Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1075

1075 - قرأت على الحسن بن يزيد الطحان هذا الحديث فقال : هو ما قرأت على سعيد بن خثيم عن فضيل عن عطية Y عن أبي سعيد قال : لما نزلت هذا الآية { وآت ذا القربى حقه } [ الإسراء : 26 ] دعا النبي فاطمة وأعطاها فدك K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ قریبی رشتہ دار کو اس کا حق دو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ ٹعالیٰ عنہا کو بلوایا اور ان کو باغ فدک دیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← فُضَيْلٍ ← على سعيد بن خثيم ← هو ما ← على الحسن بن يزيد الطحان هذا الحديث

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1075

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1076

1076 - حدثنا وهب بن بقية أخبرنا خالد عن الجريري عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد قال : اعتكف رسول الله صلى الله عليه و سلم العشر الأوسط من رمضان يلتمس ليلة القدر ثم أمر بالبناء فنقض ثم بيني له في العشر الأواخر فأمر به فأعيد فخرج إلينا فقال : إنها بينت ليلة القدر وإني خرجت لأبينها لكم فتلاحى رجلان فنسيتها فالتمسوها في التاسعة والسابعة والخامسة قلت : يا أبا سعيد إنكم أعلم بالعدد منا فأي ليلة : التاسعة والسابعة والخامسة ؟ فقال : أجل ونحن أحق بذلك إذا كانت ليلة إحدى وعشرين ثم دع ليلة ثم التي تليها هي الثالثة ثم دع الليلة والتي تليها الخامسة . قال الجريري : فحدثني أبو العلاء عن مطرف أنه سمع معاوية يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والثالثة . قال الجريري : فحدثني أبو العلاء عن مطرف أنه سمع معاوية يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والثالثة K إسناده صحيح

حضر ت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے درمیان عشرہ میں اعتکاف کیا پھر لیلۃ القدر تلاش کرنے لگے' پھر بناء کا حکم دیا ' اس کو ختم دیا گیا' پھر اس کو بیان کیا گیا ' آخری عشرہ میں آپ نے اس کا حکم دیا' اس کو لوٹا یا گیا' آپ ہماری طرف نکلے ' فرمایا: لیلۃ القدر کوواضح کر دیا گیا تھا ' میں نکلا تاکہ تمہارے لیے بیان کروں تو دو آدمی جھگڑ رہے تھے تو یہ مجھے بھلا دی گئی ' تو اب لیلۃ القدر تلاش کرو: پانچ ' سات اور نو رمضان میں ۔ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے ابو سعید !تم تعداد کو ہم سے زیادہ جانتے ہو کہ کون سی رات پانچ' سات یا نو ہے؟ حضرت ابوسعید نے فرمایا: جی ہاں ! ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں'جب اکیسویں رمضان کی رات ہو تو اس کو چھوڑ دو وہ پانچویں جو اسکے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔ حضرت جریری فرماتے ہیں : مجھے ابو العلاء نے بیان کی ' انہوں نے مطرف سے ' انہوں نے معاویہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین!

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1076

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1077

1077 - حدثنا عبد الغفار حدثنا علي بن مسهر عن أبي سفيان عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مفتاح الصلاة الوضوء وتحريمها التكبير وإحلالها التسليم وفي كل ركعتين تسليم ولا تجوز صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب وشيء معها

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی وضو ہے ' اس کو حرام کرنے والی تکبیر ہے اس کو حلال کرنے والا اسلام ہے۔ ہر دورکعتوں میں التحیات ہے کوئی نماز مکمل نہیں ہوتی جس میں سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی آیت یا سورۃ نہ ملائی جائے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبِي سُفْيَانَ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عبد الغفار

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1077

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1078

1078 - حدثنا وهب بن بقية أخبرنا خالد عن الجريري عن أبي نضرة قال أراه Y عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يا أهل المدينة لا تأكلوا لحوم الأضاحي فوق ثلاثة الأيام قال : فشكوا إليه أن لهم عيالا وخدما فقالى : كلوا وأطعموا واحتبسوا K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اہل مدینہ ! قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھاؤ' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی گئی کہ انکے بچہ اور غلام بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور کھلاؤ اور رکھ بھی لو۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أُرَاهُ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1078

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1079

1079 - وعن أبي نضرة قال : أراه Y عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا اكتسى ثوبا سماه باسمه : عمامة أو قميص أو رداء ويقول : اللهم لك الحمد أنت كسوتني أسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی کپڑے پہنتے تھے تو اس کا نام رکھتے تھے عمامہ یا قمیص ، یا چادر اور یہ دعا کرتے: " اللھم لک الحمد الیٰ آخرہٖ " ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أُرَاهُ ← وعن أبي نضرة

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1079

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1080

1080 - وعن أبي نضرة Y عن أبي سعيد قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم على نهر من ماء وهو على بغل والناس صيام والمشاة كثير فقال : اشربوا فجعلوا ينظرون إليه فقال : اشربوا فإني أيسركم فجعلوا ينظرون إليه فحول وركه فشرب وشرب الناس K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ' حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کی ایک نہر کے پاس سے گزرے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خچر پر سوار تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین روزہ کی حالت میں تھے، سفر بھی کافی تھا۔ صحابہ کرام آپ کا انتظارکرنے لگے' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیوا، میں تم پر آسانی کرنے کے لیے آیا ہوں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خچر سے نیچے اترے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی پیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1080

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1081

1081 - وعن أبي سعيد قال Y دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم المسجد فبصر بنخامة في قبلة المسجد فاستبانها بعود كان معه أو قصبة ثم أقبل على القوم يعرفون الغضب في وجهه فقال : من صاحب هذا ؟ فسكت القوم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيحب أحدكم إذا قام في مصلاه أن يستقبله رجل فينخع في وجهه ؟ قالوا : يا رسول الله ما تحب ذلك قال : فإن الله بين أيديكم فلا يواجهن أحدكم بشيء من الأذى بين يديه ولكن عن يساره أو تحت قدمه K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کی قبلہ کی جانب تھوک کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھڑی کے ساتھ یا لکڑی کے ساتھ اس کو صاف کر دیا۔ پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جانب متوجہ ہوئے۔ صحابہ کرام آپ کا غصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے معلوم کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کس نے کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خاموش ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ایک پسند کرتا ہے کہ جب نماز کی حالت میں کھڑا ہو اس کے منہ پر کوئی تھوک دے؟ عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی بھی پسند نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کی رحمت کی تجلیات تمہارے آگے ہوتی ہیں ' تم میں سے کوئی اپنے سامنے کوئی تکلیف دہ چیز نہ پھینکے، لیکن اپنے بائیں جانب اور اپنے قدموں کے نیچے پھینکے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1081

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1082

1082 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا أبو أسامة حدثنا الجريري عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا استجد ثوبا سماه باسمه قال : اللهم أنت كسوتني هذا القميص أو الرداء أو العمامة نسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کپڑے پہنتے تھے اس کا نام رکھتے تھے عمامہ یا قمیض ، یا چادر اور یہ دعا کرتے : "اللھم لک الحمد الیٰ آخرہٖ "۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1082

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1083

1083 - حدثنا عثمان بن أبي شيبة حدثنا علي بن مسهر عن الأعمش عن عطية Y عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هلك المكثرون هلك المكثرون إلا قالوا : يا رسول الله إلا من ؟ قال : إلا من قال : هكذا وهكذا عن يمينه وعن شماله K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مال کی کثرت والے ہلاک ہو گئے' کثیر مال والے ہلاک ہو گئے مگر۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کن لوگوں کو آپ نے الگ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائیں اور بائیں جانب اس طرح اس طرح کیا (یعنی اللہ کی راہ میں مال لوٹانے والے) ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1083

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1084

1084 - حدثنا عثمان حدثنا جرير عن الأعمش عن أبي صالح Y عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف أنعم وصاحب الصور قد التقم وحنا جبهته ينتظر متى يؤمر أن ينفخ ؟ قبل : قلنا : يا رسول الله ما نقول يومئذ ؟ قال : قولوا : حسبنا الله ونعم الوكبل على الله توكلنا K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں کس طرح خوش ہوں ' بے شک صور پھنکنے والے فرشتے نے اس کو منہ میں لیا ہوا ہے و ہ اس انتظار میں ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ہوتا ہے ۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! ہم اس دن کیا کہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو! "حسبنا اللہ نعم الوکیل علی اللہ توکلنا"۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانَ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1084

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1085

1085 - حدثنا عثمان حدثنا يحيى بن آدم حدثنا يزيد بن عبد العزيز عن الأعمش عن أبي صالح Y عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا حسد إلا في اثنتين : رجل آتاه الله القرآن فهو يتلوه آناء الليل وآناء النهار فهو يقول : لو أوتيت مثل ما أوتي هذا لفعلت كما يفعل ورجل آتاه الله مالا فهو ينفقه في حقه فهو يقول : لو أوتيت مثل ما أوتي هذا لفعلت كما يفعل K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسد جائز نہیں مگر دو آدمیوں پر۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ عزوجل نے قرآن کی سمجھ عطا فر مائی ہو۔ وہ دن و رات اس کی تلاوت کرتا ہے وہ کہے اگر مجھے بھی اس کی مثل دیا جائے جو اس کو دیا گیا ہے میں بھی ایسے ضرور کروں گا۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ عزوجل نے مال دیا وہ اس کو اس کی راہ میں خرچ کرتاہے۔ وہ عرض کرے گا: اے اللہ ! اگر مجھے اس کی مثل دیا جائے جس طرح اس کو دیا گیا ہے میں ایسے ہی کروں گا ضرور۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← عُثْمَانَ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1085

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1086

1086 - حدثنا عثمان حدثنا جرير عن الأعمش عن إسماعيل بن رجاء عن أبيه Y عن أبي سعيد الخدري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن منكم من يقاتل على تأويل القرآن كما قاتلت على تنزيله فقال أبو بكر : أنا هو يا رسول الله ؟ قال : لا قال عمر : أنا هو يا رسول الله ؟ قال : لا ولكنه خاصف النعل وكان أعطى عليا نعله يخصفها K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جو قرآن کی تاویل پر قتال کرے جس طرح میں اس کے نازل ہونے پر لڑتا ہوں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےعرض کی: میں ہوں! یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں وہ ہوں؟ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! لیکن یہ جوتی ٹانکنے والا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا کیا تھا' آپ اپنی جوتی میں پیوند لگاتے تھے۔

هُوَ ← أَبُو بَکْرٍ ← «إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ»، ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانَ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1086

chevron_left Previous
1…557558559…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter