مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1327
1327 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن الأعمش عن عطية Y عن أبي سعيد الخدري قال : دخل رجلان على رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألاه في ثمن بعير فأعانهما بدينارين فخرجا من عنده فلقيهما عمر فقالا وأثنيا معروفا وشكرا ما صنع بهما رسول الله صلى الله عليه و سلم فدخل عمر على النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره بما قلا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ولكن فلان أعطيته ما بين العشرة إلى المئة فلم يقل ذلك إن أحدهم يسألني فينطلق بمسئلته متأبطها وما هي إلا نار فقال عمر : تعطينا ما هو نار ؟ قال : يأبون إلا أن يسألوني ويأبى الله لي البخل K إسناده ضعيف
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے دونوں نے اونٹ کے پیسوں کا سوال کیا ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں کی دو دینار کے ساتھ مدد کی ،دونوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے نکلے ۔دونوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملے،دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نیکی کی تعریف کی ہےاور شکریہ ادا کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ کی تھی ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے ،بتایا جو ان دونوں نے کہا تھا۔حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :لیکن فلاں کو میں نے دس سے سو تک دیئے تھے۔یہ انہوں نے نہیں کہا۔ان میں ہر ایک مجھ سے مانگ رہے تھے۔ان میں سے ایک مجھ سے مانگتا ہے وہ چلتا ہے مانگ تو اپنی بغل میں آگ لیے ہوتا ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو آگ کیوں دی؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :وہ مانگنے سے نہیں رکتے تھے،اللہ نے میرے متعلق بخل کو پسند ہی نہیں کیا۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ
Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1327
