Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند أحمر ‹ مسند أحمر · حديث 1554

1554 - حدثنا زهير بن حرب حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثنا أيوب عن أبي قلابة قال Y كان الناس يشترون الذهب بالورق نسيئة ـ قال إسماعيل : أحسبه إلى العطاء . فأتى عليهم هشام بن عامر فنهاهم وقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن نبيع الذهب نسيئة وأنبأنا ـ أو قال : أخبرنا ـ أن ذلك هو الربا K إسناده صحيح

حضرت ابو قلابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ سونا چاندی کے بدلے خریدتے تھے ادھار ۔ حضرت اسماعیل فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ ان کے پاس ہشام بن عامر آئے پس اس‘ نے ان کو منع فرمایا اور فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ سونے کی بیع کی جائے ادھار‘ فرمایا یہ سود ہے ۔ ہم کو بتایا‘ یا فرمایا: ہم کو بتایا کہ یہ سور ہے۔

إسماعيل أحسبه إلى العطاء فأتى عليهم هشام بن عامر فنهاهم وقال ← كان الناس يشترون الذهب بالورق نسيئة ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ahmar › Chapter · Hadith 1554

مسند أبي يعلى · مسند أحمر ‹ مسند أحمر · حديث 1555

1555 - حدثنا أبوخيثمة حدثنا إسماعيل عن أيوب عن حميد بن هلال عن بعض أشياخهم قال : قال هشام بن عامر لجيرانه Y إنكم متخطون إلى رجال ما كانوا بأخص لرسول الله صلى الله عليه و سلم ولا أوعى لحديثه مني سمعت رسول الله صلى الله يقول : ما بين خلق آدم إلى أن تقوم الساعة خلق أكبر من الدجال

حضرت حمید بن ہلال اپنے بعض شیوخ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ہشام بن عامر نے اپنے پڑوسیوں سے فرمایا: تم ایسے لوگوں کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص نہیں ہیں‘ نہ اس کو مجھ سے زیادہ حدیث یاد ہے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے لے کر قیامت آنے تک جو فتنہ پیدا ہوتا ہے دجال سے بڑا فتنہ کوئی نہیں ہو گا۔

بعض أشياخهم ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ahmar › Chapter · Hadith 1555

مسند أبي يعلى · مسند أحمر ‹ مسند أحمر · حديث 1556

1556 - حدثنا زهير حدثنا أحمد بن إسحاق حدثنا عبد العزيز حدثنا أيوب عن حميد بن هلال عن رهط منهم : أبو الدهماء و أبو قتادة قال Y كنا نمر على هشام نأتي عمران بن حصين فقال ذات يوم : إنكم لتتجاوزونني إلى رجال ما كانوا بأخص لرسول الله صلى الله عليه و سلم مني ولا أعلم بحديثه مني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما بين خلق آدم إلى قيام الساعة خلق أكبر من الدجال K إسناده صحيح

حضرت حمید بن ہلال اپنے بعض شیوخ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ہشام بن عامر کے پاس سے گزرتے جبکہ ہم عمران بن حصین کے پاس آ رہے ہوتے تھے‘ ایک دن انہوں نے فرمایا: تم ایسے لوگوں کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص نہیں ہیں‘ نہ اس کو مجھ سے زیادہ حدیث یاد ہے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے لے کر قیامت آنے تک جو فتنہ پیدا ہوتا ہے‘ دجال سے بڑا فتنہ کوئی نہیں ہو گا۔

كنا نمر على هشام نأتي عمران بن حصين ← رهط منهم أبو الدهماء و أبو قتادة ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ahmar › Chapter · Hadith 1556

مسند أبي يعلى · مسند أحمر ‹ مسند أحمر · حديث 1557

1557 - حدثنا زهير حدثنا أبو عامر العقدي عن شعبة عن يزيد الرشك عن معاذة عن هشام بن عامر الأنصاري قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يحل لمسلم أن يصارم مسلما فوق ثلاث وإنهما ناكبان عن الحق ما كان على صرامهما وإن أولهما فيئا يكون في سبقه بالفيء كفارة له وإن سلم عليه فلم يقبل سلامه ردت عليه الملائكة ورد على الآخر الشيطان وإن ماتا على صرامهما لم يدخلا الجنة أو لم يجتمعا في الجنة K إسناده صحيح

حضرت ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ دیر تک گفتگو کرنا چھوڑ دے (اگر تین دن سے زیادہ چھوڑے تو ) وہ دونوں حق سے دور رہیں گے‘ ان دونوں میں سے جو پہلے دوسرے سے گفتگو کرے گا وہ پہل کرنا اس کے گناہ کا کفارہ ہو جائے گا‘ اگر پہل کرنے والے نے دوسرے کو سلام کیا اور اس نے اس کا سلام قبول نہ کیا تو اس کے سلام کا جواب فرشتے دیں گے اور جواب نہ دینے والے کو شیطان کو جواب دیتا ہے اگر دونوں ناراضگی کی حالت میں مرے تو دونوں جنت میں داخل نہ ہوں گے یا فرمایا: دونوں جنت میں جمع نہیں ہوں گے۔

لا يحل لمسلم أن يصارم مسلما فوق ثلاث وإنهما ناكبان ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ← مُعَاذَةَ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ahmar › Chapter · Hadith 1557

مسند أبي يعلى · مسند أحمر ‹ مسند أحمر · حديث 1558

1558 - حدثنا زهير حدثنا عبد الصمد حدثنا أبي حدثنا أيوب عن حميد بن هلال عن أبي الدهماء عن هشام بن عامر قال Y شكوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ما بهم من الفرح فقال : احفروا وأحسنوا وأوسعوا وادفنوا الاثنين والثلاثة في القبر وقدموا أكثرهم قرآنا . قال : فمات أبي قدم بين يدي رجلين K إسناده صحيح

حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شکایت کی جو ان کو قرح سے تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھودو اور اچھی طرح کھودو اور وسیع کرو اور دو آدمیوں کو یا تین کو ایک قبر میں دفن کرو اور جس کو قرآن زیادہ آتا ہے اس کو پہلے رکھو۔ فرماتے ہیں: میرا والد فوت ہو گیا تو پس اسے دو آدمیوں کے درمیان پہلے رکھا گیا۔

هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الدَّهْمَاءِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ahmar › Chapter · Hadith 1558

مسند أبي يعلى · مسند أبي جمعة ‹ مسند أبي جمعة · حديث 1559

1559 - حدثنا عبد الغفار بن عبد الله حدثنا عبد الله ابن عطارد البصري عن الأوزاعي عن أسيد بن عبد الرحمن عن صالح بن جبير عن أبي جمعة قال Y تغديت مع النبي صلى الله عليه و سلم ومعنا أبو عبيدة ابن الجراح فقال له أبو عبيدة : يا رسول الله أحد خير منا ؟ أسلمنا معك وجاهدنا معك ؟ قال : نعم قوم يكونون من بعدي يؤمنون بي ولم يروني K إسناده ضعيف

حضرت ابو جمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبح کی اور ہمارے ساتھ ابو عبیدہ بن جراح تھے‘ پس ابو عبیدہ نے ان سے کہا: یارسول اللہ! ہم میں سے کوئی بہتر ہے ہم آپ پر اسلام لائے اور آپ کے ساتھ جہاد کیا۔ فرمایا: جی ہاں! ایک قوم میرے بعد ہو گی مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا۔

له أبو عبيدة ← معنا أبو عبيدة ابن الجراح ← تغديت مع النبي صلى الله عليه و سلم ← أبي جمعة ← صَالِحِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عبد الله ابن عطارد البصري ← عبد الغفار بن عبد الله

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Juma › Chapter · Hadith 1559

مسند أبي يعلى · مسند أبي جمعة ‹ مسند أبي جمعة · حديث 1560

1560 - حدثنا محمد بن عباد المكي حدثنا أبو سعيد مولى بني هاشم عن أبي خلف عن عبد الله بن عوف قال : سمعت أبا جمعة جنبذ بن سبع يقول Y قاتلت النبي صلى الله عليه و سلم أول النهار كافرا وقاتلت معه آخر النهار مسلما وكنا ثلاثة رجال وسبع نسوة وفينا أنزلت : { ولولا رجال مؤمنون ونساء مؤمنات } الآية [ الفتح : 25 ] K رجاله ثقات

حضرت عبداللہ بن عوف فرماتے ہیں کہ میں نے ابو جمعہ جنبذ بن سبع کوفر ماتے ہوئے سنا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دن کے اوّل حصہ میں کفر کی حالت میں آپ کے ساتھ لڑا مسلمان ہونے کی حالت میں‘ ہم تین مرد اور سات عورتیں تھے۔ یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی: ’’اگر مؤمن مرد اور مومنہ عورتیں نہ ہوتیں‘‘۔

أبا جمعة جنبذ بن سبع ← عبد الله بن عوف. ← أبي خَلَفٍ، ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Juma › Chapter · Hadith 1560

مسند أبي يعلى · مسند أبي جمعة ‹ مسند أبي جمعة · حديث 1561

1561 - حدثنا أبو عبيدة بن الفضيل بن عياض حدثنا أبو سعيد مولى بني هاشم حدثنا المسعودي عن عون بن عبد الله قال Y لقيت شيخا بالشام فقلت : أسمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا ؟ قال : نعم سمعته يقول : اللهم اغفر لنا وارحمنا K إسناده ضعيف

حضرت عون بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں کہ میں شام میں ایک شیخ سے ملا‘ پس میں نے کہا: کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے : اے اللہ ! ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما!

عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Juma › Chapter · Hadith 1561

مسند أبي يعلى · مسند أبي جمعة ‹ مسند أبي جمعة · حديث 1562

1562 - حدثنا الحسن بن حماد الكوفي حدثنا مسهر بن عبد الملك بن سلع أخبرني أبي قال Y قلت لعبد خير : كم أتى عليك قال : عشرون ومئة سنة قلت : هل تذكر من أمر الجاهلية شيئا ؟ قال : نعم ـ كنا ببلاد اليمن فجاءنا كتاب رسول الله صلى الله عليه و سلم يدعو الناس إلى خير واسع فكان ابي ممن خرج وأنا غلام فلما رجع أبي قال لأمي : مري بهذه القدر فلتراق للكلاب فإنا قد أسلمنا فأسلمي

حضرت مسہر بن عبدالملک بن سلع فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ میں نے اپنے غلام خیر سے کہا: آپ پر کتنے سال گزرے ہیں؟ فرمایا: ایک سو بیس سال! میں نے کہا: کیا آپ کو جاہلیت کے کاموں میں سے کوئی شی یاد ہے؟ اس نے عرض کی : جی ہاں! ہم یمن کے شہروں میں تھے‘ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط آیا‘ آپ لوگوں کو کھلی بھلائی کی طرف دعوت دیتے تھے‘ میرے والد نکلے‘ میں بچہ تھا‘ جب میرے والد واپس آئے تو میری والدہ نے کہا: اس ہنڈیا کے متعلق حکم دیا گیا کہ اس کو کتوں کے آگے بہا دو کیونکہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں‘ تو مسلمان ہو جا!

أَبِي ← مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ، ← الحسن بن حماد الكوفي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abi Juma › Chapter · Hadith 1562

مسند أبي يعلى · مسند عبد الرحمن بن سرجس ‹ مسند عبد الرحمن بن سرجس · حديث 1563

1563 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا عبد الواحد بن زياد حدثنا عاصم الأحول عن عبد الله بن سرجس قال Y رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأكلت معه خبزا ولحما ـ أو قال : ثريدا ـ فقلت : غفر الله لك يا رسول الله قال : ولك قلت لعبد الله بن سرجس : استغفر لك رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم ولك وتلا هذه الآية : { واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات } [ محمد : 19 ] . ثم قال : ثم درت حتى صرت خلفه فرأيت خاتم النبوة عند نغض كتفه اليسرى جمعا عليه خيلان K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روٹی یا گوشت کھایا یا ثرید کھائی۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے آپ کی امت کے گناہ معاف کرے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور تیرے بھی ! میں نے عبداللہ سے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے لیے معانی مانگی ہے ۔ حضرت عبداللہ نے کہا: جی ہاں! اور تیرے لیے بھی اور یہ آیت تلاوت کی: ’’ بخشش مانگیں اپنے لیے اور مؤمن مرد اور عورتوں کے گناہوں کی‘‘ (سورۃ محمد :۱۹) پھر میں آپ کے قریب ہوا یہاں تک کہ آپ کے پیچھے ہوا۔ میں نے مہر نبوت بائیں کندھے پر ابھری ہوئی دیکھی اس پر تل کے نشانات تھے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdul Rahman bin Sargus › Chapter · Hadith 1563

مسند أبي يعلى · مسند عبد الرحمن بن سرجس ‹ مسند عبد الرحمن بن سرجس · حديث 1564

1564 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا عبد العزيز بن المختار حدثنا عاصم الأحول حدثنا عبد الله بن سرجس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى أن يغتسل الرجل بفضل المرأة وتغتسل المرأة بفضل الرجل ولكن يشرعان فيه جميعا K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے لیکن دونوں اکٹھے کر لیں تو جائز ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdul Rahman bin Sargus › Chapter · Hadith 1564

مسند أبي يعلى · مسند عمرو بن مرة ‹ مسند عمرو بن مرة · حديث 1565

1565 - حدثنا عبد الأعلى بن حماد حدثنا حماد يعني ابن سلمة عن علي بن الحكم عن أبي حسن أن عمرو بن مرة قال لمعاوية Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من وال يغلق بابه دون ذوي الخلة والحاجة إلا أغلق الله أبواب السماء عن خلته ومسكنته

حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت معاویہ سے کہا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو حکمران اپنی عوام پر ضرورت اور دوستی کے دروازے بند کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات آسمان کے دروازے اس پر محتاجی اور دوستی کے بند کر دیتا ہے ۔

أَبِي حَسَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ammar ibn Marra › Chapter · Hadith 1565

chevron_left Previous
1…597598599…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter