مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1267
1267 - حدثنا زهير حدثنا يونس حدثنا شيبان عن قتادة قال : حدث هلال بن حصن Y عن أبي سعيد الخدري قال : أصابه مرة جهد شديد فقال لي بعض أهلي : لو سألت لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فانطلقت محنقا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان أول ما واجهني به من قوله أنه قال : من استعف أعفه الله ومن استغنى أغناه الله ومن سألنا لم ندخر عنه شيئا وجدتاه قال : فرجعت إلى نفسي أخير إليها : ألا أستعف فيعفني الله ؟ ألا أستغني فيغنيني الله ؟ قال : فما مشيت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد ذلك أسأله شيئا من فاقة حتى أقبلت علينا الدنيا فغرقتنا إلا ما عصم الله K إسناده حسن
حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے ایک مرتبہ سخت ضرورت پڑی مجھے بعض گھر والوں نے کہا کہ اگر آپ ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سےسوال کریں میں چلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جو سوال سے بچنا چاہتا ہے تو اللہ اس کو بچالیتا ہے جوغناء چاہتا ہے اللہ اس کو غنی کر دیتا ہے جو ہم سے مانگےتو ہم جمع نہیں کرتے ہیں جوشی ہم پاتے ہیں۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے بعد میں کسی شی کا سوال کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں کبھی نہیں گیا بھوک کی وجہ سے یہاں تک کہ ہم کو دنیاآملی ہے اور ہم اس میں پھنس گئے مگر جس کو الله بچالے۔
أصابه مرة جهد شديد ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← حدث هلال بن حصن ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← يُونُسَ ← زُهَيْرٍ
Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1267
