Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · ما أسند عبد الرحمن بن حسنة الجهني ‹ ما أسند عبد الرحمن بن حسنة الجهني · حديث 943

943 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا وكيع حدثنا يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة Y عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من استحل بدرهم في النكاح فقد استحل K إسناده ضعيف . رجل عن النبي صلى الله عليه و سلم

حضرت لبیبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جس نے ایک درہم کے بدلے نکاح کیا اس نے نکاح کر لیا ۔

جَدِّهِ، ← يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة ← وَكِيعٌ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · What was assigned by Abdul Rahman Bin Hasna Al-Juhani › Chapter · Hadith 943

مسند أبي يعلى · ما أسند عبد الرحمن بن حسنة الجهني ‹ ما أسند عبد الرحمن بن حسنة الجهني · حديث 944

944 - حدثنا هارون بن معروف حدثنا ضمرة عن رجاء بن أبي سلمة عن سليمان بن موسى قال Y مر مالك بن عبد الله الخثعمي وهوعلى الناس بالصائفة بأرض الروم قال : ورجل يقود دابته فقال له : اركب فإني أرى دابتك ظهيرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما اغبرت قدما عبد في سبيل الله إلآ حرم الله عليهما النار قال : فنزل مالك ونزل الناس يمشون فما رئي يوما أكثر ماشيا منه K إسناده لين . أسيد بن حضير عن النبي صلى الله عليه و سلم

حضرت سلیمان بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ مالک بن عبداللہ خثعمی گزرے اس حالت میں کہ لوگ روم کے ملک میں صائفہ کے مقام پر تھے ، ایک آدمی اپنی سواری کی مہار پکڑ کے چل رہا تھا ، اس کو مالک بن عبداللہ نے کہا : تو سوار ہو جا ! میں تیی سواری کو طاقتور دیکھتا ہوں ، اس نے کہا : میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جس کے دونوں قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوئے ان دونوں پر جہنم کی آگ اللہ حرام کر دے گا ۔ مالک بھی اترے ، سارے لوگ بھی اپنی سواریوں سے اترے اور پیدل چلنے لگے ۔ اس دن زیادہ لوگ پیدل چلتے نہیں دیکھے گئے ۔

ورجل يقود دابته ← مر مالك بن عبد الله الخثعمي وهوعلى الناس بالصائفة بأرض الروم ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← ضَمْرَةُ ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Abu Yaalaa · What was assigned by Abdul Rahman Bin Hasna Al-Juhani › Chapter · Hadith 944

مسند أبي يعلى · ما أسند عبد الرحمن بن حسنة الجهني ‹ ما أسند عبد الرحمن بن حسنة الجهني · حديث 945

945 - حدثنا زحمويه حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة حدثنا محمد بن إسحاق عن حصين بن عبد الرحمن عن محمود بن لبيد عن ابن شفيع قال : وكان طبيبا - قال Y دعاني أسيد بن حضير فقطعت له عرق النسا فحدثني بحديثين قال : أتاني أهل بيتين من قومي : أهل بيت من بني ظفر وأهل بيت من بني معاوية فقالوا : كلم رسول الله صلى الله عليه و سلم يقسم لنا أو يعطينا أو نحو من هذا - فكلمته فقال : نعم أقسم لكل أهل بيت منهم شطرا فإن عاد الله علينا عدنا عليهم قال : قلت : جزاك الله خيرا يا رسول الله قال : وأنتم فجزاكم الله خيرا فإنكم - ما علمتكم - أعفة صبر قال : وسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنكم ستلقون أثرة بعدي فلما كان عمر بن الخطاب قسم حللا بين الناس فبعث إلي منها بحلة فاستصغرتها فأععطيتها ابنتي فبينما أنا أصلي إذ مر بي شاب من قريش عليه حلة من تلك الحلل يجرها فذكرت قول رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنكم ستلقون أثرة بعدي فقلت : صدق الله ورسوله فانطلق رجل إلى عمر فأخبره فجاء وأنا أصلي فقال : صل يا أسيد فلما قضيت صلاتي قال : كيف قلت ؟ فأخبرته فقال : تلك حاة بعثت بها إلى فلان وهو بدري أحدي عقبي فأتاه هذا الفتى فابتاعها منه فلبسها فظننت أن ذاك يكون في زماني ؟ قلت : قد والله - يا أمير المؤمنين - ظننت أن ذاك لا يكون في زمانك

حضرت ابن شفیع فرماتے ہیں کہ وہ طبیب تھے مجھے اسد بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بلوایا ۔ میں نے ان کے لیے عورتں کی رگ کاٹ دی ۔ مجھے انہوں نے دو حدیثیں سنائیں ۔فرمایا : میرے پاس میری قوم کے دو گھر والے آئے ، بنی ظفر کے گھر والے ، بنی معاویہ کے گھر والے ۔ انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے بات کرو ہم کو مال دیں ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے گفتگو کی ، فرمایا : ہاں اچھا ہے ۔ میں ان میں سے ہر ایک کے لیے حصہ تقسیم کروں گا ۔ اگر اللہ نے ہم پر دوبارہ لوٹایا ہم ان پر لوٹائیں گے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو اللہ بہتر جزا دے ۔آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : تم کو اللہ بہتر جزا دے میں تم کو بتاتا ہوں کہ میں نہیں جانتا تھا تمہارے صبر کو۔ فرمایا : میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : میرے بعد تم ترجیحات دیکھو گے ۔ جب حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان لباس تقسیم کیے ، ان میں ایک میری طرف حلہ بھیجا ، میں چھوٹا تھا ۔ میں نے اپنی بیٹی کو دے دیا ۔ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ اچانک ایک قریش کا نوجوان گزرا اس پر ان حلوں میں سے ایک حلہ تھا جسے وہ گھسیٹ کر لے جا رہا تھا ۔ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی بات یاد آ گئی ، کہ تم میرے بعد عنقریب ترجیحات دیکھو گے ۔میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے سچ کہا ۔ وہ آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، آپ کو بتایا ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے ، میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا : اے اسد ! نماز پڑھ لو ۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو نے کیا کہا ؟ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کو بتایا تو حضرت عمر نے فرمایا : یہ حلہ میں نے فلاں کی طرف بھیجا تھا ، وہ بدری احدی عقبی تھا ، اس کے پاس یہ نوجوان آیا تو اس نے اس سے خرید لیا اور اس نے پہن لیا تو نے گمان کیا ہے کہ یہ میرے دور حکومت میں ہو گا ؟ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! اے امیر المؤمنین ! میں نے تو یہی گمان کیا تھا کہ یہ آپ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں نہیں ہو گا ۔

ابن شفيع ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← زحمويه

Musnad Abu Yaalaa · What was assigned by Abdul Rahman Bin Hasna Al-Juhani › Chapter · Hadith 945

مسند أبي يعلى · عروة بن مضرس ‹ عروة بن مضرس · حديث 946

946 - حدثنا زحمويه حدثنا صالح يعني ابن عمر عن مطرف عن عامر Y عن عروة بن مضرس قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الله إني أنضيت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أدرك جمعا فوقف مع الإمام حتى يفيض فقد أدرك الحج ومن لم يدرك جمعا فلا حج له K رجاله ثقات

حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں عرفات سے آیا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جو مزدلفہ گیا ، امام کے ساتھ ٹھہرا یہاں تک کہ امام واپس آ گیا ۔ تو اس نے حج پا لیا ، جو مزدلفہ میں نہیں گیا اس کا حج نہیں ہوا ۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت ← عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ← عَامِرٍ، ← مُطَرِّفٍ ← صالح يعني ابن عمر ← زحمويه

Musnad Abu Yaalaa · Orwa bin Mudras › Chapter · Hadith 946

مسند أبي يعلى · أيمن بن خريم الأسدي ‹ أيمن بن خريم الأسدي · حديث 947

947 - حدثنا زحمويه حدثنا صالح بن عمر عن مطرف عن عامر قال Y لما قاتل مروان الضحاك بن قيس أرسل إلى أيمن بن خريم الأسدي فقال : إنا نحب أن تقاتل معنا فقال : إن أبي و عمي شهدا بدرا فعهدا إلي أن أقاتل أحدا يشهد أن لا إله إلا الله فإن جئتني ببراءة من النار قاتلت معك فقال : اذهب ووقع فيه وسبه فأنشأ أيمن يقول : ( ولست مقاتلا رجلا يصلي على سلطان آخر من قريش ) . ( له سلطانه وعلي إثمي معاذ الله من جهل وطيش ) . ( أقاتل مسلما في غير شيء ؟ فليس بنافعي ما عشت عيشي ) K رجاله ثقات

حضرت عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مروان نے ضحاک بن قیس کو قتل کیا اس نے ایمن بن خریم اسدی کی طرف بھیجا ، اس نے کہا : ہم پسند کرتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ لڑیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے باپ و چچا بدر میں شریک تھے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں اس سے نہ لڑوں گا جو اللہ کی توحید اور حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی رسالت کی گواہی دے ۔ اگر تو مجھے جہنم سے بری کرا سکتا ہے تو میں تیرے ساتھ مل کر جہاد کروں گا ۔مروان نے کہا: جاؤ ، اسے غصہ آیا اور اس نے انہیں گالی دی ۔حضرت ایمن نے یہ اشعار پڑھے : " میں نہیں لڑوں گا ایسے آدمی سے جو نماز پڑھتا ہے بادشاہ کےکہنے پر جو قریش سے ہے ، اس کے لیے بادشاہی ہے اور مجھ پر گنا ہ ہے اللہ کی پناہ جہالت سے اور طیش سے ، میں مسلمان سے لڑوں بغیر کسی وجہ کے ، تو میرے لیے نفع نہیں ہے جب تک میں زندہ ہوں " ۔

نحب أن تقاتل معنا ← لما قاتل مروان الضحاك بن قيس أرسل إلى أيمن بن خريم الأسدي ← عَامِرٍ، ← مُطَرِّفٍ ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← زحمويه

Musnad Abu Yaalaa · Ayman bin Khuraim al-Asadi › Chapter · Hadith 947

مسند أبي يعلى · مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل ‹ مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل · حديث 948

948 - حدثنا خلف بن هشام البزار حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن هلال بن يساف Y عن سعيد بن زيد قال : كنا قعودا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر فتنة فعظمها قال : فقلنا أو قالوا : يا رسول الله لئن أدركنا هذه لنهلكن ؟ قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلا إن بحسبكم القتل قال سعيد : رأيت إخواني قتلوا بعد K إسناده صحيح

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کےپاس بیٹھے ہوئے تھے ، پ ایک بہت بڑے فتنہ کا ذکر کر رہے تھے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہم نے اس کو پا لیا تو ضرور ہلاک کریں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : ہر گز نہیں ! تمہارے لیے قتل ہی کافی ہے ۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھا ان کو اس کے بعد قتل ہی کیا گیا تھا ۔

فَقُلْنَا أَوْ ← فتنة فعظمها ← كنا قعودا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saeed bin Zaid bin Amr bin Nafil › Chapter · Hadith 948

مسند أبي يعلى · مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل ‹ مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل · حديث 949

949 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سفيان عن الزهري عن طلحة بن عبد الله بن عوف Y عن سعيد بن زيد يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قتل دون ماله فهو شهيد ومن ظلم شيئا من الأرض طوقه من سبع أرضين K إسناده صحيح

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جو اپنے م،ال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے ۔ جس نے کسی کی زمین سے تھوڑی سے شے بھی ظلماً لی اس کو ستر زمینوں کا طوق بنا کر اس گلے میں ڈال دیا جائے گا ۔

سعيد بن زيد يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saeed bin Zaid bin Amr bin Nafil › Chapter · Hadith 949

مسند أبي يعلى · مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل ‹ مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل · حديث 950

950 - حدثنا القواريري حدثنا يزيد بن زريع حدثنا محمد بن إسحاق حدثني الزهري عن طلحة بن عبد الله بن عوف قال Y أتتنا أروى ابنة أوس في نفر قريش فيهم عبد الرحمن بن سهل فقالت : إني أحب أن تأتوا سعيد بن زيد فتكلموه وتذكروه فإنه انتقص من أرضي إلى أرضه فقمنا إلى سعيد حتى جئناه في أرضه بالعقيق فخرج إلينا فقال : قد عرفت ما جاء بكم أتتكم أروى بنت أوس فقالت إني أنتقص من أرضها إلى أرضي ما ليس لي سأحدثكم ما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من أخذ من الأرض ما ليس له طوقه إلى السابعة . وسمعته يقول : من قاتل دون ماله فقتل فهو شهيد : قال : فقلنا : لا والله لا نكلمك بعد هذا بشيء أبدا قال : وركبنا وانطلقنا K إسناده صحيح

حضرت طلحہ بط عبداللہ بن عو ف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ارویٰ بنت اوس قریش کے ایک گروہ میں ائیں ، اس گھر میں عبدالرحمن بن سہل بھی تھے ارویٰ نے کہا : میں سعیدبن زید کے پاس تمہارے آنے کو پسند کرتی ہوں ۔ تم حضرت سعید سے گفتگو کرو اور آپ کو یاد کراؤ کہ اس نے میری زمین کم کر کے اپنی زمین سے ملا لی ہے ۔ ہم سعید کی طرف اٹھے یہاں تک کہ ہم ان کے پا س عقیق کے مقام پر اس کی زمین میں آئے ، آپ ہماری طرف نکلے اور فرمایا : میں نے پہچان لیا تم کیوں آئے ہو ؟ ارویٰ بنت اوس آئیں اور عرض کرنے لگیں : میں نے اپنی زمین کے ساتھ ، اس کی زمین ملائی ہے جو میری نہیں ہے ، میں تم کو عنقریب بیان کرتا ہوں جو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی کی زمین لی جو اس کی نہیں تھی تو قیامت کے دن ساتھ زمینوں کا طوق بنا کر س کے گلے میں ڈال دیا جائے گا اور میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو جائے وہ بھی شہید ہے، ہم نے کہا :نہیں اللہ کی قسم ! ہم آپ سے اس کے بعد ہمیشہ گفتگو نہیں کریں گے ۔ ہم سوار ہوئے اور ہم چلے گئے ۔

إني أحب ← أتتنا أروى ابنة أوس في نفر قريش فيهم عبد الرحمن بن سهل ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saeed bin Zaid bin Amr bin Nafil › Chapter · Hadith 950

مسند أبي يعلى · مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل ‹ مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل · حديث 951

951 - حدثنا أحمد بن عيسى المصري حدثنا عبد الله بن وهب أخبرني عمر بن محمد أن أباه حدثه Y عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل أن أروى خاصمته في أرض فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أخذ شبرا من الأرض بغير حقه طوقه من سبع أرضين يوم القيامة ثم قال : اللهم إن كانت كاذبة فأعم بصرها واجعل قبرها في دارها قال : فرأيتها عمياء تلتمس الجدر تقول : أصابتني دعوة سعيد بن زيد فبينما هي تمشي في الدار خرت في بئر في الدار فوقعت فيها فكانت قبرها K إسناده صحيح

حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ارویٰ نے زمین کے متعلق جھگڑا کیا ، حضرت سعید نے فرمایا : میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بغیر حق کے لی تو قیا مت کے دن اس زمین کی سات زمینیں بنا کر اس کے گلے میں ڈال دئیے جائیں گے ۔ پھر فرمایا : اے اللہ ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کر دے اور اس کی قبر اس کے گھر میں بنا دے ۔ راوی حدیث فرماتے ہیں : میں اس کو اندھی دیکھا ،وہ گھر کی دیوار تلاش کرتی اور کہتی : مجھے سعید بن زید کی بد دعا لگ گئی ہے ، وہ گھر میں چل رہی تھی کہ گھر میں ہی موجود کنویں میں گری اور وہیں اس کی قبر بنی ۔

سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل أن أروى خاصمته في أرض ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ أَبَاهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saeed bin Zaid bin Amr bin Nafil › Chapter · Hadith 951

مسند أبي يعلى · مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل ‹ مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل · حديث 952

952 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن خازم حدثنا هشام بن عروة عن أبيه Y عن سعيد بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ظلم شبرا من الأرض بغير حقه فإنه يطوقه من سبع أرضين K إسناده صحيح

حضرت سعید بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جس نے ناحق کسی کی زمین ایک با لشت بھی لی تو اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا ۔

سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saeed bin Zaid bin Amr bin Nafil › Chapter · Hadith 952

مسند أبي يعلى · مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل ‹ مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل · حديث 953

953 - حدثنا عمرو الناقد حدثنا سفيان عن الزهري عن طلحة بن عبد الله بن عوف Y عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه و سلم يعني : من ظلم من الأرض شبرا طوقه من سبع أرضين ومن قتل دون ماله فهو شهيد K إسناده صحيح

حضرت سعید بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جس نے ناحق کسی کی زمین ایک بالشت بھی تو اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا ، جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَمْرٌو النَّاقِدُ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saeed bin Zaid bin Amr bin Nafil › Chapter · Hadith 953

مسند أبي يعلى · مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل ‹ مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل · حديث 954

954 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل بن عمر حدثنا العمري عن نافع عن ابن عمر Y عن سعيد بن زيد قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أخذ من الأرض شبرا بغير حقه طوقه من سبع أرضين يوم القيامة K إسناده ضعيف

حضرت سعید بن سعید سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جس نے ناحق کسی کی زمین ایک بالشت بھی تو اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْعُمَرِيُّ ← إسماعيل بن عمر ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saeed bin Zaid bin Amr bin Nafil › Chapter · Hadith 954

chevron_left Previous
1…546547548…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter