Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1015

1015 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا حماد عن الحجاج عن عطية Y عن أبي سعيد أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن شاة قطع الذئب ذنبها أيضحى بها ؟ قال : نعم ضح بها K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا ، اس بکری کے متعلق جس کی دم کٹی ہوئی ہو، کیا اس کی قربانی جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں جائز ہے۔ اس نے اس کی قربانی کی۔

نعم ضح بها إسناده ضعيف ← شاة قطع الذئب ذنبها أيضحى بها ← أبي سعيد أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَطِيَّةَ، ← الْحَجَّاجِ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1015

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1016

1016 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا معتمر قال : سمعت عاصما قال : وحدثني شرحبيل Y أنه سمع أبا هريرة و أبا سعيد و ابن عمر يقولون : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الذهب بالذهب والورق بالورق مثلا بمثل عينا بعين وزنا بوزن من زاد أو ازداد فقد أربى قال شرحبيل : وإن لم أكن سمعته منهم فأدخلني الله النار

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ و ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے کے بدلے ، چاندی کو چاندی کے بدلے ، برابر برابر فروخت کرو۔ وزن کر کے برابر برابر جس نے زیادہ کیا یا زیادہ کروایا اس نے سود کیا۔ حضرت شرجیل فرماتے ہیں : اگر ایسے نہ ہو کہ میں نے ان سے نہ سنا ہو تو اللہ مجھے جہنم میں داخل کر دے۔

أبا هريرة و أبا سعيد و ابن عمر يقولون ← وحدثني شرحبيل أنه ← عاصما ← مُعْتَمِرٌ ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1016

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1017

1017 - حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي سمينة حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن الضحاك المشرقي Y عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قل هو الله أحد [ الإخلاص : 1 ] تعدل ثلث القرآن K إسناده صحيح

حضر ت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قل ہواللہ احد کا پڑھنا ' یہ تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ہے۔

قل هو الله أحد الإخلاص تعدل ثلث القرآن إسناده صحيح ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← الضَّحَّاکِ الْمِشْرَقِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1017

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1018

1018 - حدثنا أبو بكر حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن الضحاك المشرقي Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيعجز أحدكم أن يقرأ ثلث القرآن ؟ قال : فشق ذلك عليهم وقالوا : من يطيق ذلك ؟ قال : يقرأ ( قل هو الله أحد ) [ الإخلاص : 1 ] فهي تعدل ثلث القرآن K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں کوئی عاجز ہے ، تہائی قرآن پاک پڑھنے سے، اس پر مشقت ہو؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قل ہوا للہ احد پڑھا کرو یہ تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← الضَّحَّاکِ الْمِشْرَقِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1018

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1019

1019 - حدثنا شيبان حدثنا علي بن علي الرفاعي حدثنا أبو المتوكل الناجي Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم دعا الله تبارك وتعالى بدعوة إلا استجاب - ما لم يكن فيها إثم أو قطيعة رحم - إلا أعطاه الله بها إحدى خصال ثلاث : إما أن يعجل له دعوته وإما أن يدخرله في الآخرة وإما أن يدفع عنه الشر مثلها K إسناده جيد

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان اللہ عزوجل سے دعا کرتا ہے اللہ عزوجل اس دعا کو قبول کرتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ دعا گناہ اور صلہ رحمی توڑنے کے لیے نہ ہو ۔ مگر اللہ عزوجل اس دعا کی برکت سے تین چیزوں میں سے ایک عطا کرتا ہے : یا تو اس کی د عا جلد قبول کرتا ہے یا آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیتا ہے یا اس پر آنے والی مصیبت کو روک دیتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ ! پھر تو ہم کثرت سے دعا کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس سے بھی زیادہ دے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيُّ ← علي بن علي الرفاعي ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1019

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1020

1020 - حدثنا العباس بن الوليد النرسي حدثنا وهيب حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن القاسم بم مخيمرة Y عن أبي سعيد قال : نهى نبي الله صلى الله عليه و سلم ا يبنى على القبور أو يقعد عليها أو يصلى عليها K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا: عام مؤمنوں کی قبروں پر عمارت بنانے سے، یا اس پر بیٹھے سے یا اس پر نماز پڑھنے سے۔ فائدہ : کسی اللہ والے کی قبر یاجانِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ مبارک کی زیارت کے لیے جانا درست ہے' اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال شہداء احد کے مزارات پر جاتے تھے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← القاسم بم مخيمرة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← وُهَيْبٌ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1020

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1021

1021 - حدثنا بشر بن الوليد حدثنا محمد بن طلحة عن الأعمش عن عطية بن سعد Y عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إني أوشك أن أدعا فأجيب وإني تارك فيكم الثقلين : كتاب الله حبل ممدود بين السماء والأرض وعترتي أهل بيتي وإن اللطيف الخبير أخبرني أنهما لن يفترقا حتى يردا علي الحوض فانظروا بم تخلفوني فيهما K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ میں اپنے رب کی دعوت کی قبول کر لوں۔ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ (1) کتاب اللہ : یہ اللہ کی رسی ہے زمین و آسمان کے درمیان (2) اپنی اولاد اپنی اہل بیت کے بے شک لطیف الخبیر نے مجھے بتایا ہے کہ یہ دونوں جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ دونوں مجھے حوض کوثر پر ملیں گے دیکھو مجھے میرے پیچھے ان دونوں سے کیا کرتے ہو۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عطية بن سعد ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1021

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1022

1022 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا أبو معشر حدثنا أفلح بن عبد الله بن المغيرة عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود Y عن أبي سعيد قال : حضرت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين وهو يقسم بين الناس قسمة رجل من بني أمية فقال له : اعدل يا رسول الله : فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : خبت إذا وخسرت إن لم أعدل فمن يعدل ويحك ؟ فاستأذن عمر بن الخطاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في قتله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنا بالذي أقتل أصحابي سيخرج ناس يقولون مثل قوله يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية فأخذ سهما فنظر إلى رصافه فلم ير فيه شيئا ثم نظر إلى نصله - يعني القدح - فلم ير فيه شيئا ثم نظر إلى قذذه فلم ير فيه شيئا سبق الفرث والدم علامتهم رجل يده كثدي المرأة كالبضعة تدردر فيها شعرات كأنها سبلة سبع . قال أبو سعيد : وحضرت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين وحضرت مع علي يوم قتلهم بنهروان قال : فالتمسه علي فلم يجده قال : ثم وجده بعد ذلك تحت جدار على هذا النعت فقال علي : أكم يعرف هذا ؟ فقال رجل من القوم : نحن نعرفه هذا حرقوس وأمه هاهنا قال : فأرسل علي إلى أمه فقال لها : من هذا ؟ فقالت : ما أدري يا أمير المؤمنين إلا أني كنت أرعى غنما لي في الجاهلية بالربذة فغشيني شيء كهيئة الظلة فحملت منه فولدت هذا K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا حنین کے دن جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا تھا۔ بنی امیہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا' اس نے بکواس کی: اے اللہ کے رسول! عدل کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے نقصان اور حسرت ہے کہ میں عدل نہیں کروں گا تو کون کرے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ ! اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے صحابی کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے لوگ آئیں گے اس کی طرح وہ لوگ قران پڑھیں گے ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے ۔ وہ اپنے تیر کو پکڑ کر اس کے پہلے کو دیکھتا اس میں کوئی شے نہیں دیکھتا پھر اس کے بیٹھنے کو دیکھتا اس میں کوئی شے نہیں دیکھتا پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا اس میں کوئی شے نہیں دیکھا' ان کی نشانی ایک آدمی ہو گا جس کا ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہو گا۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کے میں حنین کے دن موجود تھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نہروان کے قتل کرنے والے دن موجود تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو تلاش کیا اس کو نہیں پایا۔ پھر اس کے بعد اس کو ایک دیوار کے نیچے پایا اس صفت پر۔ حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس کو کون پہچانتا ہے؟ قوم میں سے ایک آدمی نے عرض کی: ہم پہچانتے ہیں اس کو' یہ حرقوس ہے اس کی امی یہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی ماں کو بلوانے کےلیے بھیجا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا : اس سے یہ کون تھا؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتی ہوں! اے امیر المومنین ! مگر میں بکریاں چراتی تھی۔ جاہلیت میں ربذہ کے مقام پر مجھے کسی شے اندھیرے کی طرح ڈھانپ لیا۔ میں اس سے حامل ہو گئی۔ میں نے اس کو جنا تھا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَفْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← أبو معشر ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1022

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1023

1023 - حدثنا أبو الربيع الزهراني حدثنا يحيى بن ميمون وكان جليسا للمعتمر حدثنا علي بن زيد عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد قال : جاء شاب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله علمني دعاء أصيب به خيرا قال له : ادنه فدنا حتى كادت ركبته تمس ركبة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : قل : اللهم اعف عني فإنك عفو تحب العفو وأنت عفو كريم K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک نوجوان آیا' اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ! مجھے کوئی دعا سکھائیں کہ میں اس سے بھلائی پاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: قریب ہو! وہ قریب ہوا یہاں تک کہ اس کے گھٹنے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں سے مس ہونے لگے' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو یہ دعا مانگا کر! "اللھم اعف عنی الیٰ آخرہٖ "۔

جاء شاب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← يحيى بن ميمون وكان جليسا للمعتمر ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1023

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1024

1024 - حدثنا الحسن بن عيسى أخبرنا ابن المبارك حدثنا سفيان عن هشام أبي كليب عن ابن أبي نعم Y عن أبي سعيد قال : نهى عن عسب الفرس وقفيز الطحان K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ گھوڑا چڑھانے کا معاوضہ لینے اور چکی پر کام کرنے والے کا گندم کا قفیز لینے سے منع کیا ہے۔

عسب الفرس وقفيز الطحان إسناده صحيح ← نُهِيَ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← ابْنِ أَبِي نُعَمٍ، ← هشام أبي كليب ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1024

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1025

1025 - حدثنا أبو بكر حدثنا محمد بن بشر حدثنا زكريا حدثني عطية Y عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ألا إن عيبتي التي آوي إليها أهل بيتي وكرشي الأنصار فاعفوا عن مسيئهم واقبلوا من محسنهم K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! بے شک میرا ٹھکانہ میرے اہل بیت ہیں' جن کی طرف میں پناہ لیتا ہوں اور انصار میرے ساتھی ہیں ' ان کی برائیاں معاف کرو، ان کی اچھائیاں قبول کرو۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← زَکَرِیَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1025

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1026

1026 - وعن أبي سعيد Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، وہ جنت میں د اخل ہو گیا۔

من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة إسناده ضعيف ← النبي صلى الله عليه و سلم ← وعن أبي سعيد

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1026

chevron_left Previous
1…552553554…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter