مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1195
1195 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل عن الجريري عن أبي نضرة ! Y عن أبي سعيد قال : لم نعد أن فتحت خيبر فوقعنا في تلك البقلة : الثوم والبصل فأكلنا منها أكلا شديدا قال : وناس جياع فرجعنا إلى المسجد فوجد رسول الله صلى الله عليه و سلم الريح فقال : من أكل من هذه البقلة الخبيثة شيئا فلا يقربنا في المسجد فقال الناس : حرمت حرمت فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أيها الناس إنه ليس لي تحريم ما أحل الله ولكنها شجرة أكره ريحها K إسناده صحيح
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر فتح ہونے کے بعد ہم نہیں لوٹے ہم نے وہاں پر لہسن اور پیاز پایا، ہم نے اس سے بہت زیادہ کھایا۔ صحابہ کرام بھوکے تھے، ہم مسجد کی طرف گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بو محسوس کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس خبیث درخت سے جو کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یہ حرام کیا گیا ہے ' یہ حرام کیا گیا ہے۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں حلال چیز کو حرام نہیں کرتا ہوں ، لیکن اس درخت کی بو کو ناپسند کرتا ہوں۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو خَيْثَمَةَ
Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1195
