Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1351

1351 - حدثنا زهير حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن إسحاق حدثني عاصم بن عمر بن قتادة الأنصاري ثم الظفري عن محمود بن لبيد أحد بني عبد الأشهل Y عن أبي سعيد الخدري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يفتح يأجوج ومأجوج على الناس كما قال الله : { وهم من كل حدب ينسلون } [ الأنبياء : 96 ] فيغشون الناس وينحاز المسلمون عنهم إلى مدائنهم وحصونهم ويضمون إليهم مواشيهم ويشربون مياه الأرض حتى إن بعضهم ليمر بالنهر فيشربون ما فيه حتى يتركوا يبسا حتى إن من بعدهم ليمر بذلك النهر فيقول : قد كان ها هنا ماء مرة حتى إذا لم يبق من الناس إلا أحد في حصن أو مدينة قال قائلهم : هؤلاء أهل الأرض قد فزعنا منهم بقي أهل السماء قال : ثم يهز أحدهم حربته ثم يرمي بها إلى السماء فترجع إليه متخضبة دما للبلاء والفتنة فبينما هم على ذلك بعث الله دودا في أعناقهم كنغف الجراد الذي يخرج في أعناقهم فيصبحون موتى لا يسمع لهم حس فيقول المسلمون : فيصبحون موتى لا يسمع لهم حس فيقول المسلمون : ألا رجل يشتري لنا نفسه فينظر ما فعل هؤلاء العدو ؟ قال : فتجرد رجل منهم لذلك محتسبا لنفسه قد أطابها على أنه مقتول فيجدهم موتى بعضهم على بعض فينادي : يا معشر المسلمين : ألا أبشروا فإن الله قد كفاكم عدوكم فيخرجون من مدائنهم وحصونهم ويسرحون مواشيهم فلا يكون لها رعي إلا لحومهم فتشكر كأحسن ما شكرت عن شيء من النبات أصابته قط K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یاجوج ماجوج نکلیں گے جس طرح ، اللہ عزوجل فرماتا ہے:” اور وہ ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ اترتے ہوئے آئیں گے۔ پھر فرمایا: وہ زمین میں پھیل جائیں گئے مسلمان ان سے بچیں گے یہاں تک کہ مسلمانوں کا بقیہ گروہ اپنے قلعوں اور شہروںمیں ٹھہر جائیں گئے وہ یاجوج ماجوج ان لوگوں کے جانوروں کو پکڑ لیں گے یہاں تک کہ ان کا پہلا دستہ نہرکے پاس سے گزرے گا تو وہ اس نہر سے سارا پانی پی لیں گے یہاں تک کہ اس میں کوئی شی نہیں چھوڑیں گے ان کا آخری دستہ ان کے پیچھے سے گزرے تو ان میں سے کہنے والا کہے گا: بے شک کبھی یہاں پانی تھا، حتی کہ جب لوگوں میں سے ایک آدی کی قلعہ یا شہر میں باقی رہ جائے گا۔ ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا: یہاں زمین والوں سے ہم فارغ ہو چکے ہیں اب ہم آسمان والوں کو اتاریں گے یہاں تک کہ وہ اپنے نیزہ کو حرکت دے گا اور اس کو آسمان کی طرف پھینکے گا وہ نیزہ اس حالت میں واپس آئے گا کہ اس کے ساتھ خون لگا ہو گا۔ وہ کہیں گے: ہم نے آسمان والوں کو بھی قتل کر دیا۔ وہ اسی کشمش میں ہوں گے کہ اچا نک ان پر ٹڈیوں کی طرح ایک کیڑا ان کی ہلاکت کیلئے مسلط کیا جائے گا وہ ان کو گردنوں سے پکڑے گا اور انہیں ہلاک کر دیں گے صبح مردہ حالت میں کریں گے یہاں تک کہ ان میں حس و حرکت نہ ہوگی، مسلمان کہیں گے: کوئی ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پتا کر کے آئے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ ان میں سے ایک کہے گا: میرا خیال ہے کہ وہ مارے گئے ہیں وہ انہیں مردہ حالت میں ایک دوسرےکے اوپر پڑا ہوا پائے گا وہ آواز دے گا: اے مسلمانوں کے گروہ! خوشخبری! بے شک اللہ نے تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر دیا ہے لوگ اپنے قلعوں اور شہروں سے نکلیں گے اور لوگ جانوروں کو کھلا چھوڑ دیں گے ان جانوروں کی خوراک ان کا گوشت ہی ہوگا وہ ان کا گوشت کھا کر اتنے موٹے تازہ ہوں گے کہ اتنا چر کر بھی نہیں ہوئےتھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← محمود بن لبيد أحد بني عبد الأشهل ← عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1351

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1352

1352 - حدثنا زهير حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن صالح قال ابن شهاب : أخبرني عطاء بن يزيد الجندعي Y أنا أبا سعيد الخدري أخبره أن أناسا من الأنصار سألوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يسأله أحد إلا أعطاه حتى نفذ ما عنده فلما أنفق كل شيء عنده قال : ما يكون عندي من خير فلن أدخره عنكم وإنه من يستعف يعفه الله ومن يستغن يغنه الله ومن يصطبر يصبره الله ولم تعطوا عطاء خيرا ولا أوسع من الصبر K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انصار صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ختم ہونے تک جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھا ہر ایک کو عطا کیا جب ہرشی خرچ کر دی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھی تو فرمایا: میں تم سے زخیرہ کر کے نہیں رکھتا جو سوال کرنے سے بچتا ہے اللہ اس کو بچالیتا ہے جوغنی ہونا چاہتا ہے الله اس کوغنی کر دیتا ہے جو صبر چاہتا ہے اللہ صبر دے دیتا ہے کسی بندے کو نیکی سے بڑھ کر اور صبر سے وسیع کوئی نہیں دی گئی۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيِّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1352

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1353

1353 - حدثنا ابو خيثمة حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عطية العوفي Y عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم في قوله : { يأتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها } [ الأنعام : 158 ] قال : طلوع الشمس من مغربها K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ عزوجل کے اس ارشاد کے متعلق فرمايا: "يوم يأتى الىٰ آخره " طلوع شمس مغرب سے ہوگا۔

طلوع الشمس من مغربها إسناده ضعيف جدا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1353

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1354

1354 - حدثنا زهير حدثنا معلى بن منصور أخبرني عبد العزيز بن محمد أخبرني داود بن صالح عن أبيه Y عن أبي سعيد الخدري قال : قدم نبطي من الشام بثلاثين جمل شعير وتمر في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم فسعر يعني مدا درهم بمد النبي صلى الله عليه و سلم وليس في الناس يومئذ طعام غيره فشكا الناس إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم غلاء السعر فخطب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ألا لألقين الله تبارك وتعالى قبل أن أعطي أحدا من مال بغير طيب نفسه K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شام سے نبطی آئے تیس اونٹ جو اور کھجور لے کر حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نرخ ایک مد کا ایک درہم کا مقرر کیا حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مد کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے پاس اس دن اس کے علاوہ کھانا بھی نہیں تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شکایت کی نرخ کے زیادہ ، ہونے کی تو حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دیا اور فرمایا: خبردار! اللہ تبارک و تعالی سے ملوں گا قبل اس کے کہ کسی کو کسی کا مال عطا کروں بغیر اس کی جان خوش کیے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1354

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1355

1355 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا زهير بن محمد عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن سعيد بن المسيب Y عن أبي سعيد الخدري أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ألا أدلكم على شيء يكفر الله به الخطايا ويزيد في الحسنات ؟ قالوا : بلى يا رسول الله قال : إسباغ الوضوء في المكاره وكثرة الخطا إلى المساخد وانتظار الصلاة بعد الصلاة ما منكم من رجل يخرج من بيته متطهرا فيصلي مع المسلمين الصلاة الجامعة ثم يقعد في المسجد ينتظر الصلاة الأخرى إلا الملك يقول : اللهم اغفر له اللهم ارحمه فإذا قمتم إلى الصلاة فاعدلوا صفوفكم وأقيموا وسدوا الفرج فإني أراكم من خلفي وراء ظهري فإذا قال إمامكم : الله أكبر فقولوا الله أكبر وإذا ركع فاركعوا وإذا قال : سمع الله لمن حمده فقولوا : اللهم ربنا لك الحمد وإن خير الصفوف المقدم وشرها المؤخر وخير صفوف النساء المؤخر وشرها المقدم يا معشر النساء إذا سجد الرجال فاخفضن أبصاركن لا ترين عورات الرجال من ضيق الأزر K إسناده حسن

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا م میں تم کو ایک شے کے متعلق نہ بتاؤں جس کے ساتھ گناه معاف ہوں اور نیکیوں میں اضافہ ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ناپسندیدگی کی حالت میں وضو کرنا ہے کثرت سے مسجد، کی طرف جانا ہے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے تم میں سے کسی کا اپنے گھر سے وضو کر کے نکلنا ہے مسلمانوں کے ساتھ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ہے پھر مسجد میں بیٹھنا اور دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ تو فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو معاف کر دے! اے اللہ! اس پر رحم فرما! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو توصفوں کو سیدھا کرو، سیدھے رہو خلاء پر کرو۔ میں تم کو پیچھے سے سے دیکھتا ہوں، اپنی پیٹھ سے۔ جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تم بھی اللہ اکبرکہو، جب امام رکوع کرے تم بھی رکوع کرو۔ جب امام کے سمع الله لمن حمده! تو تم اللهم ربنا لك الحمد، کہو بے شک بہتر صف آگے والی ہے، بدترین پیچھے والی ہے۔ عورتوں کی بہترین صف پیچھے والی ہے، بدترین آگے والی ہے۔ اے عورتوں کے گروہ! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں جھکا لوتہبند کے تنگ ہونے کی وجہ سے مردوں کی شرمگاہ نہ دیکھو۔

بَلٰی ← ألا أدلكم على شيء يكفر الله به الخطايا ويزيد في الحسنات ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1355

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1356

1356 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا همام حدثنا قتادة عن أبي الصديق Y عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أن رجلا قتل تسعة وتسعين نفسا فسأل أعلم أهل الأرض فدل على رجل فأتاه فقال : إنه قتل تسعة وتسعين نفسا فهل له من توبة ؟ فقال : بعد قتل تسعة وتسعين ليست لك توبة فانتضى سيفه فقتله فكمل به مئة قال : ثم إنه مكث ما شاء الله ثم سأل عن أعلم أهل الأرض فدل على رجل فقال : إنه قتل مئة نفس فهل له من توبة ؟ قال : ومن يحول بينك وبين التوبة ؟ اخرج من هذه القرية الخبيثة التي أنت بها إلى قرية كذا وكذا فاعبد ربك فيهم قال : فخرج وعرض أجله في الطريق فاختصم ملائكة الرحمة وملائكة العذاب فقال إبليس : إنه لم يعصني ساعة قط قالت ملائكة الرحمة : إنه خرج تائبا فزعم حميد الطويل أن بكرا حدثه عن أبي رافع قال : بعث الله ملكا فاجتمعوا إليه - رجع الحديث إلى حديث قتادة - قال : فقال : انظروا إلى أي القريتين كان أقرب فألحقوه بأهلها قال قتادة : فقرب الله عز و جل القرية الصالحة وباعد منه الخبيثة وألحقوه بأهلها K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدی نے 99 آدمیوں کوقتل کیا تھا۔ وہ آیا پوچھنے کے لیے اس کے لیے توبہ ہے؟ وہ ایک راہب کے پاس آیا، اس نے اس سے پوچھا۔ اس نے کہا، تیری توبہ نہیں قبول ہو سکتی۔ اس نے راہب کو قتل کیا اور سو مکمل کر دیئے پھر جتنا اللہ نے چاہااتنی دیر ر کار ہا پھر اس نے زمین کے بڑے عالم کے متعلق پوچھا تو اس کو ایک آدمی کے متعلق بتایا تو اس نے اس سے عرض کی کہ اس نے سوقتل کیے ہیں تو کیا اس کی توبہ ہے؟ اس نے کہا: تیرے اور توبہ کے درمیان کون ک شی رکاوٹ ہے؟ اس بڑی بستی سے نکل فلاں فلاں بستی کی طرف ان میں جا کر اپنے رب کی عبادت کر۔ وہ نکلا اور راستے میں اسے موت آ گئی۔رحمت اور عذاب والے فرشتے جھگڑ نے لگے ابلیس نے کہا: یہ کسی وقت بھی نافرمانی سے نہیں رکا تھا۔ رحمت والے فرشتے نے کہا: یہ توبہ کی نیت سے نکلا تھا۔حمیدالطویل نے گمان کیا کہ بکر نے ان کو ابی رافع کے حوالہ سے بتایا کہ اللہ نے فرشتے بھیجے وہ اس کے پاس جمع ہو گئے دوبارہ قتادہ کی حدیث کی طرف آئے انہوں نے دیکھا کہ دونوں بستیوں میں سے کس بستی کے زیادہ قریب ہے جس کی طرف زیادہ ہو اس میں شامل کر دو۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں: اللہ عزوجل نے اس کو نیک لوگوں کی بستی کے قریب کر دیا اور برے لوگوں کی بستی سے دور کر دیا اور اس کو نیک لوگوں میں شمار کر دیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصديق ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1356

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1357

1357 - حدثثنا زهير حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثني عبد الله بن وهب عن عمرو بن الحارث عن دراج عن أبي الهيثم Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أصدق الرؤيا بالأسحار K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ سچا خواب سحری والا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← حدثثنا زهير

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1357

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1358

1358 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا فضيل بن مرزوق عن عطية العوفي قال Y قال أبوسعيد : قال رجل من الأنصار لأصحابه : أما والله لقد كنت أحدثكم أنه لو قد استقامت له الأمور قد آثر عليكم غيركم قال : فردوا عليه ردا عنيفا قال : فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فجاءهم فقال لهم الأشياء لا أحفظها قالوا : بلى يا رسول الله قال : فكنتم لا تركبون الخيل قال : كلما قال لهم شيئا قالوا : بلى يا رسول الله فلما رآهم لا يردون عليه شيئا قال : أفلا تقولون قاتلك قومك فنصرناك وأخرجك قومك فآويناك ؟ قالوا : نحن لا نقول ذلك يا رسول الله أنت تقوله قال : فقال : يا معشر الأنصار ألا ترضون أن يذهب الناس بالدنيا وأنتم تذهبون برسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : يا معشر الأنصار ألا ترضون أن الناس لو سلكوا واديا وسلكتم واديا لسلكت وادي الأنصار ؟ قالوا : بلى يا رسول الله قال : لولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار الأنصار كرشي وأهل بيتي عيبتي التي آوي إليها اعفوا عن مسيئهم واقبلوا من محسنهم قال أبوسعيد : فما علم ذلك ابن مرجانة عدو الله قال أبوسعيد : قلت لمعاوية : أما إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان حدثنا أنا سنرى بعده أثرة ؟ قال معاوية : فما أمركم ؟ قال : قلت : أمرنا أن نصبر قال : فاصبروا إذا K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار، کے ایک آدمی نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اللہ کی قسم! میں تم کو حدیث بیان کرتا ہوں! اگر آپ کے کام آپ کے لیے سیدھے رہے تو تم پر غیر کو ترجیح دی جائے گی اس کو آسانی سے دور کر دو۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان کو لے کر آؤ! ان کو کچھ اشیاء کے متعلق کہا جو مجھے یا نہیں ہیں۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! کیوں نہیں؟ فرمایا: تم گھوڑوں پر سوار نہیں ہوتے ہو! جب بھی ان کو کوئی شی کہی جاتی تو وہ کہتے : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ! جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو دیکھا کہ ، وہ کسی شی کا جواب نہیں دیتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں کہتے ہو کہ آپ قوم سے لڑیں ہم آپ کی مدد کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قوم سے نکلیں ہم پناہ دیں گے؟ انہوں نے کہا: یارسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم نہیں کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمائیں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا تم پسند کرتے ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے جاؤ؟ یافرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا: تم پسند کرتے ہو کہ لوگ اگر وادی میں چلیں اور تم بھی وادی میں چلو گے تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا؟ انہوں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیوں نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا آ دمی ہوتا انصار میری عزت اور میری اہل بیت میری پناہ ہیں،میں ان کی طرف پناہ لیتا ہوں تو ان کی برائیوں کو معاف کرو اور نیکیاں قبول کرو۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: علم نہیں تھا کہ ابن مرجانہ اللہ کا دشمن ہے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے معاویہ سے کہا: بہر حال حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیث بیان کی ہے کہ عنقریب میرے بعد ترجیحات دیکھو گے ۔ حضرت معاویہ نے فرمایا: تم کیا حکم دیتے ہو؟ فرمایا: میں کہتا ہوں کہ میں صبر کا حکم دیااس وقت صبر کرنا۔

أبوسعيد ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1358

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1359

1359 - حدثنا زهير حدثنا محمد بن الحسن بن أبي الحسن المدني حدثني حاتم بن إسماعيل عن ابن عجلان عن نافع عن أبي سلمة بن عبد الرحمن Y عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا خرج ثلاثة في سفر فليؤمهم أحدهم قال نافع : قلت لأبي سلمة : أنت أميرنا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تین آدمی سفر میں نکلیں ، ان میں سے ایک امامت کروائے۔ حضرت نافع فرماتےمیں نے حضرت ابوسلمہ سے عرض کیا: آپ ہمارے امیر ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← محمد بن الحسن بن أبي الحسن المدني ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1359

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1360

1360 - حدثنا زهير حدثنا محمد بن الحسن بن أبي الحسن المدني حدثنا عبد العزيز بن محمد عن يزيد بن الهاد عن عبد الله بن خباب Y عن أبي سعيد الخدري أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم - وذكر عنده أبو طالب - فقال : لعله أن تنفعه شفاعتي يوم القيامة فيجعل في ضحضاح من النار إلى كعبيه يغلي منه أم دماغه K أخرجه البخاري ومسلم

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کہ حضرت ابو طالب کا ذکر کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہوسکتا ہے قیامت کے دن ان کو میری شفاعت نفع دے۔ ان کو جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ابلے گا۔

عنده أبو طالب ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← محمد بن الحسن بن أبي الحسن المدني ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1360

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1361

1361 - وعن أبي سعيد Y أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : صلاة الجماعة تفضل على صلاة الفذ بخمس وعشرين درجة K الحديث صحيح فقد أخرجه البخاري

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گناہ زیادہ ثواب کادرجہ رکھتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1361

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1362

1362 - وعن أبي سعيد الخدري Y أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الرؤيا الصالحة جزء من خمسة وأربعين جزءا من النبوة . قال يزيد : سمعت أبا سلمة يحدث بهذا الحديث عن أبي هريرة عمر بن عبد العزيز فقال : عمر : لو كانت حصاة من عدد الحصى لرأيتها صدقا K أخرجه البخاري

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اچھا خواب نبوت کے پینتالیسواں حصہ ہے۔ حضرت یزید فرماتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بن عمر بن عبد العزیز سے روایت کرتےہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اگر کنکریوں کی تعداد کے مطابق خواب آئے تو میں سچ شمار کروں گا۔

أبي هريرة عمر بن عبد العزيز ← بِهَذَا الْحَدِيثِ ← أَبَا سَلَمَةَ ← يَزِيدُ: ← الرؤيا الصالحة جزء من خمسة وأربعين جزءا من النبوة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1362

chevron_left Previous
1…580581582…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter