Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · هبيب بن مغفل ‹ هبيب بن مغفل · حديث 1542

1542 - حدثنا هارون بن معروف حدثنا عبد الله بن وهب قال : وحدثنا عمرو بن الحارث عن يزيد بن أبي حبيب عن أسلم أبي عمران عن هبيب بن مغفل Y أنه رأى محمد بن علبة القرشي يجر إزاره فنظر إليه هبيب بن مغفل فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من وطئه خيلاء وطئه في النار K إسناده صحيح

حضرت حبیب بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے محمد بن علبہ القرشی کو دیکھا وہ اپنے تہبند کو لٹکائے ہوئے تھے۔ حضرت حبیب بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی طرف دیکھا۔فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تکبر سے اپنے تہبند کو روندا تو اس کو جہنم میں روندا جائے گا ۔

أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Abu Yaalaa · Habib bin Mughal › Chapter · Hadith 1542

مسند أبي يعلى · مسند أبي شهم ‹ مسند أبي شهم · حديث 1543

1543 - حدثنا بشر بن الوليد الكندي حدثنا يزيد بن عطاء عن بيان بن بشر عن قيس بن أبي حازم . عن أبي شهم ـ وكان بطالا ـ قال Y مرت بي جارية في بعض طرق المدينة فأهويت بيدي إلى خاصرتها فلما كان الغد أتى الناس رسول الله صلى الله عليه و سلم يبايعونه وأتيته فبسطت يدي لأبايعه فقبض يديه فقال : أنت صاحب الجبيذة أمس ؟ قال : قلت : يا رسول الله بايعني لا أعود أبدا فقال : فنعم إذا

حضرت اُبی شہم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو بے کار آدمی سمجھا جاتا تھا‘ فرماتے ہیں کہ میرے پاس مدینہ شریف کے بعض راستوں میں سے ایک لونڈی گزری‘ میں اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کی کمر کی طرف جھکا‘ جب صبح ہوئی تو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے آپ کی بیعت کرنے کے لیے‘ میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ میں آپ کی بیعت کروں تو آپ نے اپنا دست مبارک کھینچ لیا‘ آپ نے فرمایا: تو کل والا ہاتھ لگانے والا نہیں ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری بیعت کر لیں ! میں ہمیشہ کے لیے ایسا نہیں کروں گا ۔ آپ نے فرمایا اس وقت ٹھیک ہے۔

أبي شهم وكان بطالا ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ ← يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Shaham › Chapter · Hadith 1543

مسند أبي يعلى · مسند رافع بن مكيث ‹ مسند رافع بن مكيث · حديث 1544

1544 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن عثمان بن زفر عن بعض بني رافع ابن مكيث عن رافع بن مكيث Y وكان شهد الحديبية عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : حسن الملكة نماء وسوء الخلق شؤم K إسناده ضعيف

حضرت رافع بن مکیثرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں وہ حدیبیہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا: اچھے اخلاق آدمی کو بلند کرتا ہے اور بُرا اخلاق نحوست ہے۔

حسن الملكة نماء وسوء الخلق شؤم إسناده ضعيف ← النبي صلى الله عليه و سلم ← رافع بن مكيث وكان شهد الحديبية ← بعض بني رافع ابن مكيث ← عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Rafi bin Makith › Chapter · Hadith 1544

مسند أبي يعلى · مسند رافع بن مكيث ‹ مسند رافع بن مكيث · حديث 1545

1545 - حدثنا هدبة بن خالد حدثنا همام بن يحيى حدثنا قتادة عن سعيد بن المسيب عن عامر بن أبي أمية أخي أم سلمة عن أم سلمة قالت Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصبح جنبا ويصوم ولا يفطر K إسناده صحيح

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت جنبی ہوتے آپ روزہ رکھتے اور روزہ چھوڑتے نہ تھے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Rafi bin Makith › Chapter · Hadith 1545

مسند أبي يعلى · مسند رباح بن ربيع ‹ مسند رباح بن ربيع · حديث 1546

1546 - حدثنا سعيد بن عبد الجبار بالبصرة حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن الجزامي حدثنا أبو الزناد عن مرقع بن صيفي عن جده رباح بن ربيع قال Y كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزاة وعلى مقدمة الناس خالد بن الوليد فإذا امرأة مقتولة على الطريق يتعجبون من خلقها قد أصابتها المقدمة فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوقف عليها فقال : ها ما كانت هذه تقاتل ثم قال لرجل : أدرك خالدا فلا يقتلن ذرية ولا عسيفا K إسناده صحيح

حضرت مرقع بن صیغی اپنے دادا رباح بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ فرماتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے‘ لوگوں کے آگے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ ایک عورت راستے میں قتل کی ہوئی تھی‘ صحابہ کرام اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے‘ اس کو آگے والے صحابہ نے مارا تھا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ اس کے پاس ٹھہرے‘ آپ نے فرمایا: اس کو کس نے قتل کیا ہے؟ پھر ایک آدمی سے کہا: خالد کو پاؤ ۔ ( آپ نے فرمایا:) ہرگز کسی بچے اور خدمت گزار کو قتل نہ کیا جائے ۔

جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ ← مُرَقع بن صَيْفِي، ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← المغيرة بن عبد الرحمن الجزامي ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Rabah bin Rabee › Chapter · Hadith 1546

مسند أبي يعلى · مسند عفيف الكندي ‹ مسند عفيف الكندي · حديث 1547

1547 - حدثنا عبد الرحمن بن صالح حدثنا سعيد ابن خثيم الهلالي عن أسد بن وداعة البجلي عن ابن يحيى بن عفيف الكندي عن أبيه عن جده عفيف قال Y جئت في الجاهلية ‘لى مكة وأنا أريد أن أبتاع لأهلي من ثيابها وعطرها فأتيت العباس بن عبد المطلب وكان رجلا تاجرا فأنا عنده جالس حيث أنظر إلى الكعبة وقد حلقت الشمس في السماء فارتفعت فذهبت إذ جاء شاب فرمى ببصره إلى السماء ثم قام مستقبل القبلة ثم ألبث إلا يسيرا حتى جاء غلام فقام على يمينه ثم لم ألبث إلا يسيرا حتى جاءت امرأة فقامت خلفهما فركع الشاب فركع الغلام والمرأة فرفع الشاب فرفع الغلام والمرأة فقلت : يا عباس أمر عظيم ! فقال العباس : أمر عظيم ! تدري من هذا الشاب ؟ قلت : لا قال : هذا محمد بن عبد الله ابن أخي تدري من هذا الغلام ؟ هذا علي ابن أخي تدري من هذه المرأة ؟ هذه خديجة بنت خويلد زوجته إن ابن أخي هذا أخبرني أن ربه رب السماوات والأرض أمره بهذا الدين الذي هو عليه ولا والله ما على الأرض كلها أحد على هذا الدين غير هؤلاء الثلاثة K إسناده حسن

حضرت عفیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں زمانہ جاہلیت میں مکہ آیا۔ میں چاہتا تھا کہ میں اپنے گھر والوں کے لیے نئے کپڑے اور خوشبو خرید لوں ۔ میں حضرت عباس بن عبدالمطلب کے پاس آیا۔ حضرت عباس تاجر تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا۔ اس وقت میں کعبہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دیکھا کہ سورج نے آسمان میں حلقہ بنا لیا۔ پس وہ بلند ہوا تو میں گیا‘ اچانک ایک نوجوان آیا اس نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی ۔ پھر قبلہ شریف کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد ایک بچہ آیا وہ آپ کے دائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ پھر تھوڑی دیر بعد ایک عورت آئی۔ وہ ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی ۔ اس نو جوان نے رکوع کیا اور اس بچے اور عورت نے بھی رکوع کیا ۔ اس نوجوان نے رکوع سے سر اٹھایا‘ اس بچے اور عورت نے بھی سر اٹھایا‘ اس نو جوان نے سجدہ کیا‘ اس بچے اور عورت نے بھی سجدہ کیا۔ میں نے عرض کی : اے عباس! یہ عظیم کام ہے ۔ حضرت عباس نے کہا: یہ کام بہت بڑا ہے ۔ جانتے ہو یہ نو جوان کون ہے؟ میں نے عرض کی :نہیں! فرمایا: یہ نو جوان محمد بن عبداللہ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔ یہ بچہ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے میرے بھائی ابو طالب کا بیٹا ہے۔ یہ عورت خدیجہ بنت خویلد اس کی بیوی ہے یہ میرے بھائی کہتا ہے کہ اس کا رب تو زمین و آسمان کا رب اور اس کو اس دین کا حکم دیا ہے جس پر یہ ہے اور کوئی خدا نہیں ہے ۔ اللہ کی قسم اس کے ساتھ ان تین کے علاوہ اس دین پر کوئی نہیں ہے۔

جده عفيف ← أَبِيهِ ← ابن يحيى بن عفيف الكندي ← أسد بن وداعة البجلي ← سعيد ابن خثيم الهلالي ← عبد الرحمن بن صالح

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Afif Al-Kindi armrest › Chapter · Hadith 1547

مسند أبي يعلى · مسند قتادة بن النعمان ‹ مسند قتادة بن النعمان · حديث 1548

1548 - حدثنا أبو معمر الهذلي إسماعيل بن إبراهيم حدثنا إسماعيل بن جعفر عن مالك بن أنس عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن صعصعة عن أبيه عن أبي سعيد الخدري قال : أخبرني أخي قتادة بن النعمان Y أن رجلا قام في زمن النبي صلى الله عليه و سلم يقرأ من السحر : { قل هو الله أحد } [ الإخلاص : 1 ] يرددها لا يزيد عليها فلما أصبح أتى رجل النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إن فلانا قام الليلة فقرأ في السحر : { قل هو الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد } [ الإخلاص : 1 ] يرددها لا يزيد عليها ـ كأن الرجل يتقالها ـ قال النبي صلى الله عليه و سلم : والذي نفسي بيده إنها لتعدل ثلث القرآن K إسناده صحيح

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں سحری کے وقت سے قیام کرتا تھا وہ سحری کے وقت قل ھو اللہ احد بار بار پڑھتا تھا‘ اس کے علاوہ کوئی نہیں پڑھتا تھا‘ جب صبح ہوئی تو ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘ عرض کی یا رسول اللہ! فلاں آدمی رات کے وقت حالت قیام میں قل ھو اللہ احد الیٰ آخرہ بار بار پڑھتا ہے اور اس کے علاوہ کوئی نہیں پڑھتا‘ گویا وہ دس باقی سورتوں کے ثواب کو کم سمجھتا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اس سورۃ مبارک کا ثواب تعالیٰ قرآن کے ثلث کے برابر ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن صعصعة ← مالک بن أنس ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أبو معمر الهذلي إسماعيل بن إبراهيم

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Qatada bin Al-Numan › Chapter · Hadith 1548

مسند أبي يعلى · مسند قتادة بن النعمان ‹ مسند قتادة بن النعمان · حديث 1549

1549 - حدثنا يحيى بن عبد الله الحميد الحماني حدثنا عبد الرحمن بن سليمان بن غسيل عن عاصم بن عمر بن قتادة عن أبيه . يعني عن قتادة بن النعمان Y أنه أصيبت عينه يوم بدر فسالت حدقته على وجنته فأرادوا أن يقطعوها فسأل النبي صلى الله عليه و سلم فقال : لا : فدعا به فغمز حدقته براحته فكان لا يدرى أي عيينه أصيبت

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ان کی آنکھ پہ بدر کے دن (تیر) لگا‘ وہ بہہ پڑی‘ اس سے انہوں نے ارادہ کیا کہ اس کو کاٹ دیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی‘ اس کو اسی جگہ گاڑ دیا‘ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کو کس پر تکلیف ہے۔

جنته فأرادوا أن يقطعوها فسأل النبي صلى الله عليه و سلم ← قتادة بن النعمان أنه أصيبت عينه يوم بدر فسالت حدقته على ← أبيه يعني ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← عبد الرحمن بن سليمان بن غسيل ← يحيى بن عبد الله الحميد الحماني

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Qatada bin Al-Numan › Chapter · Hadith 1549

مسند أبي يعلى · مسند قتادة بن النعمان ‹ مسند قتادة بن النعمان · حديث 1550

1550 - حدثنا أبو عبد الرحمن الأذرمي حدثنا عبد العزيز بن عمران عن عبد الرحمن بن الحارث بن عبيد عن جده قال Y أصيبت عين أبي ذر يوم أحد فبزق فيها النبي صلى الله عليه و سلم فكانت أصح عينيه K إسناده ضعيف جدا

حضرت عبدالرحمٰن بن حارث بن عبید اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھ کو احد کے دن چوٹ آگئی‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب مبارک لگایا۔ وہ آنکھ اس سے زیادہ بہتر ہو گئی جس طرح پہلے والی آنکھ تھی ۔

جَدِّهِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ← أبو عبد الرحمن الأذرمي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Qatada bin Al-Numan › Chapter · Hadith 1550

مسند أبي يعلى · مسند معن بن يزيد ‹ مسند معن بن يزيد · حديث 1551

1551 - حدثنا عبد الأعلى بن حماد و عبد الرحمن ابن سلام وعدة قالوا : حدثنا أبو عوانة عن أبي الجويرية عن معن بن يزيد قال Y بايعت النبي صلى الله عليه و سلم أنا و أبي وجدي وخاصمت إليه فأفلجني وخطب على فأنكحني وقال معن : لا تحل غنيمة حتى تقسم على الناس جفة واحدة فإذا قسم حل لي أن أعطيك وهذا لفظ عبد الأعلى خاصة وليس في حديث غيره فإذا قسم أنا أعطيك K إسناده صحيح

حضرت معن بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اور میرے باپ اور دادا نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی‘ میں اپنا جھگڑا لے کر آپ کے پاس گیا تو آپ نے مجھے اپنے پاس داخل کیا اور میرے لیے نکاح کا پیغام بھیجا‘ اس کے بعد میرا نکاح کر دیا۔ حضرت معن نے فرمایا مال غنیمت حلال نہیں ہے یہاں تک کہ لوگوں پر تقسیم کیا جائے ایک ہی دفعہ جب تقسیم کیا جائے تو وہ میرے لیے حلال ہے تجھے دنیا کے لیے ۔ یہ لفظ خاص عبدالاعلیٰ کے ہیں‘ اس حدیث کے علاوہ میں نہیں ہے کہ جب وہ تقسیم کیا جائے گا تو میں تجھے دوں گا۔

و أبي وجدي وخاصمت إليه فأفلجني وخطب على فأنكحني ← بايعت النبي صلى الله عليه و سلم ← معن بن يزيد ← أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عبد الأعلى بن حماد و عبد الرحمن ابن سلام وعدة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Maan bin Yazid › Chapter · Hadith 1551

مسند أبي يعلى · مسند أحمر ‹ مسند أحمر · حديث 1552

1552 - حدثنا أبو موسى حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا عباد بن راشد قال : سمعت الحسن يقول : حدثنا أحمر Y صاحب النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن كنا لنأوي لرسول الله صلى الله عليه و سلم مما يجافي مرفقيه عن جنبيه إذا سجد K إسناده صحيح

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ ہم کو احمر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں کلائیوں کو کروٹ سے جدا رکھتے تھے جب سجدہ کرتے تھے۔

أحمر صاحب النبي صلى الله عليه و سلم ← الْحَسَنِ، ← عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ahmar › Chapter · Hadith 1552

مسند أبي يعلى · مسند أحمر ‹ مسند أحمر · حديث 1553

1553 - حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا سليمان بن المغيرة حدثنا حميد بن هلال عن هشام بن عامر قال Y جاءت الأنصار يوم أحد فقالوا : يا رسول الله بنا قرح وجهد فكيف تأمرنا ؟ قال : احفروا وأوسعوا واجعلوا الرجلين والثلاثة في القبر فقالوا : من نقدم ؟ قال : قدموا أكثركم قرآنا قال : فقدم أبي بين يدي اثنين من الأنصار ـ أو قال : واحد من الأنصار K إسناده صحيح

حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: انصار احد کے دن آئے‘ عرض کی : یا رسول اللہ! آپ کو زخم اور مشکلات پہنچی ہیں‘ اب ہم کو کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ سے تین نے فرمایا: کھودو اور وسیع کرو‘ دو دو‘ تین تین ایک قبر میں دفن کرو۔ عرض کی: پہلے کس کو رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو قرآن کا بڑا قاری ہو ۔ میرے باپ کو درمیان میں رکھا گیا دو انصار کے یا ایک انصار کے ۔

جاءت الأنصار يوم أحد فقالوا ← هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ahmar › Chapter · Hadith 1553

chevron_left Previous
1…596597598…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter