Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1063

1063 - حدثنا محمد بن العلاء حدثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن عبد الله بن قسيط عن عطاء بن يسار Y عن أبي سعيد قال : ركب رسول الله صلى الله عليه و سلم المنبر فقال : يا أيها الناس إني قد كنت أريت ليلة القدر وقد انتزعت مني وعسى أن يكون ذلك خيرا ورأيت كأن في ذراعي سوارين من ذهب فكرهتهما فنفختهما فطارا فأولتهما هذين الكذابين : صاحب اليمن واسمه الأسود بن كعب العنسي وصاحب اليمامة وكان الأسود قد تكلم في زمان النبي صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی تھی لیکن مجھ سے اس کی تعیین اٹھا لی گئی' قریب ہے اس میں بہتری ہو۔ میں نے دیکھا گویا میری کلائیوں میں سونے کے دو کنگن ہیں۔ میں نے ان دونوں کو ناپسند کیا۔ میں نے دونوں میں پھونکا وہ اڑنے لگے میں نے ان دونوں کی تاویل ان دو جھوٹوں سے کی ہے۔ ایک یمن والا ہے اس کا نام اسود بن کعب العنسی ہے' دوسرا یمامہ والا ہے ' اور جو اسود تھا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔

ركب رسول الله صلى الله عليه و سلم المنبر ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1063

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1064

1064 - حدثنا شيبان حدثنا أبو الأشهب حدثنا أبو نضرة Y عن أبي سعيد قال : بينما نحن في سفر مع النبي صلى الله عليه و سلم إذ جاء رجل على راحلته قال : فجعل يضرب يمينا وشمالا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من كان معه فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له ومن كان له فضل زاد فليعد به على من لا زاد له فذكر من أصناف المال ما ذكر حتى رأينا أن لا حق لأحد منا في فضل K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اچانک ایک آدمی سواری پر آیا وہ دائیں اور بائیں جانب دیکھنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زیادہ سوار ی ہو، وہ اس کو دے اور جس کے پاس سواری نہیں ہے، جس کے پاس زیادہ کھانا ہو' وہ اس کو دے ' جس کے پاس زادراہ نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال کی اقسام ذکر کیں۔ یہاں تک کہ ہم کو گمان ہوا کہ ہم زیادہ مال میں حق ہی نہیں ہے۔

بينما نحن في سفر مع النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1064

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1065

1065 - عن أبي سعيد Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى في أصحابه تأخرا فقال لهم : تقدموا فأتموا بي وليأتم بكم من بعدكم لا يزال قوم متأخرون حتى يؤخرهم الله عز و جل K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں پیچھے رہنے کی عادت کو دیکھا وہ پیچھے تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آگے بڑھو، میرے قریب ہو کر صف مکمل کرو تاکہ بعد والے تمہارے پیچھے آ کر صف مکمل کر سکیں' ہمیشہ لوگ پیچھے ہوتے رہتے ہیں حتیٰ کہ اللہ ان کو بھی پیچھے کر دیتا ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1065

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1066

1066 - حدثنا بشر بن هلال الصواف حدثنا عبد الوارث عن عبد العزيز بن صهيب عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا محمد أشتكيت ؟ فقال : نعم قال : باسم الله أرقيك من كل داء يؤذيك من كل نفس أو عين حاسد الله يشفيك باسم الله أرقيك K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: اے محمد ! آپ تکلیف میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں !عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ وظیفہ پڑھ لیا کریں: " باسم اللہ الیٰ آخرہٖ " ۔

نَعَمْ ← يَا مُحَمَّدُ اشْتَکَيْتَ ← أبي سعيد أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1066

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1067

1067 - حدثنا مسروق بن المرزبان حدثنا يحيى ابن زكريا عن مجالد عن أبي الوداك Y عن أبي سعيد قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يقوم إلى خشبة يتوكأ عليها يخطب كل جمعة حتى أتاه رجل من القوم فقال : إن شئت جعلت لك شيئا إذا قعدت عليه كنت كأنك قائم قال : نعم قال : فجعل له المنبر فلما جلس عليه حنت الخشبة حنين الناقة على ولدها حتى نزل النبي صلى الله عليه و سلم فوضع يده عليها فلما كان من الغد رأيتها قد حولت فقلنا : ما هذا ؟ قالوا : جاء النبي صلى الله عليه و سلم البارحة و أبو بكر و عمر فحولوها K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر جمعہ کا خطبہ دیتے تھے۔ یہاں تک قوم میں سے ایک آدمی آیا' عرض کی: اگر آپ چاہیں تو آپ کے لیے منبر بنا دیں، اس پر خطبہ دیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے منبر بنایا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھے وہ لکڑی کا تنا سسکیاں لے کر رونے لگا۔ جس طرح اونٹنی اپنے بچے کے لیے روتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نیچے اترے ا پر اپنا دست مبارک رکھا۔ جب دوسرا دن آیا، میں نے اس کو دیکھا اس کو بدل دیا گیا۔ ہم نے عرض کی: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: گزشتہ رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ ٹعالیٰ عنہما آئے ' انہوں نے اس کو تبدیل کر دیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← مجالد ← يحيى ابن زكريا ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1067

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1068

1068 - حدثنا مسروق بن المرزبان حدثنا ابن أبي زائدة عن أبيه عن أبي إسحاق عن سعيد Y عن جابر بن عبد الله قال : فحنت الخشبة حنين الناقة الحلوب K إسناده حسن

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : وہ لکڑی کا تنا رونے لگا جس طرح اونٹنی کا بچہ اس سے چھین لیا جائے تو روتی ہے۔

فحنت الخشبة حنين الناقة الحلوب إسناده حسن ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدٌ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1068

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1069

1069 - حدثنا الجراح بن مخلد حدثنا اليمان بن نصر صاحب الدقيق حدثنا عبد الله بن سعد المزني قال : حدثني محمد بن المنكدر حدثني محمد بن عبد الرحمن بن عوف قال Y سمعت أبا سعيد يقول : رأيت فيما يرى النائم كأني تحت شجرة وكأن الشجرة تقرأ ( ص ) فلما أتت على السجدة سجدت فقالت : في سجودها : اللهم اغفر لي بها اللهم حط عني بها وزرا وأحدث لي بها شكرا وتقبلها مني كما تقبلت من عبدك داود سجدته فغدوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبرته فقال : سجدت أنت يا أبا سعيد ؟ قلت : لا قال : فأنت أحق بالسجود من الشجرة ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم سورة ( ص ) ثم أتى على السجدة وقال في سجوده ما قالت الشجرة في سجودها K عبد الله بن سعد المزني وثقه ابن حبان وباقي رجاله ثقات

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھاگویا میں ایک درخت کے نیچے ہوں گویا درخت سورہ ص پڑھ رہا ہے جب میں سجدہ والی تلاوت پر پہنچا تو اس درخت نے سجدہ کیا۔ اس نے سجدہ میں یہ پڑھا: " اللھم اغفرلی الیٰ آخرہٖ "۔ صبح میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا : اے ابو سعید ! تو نے سجدہ کیا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو سجدہ کا حق دار زیادہ تھا درخت سے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ ص پڑھی پھر سجدہ کی جگہ پہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا اور سجدہ میں وہی پڑھا جو اس درخت نے پڑھا تھا۔

أَبَا سَعِيدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عبد الله بن سعد المزني ← اليمان بن نصر صاحب الدقيق ← الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1069

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1070

1070 - حدثنا داود بن رشيد حدثنا إسماعيل عن برد بن سنان عن أبي هارون Y عن أبي سعيد أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا ضرب أحدكم خادمه فذكر الله فارفعوا أيديكم K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی اپنے خادم کو مارے وہ خادم اللہ کا ذکر کرے اس سے تم اپنے ہاتھ اٹھا دو۔

إذا ضرب أحدكم خادمه فذكر الله فارفعوا أيديكم إسناده ضعيف ← أبي سعيد أن نبي الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هَارُونَ ← بُرْدِ بْنِ سِنَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1070

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1071

1071 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا فليح بن سليمان عن عمرو بن يحيى بن عمارة عن أبيه Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس فيما دون خمس أواق صدقة وليس فيما دون خمسة أوسق صدقة وليس فيما دون خمس ذود صدقة K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ پانچ اوراق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے او ر پانچ وسقوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1071

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1072

1072 - حدثنا عقبة بن مكرم حدثنا يونس بن بكير حدثنا محمد بن إسحاق عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبي سعيد عن أبيه Y عن جده أبي سعيد قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى مسجد بني عمرو بن عوف فمر بقرية بني سالم فهتف برجل وذكر الحديث K رجاله ثقات

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد بنی عمرو بن عوف کی طرف نکلے ' بنی سالم کی بستی کے پاس سے گزرے ' آپ نےایک آدمی کو پکارا اور راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔

جده أبي سعيد ← أَبِيهِ ← سَعِيْد بن عبد الرحمن بن أبي سَعِيْد ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1072

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1073

1073 - حدثنا سفيان بن وكيع حدثنا محمدبن بكر عن ابن جريج أخبرني أبو بكر بن عبد الله بن محمد أن شريك بن عبد الله بن أبي نمر حدثه عن عطاء بن يسار Y عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم أن عليا أتاه بدينار وجده في السوق فقال : عرفه ثلاثا فلم يجد من يعرفه فرجع إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال : كله أو : شأنك به فابتاع منه بثلاثة دراهم شعيرا وبثلاثة دراهم تمرا وابتاع بدرهم لحما وبدرهم زيتا وفضل عنده درهم - وكان الصرف أحد عشر بدينار - حتى إذا كان بعد ذلك جاء صاحبه فعرفه فقال له علي : أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم بأكله فانطلق صاحبه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له كله فقال لعلي : رده على الرجل فقال : قد أكلته قال النبي صلى الله عليه و سلم : إن جاءنا شيء أديناه إليك K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دینار لے کر آئے۔ آپ رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ کو بازار سے ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تین دن تک تشہیر کرو، تشہیر کی تو کوئی نہیں آیا۔ دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے اس معاملہ کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خود اس کو کھالو یا کسی اور کام میں استعمال کر لو۔ حضرت علی رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ نے اس سے تین درہم کی جو خریدے اور تین درہم کے بدلے کھجوریں خرید لیں' ایک درہم کا گوشت اور ایک درہم کا زیتون ، ایک درہم بچ گیا' صرف گیارہ دینار کا تھا یہاں تک کہ وہ آدمی آ گیا جو مالک تھا۔ اس کو حضرت علی رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ نے فرمایا: مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ کھالو، وہ مالک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا گیا۔ یہ ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ سے فرمایا: اس آدمی کو واپس کر دو۔ عرض کی : میں نے اس کو کھالیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے پاس کوئی شے آئی ہم اس کو واپس کر دیں گے۔

أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1073

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1074

1074 - حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي حدثنا حماد بن سلمة عن الحجاج عن عطية العوفي Y عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنه لم يكن نبي إلا قد أنذر الدجال قومه وإني أنذركموه إنه أعور ذو حدقة جاحظة ولا يخفى كأنها نخاعة في جنب جدار وعينه اليسرى كأنها كوكب دري ومعه مثل الجنى والنار فجنته عين ذات دخان وناره روضة خضراء وبين يديه رجلان ينذران أهل القرى كلما خرجا من قرية دخل أوائلهم فليسلط على رجل لا يسلط على غيره فيذبحه ثم يضربه بعصاه ثم يقول : قم فيقول لأصحابه : كيف ترون ؟ ألست بربكم ؟ فيشهدون له بالشرك فيقول الرجل المذبوح : يا أيها الناس إن هذا المسيح الدجال الذي أنذرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فيعود أيضا فيذبحه ثم يضربه بعصاه فيقول له : قم فيقول لأصحابه : كيف ترون ألست بربكم ؟ فيشهدون له بالشرك فيقول المذبوح : يا أيها الناس ها إن هذا المسيح الدجال الذي أنذرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ما زادني هذا فيك إلا بصيرة ويعود فيذبحه الثالثة فيضربه بعصاه فيقول : قم فيقول لأصحابه : كيف ترون ألست بربكم ؟ فيشهدون له بالشرك فيقول : يا أيها الناس إن هذا المسيح الدجال الذي أنذرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ما زادني هذا فيك إلا بصيرة ثم يعود فيذبحه الرابعة فيضرب الله على حلقه بصفحة نحاس فلا يستطيع ذبحه - قال أبو سعيد : فوالله ما رأيت النحاس إلا يومئذ - قال : فيغرس الناس بعد ذلك ويزرعون . قال أبو سعيد : كنا نرى ذلك الرجل عمر بن الخطاب لما نعلم من قوته وجلده K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی علیہ السلام ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا نہ ہو میں بھی تم کو اس سے ڈراتا ہوں ، وہ ایک آنکھ سے کانا ہو گا' وہ اُبھری ہوئی کالی سیاہ آنکھ والا ہو گا، کسی پر پوشیدہ نہیں ہو گا' ایسے محسوس ہو گا جس طرح دیوار کی ایک تھوک ہے' اس کی بائیں آنکھ ایسے ہو گی گویا چمکتا ہوا ستارہ، اس کے ساتھ جنت اور دوزخ بھی ہو گی' اس کی حقیقت چمکتا ہوا دھواں ہو گا اس کی آگ کی حقیقت سر سبز باغ ہو گا' اس کے آگے دو آدمی ہوں گے ' وہ دونوں بستی والوں کو ڈرا رہے ہوں گے' جب وہ دونوں بستی سے نکلیں گے تو اس کے گروہ کے پہلے لوگ داخل ہو ں گے' وہ ایک آدمی پر مسلبط ہو گا اسکے علاوہ کسی پر مسلط نہیں ہو گا' وہ اس کو ذبح کرے گا ' پھر اس کے عصا کے ساتھ مارے گا' پھر وہ کہے گا: اُٹھ! وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا: تم کیسےدیکھتے ہو ! کیامیں تمہارا رب نہیں ہوں؟ وہ اس کے لیے شرک کی گواہی دیں گے' وہ ذبح شدہ آدمی کہے گا: اے لوگو! یہ مسیح دجال ہے' یہ وہی ہے جس ے متعلق ہم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈرایا ہے' وہ اس کی طرف لوٹیں گے' وہ اس کو ذبح کریں گے' پھر اس کو عصا کے ساتھ ماریں گے' وہ اس کو کہے گا: اُٹھ ! وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا: کیا تم دیکھتے ہو کہ میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ وہ اس کے لیے شرک کی گواہی دیں گے' وہ ذبح شدہ آدمی کو کہے گا: اے لوگو ! یہ مسیح دجال ہے جس کے متعلق ہم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈرایا ہے ' اس نے میری بصیرت میں اضافہ کیا ہے ' ایک اور مرتبہ وہ آدمی آئے گا' وہ تیسری بار اس کو ذبح کرے گا' وہ اس کو اپنے عصا کے ساتھ مارے گا' وہ کہے گا: اُٹھ ! وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا: تم کیا دیکھتے ہو کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ وہ ان کو شرک کی گواہی دلا دے گا' وہ کہے گا: اے لوگو! وہ مسیح دجال ہے جس کے متعلق ہم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈرایا ہے' میری بصیرت میں ہی اضافہ ہوا ہے۔ پھر ایک بار لوٹ کر آئے گا' چوتھی بار اس کو ذبح کرے گا' اس کے بعد اللہ عزوجل اس کے حلق پر تانبہ مارے گا'اس کے بعد وہ اس کو ذبح کی طاقت نہیں رکھے گا۔ حضرت ابو سعید فرماتے ہیں: اللہ کی قسم ! میں نے نحاس نہیں دیکھا مگر اس دن۔ فرمایا: لوگ اس کے بعد اس کو گاڑیں گے اور کھیتی باڑی کریں گے۔ حضرت ابو سعید فرماتے ہیں : ہم خیال کرتے ہیں کہ وہ آدمی عمر بن خطاب ہو گا کیونکہ ہم اس کی قوت اور طاقت جانتے ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← الْحَجَّاجِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1074

chevron_left Previous
1…556557558…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter