مسند أبي يعلى · مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل ‹ مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل · حديث 955
955 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا ابن أبي ذئب عن الحارث بن عبد الرحمن عن أبي سلمة قال Y قال لنا مروان : انطلقوا فأصلحوا بين هذين : سعيد و أروى فأتينا سعيد بن زيد فقال : أتروني انتقصت من حقها شيئا ؟ أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أخذ شبرا من الأرض بغير حقه طوقه من سبع أرضين ومن تولى قوما بغير إذنهم فعليه لعنة الله ومن اقتطع مال أخيه بيمينه فلا بارك الله له فيه K إسناده صحيح
حضرت ا بو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ ہم کو مروان نے کہا چلو سعید رضی اللہ عنہ اور ارویٰ رضی اللہ عنہ درمیان صلح کرواتے ہیں ۔ وہ دونوں حضرت سعید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا مجھے بتانے آئے ہو کہ میں نے اس کے حق میں کوئی چیز کم کی ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ضرور حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سنا ہے کہ جو کسی کی ایک با لشت بھر زمین بغیر حق کے لیتا ہے اس زمین کا طوق بنا کر قیامت کے دن اس کے گلے میں لٹکا دیا جائے گا جو کسی قوم کا ولی بن جائے ان کی اجازت کے بغیر اس پر اللہ کی لعنت ہو ۔ جو کسی مسلمان کا حق لے قسم کے ساتھ اس میں اللہ پاک برکت نہیں دے گا ۔
اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saeed bin Zaid bin Amr bin Nafil › Chapter · Hadith 955
