مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1351
1351 - حدثنا زهير حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن إسحاق حدثني عاصم بن عمر بن قتادة الأنصاري ثم الظفري عن محمود بن لبيد أحد بني عبد الأشهل Y عن أبي سعيد الخدري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يفتح يأجوج ومأجوج على الناس كما قال الله : { وهم من كل حدب ينسلون } [ الأنبياء : 96 ] فيغشون الناس وينحاز المسلمون عنهم إلى مدائنهم وحصونهم ويضمون إليهم مواشيهم ويشربون مياه الأرض حتى إن بعضهم ليمر بالنهر فيشربون ما فيه حتى يتركوا يبسا حتى إن من بعدهم ليمر بذلك النهر فيقول : قد كان ها هنا ماء مرة حتى إذا لم يبق من الناس إلا أحد في حصن أو مدينة قال قائلهم : هؤلاء أهل الأرض قد فزعنا منهم بقي أهل السماء قال : ثم يهز أحدهم حربته ثم يرمي بها إلى السماء فترجع إليه متخضبة دما للبلاء والفتنة فبينما هم على ذلك بعث الله دودا في أعناقهم كنغف الجراد الذي يخرج في أعناقهم فيصبحون موتى لا يسمع لهم حس فيقول المسلمون : فيصبحون موتى لا يسمع لهم حس فيقول المسلمون : ألا رجل يشتري لنا نفسه فينظر ما فعل هؤلاء العدو ؟ قال : فتجرد رجل منهم لذلك محتسبا لنفسه قد أطابها على أنه مقتول فيجدهم موتى بعضهم على بعض فينادي : يا معشر المسلمين : ألا أبشروا فإن الله قد كفاكم عدوكم فيخرجون من مدائنهم وحصونهم ويسرحون مواشيهم فلا يكون لها رعي إلا لحومهم فتشكر كأحسن ما شكرت عن شيء من النبات أصابته قط K إسناده صحيح
حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یاجوج ماجوج نکلیں گے جس طرح ، اللہ عزوجل فرماتا ہے:” اور وہ ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ اترتے ہوئے آئیں گے۔ پھر فرمایا: وہ زمین میں پھیل جائیں گئے مسلمان ان سے بچیں گے یہاں تک کہ مسلمانوں کا بقیہ گروہ اپنے قلعوں اور شہروںمیں ٹھہر جائیں گئے وہ یاجوج ماجوج ان لوگوں کے جانوروں کو پکڑ لیں گے یہاں تک کہ ان کا پہلا دستہ نہرکے پاس سے گزرے گا تو وہ اس نہر سے سارا پانی پی لیں گے یہاں تک کہ اس میں کوئی شی نہیں چھوڑیں گے ان کا آخری دستہ ان کے پیچھے سے گزرے تو ان میں سے کہنے والا کہے گا: بے شک کبھی یہاں پانی تھا، حتی کہ جب لوگوں میں سے ایک آدی کی قلعہ یا شہر میں باقی رہ جائے گا۔ ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا: یہاں زمین والوں سے ہم فارغ ہو چکے ہیں اب ہم آسمان والوں کو اتاریں گے یہاں تک کہ وہ اپنے نیزہ کو حرکت دے گا اور اس کو آسمان کی طرف پھینکے گا وہ نیزہ اس حالت میں واپس آئے گا کہ اس کے ساتھ خون لگا ہو گا۔ وہ کہیں گے: ہم نے آسمان والوں کو بھی قتل کر دیا۔ وہ اسی کشمش میں ہوں گے کہ اچا نک ان پر ٹڈیوں کی طرح ایک کیڑا ان کی ہلاکت کیلئے مسلط کیا جائے گا وہ ان کو گردنوں سے پکڑے گا اور انہیں ہلاک کر دیں گے صبح مردہ حالت میں کریں گے یہاں تک کہ ان میں حس و حرکت نہ ہوگی، مسلمان کہیں گے: کوئی ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پتا کر کے آئے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ ان میں سے ایک کہے گا: میرا خیال ہے کہ وہ مارے گئے ہیں وہ انہیں مردہ حالت میں ایک دوسرےکے اوپر پڑا ہوا پائے گا وہ آواز دے گا: اے مسلمانوں کے گروہ! خوشخبری! بے شک اللہ نے تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر دیا ہے لوگ اپنے قلعوں اور شہروں سے نکلیں گے اور لوگ جانوروں کو کھلا چھوڑ دیں گے ان جانوروں کی خوراک ان کا گوشت ہی ہوگا وہ ان کا گوشت کھا کر اتنے موٹے تازہ ہوں گے کہ اتنا چر کر بھی نہیں ہوئےتھے۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← محمود بن لبيد أحد بني عبد الأشهل ← عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← زُهَيْرٍ
Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1351
