلے نماز پڑھنے والے کیا تو آگے والی صف میں شامل نہیں ہو سکتا تھا‘ ان کے ساتھ شریک ہو جا تا‘ یا اگلی صف سے آدمی کو پیچھے کھینچ لیتا اگر آگے جگہ تنگ تھی‘ اپنی نماز دوبارہ لوٹا‘ تیری نماز نہیں ہوئی۔

انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم ورجل يصلي خلف القوم ← وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← السري بن اسماعيل ← مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad and Ibsa bin Maabad › Chapter · Hadith 1588

مسند أبي يعلى · مسند وابصة بن معبد ‹ مسند وابصة بن معبد · حديث 1589

1589 - حدثنا عمرو الناقد حدثنا عمرو بن عثمان الكلابي الرقي حدثنا أصبغ بن محمد عن جعفر بن برقان عن شداد مولى عياض عن وابصة ـ قال أبو عثمان عمرو : يعني ابن معبد إن شاء الله ـ Y أنه كان يقوم في الناس يوم الأضحى أو يوم الفطر فيقول : إني شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع وهو يقول : أي يوم هذا ؟ قال الناس : يوم النحر قال : فأي شهر هذا ؟ ثم قال : أي بلد هذا ؟ قالوا : هذه البلدة قال : فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا إلى يوم تلقونه ثم قال : اللهم هل بلغت يبلغ الشاهد الغائب . قال وابصة : نشهد عليكم كما أشهد علينا K إسناده ضعيف

حضرت وابصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو عثمان بن معبد نے کہا: ان شاء اللہ! وہ لوگوں کے ساتھ عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن شریک ہوں گے‘ فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے دن حاضر تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ دسویں ذوالحجہ کا دن ہے‘ فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ پھر فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ مکہ مکرمہ ہے‘ فرمایا: تمہارے خون اور تمہارے اموال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر حرام ہیں‘ اس دن کی طرح اور اس مہینہ کی طرح اور اس شہر کی طرح‘ مرنے تک ۔ پھر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا! حاضر غائب کو یہ پیغام پہنچا دے۔ حضرت وابصہ نے کہا: ہم آپ پر گواہ ہیں جس طرح آپ ہم پر گواہ ہیں۔

أبو عثمان عمرو يعني ابن معبد ← وَابِصَةَ ← شَدَّاد مولى عِيَاض، ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← أصبغ بن محمد ← عمرو بن عثمان الكلابي الرقي ← عَمْرٌو النَّاقِدُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad and Ibsa bin Maabad › Chapter · Hadith 1589

chevron_left Previous
1…599600601…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter