مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4936
4936 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا ابن أبي الزناد عن هشام بن عروة عن أبيه قال لي أبي Y إن عائشة قالت له : يا ابن أختي لقد رأيت من تعظيم رسول الله العباس أمرا عجبا وذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كانت تأخذه الخاصرة فتشتد به جدا . قالت : وكنا نقول اخذت رسول الله عرق الكلية ولا نهتدي للخاصرة فأخذت رسول الله صلى الله عليه و سلم الخاصرة يوما من ذلك فاشتدت به جدا حتىأغمي عليه فخفنا على رسول الله وفزع الناس إليه . قالت : فظننا أن به ذات الجنب فلددناه . قالت : ثم سري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأفاق . قالت فعرف أن قد لددناه فوجد أثر اللد فقال : أظننتم أن الله سلطها علي ؟ ما كان الله ليسلطها علي والذي نفسي بيده لا يبقى أحد في البيت إلا لد إلا عمي . قالت عائشة فلقد رأيتهم يومئذ يلدون رجلا رجلا . قالت عائشة ومن في البيت يومئذ يذكر فضلهم . قالت : فلد الرجال أجمعين قالت : ثم بلغنا والله اللدود أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فلددنا والله امرأة امرأة قالت حتى بلغ اللدود امرأة منا قالت : إني والله صائمة فقلنا لها : بئس ما ظننت أن نتركك وقد أقسم رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت : فلددناها والله يا ابن أختي وإنها لصائمة . قال : وقال عروة عباس والله أخذ بيد رسول الله صلى الله عليه و سلم حين أتاه السبعون من الانصار العقبة فأخذ لرسول الله صلى الله عليه و سلم عليهم وشرط عليهم وذلك في غرة الإسلام وأوله قبل أن يعبد أحد الله علانية K إسناده حسن
ہشام بن عروہ روایت کرتے ہیں اپنے والد سے کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا : اے بھانجے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عباس کی تعظیم کرتے ہوئے عجیب معاملہ میں نے دیکھا، وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں درد ہو جاتا تھا اور انتہائی سخت ہوتا، پس ہم کہتے تھے : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گردے کا درد ہے ، ہم خاصرہ سے واقف نہ تھے، پس ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پھر سے پہلو کا درد ہو گیا اور اس قدر شدید و سخت ہوا ، حتیٰ کہ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں خوف کیا اور لوگ آپ کی طرف گھبرا کر آئے ۔ فرماتی ہیں کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ کو نمونیہ ہو گیا ہے تو ہم نے آپ کے منہ کے کناروں سے دوا پلائی ۔ فرماتی ہیں کہ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کیفیت دور ہوئی ، آپ کو افاقہ ہوا ۔ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانا کہ ہم نے آپ کو دوا پلائی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوا کا اثر محسوس کیا تو فرمایا: کیا تم یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ نے اس بیماری کو مجھ پر مسلط کردیا ہے ، اللہ کے شایان شان نہیں کہ وہ اس کو میرے اوپر غالب فرما دے، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ! گھر میں دوائی اور میرے چچا کے علاوہ کوئی نہ رہے ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : تحقیق میں نے اس دن ان کو دیکھا کہ دوا پی رہے تھے، ایک ، ایک آدمی یعنی سب ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : اس دن جو بھی گھر میں تھا اس کی فضیلت بیان کی جارہی تھی۔ آپ فرماتی ہیں : تمام لوگوں نے دوا پی لی تھی، فرماتی ہیں : پھر قسم بخدا! یہ دوا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی تک پہنچی، قسم بخدا! ہم عورتیں ایک ایک کرکے دوا پینے لگیں ۔ فرماتی ہیں : حتیٰ کہ یہ دوا ہم میں سے ایک عورت (میمونہ ) تک پہنچی جس نے کہا : میرا روزہ ہے ۔ پس ہم نے اس سے کہا: کتنا برا تو نے گمان کیا ہے ، ہم آپ کو چھوڑ دیں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تقسیم فرمایا ہے ۔ فرماتی ہیں : پس ہم نے اس کو بھی وہ دوا پلائی ، قسم بخدا! اے میرے بھانجے ! وہ یقیناً روزے سے تھیں ۔ وہ فرماتے اور حضرت عروہ نے کہا : اللہ کی قسم ! حضرت عباس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، جب عقبہ کے مقام پر آپ کے ساتھ ستر انصاری آئے، پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بیعت لیں اور شرطیں بتائیں اور ابتدائے اسلام کی بات ہے ، اس سے پہلے کوئی آدمی کھلے بندے اللہ کی عبادت کرتا ہو۔
لي أبي إن عائشة ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4936
