مسند أبي يعلى · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بقية من مسند عبد الله بن أنيس · حديث 907
907 - حدثنا أبو كريب محمد بن العلاء حدثنا يونس ابن بكير حدثنا إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع الأنصاري حدثني إبراهيم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك حدثني أبي عن جدي أبي أمي Y عن عبد الله بن أنيس قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبا قتادة وحليفا لهم من الأنصار و عبد الله بن عتيك إلى ابن أبي الحقيق لنقتله فخرجنا فجئنا خيبر ليلا فتتبعنا أبوابهم فغلقنا عليهم من خارج ثم جمعنا المفاتيح فأرقيناها فصعد القوم في النخل ودخلت أنا و عبد الله بن عتيك في درجة أبي الحقيق فتكلم عبد الله بن عتيك فقال ابن أبي الحقيق : ثكلتك أمك عبد الله ! أنى لك بهذه البلدة قومي فافتحي فإن الكريم لا يرد عن بابه هذه الساعة فقامت فقلت لعبد الله بن عتيك : دونك فأشهر عليهم السيف فذهبت امرأته لتصيح فأشهر عليها وأذكر قول رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى عن قتل النساء والصبيان فأكف فقال عبد الله بن أنيس : فدخلت عليه في مشربة له فوقفت أنظر إلى شدة بياضه في ظلمة البيت فلما رآني أخذ وسادة فاستتر بها فذهبت أرفع السيف لأضربه فلم أستطيع من قصر البيت فوخزته وخزا ثم خرجت فقال صاحبي : فعلت ؟ قلت : نعم فدخل فوقف عليه ثم خرجنا فانحدرنا من الدرجة فسقط عبد الله بن عتيك في الدرجة فقال : وارجلاه ! كسرت رجلي فقلت له : ليس برجلك بأس ووضعت قومسي واحتملته وكان عبد الله قصيرا ضئيلا وصاحت المرأة يا بياتاه ! فيثور أهل خيبر ثم ذكرت موضع قومسي في الدرجة فقلت : والله لأرجعن فلآخذن قوسي فقال أصحابي : قد تثور أهل خيبر تقتل ؟ فقلت : لا أرجع أنا حتى آخذ قوسي فرجعت فإذا أهل خيبر قد تثوروا وإذا ما لهم كلام إلا : من قتل ابن أبي الحقيق ؟ فجعلت لا أنظر في وجه إنسان ولا ينظر في وجهي إلا قلت كما يقول : من قتل ابن أبي الحقيق ؟ حتى جئت الدرجة فصعدت مع الناس فأخذت قوسي ثم لحقت أصحابي فكنا نسير الليل ونكمن النهار فإذا كمنا النهار أقعدنا ناطورا ينطرنا حتى إذا اقتربنا من المدينة فكنا بالبيداء كنت أنا ناطرهم ثم إني ألحت لهم بثوبي فانحدروا فخرجوا جمزا وانحدرت في آثارهم فأدركتهم حتى بلغنا المدينة فقال لي أصحابي : هل رأيت شيئا ؟ فقلت : لا ولكن رأيت ما أدرككم من العناء فأحببت أن يحملكم الفزع وأتينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب الناس فقال صلى الله عليه و سلم : أفلحت الوجوه فقلنا : أفلح وجهك يا رسول الله قال : فقتلتموه ؟ قلنا : نعم فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسيف الذي قتل به فقال : هذا طعامه في ذباب السيف K إسناده ضعيف
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مجھے اوا بو قتادہ اور انصار کے ایک گروہ اور عبداللہ بن عتیک کو ابن ا بی حقیق کی طرف بھیجا تاکہ ہم اس کو قتل کریں ۔ ہم نکلے ، ہم رات کو خیبر آئے ،ہم نے ان کے درواوں کو تلاش کیا ، ہم نے باہر سے ان کو بند کر دیا ، پھر ہم نے چابیاں جمع کیں ، ہم نے چابیاں لگا کر بد کر دئیے ۔ قوم کھجور کے باغ میں چلی گئی ، میں اور عبداللہ بن عتیک ، ا بی حقیق کے درجہ میں داخل ہو ئے اور عبداللہ بن عتیک نے گفتگو کی کی ۔ ابن ا بی عقیق نے کہا : عبداللہ تیری ماں تجھ پر روئے ! تو اس شہر میں کیسے آ گیا ؟ تو اٹھ ! میرے لیے دروازہ کھول ! کیونکہ ہم اس دروازے سے اس گھڑی در نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ اٹھی ، میں نے عبداللہ بن عتیک سے کہا : اس پر تلوار کا اشارہ کر ، اس کی عورت گئی تاکہ آواز دے ، میں اس پر اشارہ کرنے لگا تو مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی بات یاد آ گئی کہ آپ نے عورتوں کے قتل کرنے سے منع کیا ہے اور بچوں کے قتل سے ۔ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس کے پاس اس کے کمرے میں داخل ہوا تو میں رک گیا گھر میں اندھیرے کے باوجود اتنی روشنی دیکھ کر کہ جب اس نے مجھے دیکھا تو اسنے تکیہ لیا اور اس اپنے آپ کو چھپا لیا ، میں آگے بڑھا اور میں نے اس کو مارنے کے لیے تلوار اٹھائی لیکن میں گھر کی مضبوطی کی وجہ سے طاقت نہیں رکھتا تھا ، میں اس کو مارا، یا میں نے اس پر تیر کو ٹھونسا ، پھر میں نکلا ، میرے ساتھی نے کہا : تو نے کام کر لیا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! وہ داخل ہوا اور اس پر رکا ، پھر ہم نکلے اور ہم نے اوپر سے چھلانگ لگائی، حضرت عبداللہ بن عتیک گرے اور کہنے لگے : ہائے میرا پاؤں ٹوٹ گیا ! میں نے کہا : آپ کے پاؤں کو کوئی تکلیف نہیں ہے ! میں نے اپنی کمان کو رکھا اور میں نے ان کو اٹھایا ، حضرت عبداللہ کمزور آدمی تھے ، میں نے اتارا تو ان کے پاؤں پر کوئی تکلیف نہیں تھی ۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ پم اپنے ساتھیوں کو ملے ۔ایک عورت نے چیخ ماری ، اس سے خیبر والوں کو جوش دلایا ، پھر مجھے میری کمان وہاں سیڑھی یاد آئی ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنی کمان ضرور لوں گا ، میرے ساتھی نے کہا : اہل خیبر جوش میں ہیں ، آپ کو قتل کر دیں گے ؟ میں نے کہا : میں واپس نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ میں اپنی کمان نہ لے آؤں ۔میں واپس گیا تو اہل خیبر جوش میں تھے ، ان کی زبان پر یہ بات تھی کہ ابن ا بی حقیق کو کس نے قتل کیا ہے ؟ میں نے دل میں کہا کہ میں بھی ایسے ہی کہتا ہوں کہ ابن ا بی حقیق کو کس نے قتل کیا ہے تاکہ میرے چہرے کو کوئی نہ دیکھے ، یہاں تک کہ میں دوسری منزل پر آیا ، میں لوگوں کے ساتھ چڑھ رہا تھا ، میں نے اپنی کمان لی اور پھر اپنے ساتھی سے جا ملا ۔ ہم رات کو چلتے اور دن کو رک جاتے ، جب ہم دن کو چھپتے تو ہم ناطور میں بیٹھتے تھے ، ہم دیکھتے رہتے تھے پھر جب ہم مدینہ کے قریب ہوئے تو ہم مقام بیداء پر پہنچے ، میں دیکھنے لگا پھر میں نے اپنے آپ کو کپڑے میں چھپا لیا ۔ مجھے میرے ساتھی نے کہا : کیا کوئی شی دیکھ رہے ہیں ؟ میں نے کہا : نہیں ! میں پسند کرتا ہوں کہ گھبراہٹ چلی جائے ۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس آئے تو آپ صحابہ کو خطبہ دے رہے تھے ، ہم نے عرض کی : اللہ عزوجل آپ کے چہرے کو عزت دے ! آپ نے فرمایا: اس کو قتل کر دیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں !آ پ نے وہ تلوار منگوائی جس سے اس گستاخ رسول کو قتل کیا گیا تھا ، آپ نے فرمایا : یہ تلوار کا کھانا تھا ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← جدي أبي أمي ← أَبِي ← إبراهيم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← يونس ابن بكير ← أبو كريب محمد بن العلاء
Musnad Abu Yaalaa · The rest of Musnad Abdullah bin Anis › Chapter · Hadith 907
