Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عمرو بن مرة ‹ مسند عمرو بن مرة · حديث 1566

1566 - حدثنا زهير بن حرب حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن علي بن الحكم قال : حدثني أبو حسن عن عمرو بن مرة قال : قلت لمعاوية Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من أمير ولا وال يغلق بابه دون ذوي الحاجة والخلة والمسكنة إلا أغلق الله أبواب السماء دون حاجته ومسكنته

حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت معاویہ سے کہا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو حکمران اپنی عوام پر ضرورت اور دوستی کے دروازے بند کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات آسمان کے دروازے اس پر محتاجی اور دوستی کے بند کر دیتا ہے۔ حضرت معاویہ نے سن کر ایک آدمی کو لوگوں کی ضرورت پر مقرر کر دیا تھا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← قلت لمعاوية ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبُو حَسَنٍ» ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ammar ibn Marra › Chapter · Hadith 1566

مسند أبي يعلى · مسند عمرو بن مرة ‹ مسند عمرو بن مرة · حديث 1567

1567 - حدثنا زهير بن حرب حدثنا الحسن بن موسى حدثنا ابن لهيعة حدثنا الربيع بن سبرة عن عمرو بن مرة الجهني قال Y كنت جالسا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : من ها هنا من معد فليقم قال : فأخذت ثوبي لأقوم قال : اقعد ثم قال الثانية فقلت : ممن أنا يا رسول الله ؟ قال : من حمير K إسناده ضعيف

حضرت عمرو بن مرہ الجہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو یہاں قبیلہ معد سے ہو‘ وہ کھڑا ہو جائے ۔ میں نے اپنا کپڑا پکڑا تاکہ کھڑا ہو جاؤں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا۔ پھر دوسری مرتبہ فرمایا کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں کن سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمیر سے۔

الثَّانِيَةَ. فَقُلْتُ: مِمَّنْ ← «اقْعُدْ» ثُمَّ ← فَأَخَذْتُ ثَوْبِي لأَقُومَ. ← من ها هنا من معد فليقم ← كنت جالسا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ الْجُهَنِيَّ ← الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ammar ibn Marra › Chapter · Hadith 1567

مسند أبي يعلى · مخول ‹ مخول · حديث 1568

1568 - حدثنا محمد بن عباد المكي حدثنا محمد ابن سليمان بن مسمول قال : سمعت القاسم بن مخول البهزي ثم السلمي يقول Y سمعت أبي ـ وكان قد أدرك الجاهلية والإسلام ـ يقول : نصبت حبائل لي بالأبواء فوقع في حبل منها ظبي فأفلت فخرجت في إثره فوجدت رجلا قد أخذه فتنازعنا فيه فتساوقنا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجدناه نازلا بالأبواء تحت شجرة يستظل بنطع فاختصمنا إليه فقضى به بيننا شطرين . قلت : يا رسول الله نلقى الإبل وبها لبن وهي مصراة ونحن محتاجون قال : ناد صاحب الإبل ثلاثا فإن جاء وإلا فاحلل صرارها ثم اشرب ثم صر وأبق للبن دواعيه . قلت : يا رسول الله الضوال ترد علينا هل لنا أجر أن نسقيها ؟ قال : نعم في كل ذات كبد حرى أجر ثم أنشأ رسول الله صلى الله عليه و سلم يحدثنا قال : سيأتي على الناس زمان خير المال فيه غنم بين المسجدين تأكل الشجر وترد الماء يأكل صاحبها من رسلها ويشرب من ألبانها ويلبس من أصوافها ـ أو قال : أشعارها ـ والفتن ترتكس بين جراثيم العرب والله ما تعبؤون يقولها رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاثا . قلت : يا رسول الله أوصني : قال : أقم الصلاة وآت الزكاة وصم رمضان وحج البيت واعتمر وبر والديك وصل رحمك وأقر الضيف وأمر بالمعروف وانه عن المنكر وزل مع الحق حيث زال

حضرت محمد بن سلیمان بن مسمول فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن مخول البہزی‘ پھر سلمی کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ انہوں نے جاہلیت اور اسلام کا زمانہ پایا ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ مقام ابواء پر جال لگایا تھا‘ اس حال میں ہرن پھنسا‘ وہ اس سے نکلا تو میں اس کے پیچھے نکلا‘ میں نے ایک آدمی کو پایا کہ اس نے اسے پکڑا ہوا تھا‘ دونوں اس ہرن کے متعلق جھگڑ نے لگے‘ ہم دونوں اپنا معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر چلے تو ہم نے آپ کو مقام ابواء میں ایک سایہ دار درخت کے نیچے چمڑے میں لیٹے ہوئے پایا‘ ہم نے آپ کی بارگاہ میں جھگڑا پیش کیا تو آپ نے ہمارے درمیان آ دھے آدھے کا فیصلہ کیا۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ! ہم کو اونٹ ملتے ہیں کہ ان کے تھنوں میں دودھ روکا ہوا ہوتا ہے ہم کو دودھ کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا: اونٹ کے مالک کو تین مرتبہ پکارو! اگر آ جائے تو اجازت لے لو ورنہ اس کا دودھ دوھ لو‘ پھر اس کو پیو اور کچھ دودھ ان کے تھنوں میں رہنے دو میں نے عرض کی: یارسول اللہ ! ہم پر ایسی اشیاء آتی ہیں جو پیاسی ہوتی ہیں کیا ہمارے لیے ثواب ہے کہ ہم ان کو پانی پلائیں؟ آپ نے فرمایا: ہر تازہ کلیجی میں ثواب ملے گا (یعنی ہر جان دار شی کو سکون دینے سے‘ یعنی کھلانے پلانے کے ساتھ ثواب ملے گا) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو حدیث بیان کرنے لگے کہ عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کے لیے دو مسجدوں کے درمیان بہترین بال بکریاں ہوں گی‘ ان کو کھانے کے لیے درخت اور پینے کے لیے پانی دیا جائے گا‘ اس کا مالک بہت زیادہ (یعنی پوری بکری ) کھائے گا‘ اس کا دودھ پئے گا اور اس کا صوف پہنے گا۔ یا فرمایا: بال پہنے گا اور فتنے عرب کے کیڑوں کے درمیان سے اللہ کی قسم! وہ تھکیں گے نہیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تین مرتبہ فرمایا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! مجھے وصیت کریں! آپ نے فرمایا: تو نماز قائم کر اور زکوٰۃ ادا کر‘ رمضان کے روزے رکھ‘ بیت اللہ کا حج کر اور عمرہ کر‘ اپنے والدین سے نیکی کر‘ صلہ رحمی کر‘ مہمان نوازی کر‘ نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے اور ہمیشہ حق کے ساتھ رہ جہاں بھی ہو۔

أَبِيَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالْإِسْلَامَ ← الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ* ثُمَّ السُّلَمِيَّ، ← محمد ابن سليمان بن مسمول ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Makhol › Chapter · Hadith 1568

مسند أبي يعلى · مسند عم أبي حرة الرقاشي ‹ مسند عم أبي حرة الرقاشي · حديث 1569

1569 - حدثنا عبد الأعلى بن حماد حدثنا حماد عن علي بن زيد عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال Y كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه و سلم في أوسط أيام التشريق في حجة الوداع فقال فيما يقول : يا أيها الناس إن كل ربا موضوع إن أول ربا يوضع ربا العباس بن عبد المطلب لكم رؤوس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون K إسناده ضعيف

حضرت ابو حرہ الرقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں ایام تشریق کے وسط میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑی ہوئی تھی، آپ نے اپنے ارشادات میں فرمایا: اے لوگو! ہر سود ختم ہے‘ بے شک سب سے پہلے عباس بن عبدالمطلب کا سود‘ ختم کیا جاتا ہے‘ تمہارے لیے تمہارے اموال کے حصوں سے‘ اصل زر ہے‘ نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔

عَمِّہٖ ← أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Hurra Al-Raqashi › Chapter · Hadith 1569

مسند أبي يعلى · مسند عم أبي حرة الرقاشي ‹ مسند عم أبي حرة الرقاشي · حديث 1570

1570 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا حماد عن علي ابن زيد عن أبي حرة الرقاشي عن عمه Y أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه K إسناده ضعيف

حضرت ابو حرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا مال کسی دوسرے مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے مگر جب وہ اپنی خوشی سے دے ۔

عَمِّہٖ ← أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ ← علي ابن زيد ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Hurra Al-Raqashi › Chapter · Hadith 1570

مسند أبي يعلى · الحارث الأشعري ‹ الحارث الأشعري · حديث 1571

1571 - حدثنا هدبة بن خالد حدثنا أبان بن يزيد حدثنا يحيى بن أبي كثير أن زيدا حدثه أن أبا سلام حدثه أن الحارث الأشعري حدثه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله أمر يحيى بن زكريا بخمس كلمات يعمل بهن ويأمر بني إسرائيل يعملون بهن وإن عيسى بن مريم قال له : إن الله أمرك بخمس كلمات تعمل بهن وتأمر بهن بني إسرائيل يعلمون بهن فإما أن تأمرهم وإما أن آمرهم ؟ قال : إنك إن تسبقني بهن خشيت أن أعذب أو يخسف بي قال : فجمع الناس في بيت المقدس حتى امتلأ وقعد الناس على الشرفات قال : فوعظهم : قال : إن الله أمرني بخمس كلمات أعمل بهن وآمركم أن تعلموا بهن : أولاهن أن تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وإن مثل من أشرك بالله كمثل رجل اشترى عبدا من خالص ماله بذهب أو رق قال : هذه داري وهذا عملي فاعلم وأد إلي فجعل يعمل ويؤدي إلى غير سيده فأيكم يسره أن يكون عبده كذلك ؟ وإن الله خلقكم ورزقكم فلا تشركوا به شيئا وأمركم بالصلاة فإذا صليتم فلا تلتفتوا وأمركم بالصيام وإن مثل ذلك كمثل رجل كانت معه صرة فيه مسك ومعه عصابة كلهم يعجبه أن يجد ريحها وإن الصيام أطيب عند الله من ريح المسك وآمركم بالصدقة وإن مثل ذلك كمثل رجل أسره العدو وقاموا إليه فأوثقوا يده إلى عنقه فقال : هل لكم أن أفدي نفسي منكم ؟ قال : فجعل يعطيهم القليل والكثير ليفك نفسه منهم وآمركم بذكر الله كثيرا وإن مثل ذلك كمثل رجل طلبه العدو سراعا في إثره حتى أتى على حصن حصين فأحرز نفسه فيه كذلك العبد لا يحرز نفسه من الشيطان إلا بذكر الله . وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وإنا آمركم بخمس أمرني الله بهن : الجماعة والسمع والطاعة والهجرة والجهاد في سبيل الله : فمن فارق الجماعة قيد شبر خلع الإسلام من رأسه إلا أن يرجع ومن دعا بدعوى الجاهلية فإنه من جثى جهنم قيل : وإن صام وصلى ؟ قال : وإن صلى وصام فادعوا بدعوى الله الذي سماكم المسلمين المؤمنين عباد الله K إسناده صحيح

حضرت حارث اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے یحییٰ بن زکریا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف پانچ کلمات کی وحی کی کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں‘ آپ نے ان کے بیان کرنے میں دیر کی‘ اس کے بعد اللہ عزوجل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف انہی کلمات کی وحی کی کہ ان کلمات کی تبلیغ کریں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے‘ آپ نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے آپ کو ان پانچ کلمات کے متعلق حکم دیا تھا کہ خود بھی اس پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان کلمات پر عمل کرنے کا حکم دیں کیا آپ نے بتائے ہیں یا میں بتاؤں؟ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے روح اللہ ! آپ نہ کریں! میں خوف کرتا ہوں کہ اگر آپ مجھ سے سبقت لے گئے تو مجھے دھنسا دیا جائے گا یا مجھے عذاب دیا جائے گا۔ بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ مسجد بھر گئی اور خود اونچی جگہ تشریف فرما ہوئے پھر ان کو خطبہ دیا اور فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے مجھے پانچ کلمات کی وحی کی ہے کہ خود بھی ان پر عمل کرنے کا اور بنی اسرائیل سے بھی عمل کروانے کا حکم دیا ہے‘ ان میں پہلا کلمہ یہ ہے کہ (1) اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنے کا بے شک اس کی مثال جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جو کسی غلام کو خریدے خالص اپنے مال سے سونے یا چاندی کے ساتھ پھر اس کو اپنے گھر میں ٹھہرائے اور کہے: تو کام کر اور اپنے کام کی مزدوری مجھے دے ۔ وہ غلام دوسرے آدمی کے لیے کام کرنا شروع کرے اپنے آقا کے علاوہ تو کیا تم میں سے کوئی آدمی اپنے غلام سے راضی ہو گا اس طرح کہ اللہ عزوجل نے تم کو پیدا کیا اور تم کو رزق دیا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ‘ جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو ادھر ادھر نہ دیکھو کیونکہ اللہ عزوجل کی رحمت اس آدمی کے چہرے کی طرف رہتی ہے جب تک وہ اِدھر اُدھر نہ دیکھے۔ (2) تم کو روزے رکھنے کا حکم دیتا ہے‘ روزے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کے پاس تھیلا ہو اور اس میں مشک خوشبو ہو تم میں سب اس کی خوشبو حاصل کرنے کو پسند کریں گے‘ روزے دار کے منہ کی بو اللہ عزوجل کے ہاں مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی ہے (3) تم کو صدقہ کا حکم دیتا ہے‘ صدقہ دینے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کو قید کر لیا گیا ہو اور اس کے پاؤں گردن کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں‘ اس کو لایا جائے تاکہ اس کی گردن اڑا دی جائے تو وہ ان کو کہنے لگے: کیا تمہارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم میں سے کوئی میری جان کا فدیہ دے وہ تھوڑا یا زیادہ سب کچھ دیدے یہاں تک کہ اتنا مال اکٹھا ہو جس سے اس کی جان کا فدیہ ہو جائے (4) اور میں تم کو اللہ کے ذکر کا حکم دیتا ہوں کہ تم کثرت سے اللہ کا ذکر کرو‘ اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کو اس کا دشمن تلاش کرے اور وہ تیزی سے اس کے پیچھے چلے وہ ایک قلعہ میں آ جائے اس میں آ کر اس نے اپنی جان کو بچا لیا تو اسی طرح بنده شیطان سے نجات اللہ کے ذکر سے حاصل کر سکتا ہے ۔

أَنَّ الْحَارِثَ الْأَشْعَرِيَّ ← أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ زَيْدًا، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Al-Harith al-Ash'ari › Chapter · Hadith 1571

مسند أبي يعلى · مسند أبي هبيرة الأنصاري ‹ مسند أبي هبيرة الأنصاري · حديث 1572

1572 - حدثنا هارون بن معروف حدثنا عبد الله بن وهب أخبرنا مخرمة عن أبيه عن سعيد بن نافع قال Y رآني أبو هبيرة الأنصاري صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أصلي الضحى حين طلعت الشمس فعاب ذلك علي ونهاني ثم قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تصلوا حتى ترتفع الشمس فإنها إنما تطلع في قرن شيطان

حضرت سعید بن نافع سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں مجھے ابو ہبیرہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی نے دیکھا اور میں چاشت کی نماز پڑھ رہا تھا جب سورج طلوع ہوا‘ پھر اس نے مجھ پر عیب لگایا اور مجھے منع کیا‘ پھر کہا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز نہ پڑھو حتٰی کہ سورج بلند ہو جائے،بے شک وہ طلوع ہوتا ہے شیطان کے دوسینگوں کے درمیان ہے ۔

رآني أبو هبيرة الأنصاري صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ، ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Hbira Ansari › Chapter · Hadith 1572

مسند أبي يعلى · مسند سعد مولى أبي بكر ‹ مسند سعد مولى أبي بكر · حديث 1573

1573 - حدثنا أبو موسى محمد بن المثنى حدثنا أبو داود حدثنا أبو عامر عن الحسن عن سعد مولى أبي بكر الصديق Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لأبي بكر : وكان سعد مملوكا له وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم تعجبه خدمته ـ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اعتق سعدا فقال أبو بكر : يا رسول الله ما لنا ها هنا غيره فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعتق سعدا أتتك الرجال أتتك الرجال K رجاله ثقات

حضرت سعد مولیٰ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا ( اس وقت جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام تھے ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی خدمت کو پسند کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد ۔ کو آزاد کر دیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ !ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد کو آزاد کر دے! تیرے پاس مرد آئیں گے ، تیرے پاس مرد آئیں گے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad Mawla Abi Bakr › Chapter · Hadith 1573

مسند أبي يعلى · مسند سعد مولى أبي بكر ‹ مسند سعد مولى أبي بكر · حديث 1574

1574 - حدثنا أبو موسى حدثنا أبو داود حدثنا أبوعامر عن الحسن عن سعد قال Y قربت بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم تمرا فجعلوا يقرنون فنهى رسول الله عليه وسلم عن القران K رجاله ثقات

حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھجوریں پیش کیں ۔ صحابہ کرام دو دو ملا کر کھانے لگے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوروں کو ملا کر کھانے سے منع فرمایا۔

سَعْدٍ، ← الْحَسَنِ، ← أبوعامرٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad Mawla Abi Bakr › Chapter · Hadith 1574

مسند أبي يعلى · مسند سعد مولى أبي بكر ‹ مسند سعد مولى أبي بكر · حديث 1575

1575 - حدثنا أبو هشام حدثنا معاذ بن هشام حدثنا أبي عن قتادة عن الحسن عن دغفل Y أن النبي صلى الله عليه و سلم توفي وهو ابن خمس وستين . عبيد مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھجوریں پیش کیں ۔ صحابہ کرام دو دو ملا کر کھانے لگے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوروں کو ملا کر کھانے سے منع فرمایا۔

دغفل ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← أبو هشام

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad Mawla Abi Bakr › Chapter · Hadith 1575

مسند أبي يعلى · مسند سعد مولى أبي بكر ‹ مسند سعد مولى أبي بكر · حديث 1576

1576 - حدثنا عبد الأعلى بن حماد حدثنا حماد ابن سلمة عن سليمان التيمي عن عبيد مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y إن امرأتين كانتا صائمتين فكانتا تغتابان الناس فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بقدح فقال لهما : قيئا فقاءتا قيحا ودما ولحما عبيطا ثم قال : إن هاتين صامتا عن الحلال وأفطرتا على الحرام K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ (مولیٰ رسول اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ )فرماتے ہیں کہ دو عورتیں روزہ کی حالت میں تھیں اور دونوں غیبت کر رہی تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا اور فرمایا: تم دونوں اس میں قے کرو۔ دونوں نے اس میں قے کی ۔ اس قے میں خون اور گوشت جما ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں نے حلال روزہ رکھا ہوا تھا‘ دونوں نے حرام سے افطار کیا ہے۔

سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← حماد ابن سلمة ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad Mawla Abi Bakr › Chapter · Hadith 1576

مسند أبي يعلى · أبو مالك الأشعري ‹ أبو مالك الأشعري · حديث 1577

1577 - حدثنا هدبة حدثنا أبان بن يزيد حدثني يحيى بن أبي كثير أن زيدا حدثه أن أبا سلام حدثه أن أبا مالك الأشعري حدثه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أربع في أمتي من أمر الجاهلية لا يتركونهن : الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة وقال : النائحة إذا لم تتب قبل موتها يقام يوم القيامة عليها سربال من قطران ودرع من جرب K إسناده صحيح

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے لوگ زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں نہیں چھوڑیں گے : (۱) حسب و نسب میں فخر کرنے کو نہیں چھوڑیں گے۔(۲) نسب میں طعن کرنے کو(۳) ستاروں کے ذریعے بارش مانگنے کو (۴) نوحہ کرنے سے۔ نوحہ کرنے والی جب تک توبہ نہیں کرے گی قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا اس حالت میں کہ ان پر تارکول کے کُرتے ہوں گے ۔

أَنَّ أَبَا مَالِکٍ الْأَشْعَرِيَّ ← أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ زَيْدًا، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Abu Malik Al-Ashari › Chapter · Hadith 1577

chevron_left Previous
1…598599600…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter