Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1363

1363 - وعن أبي سعيد الخدري Y عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه سمعه يقول : إذا رأى أحدكم رؤيا يحبها فإنها من الله فليحمد الله عليها وليحدث بها وإذا رأى غير ذلك مما يكره فإنها من الشيطان فليستعذ من شرها ولا يذكرها لأحد فإنها لن تضره K أخرجه البخاري ومسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خواب اچھا دیکھے تو یہ اللہ کی جانب سے ہے اس پر اللہ کی تعریف کرے جب اس کے علاوہ ناپسند خواب دیکھے یہ شیطان کی طرف سے ہے اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کرے بے شک یہ نقصان دےنہیں ہو گا۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه سمعه ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1363

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1364

1364 - وعن أبي سعيد الخدري قال Y قلنا يا رسول الله هذا السلام عليك فكيف نصلي عليك ؟ قال : قولوا اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم K أخرجه البخاري

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سلام بھیجتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پڑھو! "اللهم صل على محمد الى آخرہ"

قُلْنَا ← وعن ابي سعيد الخدري

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1364

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1365

1365 - وعن أبي سعيد الخدري Y أنه كان تصيبه الجنابة من الليل فيريد أن ينام فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يتوضأ ثم ينام

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ رات کو جنبی ہو گئے تھے میں نے سونے کا ارادہ کیا۔ ينام حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وضو کرنے کا اور پھر سوجانے کا۔

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1365

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1366

1366 - حدثنا زهير حدثنا أحمد بن إسحاق حدثنا عبد العزيز بن مسلم حدثنا سليمان الأعمش عن عطية العوفي Y عن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحدث عن الدجال قال : إنه سيسلط على نفس واحدة يقتلها ثم يحييها فيقول : ألست بربك ؟ فيقول : ما كنت في نفسي أكذب منك الساعة قال : فما كنا نرى إلا أن عمر بن الخطاب حتى مات K إسناده ضعيف

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کے متعلق بیان کیا؟ فرمایا: عنقریب ایک آدمی پر مسلط ہو گا اس کوقتل کرے گا پھر اس کو زندہ کرے گا وہ کہے گا: کیا میں تیرا رب نہیں ہوں؟ وہ کہے گا: اس وقت میرے خیال کے مطابق تجھ سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں ہے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے دیکھا کہ حضرت عمر اسی پر رہے یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا۔

ما كنت في نفسي أكذب منك الساعة ← ألست بربك ← إنه سيسلط على نفس واحدة يقتلها ثم يحييها ← الدَّجَّالِ، ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1366

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1367

1367 - حدثنا زهير حدثنا إبراهيم أبو إسحاق الطالقاني حدثنا ابن المبارك عن سعيد بن يزيد أبي شجاع عن أبي السمح عن أبي الهيثم Y عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : { وهم فيها كالحون } [ المؤمنون : 104 ] قال : تشويه النار فتقلص شفته حتى تبلغ رأسه وتسترخي الأخرى حتى تضرب سرته K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ فرماتا ہے اور وہ اس میں منہ چڑھائے ہوں گے (المومنون: 104) ان کو آگ بھون ڈالے گی ان کے دونوں ہونٹ اوپر والا سر کے وسط تک پہنچ جائے گا۔ دوسرالٹک کر اس کے ناف تک چلا جائےگا۔

وهم فيها كالحون المؤمنون ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← أبي السمح ← سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← إبراهيم أبو إسحاق الطالقاني ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1367

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1368

1368 - حدثنا زهير حدثنا عبد الرحمن حدثنا سفيان عن عمرو بن يحيى عن أبيه Y عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تخيروا بين الأنبياء K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انبیاء علیہ اسلام کو ایک دوسرے پر ترجیح، فوقیت نہ دو۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1368

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1369

1369 - حدثنا زهير حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع قال : حدث رجل ابن عمر بهذا الحديث Y عن أبي سعيد الخدري يحدثه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام إليه حتى دخل على أبي سعيد وأنا معه فقال : إن هذا حدثني عنك حديثا تحدثه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أفسمعته ؟ قال : بصر عيني وسمع أذني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تبيعوا الذهب بالذهب ولا الورق بالورق إلا مثل بمثل ولا تبيعوا شيئا غائبا بناجز K إسناده صحيح

ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث حضرت ابن عمر ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے بیان کرتے تھے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ فرمایا: یہ مجھے آپ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے حدیث بیان کرتا اور تو کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے سنا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے کے بدلے چاندی کو چاندی کے بدلے نہ فروخت کر و مگربرابر کسی غائب شے کو انداز انہ فروخت کرو۔

أذني ← بَصُرَ عَيْنِي ← عنك حديثا تحدثه ← إِنَّ هذا ← مَعَهُ؟ ← أبي سعيد الخدري يحدثه ← حدث رجل ابن عمر بهذا الحديث ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1369

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1370

1370 - حدثنا زهير حدثنا إسماعيل حدثنا أبو سلمة سعيد بن يزيد عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما أهل النار الذين هم أهلها فإنهم لا يموتون فيها ولا يحيون ولكن أناس - أو كما قال - تصيبهم بذنوبهم - أو قال بخطاياهم - فتميتهم إماتة حتى إذا صاروا فحما أذن في الشفاعة فجيء بهم ضبائر ضبائر فبثوا على أنهار الجنة فيقال : يا أهل الجنة أفيضوا عليهم فينبتون كما تنبت الحبة في حميل السيل قال رجل من القوم حينئذ : كأن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان في البادية K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جہنم والے وہ رہنے والے ہیں کیونکہ ان کو نہ موت آئی نہ زندہ ہوناہے لیکن لوگ یا جیسے آپ نے فرمایا: آگ ان کو ان کے گناہوں کے مطابق پہنچے گی یا ان کی غلطیوں کے مطابق اسی طرح حضرت ابونضر ہ فرماتے ہیں: وہ مریں گے یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے تو ان کے متعلق شفاعت کا ازن ہو گا ان کو ضبائرپر لایا جائے گا ان کو جنت کی نہرمیں ڈالا جائے گا اہل جنت کو کہا جائے گا: ان پر ڈالو! ان کا گوشت آئے گا جس طرح دانہ جب زمین میں ڈالا ، جائے تو وہ اگتا ہے۔ قوم میں سے ایک آدی نے کہا: گویا ایسے محسوس ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیہات میں رہتے ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← أبو سلمة سعيد بن يزيد ← إِسْمَاعِيلُ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1370

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1371

1371 - حدثنا زهير حدثنا إسماعيل عن الجريري عن أبي نضرة قال : سألت ابن عباس عن الصرف قال : يد بيد فقلت : نعم فقال : لا بأس قال Y فلقيت أبا سعيد فأخبرته أني سألت ابن عباس عن الصرف فقال : لا بأس به قال : أو قال ذلك ؟ أما إنا سنكتب إليه فلا يفتيكموه قال : فوالله لقد جاء بعض فتيان رسول الله صلى الله عليه و سلم بتمر فأنكره فقال : كأن هذا ليس من تمر أرضنا ؟ قال : كان في تمر العام بعض الشيء فأخذت هذا وزدت بعض الزيادة فقال : أضعفت أربيت لا تقربن هذا إذا رابك من تمرك شيء فبعه ثم اشتر الذي تريد من التمر K إسناده صحيح

حضرت ابونضرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: نقد نقد جائز ہے میں نے کہا: ٹھیک ہے! آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔ میں حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے آپ کو بتایا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں ہے انہوں نے کہا: کیا ، اس کے علاوہ کوئی اور لفظ فرمائے؟ بہر حال ہم آپ کو لکھ کر بھیجیں گے تو وہ تمہیں اس کا فتویٰ نہ دیں گے اللہ کی قسم! بعض نوجوان حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کھجور میں لے کر آئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا: معلوم ہوتا کہ یہ کھجوریں ہمارے ملک کی نہیں ہیں؟ اور عرض کی :اس سال کی کھجوروں میں کوئی شی تھی میں نے لیا بعض کا اضافہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اضافہ کیا اور سودی کاروبار کیا جب تیری کھجوروں میں سود ہو تو میں اس کے قریب ہرگز نہیں جاؤں گا اس کو فروخت کر پھر اس کےساتھ وہی کھجوریں خرید۔

سَنَکْتُبُ إِلَيْهِ فَلَا يُفْتِيکُمُوهُ ← ذلك أما ← أو ← لاَ بَأْسَ بِهِ. ← الصَّرْفِ. ← فلقيت أبا سعيد فأخبرته أني سألت ابن عباس ← لاَ بَأْسَ. ← يد بيد فقلت نعم ← الصَّرْفِ. ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1371

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1372

1372 - حدثنا زهير حدثنا إسماعيل عن الجريري عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد قال : كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في رمضان فمنا الصائم ومنا المفطر فلا يجد الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم يرون أنه من وجد قوة فصام ذلك حسن ويرون أنه من وجد ضعفا فأفطر فإن ذلك حسن K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مل کر رمضان المبارک میں جہاد کرتے ہم میں سے بعض روزہ کی حالت میں ہوتے بعض روزہ کی حالت میں نہ ہوتے روز رکھنے والے نہ رکھنے والے پر اعتراض نہ کرتے تھے اور روزہ نہ رکھنے والے رکھنے والے پر اعتراض نہ کرتے تھے جنہوں نے خیال کیا کہ وہ قوی ہیں تو انہوں نے روزہ رکھا اورجنہوں نے خیال کیا کہ وہ کمزور ہیں تو انہوں نے افطارکرلیا، دونوں نے اچھا کیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1372

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1373

1373 - حدثنا زهير حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر Y عن أبي سعيد الخدري قال : دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يصلي متوشحا K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ، حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس حالت میں آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1373

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1374

1374 - حدثنا زهير حدثنا الحسن بن موسى حدثنا ابن لهيعة حدثنا دراج أبو السمح أن أبا الهيثم حدثه Y عن أبي سعيد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أن رجلا قال : يا رسول الله طوبى لمن رآك وآمن بك قال : طوبى لمن رآني وآمن بي ثم طوبى ثم طوبى ثم طوبى لمن آمن بي ولم يرني : فقال له رجل : وما طوبى ؟ قال : شجرة في الجنة مسيرة مئة سنة ثياب أهل الجنة تخرج من أكمامها K إسناده ضعيف

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ، کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول الله! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوشخبری اس کے لیے جس نے آپ کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لایا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:خوشخبری اس کے لیے جس نے مجھے دیکھا نہیں اور مجھ پر ایمان لایا، پھر خوشخبری، پھر خوشخبری، پھر خوشخبری جو مجھ پر ایمان لایا جس نے مجھے دیکھانہیں ۔ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: یہ خوشخبری کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، اس کی مسافت ایک سو سال ہے اہل جنت کے کپڑے سے نکل جائیں گے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أن رجلا ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← دراج أبو السمح أن أبا الهيثم ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1374

chevron_left Previous
1…581582583…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter