Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1231

1231 - حدثنا زهير حدثنا هشيم بن بشير حدثنا عثمان البتي عن أبي الخليل Y عن أبي سعيد الخدري قال : أصبنا يوم أوطاس سبايا ولهن أزواج في قومهن فذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم قال : فنزلت { والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم } [ النساء : 24 ] K إسناده ضعيف

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم کو اوطاس کے دن کچھ قیدی عورتیں ملیں، ان کی قوموں میں ان کے شوہر تھے' (تو ہم نے ان سے جماع کو نا پسند کیا)۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ان کاذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: " والمحصنات من النساء الیٰ آخرہٖ "۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ← هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1231

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1232

1232 - حدثنا زهير حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا شعبة عن خليد بن جعفر و المستمر بن الريان قالا : سمعنا أبا نضرة يحدث Y عن أبي سعيد أن نبي الله صلى الله عليه و سلم ذكر امرأة من بني إسرائيل حشت خاتمها مسكا والمسك أطيب الطيب K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کا ذکرکیا،جس کی انگوٹھی سےکستوری کی خوشبو مہک رہی ہوتی تھی،کیونکہ اس نے اپنی انگوٹھی کو کستوری سے بھرا ہوا ہوتا تھا، کستوری کی خوشبو سب سے اچھی خوشبو ہے۔

امرأة من بني إسرائيل حشت خاتمها مسكا والمسك أطيب الطيب إسناده صحيح ← أبي سعيد أن نبي الله صلى الله عليه و سلم ← أَبَا نَضْرَةَ ← خليد بن جعفر و المستمر بن الريان ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1232

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1233

1233 - حدثنا زهير حدثنا عبد الله بن حمران قال عبد الحميد بن جعفر أخبرنا عن الأسود بن العلاء عن أبي سلمة بن عبد الرحمن Y عن أبي سعيد قال : لما خرجت الحرورية جئنا أبا سعيد الخدري فقلنا : أسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يذكر الحرورية فقال : لا ولكن سمعته يقول : يوشك أن يأتي قوم تحقرون صلاتكم مع صلاتهم وأعمالكم مع أعمالهم يمرقون عن الإسلام كما يمرق السهم من الرمية حتى يأخذه صاحبه فينظر إلى نصله فلا يرى شيئا ثم ينظر إلى رعظه فلا يرى شيئا ثم ينظر إلى قدحه فلا يرى فيه شيئا ثم ينظر إلى قذذه هل يرى فيه شيئا أم لا ؟ K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم حروریہ کی طرف نکلے تو ہم حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے ' ہم نے عرض کی: کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوحروریہ کاذکرکرتے ہوئے سنا ہے؟ فرمایا : نہیں ! لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےسنا ہے کہ قریب ہے کہ ایک قوم آئے گی کہ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلہ میں اور ان کے اعمال سے اپنے اعمال کو کم محسوس کرو گے' لیکن وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اپنے تیر کی کمان کی طرف دیکھتا ہے اور اس میں کوئی شے نہیں دیکھتا ہے' پھر وہ تیر میں بھالا لگانے کے سوراخ کی طرف دیکھتاہے اور اس میں کوئی شے نہیں دیکھتا' پھر اس کے پھل لگانے کے تیرکے چیرنے کی طرف دیکھتا ہے اور اس میں کوئی شی نہیں دیکھتا' پھر اس کے پروں کی طرف دیکھتا ہے کہ کیا اس میں کوئی شی دیکھے گا یا نہیں؟

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1233

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1234

1234 - حدثنا زهير حدثنا يونس بن محمد حدثنا فليح بن سليمان عن سعيد بن الحارث قال Y اشتكى أبو هريرة و غلب قال : فصلى أبو سعيد الخدري فجهر بالتكبير حين افتتح وحين ركع وبعد أن قال : سمع الله لمن حمده وحين رفع رأسه من السجود وحين سجد وحين رفع وحين قام من الركعتين حتى صلى صلاته على ذلك فلما انصرف قيل له : قد اختلف الناس على صلاتك فقام حتى قام عند المنبر فقال : يا أيها الناس إني والله ما أبالي اختلفت صلاتكم أو لم تختلف إن رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم هكذا يصلي K فليح بن سليمان كثير الخطأ وهو من رجال الصحيحين وباقي رجاله ثقات

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار ہو گئے، ان پربیماری غالب آ گئی۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھائی۔ اللہ اکبر کو اونچا کہا جس وقت نماز شروع کی اور جس وقت رکوع کیا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد اور جس وقت سجدہ سے سر کو اٹھایا اور جس وقت سجدہ کیا' جس وقت سجدہ سے سر اٹھایا،، جس وقت دو رکعتوں سے اٹھے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز مکمل فرمائی جب سلام پھیرا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی گئی: لوگوں کو آپ کی نماز سے اختلاف ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ منبر کے پاس کھڑے ہوئے۔فرمایا: اے لوگو!اللہ کی قسم ! مجھے کوئی پرواہ نہیں ہےکہ تم میری نماز میں اختلاف کرویانہ کرو'میں نے اپنے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھاہے۔

فصلى أبو سعيد الخدري فجهر بالتكبير حين افتتح وحين ركع وبعد أن ← اشتكى أبو هريرة و غلب ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1234

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1235

1235 - حدثنا زهير حدثنا أبو عامر العقدي عن زهير بن محمد عن شريك بن عبد الله بن أبي تمر عن عبد الرحمن بن أبي سعيد Y عن أبيه وعمه قتادة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كلوا لحوم الأضاحي وادخروا K إسناده حسن

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قربانی کاگوشت کھاؤ اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔

أبيه وعمه قتادة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← شريك بن عبد الله بن أبي تمر ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1235

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1236

1236 - حدثنا زهير حدثنا أبو عامر عن زهير عن شريك عن عبد الرحمن بن أبي سعيد Y عن أبيه قال : خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم يوم الاثنين إلى قباء فمر بنا في بني سالم فوقف رسول الله صلى الله عليه و سلم على باب ابن عتبان فصاح به وهو على بطن امرأته فخرج وهو يجر إزاره فلما رآه قال : أعجلنا الرجل : فقال ابن عتبان : يا رسول الله أرأيت الرجل إذا أعجل على امرأته فلم يمن ماذا عليه ؟ قال : إنما الماء من الماء K إسناده حسن

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پیر شریف کےدن قباء کی طرف نکلے ۔ ہم بنی سالم کے پاس سے گزرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن عتبان کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے'آپ نے اس کوآواز دی تووہ اپنی بیوی کے پاس لیٹاہواتھا' وہ اس حالت میں نکلا کہ اس کا تہبند لٹکا ہوا تھا'جب آپ نے اس کودیکھا تو آپ نے فرمایا: اس آدمی نےہمارے پاس آنے میں جلدی کی۔ ابن عتبان نے عرض کی: یارسول اللہ !آپ بتائیں کہ ایک آدمی جب اپنی بیوی کے پاس ہو اور اس سے پانی نہ نکلے ( تو غسل فرض ہے)؟ آپ نے فرمایا:پانی پانی سے ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← شَرِيکٍ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1236

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1237

1237 - حدثنا زهير حدثنا أبو عامر العقدي عن زهير بن محمد عن محمد بن عمرو عن عطاء بن يسار Y عن أبي هريرة و أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما يصيب المرء المؤمن من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن ولا غم ولا أذى حتى الشوكة يشاكها إلا كفر الله بها من خطاياه K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مومن مرد کوغم و پریشانی تکلیف پہنچتی ہے یہاں تک کہ کانٹا بھی اگر چبھتاہے اللہ عزوجل اس کے ذریعے اس کی غلطیاں معاف کردیتا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أبي هريرة و أبي سعيد ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1237

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1238

1238 - حدثنا زهير حدثنا أبو عامر عن زهير عن عبد الله بن محمد عن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري Y عن أبيه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول على هذا المنبر : ما بال رجال يقولون : إن رحم رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تنفع قومه ؟ بلى والله إن رحمي موصولة في الدنيا والآخرة وإني يا أيها الناس فرط لكم على الحوض فإذا جئتم قال رجل : يا رسول الله أنا فلان بن فلان وقال آخر : أنا فلان بن فلان فأقول : أما النسب فقد عرفته ولكنكم أحدثتم بعدي وارتددتم القهقهرى K إسناده حسن

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس منبر پر فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جوکہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت لوگوں کوفائدہ نہیں دے گی۔ کیوں نہیں !،اللہ کی قسم ! میری رحمت دنیا و آخرت میں مل رہی ہے۔ اے لوگو! میں تمہارا حوض پر انتظار کروں گا جب تم آؤ گے۔ ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں فلاں بن فلاں ہوں۔ میں نے ان کوکہا: بہر حال میں تمہارا نسب پہچانتا ہوں لیکن تم میرے بعدبدعت ایجاد کرو گے اورتم ایڑیوں کے بل پلٹو گے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1238

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1239

1239 - حدثنا زهير حدثنا أبو عامر العقدي عن سليمان بن بلال عن عمارة بن غزية عن يحيى بن عمارة Y عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لقنوا موتاكم : لا إله إلا الله K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرو۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1239

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1240

1240 - حدثنا زهير حدثنا أبو النضر حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن أبي صالح قال Y بينما أبو سعيد الخدري يوم الجمعة يصلي إلى شيء يستره من الناس إذ جاء شاب من بني معيط فأراد أن يجتاز بين يديه قال : فدفعه أبو سعيد في نحره فلم يجد مساغا إلا ما بين يدي أبي سعيد الخدري فعاد فدفعه في نحره أشد من الدفعة الأولى قال : فمثل قائما ثم نال من أبي سعيد قال : فدخل أبو سعيد على مروان فقال : ما لك و لابن أخيك جاء يشتكيك ؟ فقال أبو سعيد الخدري : سمعت رسول الله يقول : إذا صلى أحدكم فأراد أحد أن يجتاز بين يديه فليدع في نحره فإن أبى فليقاتله فإنما هو شيطان K إسناده صحيح

حضرت ابوصاع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم کو ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ کے دن نماز پڑھا رہے تھے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کے سامنے گزرنے کے لیے سترہ گاڑا ہوا تھا اچانک بنی معیط سے ایک نوجوان آیا اس نے ارادہ کیا کہ وہ درمیان سے گزر جائے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو روک دیا' وہ اس کے علاوہ گزرنے کی جگہ نہیں پاتا تھا' وہ دوبارہ گزرنے لگا تو آپ نے دوبارہ سختی سے اس کو روکا جو پہلی مرتبہ سے زیادہ سخت تھا۔ پھر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا' پھر ابوسعید سے مار پڑی'اس کے بعد ابوسعید 'مروان کے پاس آئے'اس نے کہا:آپ کو اور آپ کے بھائی کے بیٹے ہوکیا ہے کہ وہ شکایت کے لیے آئے تھے؟ حضرت ابوسعید نے فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور کوئی ایک اس کے آگے سے گزرنے کاارادہ کرے تو وہ اس کو روکے' اگر رکنے سے انکار کرو تو اس کو قتل کر دے۔

بَيْنَمَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُصَلِّي إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو النَّضْرِ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1240

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1241

1241 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن عياض قال : Y قلت لأبي سعيد الخدري : أحدنا يصلي فلا يدري كم صلى ؟ فقال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا صلى أحدكم فلم يدر كم صلى فليسجد سجدتين وهو جالس وإذا جاء أحدكم الشيطان وهو في صلاته فقال : إنك قد أحدثت فليقل : كذبت إلا ما وجد ريحه بأنفه أو سمع صوتا بأذنه

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے وہ نہیں جانتا ہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔ وہ بیٹھنے کی حالت میں دو سجدہ سہو کرے۔ جب تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں شیطان آ جائے اور وہ کہے : تو بے وضو ہو گیا ہے۔تو وہ جھوٹا ہے مگر جو بو پائے اپنے ناک سے سونگھنے کے ساتھ یا اس کی آواز سنے اپنے کانوں کے ساتھ۔

قلت لأبي سعيد الخدري أحدنا يصلي فلا يدري كم صلى فقال ← عِيَاضٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الدَّسْتُوَائِيُّ؛ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1241

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1242

1242 - حدثنا زهير حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن هلال بن أبي ميمونة عن عطاء بن يسار Y عن أبي سعيد الخدري قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن أخوف ما أخاف عليكم ما يخرج الله لكم من زينة الدنيا وزهرتها فقال له رجل : يا رسول الله أيو يأتي الخير بالشر ؟ فسكت عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأينا أنه ينزل عليه فقيل له : ما شأنك تكلم رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا يكلمك ؟ فسري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعل يمسح عنه الرحضاء فقال : أين السائل فرأينا أنه حمده فقال : إن الخير لا يأتي بالشر وإن مما ينبت الربيع يقتل - أو يلم - حبطا ألم تروا إلى آكلة الخضر أكلت حتى امتلآت خاصرتاها فاستقبلت عين الشمس فثلطت فبالت ثم رتعت ؟ وإن المال حلوة خضرة ونعم صاحب المسلم هو إن وصل الرحم وأنفق في سبيل الله ومثل الذي يأخذه بغير حقه كمثل الذي يأكل ولا يشبع ويكون عليه شهديا يوم القيامة

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا' آپ نے فرمایا: مجھے تم پر دنیا کی زینت اور خوبصورتی کا اندیشہ ہے' ایک آدمی نے آپ سے عرض کی:یارسول اللہ ! کیا خیر شر لاتی ہے؟ آپ اس کا جواب دینے سے خاموش رہے' ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے' آپ سے عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے کہ اللہ کا بھیجا ہوا گفتگو نہیں کرتا ہے اور آپ گفتگو کرتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وحی کی کیفیت چلی گئی تو آپ اپنے آپ سے پسینہ صاف کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: سائل کہاں ہے؟ ہم نے دیکھا کہ آپ اس کی تعریف کر رہے ہیں' آپ نے فرمایا: بے شک بھلائی شر نہیں لاتی ہے' بے شک موسم ربیع گھاس اگاتا ہے یا گھاس اگتی ہے' وہ کھائی جاتی ہے یا ختم ہو جاتی ہے' کیا تم نہیں دیکھتے کہ جانور سر سبز کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کے پیٹ کے دونوں طرف بھر جاتے ہیں ' وہ صبح کرتی ہے تو اس کا پیٹ خالی ہوتا ہے' وہ پیشاب کرتی ہے ' پھر چرتی ہے' بے شک مال میٹھا سر سبز ہے'کتنا اچھا مسلمان ہے وہ جو رشتہ داریاں جوڑے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرے' اس کی مثال جو بغیر حق کے کسی کا مال لیتا ہے اس کی طرح ہے جوکھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا ہے' وہ اس پر قیامت کے دن گواہ ہو گا۔ زہیر فرماتے ہیں: خبطا اور وہ حبطا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1242

chevron_left Previous
1…570571572…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter