Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند جندب بن عبد الله البجلي ‹ مسند جندب بن عبد الله البجلي · حديث 1530

1530 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا حميد يعني الرؤاسي حدثني حسن بن صالح عن سماك بن حرب عن عكرمة عن ابن عباس قال Y من سلم عليك من خلق الله فاردد عليه وإن كان مجوسيا فإن الله يقول : { وإذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها أو ردوها } [ النساء : 86 ] K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو تجھ کو سلام کرے اللہ کی مخلوق میں سے اس کا جواب دو اگرچہ مجوسی ہی کیوں نہ ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اور جب تمہیں (مسلمانوں کی طرف سے) کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر ( لفظ کے ساتھ ) جواب دو یا وہی لوٹا دو ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ← حُمَيْدٌ يَعْنِي الرُّؤَاسِيَّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad grasshopper bin Abdullah Al-Bajali › Chapter · Hadith 1530

مسند أبي يعلى · مسند جندب بن عبد الله البجلي ‹ مسند جندب بن عبد الله البجلي · حديث 1531

1531 - حدثنا إسحاق حدثنا سالم بن نوح عن يونس عن الحسن Y { وإذا حييتم بتحية فحيوا بأحسن منها } [ النساء : 86 ] لأهل الإسلام { أو ردوها } على أهل الشرك K إسناده صحيح

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ کہ اللہ کا ارشاد ہے: ” جب تم میں سے کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دو اچھے طریقے سے‘‘ یہ اہل اسلام کے لیے ہے ’’یا پھر وہی لوٹا دو‘‘ یہ اہل شرک کے لیے ہے۔

يُونُسَ ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad grasshopper bin Abdullah Al-Bajali › Chapter · Hadith 1531

مسند أبي يعلى · مسند جندب بن عبد الله البجلي ‹ مسند جندب بن عبد الله البجلي · حديث 1532

1532 - حدثنا خلف بن هشام حدثنا أبو عوانة عن الأسود بن قيس عن جندب بن سفيان قال Y صلينا مع النبي صلى الله عليه و سلم ذات يوم فذبح ناس ضحاياهم قبل الصلاة فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم فرآهم قد ذبحوا قبل الصلاة قال : من كان ذبح أضحيته قبل الصلاة فليذبح ذبحا آخر ومن كان لم يذبح حتى صلينا فليذبح على اسم الله K إسناده صحيح

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دن ( عید الاضحیٰ ) کی نماز پڑھی بعض صحابہ کرام نے نماز سے پہلے قربانی کر دی جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا کہ وہ نماز سے پہلے ذبح کر رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز سے پہلے قربانی کی ہے وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے۔ جس نے قربانی نہیں کی یہاں تک کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھی وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔

جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خلف بن هشام،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad grasshopper bin Abdullah Al-Bajali › Chapter · Hadith 1532

مسند أبي يعلى · مسند جندب بن عبد الله البجلي ‹ مسند جندب بن عبد الله البجلي · حديث 1533

1533 - حدثنا خلف بن هشام حدثنا أبو عوانة عن الأسود عن جندب بن سفيان البجلي Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دميت إصبعه في بعض المشاهد فقال : ( هل أنت إلا إصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت ) ؟ K إسناده صحيح

حضرت جندب بن سفیان البجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض غزوات میں انگلی مبارک زخمی ہوئی‘ آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تو صرف ایک ہی انگلی تو ہے تو اللہ کی راہ میں زخمی ہوئی ہے‘ بتا! تجھے کیا تکلیف پہنچی ہے۔

جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ، ← الْأَسْوَدِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خلف بن هشام،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad grasshopper bin Abdullah Al-Bajali › Chapter · Hadith 1533

مسند أبي يعلى · مسند جندب بن عبد الله البجلي ‹ مسند جندب بن عبد الله البجلي · حديث 1534

1534 - حدثنا عبد الأعلى بن حماد حدثنا معتمر ابن سليمان قال سمعت أبي عن صاحب له وهو الحضرمي عن أبي السوار يحدث عن جندب بن عبد الله Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث رهطا وبعث عليهم أبا عبيدة بن الجراح فلما أخذ ينطلق لكنه بكى صبابة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فبعث رجلا مكانه يقال له عبد الله بن جحش وكتب له كتابا وأمره أن لا يكره أحدا من أصحابه على المسير معه فلما قرأ الكتاب استرجع وقال : سمع وطاعة يعني لله ورسوله خبرهم الخبر وقرأ عليهم الكتاب فرجع رجلان ومضى بقيتهم فلقوا ابن الحضرمي فقتلوه ولم يدر ذاك اليوم من رجب أو جمادى فقال المشركون للمسليمن : فعلتم كذا وكذا في الشهر الحرام فأتوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فحدثوه الحديث فأنزل الله { يسألونك عن الشهر الحرام قتال فيه قل قتال فيه كبير } إلى قوله { والفتنة أكبر من القتل } [ البقرة : 217 ] قال الشرك قال بعض الذين كانوا في السرية : والله ما قتله إلا واحد فإن يك خيرا فقد وليته وإن يك ذنبا فقد علمته وقال بعض المسلمين : إن لم يكونوا أصابوا في شهرهم هذا وزرا فليس لهم فيه أجر فأنزل الله { والذين هاجروا وجاهدوا في سبيل الله أولئك يرجون رحمة الله والله غفور رحيم } [ البقرة : 218 ] K إسناده حسن

حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر امیر ابو عبیدہ بن جراح کو بنا کر بھیجا‘ جب چلنے لگے لیکن شوق میں رونے لگے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آپ نے ان کی جگہ کسی کو بھیجا‘ اس کو عبداللہ بن جحش کہا جاتا تھا‘ اس کے لیے آپ نے ایک خط لکھا اور حکم دیا: کسی صحابی کو چلنے پر مجبور نہ کرنا اپنے ساتھ جب خط پڑھا تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے لگے اور عرض کرنے لگے : سن اور اطاعت کر‘ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی ۔صحابہ کرام کو خبر دی‘ ان کے سامنے خط پڑھا تو دو آدمی لوٹ پڑے اور باقی چل پڑے‘ وہ ابن حضرمی کو ملے اور اس کو قتل کیا‘ ابھی رجب یا جمآدمی کا دن نہیں آیا تھا۔ مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا: تم نے شہر حرام میں یہ یہ کیا ہے‘ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ انہوں نے یہ بات بیان کی کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’وہ آپ سے ماہ حرام میں (مسلمانوں سے اتفاقاً سرزد ہونے والی) لڑائی کے بارے میں پوچھتے ہیں تو تم فرما دو : اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے یہاں تک (اسلام دشمنی کا ) فتنہ قتل سے بھی زیادہ بڑا ہے بعض جو سریہ میں تھے انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اس کو صرف ایک آدمی نے قتل کیا ہے اگر کوئی خیر ہوتی تو میں اس کو درست بناتا اگر گناہ ہوتا تو بے شک تو نے ایک عمل کیا ہے۔ بعض مسلمانوں نے کہا: اگر وہ اس مہینہ میں لڑائی نہ کرتے تو یہ نقصان تھا۔ ان کے لیے ثواب نہیں ہونا تھا۔ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ” بے شک جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اللہ عزوجل بخشنے والا رحم کرنے والا ہے‘‘۔

جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أبي السوار ← صاحب له وهو الحضرمي ← أَبِي ← معتمر ابن سليمان ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad grasshopper bin Abdullah Al-Bajali › Chapter · Hadith 1534

مسند أبي يعلى · مسند ثابت بن الضحاك ‹ مسند ثابت بن الضحاك · حديث 1535

1535 - حدثنا هدبة بن خالد حدثنا أبان بن يزيد حدثنا يحيى بن أبي كثير أن أبا قلابة حدثه أن ثابت بن الضحاك حدثه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من حلف على ملة غير الإسلام كاذبا فهو كما قال ليس على رجل نذر فيما لا يملك K إسناده صحيح

حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر قسم اٹھائی وہ جھوٹی ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے کہا: آدمی پر اس قسم کا پورا کرنا ضروری نہیں جس کا وہ مالک نہیں ۔

أن ثابت بن الضحاك ← يحيى بن أبي كثير أن أبا قلابة ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Thabet bin Al-Dahhak › Chapter · Hadith 1535

مسند أبي يعلى · مسند حمزة الأسلمي ‹ مسند حمزة الأسلمي · حديث 1536

1536 - حدثنا سعيد بن عبد الجبار حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن بن عبد الله بن خالد بن حزام الحزامي حدثنا أبو الزناد أن محمد بن حمزة حدثه عن أبيه حمزة الأسلمي Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعثه في سرية وأمره عليهم وقال : إن أخذتم فلانا فأحرقوه بالنار فلما وليت دعوني من ورائي فجئت فقال : إن أخذتم فلانا فاقتلوه ولا تحرقوه بالنار فإنه لا يعذب بالنار إلا رب النار K إسناده حسن

حضرت حمزہ الاسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک سریہ میں بھیجا اور ان کو ان پر امیر مقرر کیا اور فرمایا: اگر تم فلاں کو پکڑ لو تو اس کو آگ میں جلا دو ۔ جب میں چلا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیچھے سے بلوایا ۔ میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم فلاں کو پکڑو تو اس کو قتل کر دو ۔ اس کو آگ میں نہ جلاؤ بے شک کسی کو زیب نہیں دیتا کہ کسی کو آگ میں جلائے یہ شان اللہ عزوجل کی ہے کہ وہ آگ میں جلائے ۔

أبيه حمزة الأسلمي ← أبو الزناد أن محمد بن حمزة ← المغيرة بن عبد الرحمن بن عبد الله بن خالد بن حزام الحزامي ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Hamzah Al-Aslami › Chapter · Hadith 1536

مسند أبي يعلى · يزيد بن ركانة ‹ يزيد بن ركانة · حديث 1537

1537 - حدثنا أبو الربيع حدثنا جرير يعني ابن حازم عن الزبير بن سعيد حدثنا عبد الله بن يزيد بن ركانة عن أبيه عن جده Y أنه طلق امرأته البتة فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما أردت بها ؟ قال : واحدة قال : آلله ؟ قال : آلله قال هي على ما أردت K إسناده لين

حضرت یزید بن رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بائنہ ( پکی طلاق ) دی ۔ اس کے بعد وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے‘ آپ نے فرمایا: تُو نے اس کے ساتھ کیا ارادہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی: ایک کا! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ! آپ نے فرمایا : جو تُو نے ارادہ کیا وہی ہے ۔

هي على ما أردت إسناده لين ← اللہُ ← اللہُ ← «وَاحِدَةً» ← «مَا أَرَدْتَ بِهَا؟ ← جده أنه طلق امرأته البتة فأتى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← عبد الله بن يزيد بن ركانة، ← الزبير بن سعيد ← جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Yazid bin Rokana › Chapter · Hadith 1537

مسند أبي يعلى · يزيد بن ركانة ‹ يزيد بن ركانة · حديث 1538

1538 - حدثنا شيبان حدثنا جرير حدثنا الزبير بن سعيد الهاشمي عن عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة عن أبيه عن جده Y أنه طلق امرأته البتة على عهد النبي صلى الله عليه و سلم فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال : ما نويت بذلك ؟ قال : واحدة قال : آلله ؟ قال : آلله قال : هي على ما أردت K إسناده لين

حضرت یزید بن رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو البتہ کے لفظ کے ساتھ طلاق دی ۔ اس کے بعد وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے‘ آپ نے فرمایا: تو نے اس کے ساتھ کیا ارادہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی: ایک! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم! آپ نے فرمایا: جو تُو نے ارادہ کیا وہی ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، ← الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ، ← جَرِيرٌ ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Yazid bin Rokana › Chapter · Hadith 1538

مسند أبي يعلى · الجارود ‹ الجارود · حديث 1539

1539 - حدثنا هدبة حدثنا أبان حدثنا قتادة عن يزيد بن عبد الله عن أبي مسلم الجذمي عن الجارود Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ضالة المسلم حرق النار K إسناده حسن

حضرت جادور رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کا گمشدہ جانور لے لینا دوزخ میں جلنا ہے۔

الْجَارُودِ، ← أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Jarrod › Chapter · Hadith 1539

مسند أبي يعلى · عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي ‹ عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي · حديث 1540

1540 - حدثنا هارون بن معروف حدثنا عبد الله ابن وهب أخبرني عمرو أن سليمان بن زياد الحضرمي حدثه Y أن عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي حدثه أنه مر وصاحب له بأم أيمن وفتية من قريش قد حلوا أزرهم فجعلوها مخاريق يجتلدون بها وهم عراة . قال عبد الله : فلما مررنا بهم قالوا : إن هؤلاء قسيسون فدعوهم ثم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج عليهم فلما أبصروه تبددوا فرجع رسول الله صلى الله عليه و سلم مغضبا حتى دخل وكنت وراء الحجرة فسمعته يقول : سبحان الله لا من الله استحيوا ولا من رسوله استتروا و وأم أيمن عنده تقول : استغفر لهم يا رسول الله قال عبد الله فبأبي ما استغفر لهم K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن الحارث بن جزء الزبیدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے ساتھی اُم ایمن اور قریش کے ایک نوجوان کے پاس سے گزرے‘ انہوں نے اپنے تہبند اتارے‘ ان کی گیند بنائی اور اس کے ساتھ کھیلنے لگے اور خود مجرد ہو گئے ۔۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب ہم ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: یہ پادری ہیں! سو انہوں نے ان کو بلایا پھر ان کی طرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے‘ جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو وہ بھاگ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں واپس آئے یہاں تک کہ آپ داخل ہوئے تو میں حجرے کے پیچھے تھا، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا۔ اللہ پاک ہے! یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول سے حیاء نہیں کرتے ۔ حالانکہ حضرت اُم ایمن آپ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں ۔ عرض کرنے لگی: یارسول اللہ! ان کے لیے بخشش مانگیں! حضرت عبداللہ نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ ان کے لیے بخشش نہ مانگیں ۔

أن عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي ← عَمْرٌو أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيَّ ← عبد الله ابن وهب ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Abu Yaalaa · Abdullah bin Al-Harith bin part Zubaidi › Chapter · Hadith 1540

مسند أبي يعلى · عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي ‹ عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي · حديث 1541

1541 - حدثنا عبد الأعلى بن حماد حدثنا المفضل بن فضالة عن ابن لهيعة عن سليمان بن زياد عن عبد الله بن جزء قال Y أكلنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما شواء ونحن في المسجد أقيمت الصلاة فلم نزد على أن مسحنا أيدينا بالحصاة K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن جزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دن بھونا ہوا گوشت کھایا اس حالت میں کہ ہم مسجد میں تھے‘ نماز کے لیے اقامت کہی گئی، ہم نے صرف ٹھیکریوں یا کنکریوں کے ساتھ اپنے ہاتھ صاف کیے۔

عبد الله بن جزء ← سُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Abdullah bin Al-Harith bin part Zubaidi › Chapter · Hadith 1541

chevron_left Previous
1…595596597…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter