Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4960

4960 - وبإسناده Y عن عائشة قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم يشتد عليه أن يوجد منه . قال أبو يعلى يعني ريح الثوم والبصل K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سختی کرتے تھے جس سے پاتے تھے ۔ امام ابو یعلیٰ فرماتے ہیں جس سے لہسن اور پیاز کی بو آتی تھی۔

أبو يعلى يعني ريح الثوم والبصل إسناده صحيح ← كان النبي صلى الله عليه و سلم يشتد عليه أن يوجد منه ← عَائِشَةَ ← وَبِإِسْنَادِهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4960

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4961

4961 - حدثنا أبو همام حدثنا عوبد بن عبد الملك عن أبيه عن عبد الله بن الصامت Y عن عائشة أم المؤمنين قالت : قلت يا رسول الله يكون لي جاران أحدهما بابه قبالة بابي والآخر شاسع عن بابي وهو أقرب في الجدار فبأيهما أبدأ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ابدئي بالذي بابه قبالة بابك . قال : عبد الملك هو أبو عمران الجوني K إسناده ضعيف

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے دو پڑوسی ہیں ۔ ایک میرے گھر کے سامنے ہے ، دوسرا میرے دروازے سے دور ہے ۔ وہ اس دیوار کے زیادہ قریب ہے ۔ میں ہمیشہ کس سے ابتداء کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے جو تیرے دروازے کے بالکل سامنے ہے ۔ امام ابو یعلیٰ فرماتے ہیں : عبدالملک سے مراد ابو عمران الجونی ہے ۔

قُلْتُ ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِيهِ ← عوبد بن عبد الملك ← أَبُو هَمَّامٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4961

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4962

4962 - حدثنا أبو همام حدثنا عوبد عن أبيه عن ابن بابنوس قال Y دخلت أنا ورجلان آخران على عائشة أم المؤمنين فقال لها رجل منا : يا أم المؤمنين ما تقولين في العراك ؟ قالت وما العراك ؟ المحيض هو ؟ قال : نعم قالت : فهو المحيض كما سماه الله قالت : كأني إذا كان ذاك أتزرت بإزاري فكان له ما فوق الإزار فأنشأت تحدثنا قالت : ما مر رسول الله على بابي يوما قط إلا قد قال كلمة تقر بها عيني . قالت : فمر يوما فلم يكلمني ومر من الغد فلم يكلمني قالت : ومر من الغد فلم يكلمني ومر من الغد فلم يكلمني قلت : وجد علي النبي صلى الله عليه و سلم في شيء ! قالت : فعصبت رأسي وصفرت رأسي وألقيت وسادة قبالة باب الدار فاجتنحت عليها . قالت : فمر رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظر إلي فقال : ما لك يا عائشة قالت : قلت : يا رسول الله اشتكيت وصدعت قال : يقول : ( بل وارأساه ) . قالت : فما لبثت إلا قليلا حتى أتيت به يحمل في كساء . قالت : فمرضته ولم أمرض مريضا قط ولا رأيت ميتا قط . قالت : فرفع رأسه فأخذته فأسندته إلى صدري . قالت : فدخل أسامة بن زيد وبيده سواك أراك رطب قلت : فلحط إليه قالت : فظننت أنه يريده فأخذته فنكثته بفي فدفعته إليه قالت فأخذه فأهواه إلى فيه قالت : فخفقت يده فسقط من يده ثم أقبل بوجهه إلي حتى إذا كان فاه في ثغري سال من فيه نقطة باردة اقشعر منها جلدي وثار ريح المسك في وجهي فمال رأسه فظننت أنه غشي عليه . قالت فأخذته فنومته على الفراش وغطيت وجهه . قالت : فدخل أبي أبو بكر فقال : كيف ترين ؟ فقلت : غشي عليه فدنا منه فكشف عن وجهه فقال : يا غشياه ما أكون هذا بغشي ! ثم كشف عن وجهه فعرف الموت فقال : إنا لله وإنا إليه راجعون ثم بكى - فقلت : في سبيل الله انقطاع الوحي ودخول جبريل بيتي - ثم وضع يديه على صدغيه ووضع فاه على جبينه فبكى حتى سال دموعه على وجه النبي صلى الله عليه و سلم ثم غطى وجهه وخرج إلى الناس وهو يبكي فقال : يا معشر المسلمين : هل عند أحد منكم عهد بوفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قالوا : لا ثم أقبل على عمر فقال : يا عمر ! أعندك عهد بوفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا قال : والذي لا إله غيره لقد ذاق الموت ولقد قال لهم : إني ميت وإنكم ميتون فضج الناس وبكوا بكاء شديدا ثم خلوا بينه وبين أهل بيته فغسله علي بن أبي طالب و أسامة بن زيد يصب عليه الماء فقال علي : ما نسيت منه شيئا لم أغسله إلا قلب لي حتى أرى أحد فأغسله من غير أن أرى أحدا حتى فرغت منه ثم كقنوه ببرد يماني أحمر وريطتين قد نيل منهما ثم غسلا ثم أضجع على السرير ثم أذنوا للناس فدخلوا عليه فوجا فوجا يصلون عليه بغير إمام حتى لم يبق أحد بالمدينة حر ولا عبد إلا صلى عليه ثم تشاجروا في دفنه : أين يدفن ؟ فقال بعضهم : عند العود الذي كان يمسك بيده وتحت منبره . وقال بعضهم : في البقيع حيث كان يدفن موتاه . فقالوا : لا نفعل ذلك إذا لا يزال عبد أحدكم ووليدته قد غضب عليه مولاه فيلوذ بقبره فيكون سنة فاستقام رأيهم على أن يدفن في بيته تحت فراشه حيث قبض روحه . فلما مات أبو بكر دفن معه فلما حضر عمر بن الخطاب أوصى قال : إذا ما مت فاحملوني إلى باب بيت عائشة فقولوا لها : هذا عمر بن الخطاب يقرئك السلام ويقول : أدخل أو أخرج ؟ قال : فسكتت ساعة ثم قالت : أدخلوه فادفنوه معه أبو بكر عن يمينه و عمر عن يساره . قالت : فلما دفن عمر أخذت الجلباب فتجلببت به قال فقيل لها : مالك وللجلباب ؟ قالت : كان هذا زوجي وهذا أبي فلما دفن عمر تجلببت K إسناده ضعيف

حضرت بابنوس فرماتے ہیں : میں اور دیگر آدمی مؤمنوں کی ماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم میں سے ایک آدمی نے عرض کی عراک کے بارے میں آپ کیا فرماتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا: عراک سے تمہاری مراد کیا ہے ؟ کیا وہ حیض ہے؟ اس نے کہا : جی ہاں ! فرماتے لگیں : پس حیض اسی طرح ہی ہے جس طرح اللہ نے اس کا نام رکھا ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: گویا مجھے جب وہ ہوتا ہے تو میں اپنی چادر مضبوطی سے باندھ لیتی ، پس چادر کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق ہوتا ، پس آپ رضی اللہ عنہا نے ہم سے حدیث بیان کرنا شروع کی ۔ فرمانے لگیں : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے دروازے سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے پیارے کلمات فرمائے جن سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، فرمایا: ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کوئی کلمہ نہ کہا ۔ فرماتی ہیں : دوسرے دن گزرے تو مجھ سے کلام نہ فرمایا۔ اس سے اگلے دن گزرے لیکن میرے لیے کوئی بات نہ کی ، میں نے کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر ناراض ہو گئے ہیں ۔ فرماتی ہیں : پس میں نے اپنے سر کو باندھ لیا، اپنے چہرے کو زرد بنا لیا اور دروازے کے سامنے تکیہ ڈال کر لیٹ گئی فرماتی ہیں پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے ، پس میری طرف دیکھا تو فرمایا: اے عائشہ ! تجھے کیا ہے ؟ فرماتی ہیں : میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بخار کی شکایت ہے اور سر درد کر رہا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے فرمایا: بلکہ ہائے میرا سر۔ فرماتی ہیں : پس میں تھوڑی دیر ٹھہرنے کے بعد آپ کو لائی ایک چادر ڈال کر ۔ فرماتی ہیں : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیمار سمجھا، جتنا کہ شاید کبھی اتنی میں نے بیمار دیکھا ہو اور نہ کھبی میں نے کوئی میت دیکھا فرماتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا تو میں نے اپنے ہاتھوں میں لے کر آپ کو اپنے سینے سے ٹیک لگادی ۔ فرماتی ہیں : پس حضرت اسامہ بن زید داخل ہوئے جبکہ ان کے ہاتھ میں تر پیلو کی مسواک تھی۔ فرماتی ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ک طرف توجہ فرمائی ، پس میں نے گمان کیا کہ آپ اس کی خواہش کر رہے ہیں ، پس میں نے اسے پکڑ کر اپنے منہ سے خوب چبایا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دیا۔ فرماتی ہیں : پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنے منہ کی طرف کیا ۔ فرماتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ کانپ گیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے گر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک میری طرف کیا حتیٰ کہ آپ کا منہ (ہونٹ ) میرے ہونٹؤں کے درمیان تھا، جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔اور کستوری کی خوشبو میرے چہرے میں اٹھنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک جھک گیا۔ جس سے میں سمجھی کہ غشی طاری ہو گئی ہے ۔ فرماتی ہیں : پس میرے والد گرامی حضرت ابوبکر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: کیسے محسوس کرتی ہو؟ پس میں نے عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی کا عالم طاری ہے آپ نے قریب ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور بولے : ہائے یہ غشی ! کتنی سخت غشی ہے ۔ دوبارہ آپ کے مبارک چہرے سے کپڑا ہٹایا تو آثار موت پہچان لیے اور فرمایا: انا اللہ (ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) پھر روئے۔ میں نے کہا : اللہ کی راہ میں وحی منقطع ہو گئی اور میرے گھر میں جبریل کا آنا بند ہو گیا، پھر اپنے ہاتھوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کنپٹیوں پر رکھا اور اپنا منہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر رکھا ، اس کے بعد خوب روئے حتیٰ کہ آپ کے آنسو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر بہہ گئے، پھر آپ کے چہرے کو ڈھانپ کر لوگوں کی طرف تشریف لے گئے اس حال میں کہ آپ رو رہے تھے ، فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ ! کیا تم میں سے کسی کے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا عہد ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! پھر آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے عمر ! کیا آپ کے پاس ، وفات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عہد ہے ؟ انہوں نے عرض کی: نہیں ! فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! تحقیق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مو ت کو چکھ لیا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے فرما چکے تھے، میں بھی اس دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں اور تم پر موت آئے گی۔ پس لوگوں میں شور مچ گیا، وہ بہت زیادہ رونے لگے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے اہل بیت سے الگ کردیا گیا۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ پانی ڈال رہے تھے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی شی نہیں بھولا جس کو میں نے غسل نہ دیا ہو مگر میرے لیے قلب ہوا حتیٰ کہ میں کسی ایک کو دیکھاتا ہوں ، پس میں اسے غسل دیتا ہوں سوائے اس کے کہ میں کسی کو دیکھوں حتیٰ کہ میں غسل سے فارغ ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرخ یمنی چادر میں کفن دیا گیا اور دو چادریں ان سے کچھ پایا گیا پھر انہیں دھویا تیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چارپائی پر رکھا گیا ، پھر لوگوں کو اجازت دی گئی پس لوگ گروہ در گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئے ، بغیر کسی امام کے درود ( یا نماز) پڑھتے تھے حتیٰ کہ مدینہ میں کوئی باقی نہ رہ گیا ۔ نہ کوئی آزاد ، نہ غلام مگر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضر ہو کر درود پڑھ لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن ( کس مقام پر ) کے بارے ا ختلاف ہوا کہ کہا دفن کیا جائے ؟ بعض نے رائے دی کہ اس لکڑی کے پاس جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگایا کرتے تھے اور وہ آپ کے منبر کے نیچے ہے اور بعض نے کہا : جنت البقیع میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود مردوں کو دفن کیا کرتے تھے۔ صحابہ نے کہا: ہم یہ نہیں کریں گے ، پھرتو ہمیشہ تم میں سے جس آدمی کے غلام یا بیٹے پر اس کا آقا یا والد ناراض ہو گا تو وہ آپ کی قبر کی پناہ لے گا۔ پس رائے اس پر پکی ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں اپنے بستر والی جگہ دفن کیا جائے جس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض ہوئی ہے ۔ پس جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا تو انہیں آپ کے ساتھ دفن کیا گیا پس جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال ہونے لگا تو آپ نے وصیت کی، فرمایا: جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اٹھا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر رکھ کر یہ کہنا : یہ عمر ہے ! آپ پر سلام عرض کرتا ہے اور کہتا ہے : کیا مجھے داخل ہونے کی اجازت ہے یا چلے جانے کا حکم ہے ؟ راوی کا بیان ہے : پس آپ ایک گھڑی خاموش رہیں، پھر گویا ہوئیں : ان کو لاؤ پس انہوں نے حضرت ابو بکر کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں دفن کیا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بائیں طرف دفن کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : پس جب حضرت عمر دفن ہوئے تو میں برقعہ لے کر پہنتی تھی ۔ راوی کہتا ہے : آپ سے عرض کی گئی : اب آپ پردہ کیوں کرتی ہیں ؟ فرمایا: پہلے میرے خاوند تھے اور دوسرے میرے والد گرامی تو جب حضرت عمر کو دفن کیا گیا تو میں نے پردہ کیا۔

ابن بابنوس ← أَبِيهِ ← عوبد ← أَبُو هَمَّامٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4962

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4963

4963 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن محمد بن إسحاق عن محمد بن جعفر بن الزبير عن عروة بن الزبير Y عن عائشة قالت : جاءت جويرية إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : إني وقعت في السهم لثابت بن قيس بن شماس أو لابن عم له - فكاتبته على نفسي فجئت رسول الله صلى الله عليه و سلم أستعينه على كتابتي فقال : هل لك خير من ذلك أقضي كتابك وأتزوجك ؟ قالت : نعم قال : فقد فعلت K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : حضرت جویریہ ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور عرض کی: ثابت بن قیس بن شماس یا اس کے چچا کے بیٹے سے مجھے حصہ ملا ہے ، پس میں نے اپنے آپ کو آزاد کرانے پر مال دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ پس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے مال کتابت کی ادائیگی پر مدد مانگنے کے لیے حاضر ہوئی ہوں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس میں تجھے کوئی بھلائی نظر آتی ہے کہ میں تیرا مال کتابت ادا کر کے تجھ سے نکاح کر لوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ادا کرتا ہوں ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4963

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4964

4964 - حدثنا عبد لله بن عمر بن أبان حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن عبيد الله عن القاسم بن محمد Y عن عائشة قالت : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل طلق إمرأته البتة - يعني ثلاثا - فتزوجت رجلا فطلقها قبل أن يدخل بها أترجع إلى الأول فقال لا حتى يذوق من عسيلتها ما ذاق صاحبه K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ایک آدمی کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دے دی تھی ،یعنی تین طلاقیں ( مغلظہ ) پس اس عورت نے آگے ایک مرد سے نکاح کیا لیکن اس نے ہم بستی سے پہلے اسے طلاق دے دی ہے ، کیا وہ پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! یہاں تک کہ وہ اس کا شہد چکھ لے ، جو اس کے ساتھی نے چکھا تھا۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← عبد لله بن عمر بن أبان

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4964

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4965

4965 - حدثنا عبد الله حدثنا يحيى بن زكريا عن يحيى بن سعيد عن القاسم Y عن عائشة مثله K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کی مثل روایت ہے ۔

عائشة مثله إسناده صحيح ← الْقَاسِمِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4965

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4966

4966 - حدثنا عبد الله بن عمر حدثنا يحيى بن زكريا عن يحيى بن سعيد عن نافع Y عن ابن عمر مثله K إسناده صحيح

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے اسی کی مثل روایت ہے ۔

ابن عمر مثله إسناده صحيح ← نَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4966

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 4967

4967 - أخبرنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي حدثنا أبو خثيمة زهير بن حرب حدثنا سفيان بن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن أبي معمر Y عن عبد الله بن مسعود قال : دخل النبي صلى الله عليه و سلم المسجد وحول الكعبة ثلاث مئة وستو ن صنما فجعل يطعنها بعود معه وبقول : { جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا } [ الإسراء : 81 ] K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت تھے ۔ اپنی چھڑی کے ساتھ ان کو مارتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھی اور فرمایا: "حق آگیا باطل چلا گیا، بے شک باطل نے جانا ہی تھا"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أبو خثيمة زهير بن حرب ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 4967

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 4968

4968 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن أبي معمر Y عن عبد الله قال : انشق القمر على عهد رسول الله شقين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اشهدوا K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو مرتبہ شق ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گواہ رہنا۔

انشق القمر على عهد رسول الله شقين ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 4968

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 4969

4969 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا ابن عيينة حدثنا عبد الكريم الجزري عن زياد بن أبي مريم عن عبد الله بن معقل قال Y دخلت مع أبي علي عبد الله فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الندم توبة ؟ قالت : نعم K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ندامت توبہ ہی ہے ؟ عرض کی : جی ہاں ۔

نعم إسناده صحيح ← "النَّدَمُ توبة" ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← دخلت مع أبي علي عبد الله فقال ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← زياد بن أبي مريم ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 4969

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 4970

4970 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا ابن عيينة عن عاصم عن زر Y عن عبد الله قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في غار فنزلت عليه { والمرسلات عرفا } فأخذتها من فيه وإن فاه لرطب فما أدري بأيها ختم { فبأي حديث بعده يؤمنون } [ المرسلات : 50 ] أو { وإذا قيل لهم اركعوا لا يركعون } [ المرسلات : 48 ] فسبقتنا حية فدخلت في جحر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وقيتم شرها ووقيت شركم K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ سورہ مرسلات نازل ہوئی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے سن کر یاد کرلی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منہ مبارک تروتازہ تھا میں نہیں جانتا ہوں کس پر آپ نے ختم کیا۔ اس پر " پھر اس کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے" یا اس پر " پھر ان سے کہا جائے کہ نماز پڑھو تو نماز نہیں پڑھتے ہیں" ہم پر سانپ سبقت لے گیا وہ اپنے بل میں چلا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے شر سے بچ گئے ، وہ تمہارے شر سے بچا لیا گیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 4970

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 4971

4971 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا ابن عيينة عن عاصم عن أبي وائل قال Y قال عبد الله : كنا نسلم على النبي صلى الله عليه و سلم فيرد علينا - يعني في الصلاة - فلما أن جئنا من أرض الحبشة سلمت عليه فلم يرد علي فأخذني ما بعد وما قرب فجلست حتى إذا قضى الصلاة قلت له : إنك كنت ترد علينا فقال : إن الله يحدث ما شاء وقد أحدث في أمره قضاء : أن لا تتكلموا في الصلاة K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو جواب دیتے یعنی نماز میں ، جب حبشہ کی سر زمین سے واپس آنے پر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہیں دیا۔ میں نے پکڑا اور تھا جو قریب تھا۔ یہاں تک کہ جب نماز انور سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے عرض کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے ( تھے نماز کے دوران بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ جو چاہتا ہے ، حکم فرماتا ہے ، اس نے نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ نماز میں گفتگو نہ کیا کرو۔

أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 4971

chevron_left Previous
1…575859…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter