Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بقية من مسند عبد الله بن أنيس · حديث 907

907 - حدثنا أبو كريب محمد بن العلاء حدثنا يونس ابن بكير حدثنا إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع الأنصاري حدثني إبراهيم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك حدثني أبي عن جدي أبي أمي Y عن عبد الله بن أنيس قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبا قتادة وحليفا لهم من الأنصار و عبد الله بن عتيك إلى ابن أبي الحقيق لنقتله فخرجنا فجئنا خيبر ليلا فتتبعنا أبوابهم فغلقنا عليهم من خارج ثم جمعنا المفاتيح فأرقيناها فصعد القوم في النخل ودخلت أنا و عبد الله بن عتيك في درجة أبي الحقيق فتكلم عبد الله بن عتيك فقال ابن أبي الحقيق : ثكلتك أمك عبد الله ! أنى لك بهذه البلدة قومي فافتحي فإن الكريم لا يرد عن بابه هذه الساعة فقامت فقلت لعبد الله بن عتيك : دونك فأشهر عليهم السيف فذهبت امرأته لتصيح فأشهر عليها وأذكر قول رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى عن قتل النساء والصبيان فأكف فقال عبد الله بن أنيس : فدخلت عليه في مشربة له فوقفت أنظر إلى شدة بياضه في ظلمة البيت فلما رآني أخذ وسادة فاستتر بها فذهبت أرفع السيف لأضربه فلم أستطيع من قصر البيت فوخزته وخزا ثم خرجت فقال صاحبي : فعلت ؟ قلت : نعم فدخل فوقف عليه ثم خرجنا فانحدرنا من الدرجة فسقط عبد الله بن عتيك في الدرجة فقال : وارجلاه ! كسرت رجلي فقلت له : ليس برجلك بأس ووضعت قومسي واحتملته وكان عبد الله قصيرا ضئيلا وصاحت المرأة يا بياتاه ! فيثور أهل خيبر ثم ذكرت موضع قومسي في الدرجة فقلت : والله لأرجعن فلآخذن قوسي فقال أصحابي : قد تثور أهل خيبر تقتل ؟ فقلت : لا أرجع أنا حتى آخذ قوسي فرجعت فإذا أهل خيبر قد تثوروا وإذا ما لهم كلام إلا : من قتل ابن أبي الحقيق ؟ فجعلت لا أنظر في وجه إنسان ولا ينظر في وجهي إلا قلت كما يقول : من قتل ابن أبي الحقيق ؟ حتى جئت الدرجة فصعدت مع الناس فأخذت قوسي ثم لحقت أصحابي فكنا نسير الليل ونكمن النهار فإذا كمنا النهار أقعدنا ناطورا ينطرنا حتى إذا اقتربنا من المدينة فكنا بالبيداء كنت أنا ناطرهم ثم إني ألحت لهم بثوبي فانحدروا فخرجوا جمزا وانحدرت في آثارهم فأدركتهم حتى بلغنا المدينة فقال لي أصحابي : هل رأيت شيئا ؟ فقلت : لا ولكن رأيت ما أدرككم من العناء فأحببت أن يحملكم الفزع وأتينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب الناس فقال صلى الله عليه و سلم : أفلحت الوجوه فقلنا : أفلح وجهك يا رسول الله قال : فقتلتموه ؟ قلنا : نعم فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بالسيف الذي قتل به فقال : هذا طعامه في ذباب السيف K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مجھے اوا بو قتادہ اور انصار کے ایک گروہ اور عبداللہ بن عتیک کو ابن ا بی حقیق کی طرف بھیجا تاکہ ہم اس کو قتل کریں ۔ ہم نکلے ، ہم رات کو خیبر آئے ،ہم نے ان کے درواوں کو تلاش کیا ، ہم نے باہر سے ان کو بند کر دیا ، پھر ہم نے چابیاں جمع کیں ، ہم نے چابیاں لگا کر بد کر دئیے ۔ قوم کھجور کے باغ میں چلی گئی ، میں اور عبداللہ بن عتیک ، ا بی حقیق کے درجہ میں داخل ہو ئے اور عبداللہ بن عتیک نے گفتگو کی کی ۔ ابن ا بی عقیق نے کہا : عبداللہ تیری ماں تجھ پر روئے ! تو اس شہر میں کیسے آ گیا ؟ تو اٹھ ! میرے لیے دروازہ کھول ! کیونکہ ہم اس دروازے سے اس گھڑی در نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ اٹھی ، میں نے عبداللہ بن عتیک سے کہا : اس پر تلوار کا اشارہ کر ، اس کی عورت گئی تاکہ آواز دے ، میں اس پر اشارہ کرنے لگا تو مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی بات یاد آ گئی کہ آپ نے عورتوں کے قتل کرنے سے منع کیا ہے اور بچوں کے قتل سے ۔ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس کے پاس اس کے کمرے میں داخل ہوا تو میں رک گیا گھر میں اندھیرے کے باوجود اتنی روشنی دیکھ کر کہ جب اس نے مجھے دیکھا تو اسنے تکیہ لیا اور اس اپنے آپ کو چھپا لیا ، میں آگے بڑھا اور میں نے اس کو مارنے کے لیے تلوار اٹھائی لیکن میں گھر کی مضبوطی کی وجہ سے طاقت نہیں رکھتا تھا ، میں اس کو مارا، یا میں نے اس پر تیر کو ٹھونسا ، پھر میں نکلا ، میرے ساتھی نے کہا : تو نے کام کر لیا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! وہ داخل ہوا اور اس پر رکا ، پھر ہم نکلے اور ہم نے اوپر سے چھلانگ لگائی، حضرت عبداللہ بن عتیک گرے اور کہنے لگے : ہائے میرا پاؤں ٹوٹ گیا ! میں نے کہا : آپ کے پاؤں کو کوئی تکلیف نہیں ہے ! میں نے اپنی کمان کو رکھا اور میں نے ان کو اٹھایا ، حضرت عبداللہ کمزور آدمی تھے ، میں نے اتارا تو ان کے پاؤں پر کوئی تکلیف نہیں تھی ۔ پھر ہم چلے یہاں تک کہ پم اپنے ساتھیوں کو ملے ۔ایک عورت نے چیخ ماری ، اس سے خیبر والوں کو جوش دلایا ، پھر مجھے میری کمان وہاں سیڑھی یاد آئی ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنی کمان ضرور لوں گا ، میرے ساتھی نے کہا : اہل خیبر جوش میں ہیں ، آپ کو قتل کر دیں گے ؟ میں نے کہا : میں واپس نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ میں اپنی کمان نہ لے آؤں ۔میں واپس گیا تو اہل خیبر جوش میں تھے ، ان کی زبان پر یہ بات تھی کہ ابن ا بی حقیق کو کس نے قتل کیا ہے ؟ میں نے دل میں کہا کہ میں بھی ایسے ہی کہتا ہوں کہ ابن ا بی حقیق کو کس نے قتل کیا ہے تاکہ میرے چہرے کو کوئی نہ دیکھے ، یہاں تک کہ میں دوسری منزل پر آیا ، میں لوگوں کے ساتھ چڑھ رہا تھا ، میں نے اپنی کمان لی اور پھر اپنے ساتھی سے جا ملا ۔ ہم رات کو چلتے اور دن کو رک جاتے ، جب ہم دن کو چھپتے تو ہم ناطور میں بیٹھتے تھے ، ہم دیکھتے رہتے تھے پھر جب ہم مدینہ کے قریب ہوئے تو ہم مقام بیداء پر پہنچے ، میں دیکھنے لگا پھر میں نے اپنے آپ کو کپڑے میں چھپا لیا ۔ مجھے میرے ساتھی نے کہا : کیا کوئی شی دیکھ رہے ہیں ؟ میں نے کہا : نہیں ! میں پسند کرتا ہوں کہ گھبراہٹ چلی جائے ۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس آئے تو آپ صحابہ کو خطبہ دے رہے تھے ، ہم نے عرض کی : اللہ عزوجل آپ کے چہرے کو عزت دے ! آپ نے فرمایا: اس کو قتل کر دیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں !آ پ نے وہ تلوار منگوائی جس سے اس گستاخ رسول کو قتل کیا گیا تھا ، آپ نے فرمایا : یہ تلوار کا کھانا تھا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← جدي أبي أمي ← أَبِي ← إبراهيم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← يونس ابن بكير ← أبو كريب محمد بن العلاء

Musnad Abu Yaalaa · The rest of Musnad Abdullah bin Anis › Chapter · Hadith 907

مسند أبي يعلى · مسند خفاف بن إيماء الغفاري ‹ مسند خفاف بن إيماء الغفاري · حديث 908

908 - حدثنا هارون بن معروف حدثنا به ابن وهب قال : وأخبرني يزيد بن عياض عن عمران بن أبي أنيس عن [ أبي القاسم ] مولى بني ربيعة Y عن الحارث قال : صليت في مسجد بني غفار فلما جلست جعلت أدعو وأشير باصبع واحدة فدخل علي خفاف بن إيماء الغفاري وأنا كذلك فقال : ما تريد بهذا حين تشير بأصبع واحدة ؟ قال : قلت : أدعو الله وأسأله قال : نعم ما صنعت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يفعل ذلك فقال المشركون : إنما يسحر بها كذب المشركون إنما ذلك الإخلاص K إسناده ضعيف

حضرت حارث فرماتے ہیں کہ میں نے بنی غفار کی مسجد میں نماز پڑھی ، جب میں بیٹھا تو میں دعا کرنے لگا ، میں نے اپنی ایک انگلی کے ساتھ اشارہ کیا ، میرے پاس خفاف بن ایما ء غفاری داخل ہوئے ، میں اسی طرح کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا : جس وقت تو انگلی سے شارہ کر رہا تھا تو تیرا اس سے کیا مطلب تھا ؟ میں نے عرض کی : میں اللہ سے دعا کر رہا تھا اور مانگ رہا تھا ، آپ نے فرمایا : جو تو کر رہا تھا بہت اچھا کر رہا تھا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم بھی ایساہی کرتے تھے ، مشرکین کہتے : آپ اس کے ساتھ جادو کرتے ہیں ، مشرک جھوٹ بولتے تھے کیونکہ یہ اخلاص ہے ۔

الْحَارِثِ ← مولى بني ربيعة ← عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أُنَيْسٍ ← يَزِيدَ بْنِ عِيَاضٍ، ← به ابن وهب ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Khafaf bin Ima 'al-Ghaffari › Chapter · Hadith 908

مسند أبي يعلى · مسند خفاف بن إيماء الغفاري ‹ مسند خفاف بن إيماء الغفاري · حديث 909

909 - حدثنا يحيى بن أيوب حدثنا إسماعيل بن جعفر أخبرني محمد عن خالد بن عبد الله بن حرملة عن الحارث بن خفاف أنه قال Y قال خفاف بن إيماء : ركع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم رفع رأسه فقال : غفار غفر الله لها وأسلم سالمها الله وعصية عصيت الله ورسوله اللهم العن بني لحيان والعن رعلا وذكوان ثم وقع ساجدا. قال خفاف فجعلت لعنة الكفار من أجل ذلك K إسناده حسن

حضرت خفاف بن ایما ء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے رکوع کیا ، پھر اپنا سر انور اٹھایا اور فرمایا : قبیلہ غفار کی اللہ بخشش کرے اور قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی کی ۔ بے شک اللہ قبیلہ بنی لحبان اور رعل و ذکوان کو اپنی رحمت سے دور کر پھر آپ نے سجدہ کیا ۔ حضرت خفاف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کفار پر لعنت اسی وجہ سے کی گئی ۔

الْحَارِثِ بْنِ خُفَافٍ أَنَّهُ ← خالد بن عبد الله بن حرملة ← مُحَمَّدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Khafaf bin Ima 'al-Ghaffari › Chapter · Hadith 909

مسند أبي يعلى · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ مسند عقبة مولى جبر بن عتيك · حديث 910

910 - حدثنا عبد الرحمن بن صالح حدثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق قال : حدثني داود بن الحصين عن عبد الرحمن بن عقبة Y عن أبيه عقبة مولى جبر بن عتيك الأنصاري قال : شهدت أحدا مع مولاي فضربت رجلا من المشركين فلما قتلته قلت : خذها مني وأنا الرجل الفارسي فبلغت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ألا قال : خذها وأنا الرجل الأنصاري ؟ فإن مولى القوم من أنفسهم K إسناده حسن

حضرت عقبہ مولی جبر بن عتیک الانصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے آقا کے ساتھ احد کی جنگ میں حاضر تھا ۔ میں نے مشرکین کے ایک آدمی کو مارا ، جب میں نے اس کو قتل کیا میں نے اس کو کہا : مجھے سے اس کو پکڑو ، میں فارسی آدمی ہوں ۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم تک پہنچی آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : تو نے یہ کیوں نہیں کہا کہ اس کو پکڑو میں انصاری ہوں ؟ بے شک قوم کا غلام اسی میں شمار ہوتا ہے ۔

أبيه عقبة مولى جبر بن عتيك الأنصاري ← عبد الرَّحْمَن بن عقبَة ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عبد الرحمن بن صالح

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Uqba Mawla Jabr bin Atik › Chapter · Hadith 910

مسند أبي يعلى · مسند يزيد بن أسد ‹ مسند يزيد بن أسد · حديث 911

911 - حدثنا عثمان بن أبي شيبة حدثنا هشيم بن بشير حدثنا سيار قال : سمعت خالد القسري على المنبر يقول : حدثني أبي Y عن جدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا يزيد بن أسد حب للناس من تحب لنفسك

حضرت سیار فرماتے ہیں کہ میں نے خالد قری کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا ، فرما رہے تھے کہ مجھے میرے باپ نے انہوں نے اپنے دادا کے حوالہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : اے یزید بن اسد ! جو اپنی ذات کے لیے پسند کرے وہی لوگوں کے لیے پسند کرے ۔

جَدِّي، ← أَبِي ← خالد القسري على المنبر ← سَيَّارٍ، ← هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Yazid bin Asad › Chapter · Hadith 911

مسند أبي يعلى · سلمة الهمداني ‹ سلمة الهمداني · حديث 912

912 - حدثنا عبد الرحمن بن صالح حدثني يحيى بن عمرو بن يحيى [ بن عمرو ] بن سلمة الهمداني عن أبيه عن جده Y عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كتب إلى قيس بن مالك الأرحبي : باسمك اللهم من محمد رسول الله إلى قيس بن مالك سلام عليكم ورحمة الله وبركاته ومغفرته . أما بعد فذاكم أن استعملتك على قومك : عربهم وخمورهم مواليهم وحاشيتهم وأقطعتك من ذرة يسار مئتي صاع ومن زبيب خيواون مئتي صاع جار ذلك لك ولعقبك من بعدك أبدا أبدا [ قال قيس : وقول رسول الله صلى الله عليه و سلم : أبدا أبدا ] أحب إلي إني لأرجو أن يبقى لي عقبي أبدا . قال يحيى : عربهم : أهل البادية وخمورهم أهل القرى K إسناده ضعيف

حضرت یحیی بن سلمہ الھمدانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے قیس بن مالک الارجی کی طرف خط لکھا اللہ کے نام سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی طرف سے قیس بن مالک کی طرف ۔ تم پر اللہ کی سلامتی اور رحمت اور برکت اور بخشش ہو اس کے بعد میں تیری قوم پر جنگل و دیہات والوں اور ان کے غلاموں اور جانوروں پر امیر مقرر کر رہا ہوں ، میں تیرے لیے دو سو صاع یسار کے ذرہ سے کاٹ کر دے رہا ہوں ، یہ تیرے بعد ہمیشہ تیرے پاس ہی رہے گا ۔حضرت قیس فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کا یہ ارشاد :"ابداً ابداً " مجھے زیادہ محبوب ہے ، میں امید کرتاہوں کہ میرے لیے میرے بعد بھی ہمیشہ رہے گا ۔حضرت یحیی ٰفرماتےہیں :"عربھم " سے مراد جنگل والے اور "خمورھم " سے مراد دیہات والے ہیں ۔

أَبِيهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← يحيى بن عمرو بن يحيى بن عمرو بن سلمة الهمداني ← عبد الرحمن بن صالح

Musnad Abu Yaalaa · Salamah Al-Hamdani › Chapter · Hadith 912

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن بحينة ‹ مسند عبد الله بن بحينة · حديث 913

913 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا عطاف بن خالد حدثني أخي المسور بن خالد عن علي بن عبد الله بن مالك ابن بحينة Y عن أبيه عبد الله قال : بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم جالس بين ظهراني أصحابه إذ قال : صلى الله على تلك المقبرة ثلاث مرات قال : فلم ندر أي مقبرة ولم يسم لهم شيئا قال : فدخل بعض أصحاب رسول الله على بعض أزواج النبي - قال عطاف : فحدثت أنها عائشة - فقال لها : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر أهل مقبرة فصلى عليهم ولم يخبرنا أي مقبرة هي ؟ فدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم عليها فسألته عنها فقال لها : أهل مقبرة بعسقلان K إسناده ضعيف

حضرت علی بن عبداللہ بن مالک بن بحینہ اپنے والد عبداللہ سے روایت رتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے ، اچانک آپ نے اس قبرستان والوں کے لیے تین مرتبہ دعا کی ، ہم کو علم نہیں تھا کہ یہ کون سا قبرستان ہے ، اس کا کوئی نام بھی نہیں لیا گیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے بعض اصحاب حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی بعض ازواج کے پاس آئے ، حضرت عطاف فرماتے ہیں : مجھے بیان کیا گیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے قبرستان والوں کا ذکر کیا اور ان کے لیے دعا کی ۔ ہم کو بتایا نہیں کہ یہ کون سا قبرستان ہے ؟حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے پوچھا ، تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : وہ عسقلان والوں کا قبرستان تھا ۔

أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ، ← علي بن عبد الله بن مالك ابن بحينة ← أَخِي الْمِسْوَرُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Buhaina › Chapter · Hadith 913

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن بحينة ‹ مسند عبد الله بن بحينة · حديث 914

914 - حدثنا منصور بن أبي مزاحم حدثنا إبراهيم بن سعد عن أبيه عن حفص بن عاصم Y عن ابن بحينة قال : أقيمت الصلاة فمر النبي برجل يصلي ركعتين قبل الصبح فكلمه بشيء لا ندري ما هو فلما انصرفنا أحطنا به نسأله : ما قال النبي صلى الله عليه و سلم ؟ فقال : قال لي : يوشك أحدكم أن يصلي الصبح أربعا K إسناده صحيح

حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز کے لیے اقامت پڑھی گئی ، حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ، وہ صبح سے پہلے دو رکعتیں ادا کر رہا تھا ، آپ نے کوئی گفتگو فرمائی جو ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا تھی ؟ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے اس کو گھیرا ، ہم نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ اس نے کہا : مجھے آپ نے فرمایا : قریب ہے کہ تم میں سے کوئی چار رکعت پڑھنے لگے ۔

ابْنِ بُحَیْنَۃَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Buhaina › Chapter · Hadith 914

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن بحينة ‹ مسند عبد الله بن بحينة · حديث 915

915 - حدثنا أبو سلمة بن السباك حدثنا مخلد عن ابن جريج عن جعفر بن محمد عن أبيه Y عن عبد الله بن مالك بن بحينة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج لصلاة الصبح ورجل يصلي فضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم منكبه وقال : تريد أن تصلي أربعا ؟ أو مرتين K رجاله ثقات

حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم صبح کی نماز کے لیے نکلے اس حالت میں کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا ، حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : تم چاہتے ہو کہ چار رکعت پڑھیں یا دو مرتبہ ؟

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مَخْلَدٌ، ← أبو سلمة بن السباك

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Buhaina › Chapter · Hadith 915

مسند أبي يعلى · 17-باب الظاء ‹ ما أسند جهجاه الغفاري · حديث 916

916 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة و أبو كريب قالا : حدثنا زيد بن الحباب عن موسى بن عبيدة عن عبيد بن سلمان القرشي عن عطاء بن يسار Y عن جهجاه الغفاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المؤمن يأكل في معى واحد والكافر يأكل في سبعة أمعاء K إسناده ضعيف

حضرت جھجاہ الغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتھ آنتوں میں کھاتا ہے ۔

جهجاه الغفاري ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عبيد بن سلمان القرشي ← موسى بن عبيدة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أبو بكر بن أبي شيبة و أبو كريب

Musnad Abu Yaalaa · I did not support Jahjah Al-Ghafari › Chapter · Hadith 916

مسند أبي يعلى · 17-باب الظاء ‹ ما أسند جهجاه الغفاري · حديث 917

917 - حدثنا أبو كريب حدثنا أبو أسامة عن بريد عن أبي بردة Y عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم بنحوه K إسناده صحيح

حضرت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ موسی ٰ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے اس جیسی حدیث روایت کرتے ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم بنحوه إسناده صحيح ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · I did not support Jahjah Al-Ghafari › Chapter · Hadith 917

مسند أبي يعلى · ما أسند جارود العبدي ‹ ما أسند جارود العبدي · حديث 918

918 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا خالد بن مخلد عن علي بن هاشم عن أشعث عن محمد بن سيرين Y عن الجارود العبدي قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم أبايعه فقلت له : على أني إن تركت ديني ودخلت في دينك لا يعذبني الله في الآخرة ؟ قال : نعم K رجاله رجال الصحيح

حضرت جارود العبدی فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی بارگا ہ میں آپ کی بعیت کرنے کے لیے آیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم ! میںبیعت اس چیز پر کرنے آیا ہوں کہ میں اپنے دین کو چھوڑ دوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے دین میں داخل ہو جاؤں ( اور اس پر ) کہ آخرت میں اللہ مجھے عذاب نہ دے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : قبول ہے ۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم أبايعه فقلت له على أني ← الْجَارُودِ الْعَبْدِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَشْعَثَ، ← عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Jarud was not assigned to Abdi › Chapter · Hadith 918

chevron_left Previous
1…543544545…632
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter